پاگل پن میں آ کر پاگل کچھ بھی تو کر سکتا ہے

National

پاگل پن میں آ کر پاگل کچھ بھی تو کر سکتا ہے

ڈاکٹر سلیم خان

وطن عزیز کے جنوب میں پانچ ریاستیں اور دو یونین ٹریٹریز ہیں ۔ ان میں سے ایک میں کرناٹک کے علاوہ کسی میں بھی   بی جے پی برسرِ اقتدار نہیں  ہے ۔  یہی وجہ ہے کرناٹک کے سوا کسی صوبے میں نہ  حجاب پر کسی کو اعتراض ہے اور نہ اذان سے کسی کو پریشانی ہے ۔ نہ کوئی حلال گوشت کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اور  نہ کسی مسجد کے نیچے مندر نکل کر آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا  جنوبی ہندوستان کی دیگر ریاستوں میں ہندو نہیں رہتے؟  یا وہ اقلیت میں ہیں اس لیے  ڈر کے مارے اس طرح کے مسائل پر اپنی زبان نہیں کھولتے؟   مسئلہ یہ نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان ریاستوں  کا ہندو بی جے پی کے چنگل سے آزاد ہے۔ وہ ان فرقہ پرستوں کے جھانسے میں آکر احمقانہ حرکتیں نہیں کرتا ۔ سنگھ پریوار ہنوز ان کا جذباتی استحصال کرکے ان کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالنے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے ورنہ جو  ناٹک  فی الحال  کرناٹک میں ہورہا ہے وہی سبھی ریاستوں میں چل رہا ہوتا۔  یدورپاّ کے اقتدار میں آنے سے قبل کرناٹک بھی اس نحوست سے پاک تھا لیکن پھر حالات ایسے بدلے کہ اب وہ خود بھی اس سے نالاں ہے۔ سنگھ پریوار کے روز افزوں پاگل پن پر  فیض عالم بابر کا یہ شعر صادق آتا ہے؎

پاگل پن میں آ کر پاگل کچھ بھی تو کر سکتا ہے

خود کو عزت دار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں

 کرناٹک میں حالیہ جنون   کی دوسری وجہ   اس سال ہونے والا ریاستی انتخاب اور بی جے پی کی خستہ حالی ہے۔ یہی  وجہ ہے کہ آئے دن نت نیا  فتنہ پیدا کیا جاتا ہے۔ حجاب کے معاملے  میں سنگھ پریوار پوری دنیا میں بری طرح بدنام ہوا۔ ایک طرف مسکان خان کی دلیری کو ساری دنیا نے سلام کیا وہیں دوسرے جانب گیروا بھیڑیوں  کی خوب جم کر مذ مّت ہوئی ۔ اس کے بعد حلال کا مسئلہ چھیڑا  گیا اور اس کی آڑ مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ کا نعرہ لگا ۔ اس کے جواب میں کچھ خواص  نےصرف مسلمانوں سے اشیاء خریدنے کا اعلان کیا اور عوام نے  اپنےاگاڑی نامی  تہوار کے موقع پر مسلمانوں کی دوکان سے خوب گوشت خرید کر  سنگھیوں کا منہ پر کالک پوت دی۔  اس دوران  مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے والےسابق  وزیر ایشورپاّ پر رشوت خوری کے سنگین الزامات لگا  کر ایک ٹھیکے دار نے خودکشی کرلی ۔ اس کے بعد اس قدر ہنگامہ کھڑا ہوا کہ بڑبولے وزیر کو رسوا ہوکر استعفیٰ دینا  پڑا۔ اس طرح گویا  مسلمانوں کی مخالفت کرنے کا جو خمیازہ آخرت میں بھگتنا پڑے گا اس کی پہلی اور ہلکی قسط اسی دنیا میں  ہی مل گئی۔    

ان پہ در پہ ٹھوکروں کے بعد اب  فسطائیوں نے مساجد کے خلاف محاذ چھیڑ دیا ہے ۔ کرناٹک کے جنوبی حصے منگلورو کے قرب و جوار کے علاقے کو  بی جے پی اپنا گڑھ بنانے کے فراق میں   ہے۔ فرقہ وارانہ طور پر حساس  ضلع  میں  ہونے والی  گڑبڑ تین ملحقہ ساحلی اضلاع کو متاثر کرتی ہے۔منگلورو کے پاس   ملالی میں سید عبداللہ مدنی مسجد کی  تعمیر نوکا کام چل رہا تھا۔  اس دوران مندر کا ڈھانچہ ملنے کی خبر کے پھیلنے سے تنازع کھڑا  ہوگیا۔ اس پر  عدالت  نے  کام روکنے کے حکم  دیا تو  ہندو سماج خاموش ہو گیا لیکن  وشو ہندو پریشد کے لیےیہ  سنہری موقع تھا ۔ اس لیے وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے کارکنوں نے پجاریوں کے سامنے روایتی انداز میں ’تمبولا پرشن‘ اٹھا کر  سچائی جاننے کے بہانے ہنگامہ کھڑا کردیا اور حالات اس قدر خراب ہوئے کہ پولیس کی بھاری نفری تعینات کر نی پڑی ۔ہندوشدت پسند تنظیموں پر اس کو کوئی اثر نہیں ہوا ۔ ان لوگوں نے  مسجد کے پاس مذہبی سرگرمی کرنے کا منصوبہ بنایا تو منگلورو پولیس کو دفعہ 144 لگانی پڑی ۔ وی ایچ پی والے پھر بھی نہیں مانے  اور  مسجدمیں پوجا کرنے پہنچے تو  کشیدگی اتنی بڑھی کہ پولیس کو انہیں  حراست میں  لینا  پڑگیا۔

اس دوران   نریندر مودی وچار منچ نے دعویٰ کردیا  کہ بنگلورو سے 120 کلومیٹر دور سری رنگا پٹن میں ٹیپو سلطان کے ذریعہ سن  1700 میں تعمیر شدہ جامع مسجد کو  ہنومان کے مندر پر بنایا گیا تھا نیز  منچ نے اس مسجد میں پوجا کرنے کی اجازت کا مطالبہ کردیا ۔ منچ کے ریاستی سکریٹری سی ٹی منجوناتھ نے ٹیپو سلطان کے  دستاویزات  اورمسجد کی دیواروں پر سنسکرت تحریروں  کا حوالہ دے کر اسے  ہنو مان مندر ثابت کرنے  کی کوشش کی ۔اس معاملے کے سامنے آتے ہی بدنام ِ زمانہ  سابق وزیر ایس ایشورپا  پھر سے حرکت میں آگئے کیونکہ اب کی  بار انہیں ٹکٹ ملنا مشکوک ہے۔ وہ ٹھیکیدار کے معاملے میں جیل بھی جاسکتے ہیں۔ اپنے آپ کو سیاسی طور پر زندہ رکھنے اور  گرفتاری سے بچنے کی خاطر انہوں نے کہہ دیا  کہ ا ب مسلم بھی یہ بات مان چکے ہیں کہ وہاں پر مسجد کی جگہ ایک مندر تھا۔  وہ کون سے مسلم ہیں ان کا سراغ ایشورپا کے سوا کسی کے پاس نہیں ہے ۔ انہوں نے  یہ بے سر پیر کا دعویٰ بھی ٹھونک دیا کہ مغلوں نے 36000 مندروں کو توڑ دیا تھااس لیے اب کسی کو تکلیف یا پریشانی دیئے بغیر سبھی مندر واپس حاصل کیے جائیں گے ۔ ایشورپاّ سوچتے ہوں گے کہ جھوٹ بولنا ہی ہے  تو کیوں نہ بڑا جھوٹ بولا جائے لیکن جھوٹ چھوٹا ہو یا بڑا وہ جھوٹ ہی رہتا ہے۔

  سیاسی سچائی تو یہ ہے کہ  شری رنگا پٹن مانڈیا ضلع میں پڑتا ہے۔ یہاں پر ووکالیگا طبقہ کا اثر و رسوخ رہتا ہے۔ موجودہ وقت میں اس علاقہ پر دیو ے گوڑا کی  جنتا دل (سیکولر) کا دبدبہ ہے اور بی جے پی اپنا اثر و رسوخ  بڑھانا چاہتی ہے نیز ایشورپاّ کا ذاتی مفاد بھی اس سےوابستہ  ہے۔ اسی  سبب یہ مسئلہ اٹھایا گیا ہے۔

مندروں کے حوالے سے ملک بھر میں جو تنازع چل رہا ہے اس کی بابت ادیتیہ تریویدی کی تحقیق چشم کشا ہے ۔ ان کے مطابق ہڑپا دور کے شہروں میں کسی مندر کے ثبوت نہیں ملتے کیونکہ لوگ پیڑوں کی پوجا کرتے تھے اور نہ  ویدوں  میں  کسی مندر کا ذکر ملتا ہے۔ وید کے منتر سورج، آسمان اور پیڑوں جیسے دیوتاؤں کے یگیہ کی روایت بیان کرتے ہیں ۔تقریباً 1000 سے 500  قبل مسیح میں جب  پران لکھے گئے تو  برہما، وشنو اور شیو کا ذکر شروع ہوا۔  اسی دور میں  میں بودھ اور جین مذہب کی شروعات ہوئی اور ا ن کے  مبلغین کی یاد میں ٹیلے بنائے گئے ۔ان سے ترغیب لے کر ہندوؤں نے مندر بنانا شروع کردیا۔تاریخ دان منو وی دیون کے مطابق 1000 سے 1200 عیسوی میں مندر کی لہر چلیاور شہر یا قصبہ میں کئی  مندر بن گئے۔ معروف مورخ  رچرڈ ایٹن اور پروفیسر رچرڈ ایچ ڈیوس اپنی تحریوں میں ہندو راجاوں کے ذریعہ  جین اور بودھ تیرتھ مقامات کے علاوہ ہندو مندروں کو تباہ کرنے اور مورتیووں کو لوٹنے کے کئی واقعات  درج کیے  ہیں ۔

 ساتویں صدی میں ہندو پلوراجا نرسنگھ ورمن اول نے چالوکیہ سامراج کی راجدھانی واتاپی سے گنیش کی ایک مورتی کو لوٹ لیا تھا۔50 سال بعد ہندو چالوکی سینا ہندو مندروں سے لوٹی گئی گنگا اورجمنا کی مورتیوں کی بازیابی کی ۔آٹھویں صدی میں بنگالی ہندو سینا نے کشمیر کے ہندو راجہ للتادتیہ سے جڑی وشنو کی ایک مورتی کو تباہ کردیا تھا۔دسویں صدی میں ہندو پرتہار راجہ ہرمب پا ل نے کانگاڑ کےہندو شہری راجہ کو ہرایا اور کانگاڑ شاہی مندر سے وشنو کی سینا کی مورتی لوٹ لی۔11 ویں صدی میں چول حکمران راجندر ال نے اپنی راجدھانی کو ہندو دیوی – دیوتاؤں کی مورتیوں سے سجایا ۔ ان میں چالوکیہ راجہ سے چھینی گئی درگا اور گنیش کی مورتی، اڑیشہ کے کلنگ سے چھینی گئی بھیور، بھیروی اور کالی کی مورتیاں اور چالوکیہ سے چھینی گئی نندی کی مورتی شامل تھیں۔

مندروں سے مورتیوں کو لوٹنے کے علاوہ، کئی ہندو راجاؤں نے اپنی جیت کا اشارہ دینے کے لئے شکست خورہ راجاؤں کے شاہی مندروں کو تباہ کردیا ۔ مثلاً10 ویں صدی میں راشٹرکوٹ کے راجہ اندر ثالت نے کلپا میں کلاپریہ کے مندر کو توڑ دیا۔نیزاڑیشہ میں سوریہ ونشی گج پتی ونش کے بانی کپلیند ر نے تامل دیش میں اپنی فوجی مہم کے دوران کئی ہندومندروں کو لوٹ لیا۔پروفیسر رچرڈ ڈیوس کے مطابق  اس وقت  مسلم اورترک بھارت میں آئے بھی نہیں تھے ۔برہمنوں نے بودھوں کو  ہندو دھرم کا دشمن  مان کر ان کے  تیرتھ کو مندروں میں بدل دیا۔ ان میں سب سے اہم پوری میں جگناتھ مندر ہے۔سوامی وویکانند بھی اسے قدیم  بودھ مندر بتاتے  ہیں  ۔ تروپتی مندر کے بارے میں بھی یہی بات ثبوتوں کی بنیاد پر کہی جاتی ہے۔  رومیلا تھاپر نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ہندو حکمران پشیا متر شونگ نے اشوک کے بنائے 84 ہزار بودھ استھل کو تباہ کردیا تھا۔ اب اگر ان تمام مندروں پر سوال اٹھا کر جین اور بودھ بازیابی کا مطالبہ کرنے لگیں تو یہ سلسلہ کہاں تک پہنچے گا؟  اپنے سیاسی مفادات کی خاطر گڑے مردے اکھاڑنے والے در اصل ایک ایسی آگ سے کھیل رہے ہیں جو اس پورے ملک کو خاکستر کرسکتی ہے ۔