کیا ہمارا ملک لاقانونیت کی طرف بڑھ رہا ہے ؟ 

National

 کیا ہمارا ملک لاقانونیت کی طرف بڑھ رہا ہے  ؟ 

 یہ سوال ہی لایعنی ہے۔

 محمد ضیاء الدین،پربھنی 9822651193 

    2014   میں  جب نریندر مودی کی سرکار  بننے کی پرجوش  پیشن گوئیاں کی جارہی تھی  تب  قومی  کہلانے والا  میڈیا تو گویا آپے ہی میں نہیں تھا اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیسے اپنی خوشی کا اظہار کرے  تاہم اس وقت بھی کچھ مبصرین و تجزیہ نگار یہ خیال ظاہر کررہے تھے کہ اس  تبدیلی کا مطلب سواے فاشزم اور نراج کے کچھ نہیں ہوگا    اس وقت سننے والوں کی بڑیتعداد کے لیے یہ ایک بے وقت کی راگنی تھی جبکہ غور و فکر کرنے والوں  نے بھی اسے ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے چھوڑ دیا  تو کچھ لوگوں  نے اسے  ناقابل  عمل قرار دیا  لیکن آج سات سال بعد یہ بات  خدشات  قیاس آرئیوں  اور سوالات سے کافی آگے چلی گئی ہے ۔دریاووں  میں   پانی کی سطح بتانے کیلیے اسکیل ہوتی ہے اور  مختلف مدارج کو مختلف  رنگوں سے ظاہر کیا جاتا ہے  جبکہ خطرے کی نشان کی نشاندھی لال رنگ سے کی جاتی ہے اور دریا  میں طغیانی کی صورت  میں حفاظتی    عملے کی نظر اسی لال  نشان کی طرف ہوتی ہیں   آج  ملک عزیز  فاشزم اور نراج کے طوفان کے خطرے کی زد  میں ہے اور  محبان ملک اسے دہشت زدہ  نظروں سے  لال    نشان کی طرف  بڑھتے ہوے دیکھ رہے ہیں  اب بات  انتباہ  کی نہیں رہی بلکہ یہ خطرہ حقیقت بن کر سروں پر منڈلا رہا ہے   اور  لوگ کھل کر کہہ رہے ہیں کہ لاقانونیت نے   ہمارے دروازے پر دستک دے دی ہے اور ہمیں اپنی لپیٹ  میں لینے کے لیے بے قرار ہے   پچھلے دنوں  ایک مراٹھی  نیوز چینل پر اسی  موضوع پر ایک ڈبیٹ ہوا جس میں   مذکورہ بالا خیالات ظاہر کیے گئے  اس کا بنیادی  موضوع تھا  تین ریاستوں کی پولس کا آپس  میں گتھم گتھا ہوجانا اور ایک دوسرے پر چڑھ دوڑنا  وہ بھی ایک نہایت شر انگیز  شخص کے لیے   جس کے خلاف وارنٹ تھا   شرکاء نے اسے ملک کی تاریخ کا نہایت  مذموم واقعہ قرار دیتے ہوے اس شرمناک مواملہ کے لیے  وزارت داخلہ کو ذمہ دار قرار دیا    شرکا ء  میں موجود  ایک ریٹایرڈ پولس آفسر  نے کہا کہ یہ ملک میں جاری لاقانونیت کی ایک مثال ہے کہ ایک ہی ملک کی مختلف ریاستوں کی پولس ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہے .

  اگر پولس ہی مجرم کو بچانے کے لیے پولس سے بھڑجاے تو کیسے اسے قانون کی حکمرانی کہا جاسکتا ہے  اور حقیقت  بھی یہ ہے کہ ایسا کوئی واقعہ بی جے پی کی اس سرکار سے قبل دیکھنے یا سننے  میں نہیں آیا  جب مختلف ریاستوں کی پولس اییک دوسرے کے مد مقابل  آگئی ہو   گو کہ لاقانونیت کی بات آج کہی جارہی ہے لیکن لاقانونیت کی شروعات تو تب ہی شروع ہوگئی تھی جب پہلو خان کے گھر غنڈوں کی بھیڑ  نے جاکر  حملہ کیا تھا  لاقانونیت  بے گناہ لوگوں کی ماب لنچنگ   غنڈوں کی بھیڑ کی جانب سے  مسلمانوں کو یکا دکا   دیکھ کر حملے کرنا  بھی تھی  لاقانونیت  لوجہاد کے نام جپر مسلم لڑکوں کو گھیر کر مارنا  بھی تھی  یہ کہنا  بے جا نہ ہوگا کہ جب سے جبی جے پی اقتدار  میں آئی ہے پے درپے  لاقانونیت   کے واقعات  رونما ہورہے ہیں اور ا س لیے ہورہے ہیں کہ لاقانونیت  میں ملوث لوگوں کو برسر اقتدار کا بھر پور ساتھ جو  ہے اور  ملک یہ سارا تماشہ خاموشی سے دیکھ رہا ہے  اس  ملک نے یہ شرمناک مناظر بھی دیکھے ہیں  کہ وردی  میں ملبوس  اور فرایض پر موجود   پولس والوں کو  کس طرح سنگھ پریوار کے غنڈوں  نے بر سر عام تھپڑ  گھونسوں   سے مارا   اور یہ کہ  کمزوروں پر رعب جتانے والی  بلکہ ان پر بیجا ظلم کرنے والی  پولس ان غنڈوں کے سامنے بھیگی  بلی بنی نظر  آئی   ہم نے لاقانونیت کا وہ چہرہ بھی دیکھا کہ   کس طرح ایک  کمسن بچی پر کئی ایک جنسی درندوں  نے حملہ کرکے اس کی جان لے لی اور جب اس معصوم پر ظلم کرنے والے بھیڑیوں پر قانونی گرفت کی بات آئی تو محض اس لیے کہ  متاثرہ  مسلمان جبکہ ظالم اور زانی اکثریت کے ہونے کے سبب  ان  ظالموں کو بچانے کے لیے  غندہ گرد عناصر نے ان بھیڑیوں کو  بچانے کے لیے ترنگا یاترا  نکال کر   قومی پرچم کی  توہین و تذلیل کی  ،یہی نہیں  بلکہ اس ملک  نے یہ بھی دیکھا کہ  ملک کی راجدھانی  میں اور عین سرکار کی ناک کے نیچے  اس  ملک کے دستور کو غندہ گرد عناصر  نے بر سر عام نظر  آتش کردیا  اور  کوئی کاروائی  نہیں  یہ ہی نہیں ایسے بے شمار واقعات  ہیں جن میں مجرم  کھلے عام  شان سے گھوم رہے ہیں  شرط صرف اتنی ہے کہ وہ   بر سر اقتدار  جماعت کے اور  بھگوا  تنظیموں سے تعلق رکھتے ہوں   واقعات کا ایک لا متناہی سلسلہ ہے جو اس بات کا غماز ہے کہ اس ملک سے دسور و قانون کی حکمرانی ختم    ہو  چکی  ہے کہیں عدالتیں  مجرموں کو مسکراتے ہوے  باعزت بری کررہی ہیں  تو کہیں عدالتوں کے احکامات کو طاق پر رکھا جارہا ہے