ان ہاتھوں کی تعظیم کرو، ان ہاتھوں کی تکریم کرو

National

ان ہاتھوں کی تعظیم کرو، ان ہاتھوں کی تکریم کرو

           

            معروف ادیب مجتبیٰ حسین کو جب صوفی جمیل اختر میموریل ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا اور میں نے ان سے کہا کہ’اگر آپ بھی ایوارڈ کو قبول کرنے سے اتفاق کریں تو ہم ایوارڈ فنکشن کی تیاریوں کا آغاز کریں‘۔

 

            انہوں نے اپنے کالم میں لکھا کہ ’میاں فہیم اختر،ہم اردو والے اتفاق بھی کچھ اس زور و شور سے کرتے ہیں کہ لگتا ہے اختلاف کر رہے ہیں۔ یوں بھی ہمارے ہاں اتفاق اور نفاق میں بہت کم فرق ہوتا ہے۔ رہی ایوارڈ کوقبول کرنے کی بات تو ہم نے زندگی میں ہر وہ چیز قبول کی جو ہمیں محبت سے مل جائے۔شادی بھی اسی اُصول کی بنیاد پر کی تھی۔ آپ تو جانتے ہیں کہ ان دنوں اردو میں ایوارڈ دئیے نہیں جاتے بلکہ انہیں حاصل کیا جاتا ہے۔ چناچہ اردو کے بیشتر ایوارڈ جو کسی زمانہ میں باوقار سمجھے جاتے تھے اب بے توقیر ہوچکے ہیں جنہیں پانے کے بعد ادیب انعام یافتہ کم اور سزا یافتہ زیادہ نطر آنے لگتا ہے اور لوگوں سے منہ چھپاتا پھرتا ہے‘۔

           

            دیکھا جارہا ہے کہ آج کل’ایوارڈ برائے فروخت‘ دستیاب ہے۔آئے دن لوگوں سے سنا جاتا ہے کہ اب ایوارڈ بھی برائے فروخت ہوچکاہے۔ یہ بات یوں تو حلق سے نیچے نہیں اتر رہی ہے لیکن مشاہدہ اور تفتیش سے کہیں نہ کہیں دال میں کچھ کالا ضرور نظر آرہا ہے۔تاہم ایسا بھی نہیں ہے کہ ہر ایوارڈ ہی برائے فروخت ہوگیا ہے لیکن تیزی سے بدلتے ہوئے حالات اور مزاج سے ایسا معلوم پڑتا ہے کہ ’ایوارڈبرائے فروخت‘ کا بورڈ جلد ہر جگہ لٹکا ہوا پایا جائے گا۔سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ آخر ایواراڈ کے فروخت ہونے کی وجہ کیوں آ پڑی۔

 

            ویسے مجھے تو اب تک ایک ہی’سی وک ایوارڈ‘"Civic Award"جولندن بورو آف مرٹن سے سماجی خدمات کے لیے ملا ہے۔ خدا جانے کس طرح لندن بورو آف مرٹن کو میری سماجی خدمات پر کیوں رحم آگیا اور انہوں نے مجھے ا ایوارڈ کا حقدار سمجھ کر مجھے سی وک ایوارڈ سے نوازا۔ ورنہ میں بھی آج تک ایوارڈ سے محروم ہی رہتا جو کہ ممکن ہے کہ میری بدقسمتی کی وجہ ہوتی۔ خیر میں توخود کو خوش قسمت ہی سمجھتا کہ اوروں کی طرح مجھے بھی ایک ایوارڈ تو ضرور ملا ہے۔

 

            ایوارڈ ایک ایسا لفظ ہے جسے سن کر ہر کسی کودلی خوشی ہوتی ہے چاہے وہ ایوارڈ پانے والا ہو یا دینے والا ہو۔ یہ روایت صدیوں سے چلی آرہی ہے۔ جب کوئی اپنے فن یا قابلیت کا مظاہرہ کرتا ہے تو اسے اس کی خاصیت اور قابلیت کے لئے ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے۔بچپن میں ہم نے ایسی کئی کہانیاں پڑھی تھی کہ فلاں بادشاہ یا رانی نے کسی عام انسان کو اس کی بہادری کے لئے تمغہ اور لقب سے نوازاہے۔ مختلف ممالک میں طرح طرح کے انعامات اور ایوارڈوں کو دئیے جانے کا رواج آج بھی قائم ہے۔ یونان میں اولمپک جیتنے والوں کو پتّوں سے سجے ہوئے تاج کو سر پر پہنا نے کا رواج اب بھی قائم ہے۔ کچھ ملکوں میں پتھروں پر لکھی ہوئی تحریر کو ایوارڈ کے طور پر دیا جاتا ہے۔بیشتر ممالک میں جنگی سپاہیوں کو بہادری کے لئے ان کے کاندھے پر کانسے کے تمغے لگائے جاتے ہیں۔ اس طرح زمانہ قدیم سے ایوارڈوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور اب بھی دنیا بھر میں کافی مقبول اور عام ہے۔تاہم جس کا معیار اب گرتاچلا جا رہا ہے۔

           

            1895ء میں نوبل پرائز کی شروعات معروف سوئیڈش سائنسداں (Alfred Nobel)الفریڈ نوبل نے کی تھا۔نوبل پرائز کیمسٹری، ادب، امن، فزیکس اور فیجیولوجی(میڈیسن) کے ماہرین کو دیا جاتا ہے۔ تاہم 1968ء میں معاشیات کے لئے نوبل پرائز کی بھی شروعات کی گئی۔ایوارڈ کا فیصلہ سوئیڈش اکاڈمی کے ماہرین ممبران کرتے ہیں۔ ہر سال دس دسمبر کو سوئیڈن میں ایک خاص تقریب ہوتی ہے،جس میں ایوارڈ یافتہ اپنا لکچر پڑھتے ہیں اور اپنا ایوارڈ وصول کرتے ہیں۔ویسے اس بات سے تو آپ بھی آشنا ہوں گے جب کچھ سال قبل معروف’نوبل پرائز‘ ایک متنازعہ ایوارڈبن گیا اور نامی گرامی اور قابلِ احترام ادارے بھی ایوارڈ کے معیار کو گرانے میں شامل تھے۔’نوبل پرائز‘ سے کون نہیں واقف ہے۔دنیا کا سب سے اعلیٰ اور مرتبے والا نوبل پرائز جسے ایسے نامی گرامی لوگوں کو دیا گیا ہے کہ ہم اور آپ شک و شبہ میں پڑ ہی نہیں سکتے ہیں۔ کیونکہ نوبل پرائز ایسے دانشور اور ماہرین کو دیا جاتا ہے جن کا نام اور کام دونوں قابلِ ذکر ہوتا ہے۔ (Swedish Academy)سوئیڈش اکاڈمی ہر سال نوبل پرائز قابل لوگوں کو دیتی ہے تاہم چند سال قبل سوئیڈش اکاڈمی ایک ایسے اسکینڈل سے گزر اجس کی وجہ سے اُس سال ادب کا نوبل پرائز ملتوی کر دیا گیا تھا۔۔

 

             2017 ء میں " "Me Too campaign مہم کی حوصلہ افزائی سے متاثر ہو کر اٹھارہ خواتین ممبروں نے جنسی ہراساں کا الزام لگایا تھا۔اس کے علاوہ اکاڈمی کے ایک ممبر کے شوہر نے چند لوگوں کے ساتھ بدتمیزی اور جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔جس  کے بعداس خاتون ممبر نے اپنا استعفیٰ دے دیا۔اس وجہ سے سوئیڈش اکاڈمی نے 2018ء کے نوبل پرائز کو ملتوی کر کے اسے 2019ء میں دینے کا فیصلہ کیا تھا۔سوئیڈش اکاڈمی نے اپنے بیان کو جاری کرتے ہوئے کہاتھا کہ ’یہ واقعہ ایک سنگین اور عام لوگوں کا اعتبار کھونے کا مسئلہ ہے۔ جس پراکاڈمی کافی سنجیدگی سے غور و فکر کر رہی ہے‘۔تاہم سوئیڈش اکاڈمی کے ممبران میں یہ بحث بھی چھڑ گئی کہ اس سے اکاڈمی کے وقار کو کافی دھچکا پہنچا ہے جب کہ وہیں دیگر ممبران اس روایت کو برقرار رکھنے کی حمایت کر رہے تھے۔

 

            الحمداللہ اب تو ایوارڈ گلی اور محلّے میں بھی دیا جانے لگا ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ ایوارڈ کی مقبولیت ہے یا ایوارڈ کا گرتا ہوا معیار بھی ہوسکتاہے!پہلے سال بہ سال چند خاص ایوارڈ حاصل کرنے والوں کا نام سنا جاتا تھا۔ لیکن اب تو ہر روز کسی نہ کسی کو ایوارڈ دئے جانے کی خبر سنی جاتی ہے۔ تھوڑی دیر کے لئے اگر ہم ہندوستان اور پاکستان کی مثال لیں تو ہر روز کسی نہ کسی کو ایوارڈ دیئے جانے کی خبر ملتی رہتی ہے۔ مجھے اس سے حیرانی نہیں ہوتی ہے کیونکہ ہندوستان کی آبادی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اس لحاظ سے ایوارڈ ہر روز بانٹنا ضروری ہو چکا ہے۔تاہم منتظمین کوشاید یہ آسانی ضرور ہوگئی ہے کہ انہیں ایوارڈ پانے والوں کی صلاحیت اور قابلیت کا جائزہ بڑے پیمانے پر نہیں لینا پڑ رہا ہے اور ایوارڈ آسانی سے بانٹے جا رہے ہیں۔جس کی ایک وجہ یا تو وہ نا اہل ہیں یا ایوارڈ دینے والوں سے ذاتی ربط و ضبط یا سیاسی اثر ورسوخ ہے۔اس کے علاوہ ایسی خبریں بھی سننے کو ملتی ہیں کہ پیسے دے کر ایوارڈ کو حاصل کیا جارہاہے۔

 

            ہندوستان سے میرے ایک رفیق نے مجھے فون کرکے بتایا کہ فیس بُک اردو ایوارڈ سے بھرا پڑا ہے۔ حال ہی میں یہ سننے کو ملا کہ ہندوستان کی مختلف اردو اکاڈمیاں دھڑا دھڑ ایوارڈ تقسیم کر رہی ہیں۔ جس سے ایوارڈ پانے والوں میں تو جوش پایا جارہا ہے تو وہیں ایوارڈ دینے والوں کی نیت پر شک بھی کیا جارہا ہے۔ایوارڈ پانے والوں میں وہ پروفیسر بھی شامل ہیں جنہوں نے زیادہ تر کتابیں ترتیب دی ہیں جو کہ ایک قابلِ ستائش بات ہے۔ایک صاحب تو اردو کے نام پر ایوارڈ جھولے میں لے کر پھرتے رہتے ہیں اور جب جہاں انہیں کوئی معصوم، بھولا بندہ نظر آیا وہ انہیں راستے پر ہی کھڑے کھڑے ایوارڈ تھما دیتے ہیں۔پھر بعد میں اس بندے کے نام کے ساتھ’ڈاکٹر‘ لگا کر اخبارات میں خبریں بھی شائع کر دیتے ہیں۔جس کی بات میں تردید بھی ہوتی ہے۔میں اس بات پر زور دینا چاہوں گا کہ یہ سچے نقادوں کی بھی پہچان ہے کہ کہاں تک ان چیزوں کا گہرائی اور ایمانداری سے تجزیہ کرتے ہیں تاکہ ادب کا معیار نہ گھٹنے پائے۔

 

             اب بھی دنیا میں کچھ تنظیمیں ایوارڈ دینے کے کام کو بحسن و خوبی انجام دے رہی ہیں اور وہ ایوارڈکا معیار بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔تبھی اُن ایوارڈوں کو پانے والوں کے نام کو سن کر کوئی حیرانی نہیں ہوتی ہے اور دل خوش ہوجاتا ہے۔اس کے علاوہ ایوارڈ دینے والے ادارے اس شخص کے کارنامے اور اس کی کامیابی کے بارے میں ایک جامع رپورٹ یا تفصیل شائع کرتے ہیں جس سے ایوارڈ پانے والوں کے تئیں خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ میڈیا بھی ایوارڈ کے متعلق ایک عمدہ اور اعلیٰ رپورٹ شائع کرتی ہے جس سے ایوارڈ اور اس کے پانے والوں کے بارے میں تشفی بخش اطلاعات موصول ہوتے ہیں۔

 

            ان تمام باتوں کے باوجودمیں ایوراڈ حاصل کرنے والوں کی کافی قدر کرتا ہوں۔ کیونکہ اس سے اس شخص کو لیاقت اور قابلیت کا صلہ ملتا ہے اور اسے ایک اعزاز اور رتبہ بھی ملتا ہے۔ لیکن وہیں میں اس بات سے بھی فکر مند ہوں کہ چند مفاد پرست، سیاسی اثرو رسوخ اور سرمایہ داروں نے ایوارڈ کا معیار گرانے میں کوئی کسر بھی نہیں چھوڑی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایوارڈ اب برائے فروخت ہوگیا ہے۔ جس سے لوگوں کے ذہن میں ایک سوال ابھر اہے کہ آخر صدیوں پرانی روایت کو کیوں نام نہاد مفاد پرست، سیاسی لوگ اور سرمایہ دار بدنام کر رہے ہیں۔لیکن مجھے امید ہے کہ ہر ذی شعور انسان ایسے نام نہاد اور مفاد پرستوں کو اپنی ایمانداری اور دیانتداری سے ایسا منھ توڑ جواب دیں گے تا کہ تعلیم یافتہ اور قابلِ قدرلوگوں جو ایوارڈ پانے کے مستحق ہیں ان کے وقار کو مزید دھچکا نہ پہنچے اور ایوارڈ کا باوقار سلسلہ جاری و ساری رہے۔اور اسے برائے فروخت نہ کرنے دیا جائے۔

           

            میں مجتبیٰ حسین کی اس بات سے اپنی بات ختم کرتا ہوں کہ ’فہیم میاں! ایوارڈوں کے معاملہ میں، میں ایوارڈ پانے والے ہاتھوں کو اتنا اہم نہیں سمجھتا جتنا کہ ایوارڈ دینے والے ہاتھوں کو سمجھتا ہوں۔ دینے والے ہاتھ اگر دیانت داری، خلوصِ نیّت اور محبت کی علامت ہوں تو سردار جعفری کے کلام کی مدد سے کہہ دیتا ہوں۔’ان ہاتھوں کی تعظیم کرو، ان ہاتھوں کی تکریم کرو‘۔

 

فہیم اختر۔لندن

fahimakhteruk@yahoo.co.uk

www.fahimakhter.com