اجمیر کی چادر اور پاکستان کا شیولنگ  

National

اجمیر کی چادر اور پاکستان کا شیولنگ  

ڈاکٹر سلیم خان

گیانواپی مسجد کے تنازع سے شروع ہونے والا سلسلہ ملک بھر میں کینسر کی مانندپھیلتا جارہا ہے۔ مندر کے نت نئے  دعووں کے بیچ، اب اجمیر میں واقع عالمی شہرت یافتہ حضرت خواجہ غریب نواز کی درگاہ پر بھی ایک  ہندو تنظیم نے تنازع پیدا کرنا شروع کردیا  ہے۔مہارانا پرتاپ سینا نامی ایک نومود تنظیم   کا دعویٰ  ہے کہ حضرت خواجہ غریب نواز کی درگاہ میں ایک 'شیو مندر' بھی ہے  ۔ اس تنظیم کے قومی صدر  راج وردھن سنگھ پرمار کے مطابق  اجمیر میں خواجہ کی درگاہ شیو مندر تھی، لیکن اسے تبدیل کر دیا گیا۔ وہ کہتا ہے حضرت خواجہ غریب نواز کی درگاہ ہمارا قدیم ہندو مندر ہے۔ پرمار کا مطالبہ ہے کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) سے سروے کرایا جائے۔اس  نے ریاستی حکومت کو  ایک ہفتے  کا وقت دیا ہے۔ اس بیچ اگر  تحقیقات شروع نہیں  ہوئیں تو وہ مرکزی وزراء سے ملاقات کرے گا۔ وزراء سے ملاقات میں کوئی حل نہ نکلا تو سینا کے 2000 سے زیادہ کارکن اجمیر جا کر تحریک چلائیں گے اور  ضرورت پڑنے پر عدالت میں بھی جا سکتے ہیں۔ ہندوستان فی الحال  اپنی آزادی کی ڈائمنڈ جوبلی منارہا ہے اس لیے ہر کوئی  اپنے من مانے طریقہ پر تحریک چلانے کے لیے آزاد ہے اور اگر و ہ مسلمانوں کے خلاف ہو تو اسے سرکاری آشیرواد بھی مل سکتا ہے ۔

 مذکورہ تنظیم کے چیف پرمار نےمرکزی وزراء سے ملاقات کا ذکر کیا ہے اس لیے سب سے پہلے اسے  اقلیتی امور کے وزیر اور ایوان بالا میں بی جے پی کے  ڈپٹی لیڈر مختار عباس نقوی نے ملاقات کرنی چاہیے جنہوں   اسی سال  فروری میں  درگاہ اجمیر شریف جاکر  810 ویں سالانہ عرس کے موقع پر چادر پیش کی ۔ اس موقع پر انہوں نے  بڑی تعداد میں وہاں  موجود سماج کے تمام طبقات کو وزیر اعظم نریندر مودی کا پیغام پڑھ کر سنایا۔وزیر اعظم  نے اپنے پیغام میں کہا تھا ’’خواجہ معین الدین چشتی کے 810 ویں عرس کے موقع پر دنیا بھر میں ان کے پیروکاروں کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات۔ دنیا کو انسانیت کا درس دینے والے عظیم صوفی سنت کے عرس کے موقع  پراجمیر شریف میں چادر بھیجتے ہوئے میں انہیں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔اپنے پیغام میں انہوں نےمزید  کہا تھا  کہ ملک میں امن، خوشحالی اور بھائی چارہ اپنا کر ہی فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم کی جاسکتی ہے ۔ یہی خواجہ صاحب کو سچا خراج عقیدت ہوگا۔نقوی سے ملاقات کے بعد پرمار کو مودی سے بھی ملنا چاہیے اور انہیں اس  پیغام کی  غلطی کا احساس دلانا چاہیے جو ان سے سرزد ہوئی تھی۔ اس کے بعد اگر پرمار پر یو اے پی اے نہ لگے تو وہ خوش قسمت ہوگا۔

اجمیر شریف کی درگاہ ہو یا گیانواپی مسجد، ان  کے خلاف چلائی جانے والی تحریک کا انتخاب جیتنے کے علاوہ دوسرا مقصد  مسلمانوں کو بدنا م کرکے یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ بڑی ظالم قوم ہے۔ اس کے ذریعہ عام  لوگوں کو ایک خیالی دشمن کے بہانے انتقام پر آمادہ کرنا ہے۔  انسانی تاریخ کے حوالے  سےبے شمارگمراہی پھیلا کراپنی سیاست چمکائی جا سکتی ہے اور  مستقبل کے اندیشوں سے خوفزدہ کرکے انتخاب جیتا جا سکتا  ہے لیکن حال  سے آنکھیں موندکر حقائق کو جھٹلایا نہیں جاسکتا ۔ مسلمان اگر ماضی میں ظالم تو حال میں بھی انہیں ویسا ہی ہونا چاہیے۔ ہندوستان اور یوروپ میں ان کی  مجبوری قابلِ فہم  ہے لیکن  کم ازکم عربستان یا پاکستان میں تو ایسا نہیں ہے۔ اس کے باوجود مودی جی   نے سن 2015ء میں اپنے پہلے دورے کے موقع پر  متحدہ عرب امارات میں باقاعدہ مندر کی تعمیر کے لیے ابوظہبی حکومت کے ذریعہ زمین  الاٹ کیے جانے کا اعلان  فرمادیتے ہیں۔  سچ تو یہ ہے کہ یو اے ای کے حکمراں نے ہندوؤں کی مذہبی تنظیم اکشر پرشوتم سوامی نارائن سنستھا کو مندر کے لیے  55 ہزار مربع میٹر رقبہ خطۂ اراضی مودی کے اقتدار میں آنے سے بہت  پہلے تحفہ میں  دے دی تھی ۔ ویسے دبئی میں شیو اور کرشن مندر کے علاوہ اکشر دھام کے سوامی نارائن کی مذہبی عبادت گاہ، گردوارہ اور گرجا  پہلے سے موجود ہے۔ دبئی کا پہلا مندر تو سن  1958  میں بنا تھا جب  ننھا نریندر واڈ نگر ریلوے اسٹیشن پر اپنے والد کی دوکان میں ان کا ہاتھ بنٹاتا تھا اس لیے اس کا بیجا کریڈٹ نہیں لینا چاہیے تھا لیکن  خیر جو لوگ عادت سے مجبور ہوتے ہیں  ان  کی رعایت ہونی چاہیے۔ 

امارات یا دبئی کا شمار بہت روشن خیال اورکشادہ دل ممالک میں ہوتا لیکن پاکستان کی شبیہ اس کے بالکل برعکس ہے ۔ اس لیے   مملکت خداداد پاکستان  کے اندرشیولنگ  کی موجودگی   کو عوام وخواص کے لیے دلچسپی کا سبب   ہونا چاہیے۔  ۔پاکستان کا شیو مندر صوبہ سندھ میں نہیں ہے جہاں ہندووں کی سب سے بڑی آبادی ہے بلکہ  خیبر پختونخوا میں ہے جس کی  انتہا پسندی ہمیشہ زیر بحث رہتی  ہے۔ ضلع مانسہرہ کے گاؤں چٹی گٹی میں میں ایک ہندو بھی موجود نہیں ہے لیکن یہاں پر ایک ’تین ہزار سال پرانا مندر‘ اب بھی  موجود ہے ۔مقامی افراد کے مطابق ’دنیا کا چوتھا  سب سے بڑا’شیولنگ‘  یہیں پر ہے ۔ اس مندر چرچا اس  سے منسلک ایک تنازع کی وجہ سے منظر عام پر آیا ۔  یہ کسی مسلمان کی جانب سے وہاں مسجد کے پائے جانے کا دعویٰ نہیں تھا  بلکہ ریاستی  حکومت کے ذریعہ  مندر کے احاطے میں    زائرین کی سہولت کے لیے تعمیر کیے جانے والے بیت الخلا کی تعمیر کا مسئلہ تھا ۔ اس پر  کچھ ہندو تنظیموں نے مندر کی توہین بتا کر احتجاج کیا  اور عدالت میں درخواست بھی جمع کرائی   جب کہ دوسرا اس اقدام کے حق میں تھا ۔

درشن لال مانسہرہ میں  واقع شیو مندر کے 25 سال تک نگراں رہے لیکن فی الحال  تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر ضلع ایبٹ آباد میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ بذاتِ خود  مندر کی دیکھ بھال کے لیے  ہفتے میں ایک بار وہاں جاتے  ہیں ۔ درشن لال نے ہی  عدالت سے درخواست کی ہے کہ بیت الخلا  کی تعمیرات کو  روک  کر  انہیں مندر کے احاطے سے باہر بنایا جائے۔ ان کے مطابق  پشاور یونیورسٹی اور ہزارہ یونیورسٹی میں آثار قدیمہ کے محققین نے اس مندر کے تقریباً تین ہزار سال پرانا ہونے کی تصدیق کی ہے۔ اس کا شمار پاکستان میں موجود چند تاریخی مندروں میں ہوتا ہے جسے ہندو کمیونٹی نے مقامی بااثر لوگوں کی مدد سے محفوظ رکھا  ہے۔ایک تحقیقی مقالے  میں انکشاف کیا گیا ہے  تاریخی شواہد  کے مطابق  اسے  14 ویں صدی میں بنایا گیا تھا مگر مندر کے اوپر بنا گنبد 17 ویں صدی کی تعمیرات سے ملتا جلتا ہے ۔ مسجد مہابت خان پشاور میں صوفی کاکا صاحب کے مزار سے اس میں خاصی  مشابہت ہے جسے مغل دور میں تعمیر کیا گیا تھا لیکن کسی پاکستانی کو یہ دیکھ کر اس کے مسجد ہونے کا خیال نہیں آیا جیسا کہ گیانواپی مسجد میں ہورہا ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ 1841 میں سردار گلاب سنگھ کی  گورنری کے دوران یہ تعمیر ہوئی لیکن کوئی اسے غلامی کی نشانی نہیں کہتا۔

درشن لال بتاتے ہیں کہ یہ شیولنگ تین ہزار سال پرانا ہے اور ’ایسے قد آور شیولنگ دنیا میں کُل چار رہ گئے ہیں جن میں سے ایک ہندوستان ، ایک بنگلہ دیش، ایک نیپال اور ایک پاکستان  میں  ہے ۔ شیولنگ پر موجود کچھ رسم الخط سے  ظاہر ہوتا ہے  کہ یہ شیولنگ اسی جگہ پر تیسری صدی سے پانچویں  صدی یا 822 سے 1026 صدی  تک بغیر کسی عمارت کے سرراہ موجود تھا جس کی عبادت کے لیے زائرین آتے تھے۔  بعد ازاں 1818 سے 1842 تک کے سکھ دور میں باقاعدہ اس کے لیے مندر کی تعمیر کی گئی ہے۔درشن لال کے مطابق ہندوستان  میں جب بابری مسجد کو گرایا گیا تھا تو پاکستان میں دیگر مندروں کی طرح اس مندر کو بھی مسمار کردیا گیا اور شیولنگ کو باہر پھینک دیا گیا تھا تاہم بعد میں دیگر مندروں کی طرح پاکستانی حکومت نے اس کی تعمیر کروائی اور محکمہ اوقاف نے اسے اپنی تحویل  میں لے لیا۔ ایسا نہیں ہوا کہ وہاں انتقاماً بابری  مسجد کی تعمیر کردی گئی ۔ درشن لال نے یہ بھی بتایا کہ پورے پاکستان سے ہندو اس مندر میں تہوار منانے کے لیے سال میں صرف  دو بار آتے ہیں۔  پورے ضلع میں چونکہ  ایک بھی ہندو موجود نہیں ہے اس  لیےمندر کی حفاظت مقامی لوگ کرتے ہیں اور کبھی بھی تہواروں کے دوران کسی قسم کا مسئلہ پیش نہیں آتا

درشن لال کے مطابق ’’ جب ہمارے تہوار ہوتے ہیں تو ہم قریب والی مسجد کے امام کو بتاتے ہیں اور وہ ہمیں کہتے ہیں کہ اذان کے وقت بس تھوڑا وقفہ کیا کریں، باقی آپ کو آزادی ہے کہ اپنی مذہبی رسومات ادا کریں۔  کیا  راج ٹھاکرے جیسے  لوگوں کے چلتے اس طرح کی  رواداری کا تصور بھی وطن عزیز کے اندر ممکن ہے؟ پاکستان میں چونکہ  مندر ، مسجد پر سیاست نہیں کی جاتی اس لیے وہاں اس طرح کے  مسائل نہیں پیدا ہوتے جیسے کہ وارانسی  اور دیگر مقامات پر میں جنم لے رہے ہیں  ۔ ان تنازعات کا تعلق  مذہب سے نہیں بلکہ سیاست سے ہے۔ جو احمق یہ سوال کرتے  ہیں کہ اس مسجد کا  نام گیان واپی کیوں ہے ان کے لیے  کاشی وشوناتھ مندر کے سابق سربراہ اچاریہ دیویدی   نے انگریز مورخ  جیمس پرنسیپ کی(1833) میں شائع ہونے والی  کتاب بنارس السٹریٹڈ کاحوالہ دے کر فرماتے ہیں کہ اس نام عالمگیر مسجد تھا ۔ ویسے   یہ سب تو پڑھے لکھے لوگوں کی  حقائق  کی بنیاد پر کہی جانے والی سمجھداری کی باتیں جن سے سنگھ پریوار کے غنڈوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ گیانواپی مسجد کا تنازع آگے چل کر کیا گل کھلائے یہ تو وقت بتائے گا لیکن بنارس کے مسلمانوں نے تنازع کے فوراً بعد والے  جمعہ کو بڑی تعداد میں وہاں پہنچ کر  یہ ثابت کردیا  کہ وہ نہ ڈرے ہیں اور نہ ڈریں گے۔   اپنے دینی  شعائر کی خاطر وہ لڑتے رہے ہیں اور آگے بھی لڑتے رہیں گے۔  ساحر لدھیانوی نے کیا خوب کہا ہے؎

ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف                             گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہ