فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کے لیے مہاراشٹر سے اٹھی چنگاری ہنوز بے اثر تو ہے

National

فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کے لیے مہاراشٹر سے اٹھی چنگاری ہنوز بے اثر تو ہے

 لیکن اس کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے ہم کیا کررہے ہیں ؟

محمد ضیاء الدین (پربھنی)9822651193

   گزشتہ دو ہفتوں سے ملک دو طرفہ درجہ حرارت میں اضافے کی تپش سے جھوجھ رہا ہے ایک طرف تو نامہربان موسم ہے جس کی قہر سامانی اپنے جوبن پر ہے جس نے انسانوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے   دوسری طرف اس ملک کی فسطائی طاقتوں نے ملک میں فرقہ واریت کا جہنم بھڑکانا شرو ع کردیا ہے جس کی زد میں آج ملک کے غریب  طبقات اور اقلیتیں  بالخصوص مسلمان ہیں   ہنومان  جینتی  رام نومی  جیسے مذہبی تہوار  تو گویا ان شرپسندوں کے لیے شرپسندی کا پروانہ ہی لے کر آتے ہیں  اور اب تو ان اشرار کے گویا اچھے

   دن ہی آگئے ہیں  کہ ان کی ان شر انگیزیوں کو سکار اور اس کی مشنریوں کا پورا تعاون  حاصل ہے اور سوشل  میڈیا کے زمانے میں یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ فسادات کے دوران  اشرار اور  حفاظتی عملہ  ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے کھلے بندوں ایک دوسرے کے ساتھ مصروف غارتگری ہیں اور یہ اس لیے ہے کہ ان کے سر پر سرکار کا ہاتھ ہے کہ  سیاں  بھیے کوتوال اب ڈر کاہے کا     ظلم  بربریت  اور  ناانصافی کی انتہا یہ کہ خود پر حملوں کی مدافعت کرنے والوں کی عبادت گاہوں پر بلڈوزر  چلاے جا رہے ہیں  گویا کہ    ملک میں اب کوئی قانون کوئی دستور  باقی ہی نہیں  رہ گیا ہو  سرکار کے لیے کسی کا خاطی ہونے کے لیے عدالتی فرمان کے انتظار کی کوئی ضرورت  نہیں  سرکار جسے چاہے جیسی   چاہے سزا دینے کے لیے آزاد ہے  اور سرکار  بے محابہ اس عمل  میں مصروف ہے   غرض کہ ہر طرف افراتفری کا ماحول ہے اور سنگھ پریوار اور اس کے بغل بچے آے دن کسی   نہ کسی  بہانے فرقہ واریت کی آگ کو بھڑکانے اور مسلمانوں کی دل آزاری کے ذریعہ ان کو مشتعل کرنے کی کوششوں  میں مصروف ہیں  متھرا کی گیان واپی مسجد کے تنازعہ   کو بھی اسی  تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے  سنگھ پریوار کی درندگی وہاں اور شدت اختیار کرتی ہے جہاں الیکشن ہونے والے ہوں  اس کی مثالیں  کرناٹک  گئجرات اور  راجھستھان میں دیکھنے کو مل رہی ہیں  جہاں درپیش  الیکشن کے پیش نظر  سنگھ پریوار کی شر انگیزیوں  میں روز افزوں اضافہ ہوتا جارہا  ہے اور فرقہ وارانہ فسادا ت کی آگ کو  بھڑکانے کی ہر ممکن کوشش  کی جارہی ہے  اور اس سارے منظرنامے کو مسلمان  نہایت دہشت بھری نظروں سے بے بسی کے ساتھ دیکھ رہا  ہے اور صورت حال یہ ہے کہ سمجھ  میں نہیں آرہا ہے کہ آیا صرف عام مسلمان کا ذہن ہی ماوف ہو کر رہ گیا ہے یا مسلمانوں کے عمائدین قائدین  سیاسی سماجی  اور مذہبی شخصیات بھی اسی کیفیت کی شکار ہیں ۔

             مسلمانوں کی سیاسی جماعتوں ان کی پالیسیوں کا تو  باوا آدم ہی نرالا ہے  رہی مسلمانوں کی مذہبی اور ملی جماعتیں  ان کے وجود کا کہیں بھی احساس  نہیں ہورہا ہے    فطری اصول یہ ہے کہ جب کوئی  جاندار  چاہے کتنا ہی کمزور یا چھوٹا کیوں نہ ہو اگر کسی مصیبت میں پھنس  جاتا ہے یا موت اس کی نظروں کے سامنے ہو تو وہ اپنی مدافعت کے   لیے کچھ نہ کچھ کرتا ہے   اسی فطری اصول کی روشنی  میں ہم  بیس سے پچیس کروڑ کی تعداد  میں  موجود  عقل  ہوش و حواص کی حامل انسانوں کے رویے کو دیکھتے ہیں سواے   حیرت کے کیا کر سکتے ہیں  ہر طرف یا تو بے حسی  یا بد  حواصی  تو کیا سمجھا جاے کہ یہ بڑی تعداد ان چھوٹے چھوٹے جانداروں سے بھی گئی گزری ہے ۔یہاں اس حقیقی واقعہ   کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا  بلکہ حالات کے عین مطابق ہے  واقعہ ہے گزشتہ صدی کی  آٹھویں  دہائی کے وسط کا  مہاراشٹر کے ایک ضلع بیڑ میں ایک ندی ہے بندو سرا نا م کی یہ    وہ دور  تھا جب بارشیں  بہت کم ہوگئی تھیں  یا یہ کہ دو   دو  سال  بارش ہی نہیں ہوتی تھی  جس کے سبب  ندیاں  سوکھ کر ویران اور چٹیل  میدانوں  میں تبدیل ہو کر رہ گئی  تھیں  اسی سبب  لوگ  باگ ایسی جگہوں  پر قبضے کرکے مکانات  بنا لیے تھے  اسی طرح  بیڑ کی اس بندو سرا  ندی  کے کنارے بھی لوگوں نے اپنے اپنے کچے  نیم پکے مکانات   بنا لیے تھے  ایک روز سہ پہر سے بارش  شروع ہوگئی اور لوگ  اپنے اپنے گھروں میں بند ہوگئے   اس زمانے  میں  ٹی وی  نیا  نیا  آیا ہوا تھا  باہر بارش کے سبب لوگ اپنے   اپنے گھروں میں  دبکے ٹی وی دیکھنے  میں مصروف تھی انھیں یہ تو پتہ تھا کہ باہر بارش ہورہی ہے لیکن  وہ اس سے بے خبر تھے کہ باہر موت بھی ان کے اطراف منڈلا رہی ہے   ان کا سکون  میں اس وقت خلل پڑا جب  ان کے پیروں تک پانی  آچکا  تھا   تب وہ  درپیش  خطرے سے آگاہ ہوے اور ہاہا کار مچ گیا  چیخ پکار  ہونے لگی.