منا بھائی اور سرکٹ : مہاراشٹر کی سیاست کے پورب پچھم

منا بھائی اور سرکٹ : مہاراشٹر کی سیاست کے پورب پچھم

ڈاکٹر سلیم خان

مہاراشٹر کی سیاست میں  گزشتہ صوبائی انتخاب کے نتائج کے بعد  ’ منا بھائی ایم  بی بی ایس‘ اگلے مرحلے میں یعنی’لگے رہو منا بھائی‘  میں بدل گئی ۔ ایک انڈر ورلڈ ڈان اچانک گاندھی گیری کرنے لگا ۔ سیاست کا یہ   الٹ پھیرسرکٹ کے خواب و خیال سے پرے تھا۔ وہ تو سوچ رہا تھا کہ اگر ہاتھی برسرِ اقتدار آجائے تو اس کے توڑ پانی کا کچھ بندو بست ہوجائے گا لیکن یہاں تو منا بھائی کے بھاگ کھل گئے ۔ اس چمتکار  کی امید سرکٹ تو دور منا بھائی کو بھی نہیں تھی لیکن قسمت  کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے۔ منا بھائی فوٹو گرافی کرتے کرتے ہاتھی پر سوار ہو کر پنجے کی مدد سے  کملا کی فلم اتارنے لگا ۔ اس میں کمل سے زیادہ پریشانی سرکٹ کو تھی ۔  سینا کا تیر کمل  کی پیٹھ میں لگا ضرور تھا لیکن اس سے قبل وہ خود ہاتھی کے بھتیجے کو اپنے ساتھ لے کر یہ حرکت کرچکی تھی اس لیے کسی کو اس سے ہمدردی نہیں تھی۔ ہر کوئی کہہ رہا تھا ’جیسی کرنی ویسی بھرنی ‘ لیکن بیچارے سرکٹ کا حال برا تھا ۔ کیونکہ  اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ کبھی ہاتھی اور منابھائی ایک ساتھ آسکتے ہیں لیکن یہاں تو  اقتدار کی خاطر گھڑی ،پنجہ اور تیرکمان سب ایک ساتھ ہوگئے تھے۔   اس منظر سے پریشان ہوکر سرکٹ نے  اپنے انداز میں لگے رہو منا بھائی کا یہ نغمہ چھیڑ دیا؎

کتنے سپنے تھے جو دل میں ہی مر گئے، چڑھنے کے پہلے ہی پربت  سے ڈر گئے

اب تو چڑھیں گے، گریں گے دیکھیں گے،کیا ہے پربتوں کے پار

 کہ اب تو آنہ چار آنے بچے ہیں ، چار   آنے سن لے ویسٹ نہ کرنا یار

دہلی میں بیٹھے چنگو منگو بھی  اس پیش رفت سے حیران تھے کیونکہ اس سے پہلے وہ قلت میں ہونے کے باوجود  دولت کے بل بوتے پر اقتدار کی کرسی  خرید لیتے تھے یہاں کثرت  بھی ان کے کام نہیں آرہی تھی۔ ماضی میں جس ہاتھی کے سبب تیرکمان اور کمل نشان میں ناچاقی ہوگئی تھی آج وہ دونوں ساتھ تھے اور کملا بائی حسرت بھری نگاہوں  سے اقتدار کی کرسی کو تاک رہی تھی۔  اس نئی صورتحال میں سرکٹ کو منابھائی کی دشمنی  نے کملا کی غلامی قبول کرنے پر مجبور کردیا   ۔سرکٹ  پر کملا کے بلیک میل کا دباو بھی تھا ۔دہلی سے آنے والی ایک تفتیشی بھیڑئیے  نے ۶ ماہ تک اس کے ہونٹ سی دئیے تھے  اور جب وہ ٹانکے کھلے تو دہانہ مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے لگا۔ سرکٹ کے لیے دراصل منا بھائی   کی سفید و شفاف شبیہ کے خلاف گہرے زعفرانی رنگ کی شال اوڑھنے کا یہ   نادر موقع تھا ۔  اس طرح انجن اور کمل  پھر سے ساتھ ہوگئے ۔انجن نے  اذان کے خلاف ہنومان چالیسا کا بگل بجا دیا گیا ۔ 

کمل اور انجن  کی رام ملائی جوڑی کا  عالمِ وجود میں آنا اور ایک دو دوسرے کے ساتھ   قدم   سے قدم ملا کر چلنا  ان کی مجبوری تھی  کیونکہ سو سال کی محنت کے باوجود کملا کا پریوار سرکٹ جیسا دھانسو اداکار پیدا نہیں کرسکا تھا ۔ سرکٹ کے پاس بھی  بول بچن کے علاوہ کوئی سیاسی سرمایہ نہیں  بچا تھا ۔  ۔ ایسے میں  سرکٹ کا انجن اور  کمل کے ڈبوں نے مل کر مہاراشٹر میں  ہندوتوا ایکسپریس بنائی ۔ سارے کمل دھاری اس ریل گاڑی  میں  سوار ہو  کر   منزل مقصود کی جانب رواں دواں ہوگئے ۔اس کے انجن میں سرکٹ بیٹھا تھا مگر ریموٹ کنٹرول کمل کے ہاتھوں میں تھا ۔سرکٹ کے شور شرابے سے منا بھائی فوٹو گرافر کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ کہیں اپنا بھگوا دھاری سینک انجن کے پیچھے لگے زعفرانی ڈبوں میں نہ سوار ہوجائے؟ اس لیے  پہلے تو اس نے کہا ہندوتوا کوئی دھوتی ہے جسے جو جب بھی چاہے پہن لیا جائے لیکن اس سے بات بنی نہیں  تو  اپنے بیٹے کو زعفرانی شال اوڑھا کر  بٹک مہاراج بنانے کا فیصلہ کیا ۔

بٹک مہاراج کے لیے بھگوا  شال پہن کر       ممبئی میں بیٹھنا کافی نہیں تھا کیونکہ یہاں اس کی ضرورت ہی نہیں تھی ۔  اس لیے خبر بنانے کے لیے   منا بھائی کے لکی راوت نے ناسک میں  بٹک مہاراج کی مئی  کے پہلے ہفتے میں   ایودھیا یاترا کا اعلان کردیا ۔  اس خبر نے سرکٹ کا فیوز اڑا دیا ۔ اس نے بھی پونے کے اندر  اپنے ساتھیوں کے ساتھ پانچ مئی کو ایودھیا جانے کی گھوشنا کردی ۔  مہاراشٹر کے اندر فی الحال ’ہندو گردی‘ کی مسابقت چل رہی ہے ۔  اس معاملے میں سرکٹ  کملا کا آلۂ کار بنا ہوا ہے اس لیے اس نے سوچا کہا یودھیا کا اعلان کملا تائی کو خوش کردے گا اور وہ اس کو دوچار  اضافی ٹافی اور تھما دیں گی  لیکن  داوں الٹا پڑگیا ۔ مہاراشٹر کے اندر تو کسی کمل والے نے سرکٹ کی تائید کی نہ مخالفت مگر یو پی کے اندر  قیصر گنج کے کمل دھاری  بی جے پی رکن پارلیمان برج بھوشن شرن سنگھ  بالکل کلبھوشن  کھربندا کی طرح رنگ میں بھنگ ڈالنے  کے لیے درمیان  میں کود پڑے۔ انہوں نے پھٹے میں ٹانگ ڈالتے ہوئے سرکٹ  کو ایودھیا میں نہیں گھسنے دینے کا اعلان کردیا ۔

 سرکٹ دراصل  یہ بھول گیا تھا ہندوتوا کے علمبرداروں میں شہرت کا حریص وہ اکیلا نہیں ہے۔  برج بھوشن نے جیسے ہی یہ دھمکی دی وہ ذرائع ابلاغ پر چھا گیا۔  کوئی ایک چینل والا ایسا نہیں تھا جو اس کے پاس مائیک لے کر نہیں پہنچا ۔ بس پھر کیا تھا برج بھوشن چندرا چندرا کر  کہنے  لگا کہ ایودھیا آنے سے پہلے راج ٹھاکرے کو شمالی ہند کے باشندوں سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنی ہوگی۔ جب پوچھا گیا کہ  سرکٹ  بہت طاقتور ہے اس کو کیسے روکیں گے  تو بھوشن بولے ہم بھی کسی سے کم نہیں ہیں ۔ ان کے خیال میں چونکہ سرکٹ نے شمالی ہندوستان کے لوگوں  کی توہین کی ہے ا س لیے معافی نہ مانگنے کی صورت میں  وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو بھی سے ملاقات نہیں کرنی  چاہیے۔ اس طرح اپنی گلی کا شیر نےیوپی میں بلی بن  کر رام للا کے درشن کا خیال اپنے دل سے نکال دیا۔ یہ ہے ان کی حیثیت اور جرأت جو مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں ۔سرکٹ نے اپنی اس حماقت سے ٹائیگر اور ان کے پورے خاندان کے نام پر بٹہّ لگا دیا  کیونکہ  برج بھوشن  نے جوش میں آکر یہاں تک  کہا کہ رام مندر تحریک سے ٹھاکرے پریوار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

 یہ ایک حقیقت ہے  بابری مسجد کی شہادت کے وقت ٹائیگر نے اپنے جن بھیڑیوں کو ممبئی سے روانہ کیا تھا وہ کولکاتہ ہوائی اڈے پر پھنسے رہ گئے تھے۔ اس لیے جن پر مقدمہ بنا ان میں کسی تیرکمان والے کا نام و نشان نہیں تھا  لیکن   مسجد کی شہادت کے بعد جب کمل والوں کے بھیشم  پتامہ اس موقف پر اٹل نہیں رہ سکے اور رتھ یاترا کے سارتھی نے بھی  عوامی غصے کی آڑ میں اپنا دامن جھاڑنے کی کوشش کی تھی  تو ٹائیگر نے آگے بڑھ کر اس کا سہرا اپنے سرباندھ لیا تھا۔ سچائی وہی تھی جس کی جانب برج بھوشن نے اشارہ کیا ہے۔ سرکٹ کے ایودھیا مہم نے نہ صرف اس کی عزت خاک میں ملادی بلکہ بٹک مہاراج کے بھی حوصلے پست کردئیے ۔  ویسے یوگی مہاراج نے پچھلی مرتبہ منا بھائی فوٹوگرافر کے دورے کو بھی بری طرح  ناکام کردیا تھا ۔  اپنی پولیس کے تحفظ میں درشن تو کروایا لیکن اس کے سیاسی فائدہ اٹھانے  کا موقع نہیں دیا تھا ۔  مہاراشٹر کے جنگل میں کمل کا مستقبل کیا ہوگا کوئی نہیں جانتا مگر یہ بات یقینی ہےکہ سرکٹ کی حالت چراغ پاسوان سے مختلف نہیں ہوگی ۔ اپنا کام نکل جانے کے بعد جب اسے لات مار کرکملا کے گھر سے نکالاجائے گا تو وہ بھی ’پورب پچھم ‘فلم کے اسی نغمہ کا پہلا بند گا رہا ہوگا؎

ابھی تم کو میری ضرورت نہیں ، بہت چاہنے والے مل جائیں گے

ابھی روپ کا ایک ساگر ہو تم ، کنول جتنے چاہوگی کھل جائیں گے

درپن تمہیں جب ڈرانے لگے، جوانی بھی دامن چھڑانے لگے

تب تم میرے پاس آنا پری یے(محبوب) ،میرا سر  جھکا  ہے جھکا ہی رہے گا تمہارے لیے