مذہبی جنون اور مذہب کی آڑ میں سیاست

National

 مذہبی جنون اور مذہب کی آڑ میں سیاست

فہیم اختر۔لندن

 

            ہر مذہب چاہے وہ یہودیت ہو، عیسائیت، ہندو مت، بدھ مت یا اسلام، کچھ ایسی اخلاقی اقدار کی ضرورت پر زور دیتا ہے، جو آپ کی زندگی میں توازن پیدا کر سکیں اور آپ کو راستبازی کی راہ پر گامزن کر سکیں اور اپنے پیروکاروں کو غلط کاموں سے روکیں۔

 

            ہر مذہب اپنے پیروکاروں کو یہ سکھاتا ہے کہ غلط پر حق، برائی پر اچھائی، جھوٹ پر سچائی کا انتخاب کریں، اور تمام برے کاموں اور برے طریقوں کو چھوڑ کر دنیا میں امن اور ہم آہنگی کے ساتھ زندگی بسر کریں۔

 

            ہمارا مذہب ہمیں اپنی بنیادی باتوں اور ہمارے ارتقاء کی واضح سمجھا دیتا ہے اور ہمیں اپنی زندگی کو بامقصد اور خوشگوار بنانے کے لیے صحیح راستے کے بارے میں بتاتا ہے۔مذہب ہمیں وہ تمام اخلاقی اقدار سکھاتا ہے جنہیں اپنے خاندان اور بیرونی دنیا کے ساتھ رہنے کے لیے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ مذہب ہر والدین اور استاد کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں میں مذہبی عقائد اور عمل کو ابھاریں اور اپنے خدا سے محبت کرنے والے بچوں کو مذہبی اقدار اور تعلیمات کو اپنے ساتھ لے کر چلنے کی تلقین کریں۔ تاکہ انہیں اس بات کا اندازہ ہو کہ ان کی زندگیاں اور مذہب، بنیادی طور پر انہیں اپنی زندگی کو صحیح طریقے سے گزارنے کا راستہ دکھاتا ہے۔

 

            مذہب انسانی زندگی کے ہر پہلو میں جگہ اور ثقافت سے قطع نظر بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انسان کے بنیادی کردار کی تعمیر میں مذہب سب سے اہم عنصر ہے۔ عبادت کے مراکز نے ہمیشہ انسانی زندگی کو مختلف طریقوں سے تشکیل دیا ہے اور انسان کی مختلف چیزوں کو مثبت انداز میں کرنے کی طرف متاثر کیا ہے اور کمیونٹی کے تئیں احترام کی سماجی ثقابت کو برقرار رکھنے میں مدد کی ہے۔انسانی رویے کا تعین کرنے میں مذہب ہماری زندگیوں میں ایک اہم عنصر کے طور پر غالب رہا ہے۔مذہب محض ایک ضرورت نہیں ہے بلکہ انسانی زندگی کا ایک بہت اہم حصہ ہے اور ہماری زندگی کو کسی نہ کسی طریقے سے متاثر کرتا ہے۔

 

            کیا آپ نے کبھی اپنے آپ سے پوچھا ہے کہ میں فلاں سے نفرت کیوں کرتا ہوں؟ کیا یہ اس لیے ہے کہ آپ ان سے خوفزدہ ہیں؟ کیا آپ کو ان کے لیے کوئی احساس نہیں ہے؟چونکہ آپ کو یقین ہے کہ وہ کسی بھی چیز سے کم کے مستحق نہیں ہیں یا یہ اس وجہ سے ہے کہ آپ ناراض ہیں؟اگر آپ کر سکتے ہیں تو آپ ان کے خلاف تشدد کا استعمال کریں گے۔اور قرآن ہمیں ان گھٹیا جذبات پر قابو پانے میں مدد کرنے کے لیے ایک خوبصورت دعا سکھاتا ہے۔"اے رب، ہمارے دلوں میں نفرت کو جڑنہ پکڑنے دے، رب تو رحم کرنے والا اور خیال رکھنے والا ہے"(الحشر:۰۱)۔

            ہمیں اس نفرت کی بیماری سے نمٹنے کے لیے امید اور دعا کی ضرورت ہے۔ پوری دنیا میں سیاسی پولرائزیشن خوفزدہ کر رہی ہے۔ انتہا پسند اور دائیں بازوکے حامی دھیرے دھیرے اپنے خیمے گاڑ رہے ہیں۔ یہ سیاسی پولرائزیشن مذہبی تعصب اور انتہا پسندی کو بھی ہوا دے رہی ہے۔ امید اور اعتماد ایک ہم آہنگ معاشرے کی بنیاد ہیں جو کہ لوگوں کے درمیان اعتماد، مشترکہ انسانیت کو سمجھنے اور اپنے اختلافات کو قبول کرنے سے آتا ہے۔

 

            اس خبر سے ہندو اور مسلمان دونوں میں بے چینی پائی جارہی ہے کہ ہندوستان کی قدیم وارانسی شہر میں گیانواپی مسجد، وشوناتھ مندر کے کھنڈرات پر بنائی گئی ہے  جو کہ 16ویں صدی کے ہندوؤں کی ایک عظیم عبادت گاہ ہے۔کہا جاتا ہے کہ چھٹے مغل شہنشاہ اورنگزیب کے حکم پر 1669ء میں مندر کو جزوی طور پر تباہ کردیا گیا تھا۔ اب یہ جگہ ایک تنازعہ کی زد میں ہے جو ہندو اکثریت والے ہندوستان میں کشیدگی کو جنم کو دے رہا ہے، جہاں مسلمان سب سے بڑی مذہبی اقلیت ہیں۔

 

            ہندو درخواست گزاروں کا ایک گروپ ایک مقامی عدالت میں مسجد کے پیچھے ایک مزار اور کیمپیلس کے اندر دیگر مقامات پر پوجا پاٹ کرنے کے لیے رسائی کی درخواست کر رہا ہے۔ایک متنازعہ عدالتی حکم جس نے مسجد کے ویڈیو ریکارڈ شدہ سروے کی اجازت دی تھی اور کہا جاتا ہے کہ ایک پتھر ایسا پایا گیا ہے جو ہندو دیوتا شیو کی لنگ کی علامت ہے۔جبکہ وہیں مسلمان اسے وضو خانے کا فوارہ بتا رہے ہیں۔اس کے بعد مسجد کے ایک حصے کو عدالت نے مسجد کے حکام کو اپنا مقدمہ پیش کرنے کا موقع دیے بغیر سیل کر دیا ہے۔ یہ تنازعہ اب سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے، جس نے کہا کہ کیمپلیکس کی حفاظت کی جائے گی اور مسجد میں نماز جاری رہیں گی۔تو کیا ہم یہ مان لیں کہ گیان واپی مسجد کو بھی بابری مسجد کی طرح زمین بوس کرنے کی سازش ہورہی ہے۔ بلکہ اگر ہم یہ کہیں کہ سیٹ، اسکرپٹ، کردار تیار ہیں اور بس وقت کا انتطار ہے، تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہوگا اوریہ کام لوگوں کے جذبات کو بھڑکا کر پورا کر دیا جائے گا۔یعنی پچھلی بار کی طرح تاریخ کو توڑ موڑ کر پیش کیا جائے گا، کسی طرح یہ ثابت کیا جائے گاکہ مغلیہ حکمراں نے ہندوؤں کے ساتھ زیادتی کی اور مندروں کو توڑ کر مساجد قائم کئے تھے۔آخر میں پورے ملک میں ایسا ماحول قائم کر دیناکہ کشیدگی پھیل جائے اور ہندو مسلم فساد کروا کر ہندو انتہا پسند اس کا فائدہ اٹھا کر ایک بار پھر اپنے ناپاک اردوں میں کامیاب ہوجائیں۔

 

            ویسے آپ کو تو یاد ہی ہوگا کہ بابری مسجد، جو کہ 1992ء میں مقدس شہر ایودھیا میں ہندو ہجوم کے ذریعہ زمین بوس کر دی گئی تھی۔ باری مسجد کو شہید کرنے والے لوگوں کو عدالت نے بری کر دیا۔ مسجد کے انہدام نے ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی چھ سالہ طویل مہم کو عروج پر پہنچا دیا اور جس نے فسادات کو جنم دیا جس میں تقریباً دو ہزار سے زائد مسلمان ہلاک ہوئے۔پھر سارا معاملہ یوں

ہو اکہ ہم گونگے بن گئے۔ یعنی 2019ء میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ ایودھیا میں متنازعہ جگہ ہندوؤں کو دی جانی چاہیے جو اب وہاں مندر بنا رہے ہیں اور مسلمانوں کو مسجد بنانے کے لیے ایک اور پلاٹ دیا گیا۔ شاید اس کی ایک وجہ 1991ء کا ایک قانون جسے عبادت گاہوں کا قانون کہا جاتا ہے جو عبادت گاہ کو تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور ا سکے مذہبی کردار کو برقرار رکھتا ہے۔

 

            گیان واپی مسجد سمیت ہزاروں مساجد ہندوستان میں ایسے ہیں جس پر ہندو انتہا پسندوں کی نظر گڑی ہوئی ہے۔ جس کو شہید کرنے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی، وی ایچ پی اور آر ایس ایس پورے ملک میں مہم چلا رہی ہے۔جس کی آڑ میں آئے دن مسلمانوں کی جان و مال کا نقصان ہورہا ہے۔جس کی وجہ سے مسلمان ذہنی تناؤ کے شکار ہوگئے ہیں۔ ملک کی معاشی حالت دن بدن تباہ ہورہی ہے، بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی خطرے میں ہیں،اور تاریخ کی دھجیاں اڑائی جارہی ہے جو کہ ایک شرمناک بات ہے۔مذہب کی آڑ میں ہندو اور مسلمانوں کے بیچ ایسا زہر گھول دیا گیا ہے کہ فی الحال اس مسئلے سے نکلنا غیر یقینی لگتا ہے۔ تاہم ہندوستانی عوام اس سے پہلے بھی سخت امتحان سے گزر چکے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ہندوستانی عوام ایک بار پھر ہندوستان کی خوبصورت ثقافت اور بھائی چارگی کو مد نظر رکھتے ہوئے مذہب کی آڑ میں سیاست کرنے والوں کو جلد منہ توڑ جواب دے گیں۔

 

             تاریخ گواہ ہے جب کبھی بھی طاقتور حکمرانوں یااکثریتی گروہ نے اقلیتی یا کمزوروں پر ظلم کیا ہے، اس کا نتیجہ زوال پزیر ہی ہوا ہے۔  تھوڑی دیر کے لیے مان لیا جائے کہ مغلوں نے اپنی طاقت کے بنا پر اگر مندروں کو توڑ کر مساجد بنائی تو مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بھی مسلمان اس اقدام کی تائد کرتا ہے۔ بہتر ہوگا کہ ہندو انتہا پسند اپنی ضد اور طاقت کا فائدہ نہ اٹھائے اور مندر اور مسجد کی سیاست پر حکومت کرنے کا خواب چھوڑ دیں کیونکہ وقت پلٹنے میں دیر نہیں لگتا۔

فہیم اختر۔لندن

fahimakhteruk@yahoo.co.uk

www.fahimakhter.com