ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کرنے کے لیے چاہیے:تدبیرِ نو و ترکیبِ نو

Education

راہ نما: مبارک کاپڑی

ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کرنے کے لیے چاہیے:تدبیرِ نو و ترکیبِ نو

نوجوانو! آپ جب کسی امتحان میں شریک ہوتے ہیں تو آپ کامیاب ہوسکتے ہیں یا کچھ سیکھ سکتے ہیں، ناکام کبھی نہیں ہوسکتے۔

            بڑی اہمیت کے حامل مقابلہ جاتی امتحانات میں اکثر پہلی ہی کوشش میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوپاتی مگر فی زمانہ ساری قوموں کے طلبہ اور والدین میں یہ بیداری پیدا ہورہی ہے کہ اپنی گزشتہ ناکامیوں کا حقیقی احتساب کیا جائے تو دوسری مرتبہ کی کوشش میں مطلوبہ بلکہ اس سے بہتر کامیابی یقینی طور پر مل سکتی ہے۔ہر سال سوِل سروسس کے امتحان میں کئی طلبہ اپنی پہلی کوشش میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کرتے، البتّہ دوسری یا زیادہ سے زیادہ تیسری کوشش میں منظم اور فوکس تیاری کے ساتھ شریک ہوتے ہیں اور بہترین کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ ہم دوسری مثال دینا چاہیں گے میڈیکل نیٖٹ امتحان کی۔اس سال میڈیکل کے نیٖٹ امتحان میں ایک ادارے میں ۰۰۳/طلبہ نے ایم بی بی ایس کے لیے حکومت کے کالجوں میں کوالیفائی کیا ان میں سے ۰۴۲/طلبہ نے یہ کامیابی دوسری کوشش میں حاصل کی یعنی گزشتہ سال ان ۰۴۲/طلبہ کے ماتھے پر ’ناکام‘ یا فیل کا لیبل لگادیا گیا تھا۔ والدین، اساتذہ، رشتہ دار، دوست احباب سبھوں نے اُنھیں ناکام قرار دیا تھا۔ ان طلبہ کے سارے عزیز و احباب نے لگ بھگ پورا سال یہی باتیں کہی ہوں گی کہ:(۱) بے چارہ ناکام ہوا (۲) ساری ہوشیاری دھری رہ گئی(۳) اب دوسری تیسری کوشش میں بھی کامیابی ممکن نہیں ہے (۴) جسے کامیاب ہونا ہوتا ہے وہ تو پہلی ہی کوشش میں ہوجاتا ہے (۵) دوسری بار یکسوئی کہاں رہ پاتی ہے (۶) ایک سال برباد ہوگیا وہ داغ تو زندگی بھر رہے گا، وغیرہ وغیرہ۔

            اللہ تعالیٰ کا منصوبہ ان ۰۴۲/طلبہ کے لیے البتّہ کچھ مختلف طے تھا کہ اگر وہ بچّے پوری لگن و یکسوئی کے ساتھ صحیح سمت میں محنت کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اُنھیں سرخرو کرے گا، اور وہی ہوا۔ ان طلبہ کے عزم و ہمّت اور پختہ قوّت ارادی کی بھی داد دینی چاہئیے کہ ان کی نگاہ اپنی منزل اور اپنے ہدف پر ہمیشہ ٹِکی رہی۔ اپنی تمام تر صلاحیت و طاقت کو اُنھوں نے سمیٹا، یکجا کیا اور پلٹ کر نہیں دیکھا اور اس طرح گورنمنٹ میڈیکل کالج میں اپنے لیے مقام بنالیا ورنہ کسی پرائیویٹ میڈیکل کالج میں بھی وہ سیٹ خرید سکتے تھے لیکن اس عمل میں ان کے فی سیٖٹ لگ بھگ ایک کروڑ روپے کے حساب سے کروڑوں روپئے ضائع ہوئے ہوتے۔ محض پختہ قوّت ارادی وصحیح محنت سے ان طلبہ نے قوم کے لگ بھگ ۰۴۲/کروڑ روپے بچائے اور انتہائی معیاری میڈیکل کالجوں میں طب کی تعلیمات سے سرفراز ہونے کے اہل قرار پائے۔

            اب آئندہ برسوں میں ان اہم مقابلہ جاتی امتحانات میں شریک ہونے والے طلبہ کے لیے ہم کچھ رہنمائی کرنا چاہیں گے:

۱۔  افواہوں کو خاطر میں نہ لائیں:

            طلبہ اور والدین کو ذہنی طور پر ڈسٹرب کرنے کے لیے اکثر و بیشتر حکومت ایسے اعلانات کرتے رہتی ہے کہ جس سے صرف کنفیوژن پیدا ہو۔ کبھی امتحان سے تین ایک ماہ قبل حکومت اعلان کرے گی کہ نیٖٹ کے امتحان میں گیارہویں جماعت کا نصاب شامل رہے گا۔ ۵۱/روز بعد اعلان کرے گی کہ پہلا اعلان ہم واپس لیتے ہیں۔ کبھی آن لائن امتحان کی بات ہوگی، کبھی آف لائن کی۔ ان سارے اعلانات پر طلبہ کسی تذبذب کا شکار نہ ہوں کہ اب محکمہئ تعلیم کا یہ شعار بن گیا ہے کہ طلبہ کو ذہنی تناؤ میں وہ مبتلا کرتا رہے۔

            چند سال قبل مرکزی حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ اب نیٖٹ او رجے ای ای کے امتحانات سال میں دوبارہوا کریں گے۔یہ دراصل والدین (یعنی ووٹرس) کو رِجھانے کی کوشش ہے کیوں کہ فروری کے امتحانات بورڈ کے امتحان کے دوران ہو تو طلبہ کو کیا فائدہ ہوگا یا اس سال میں دوبارہ امتحان کے باوجود پروفیشنل کالجوں میں داخلہ ایک ہی بار ہوگا۔ طلبہ حکومت کے ان جیسے اعلانات پر کان نہ دھریں اور صرف اپنے ہدف پر نگاہ رکھیں۔

۲۔  اپنی غلطیوں کی فہرست بنالیجئے:

            یہ آسان کام نہیں ہے، بڑے بڑوں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں اپنی غلطیوں کی فہرست بنانے میں مگر دوستو اگر آپ یہ کام بڑی سنجیدگی اور پوری ذمہ داری سے نہیں کرتے ہیں تو آپ آگے کیسے بڑھیں گے؟ سب سے پہلے گزشتہ سال کے مقابلے دستیاب وقت و مواوقع کا موازنہ کیجئے (الف)گزشتہ سال آپ کے روزانہ چھ گھنٹے کالج میں گزرتے تھے، اب یہ وقت بھی آپ کے پاس ہے۔ (ب) گزشتہ سال بورڈ اورنیٖٹ دونوں کی تیاری آپ کے ذمہ تھی۔ اب بورڈ کے امتحان سے آپ کو چھٹکارہ ہے۔ (ج) گزشتہ برس آپ کی غیر ذمہ داری میں سر فہرست سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال ہوگا۔ بلکہ رزلٹ کی تباہی کا سب سے بڑا سبب سوشل میڈیا ہی ہوگا۔ اس سال اس سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہی ہوگا۔ (د) گزشتہ برس دوست اور غلط ایڈوائزرس بھی آپ کی کرئیر سازی کا حصّہ تھے، اس سال آپ یقینا بھرپور سوجھ بوجھ سے کام لیں گے۔

۳۔  پڑھائی کی صحیح منصوبہ بندی کیجئے:

            گزشتہ سال آپ کی پڑھائی میں یقینا کمیاں و خامیاں تھیں اس لیے آپ کو مطلوبہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ اب نئے سرے سے آپ کو منصوبہ بندی کرنی ہوگی:

(۱) کتابوں کا صحیح انتخاب کیجئے۔ ان امتحانات میں این سی آر ٹی کی کتابیں سب سے اہم اورکلیدی ہیں۔ پورا نصاب اِنہی کتابوں کے اِرد گِرد گھومتا ہے۔ اِن کتابوں کے علاوہ ہم مزید چند کتابوں کے نام تجویز کرناچاہیں گے۔ (الف)بائیولوجی:ٹرومین آبجکٹیو بائیولوجی، بائیولوجی، چکرورتی آبجکٹیوبائیولوجی (ب) فزکس: ۰۴/ڈیزفزکس (ترپاٹھی) فزکس (ایس بی سنگھ) پرابلمس ان فزکس (ایروڈر) (ج) کیمسٹری:۰۴/ڈیز کمیسٹری فورنیٹ (ٹھاکور آبجکٹیو کیمسٹری (آر کے گپتا)وغیرہ۔

(۲)پڑھائی کے لیے ہر روز ایک ہلکا پھلکا ٹائم ٹیبل بنائیں اور ایک آدھ ماہ کے اندر ہی اس پر سختی سے عمل کرنے کی عادت بنالیجئے۔ ہر دو گھنٹے کی پڑھائی کے بعد لازمی طور پر ۵۱/منٹ سے آدھ گھنٹے کا بریک لیں۔

(۳) ٹائم ٹیبل ایک مکس (Mix) بیگ کی طرح بنائیں یعنی دو گھنٹے کیمسٹری (دوم) پھر پندرہ منٹ کا وقفہ اس کے بعد بائیولوجی (اوّل) جب بھی آپ کو اُکتاہٹ لگے تب آپ مضمون تبدیل کیجئے۔پسندیدہ مضمون آپ بار بار پڑھنے پر آمادہ ہوتے تھے اب (غیر پسندیدہ) مضمون کو آسان بنانے کے لیے کوشاں رہیئے۔ کوئی بھی مضمون پورا مشکل نہیں ہوتا۔ اسے حصّوں میں تقسیم کیجئے۔ آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ ہر مضمون کے اگر چار حصّے کرتے ہیں تو اِن میں سے تین حصّے آپ کو آسان محسوس ہوں گے اور ایک آدھ ہی مشکل ہوگا۔

(۴) پڑھائی کرتے وقت ہمیشہ پنسل ہاتھ میں رکھئے اور اہم نکات کو خط کشیدہ کیجئے۔ ہر بار اعادہ کرتے وقت آپ کی نگاہ ان نکات پر پڑنی چاہئیے۔ مقابلہ جاتی امتحان کے نوٹس تیار کرنے کا مطلب ہے: نکات یا پوائنٹس: داستان لکھتے مت رہئیے۔ صرف پوائنٹس لکھ لیا کریں۔ پورے پورے نوٹس تیار کرکے اپنا وقت ضائع نہ کریں۔

 (۵) ہر سبق پر ممکن ہے کہ مرتّب نے لگ بھگ ۰۰۳/ایم سی کیوطرز کے سوالات مرتّب کئے ہیں، اُن میں سے ۰۴/۵۴/سوالات بہت اہم ہوں گے، ان پر توجہ زیادہ مرکوز رکھئے۔

(۷)یسٹ سیریز یا مثالی پرچوں کے حل کرتے وقت پوری ایمانداری برتئے۔ الارم گھڑی رکھ کروقت کی پابندی کے ساتھ پرچہ حل کیجئے۔ ہر مشقی امتحان میں پچھلے امتحان سے کم از کم ۰۱/فیصد بہتری کی منصوبہ بندی بندی کیجئے۔ گزشتہ پانچ سال کے پرچے آن لائن پر دستیاب ہوں گے۔ ان کی مشق کیجئے۔(جاری)