اِن چھٹّیوں میں ہمارے گاؤں جاؤ بیٹا!

Education

راہ نما: مبارک کاپڑی

اِن چھٹّیوں میں ہمارے گاؤں جاؤ بیٹا!

باپ کا ای میل، بیٹے کے نام

پیارے بیٹے!

            تمھارا ڈِگری کا امتحان ختم ہوا، اب تمھیں جو چھٹّیاں ملیں گی اُن میں اوٹی، پنچ گنی وغیرہ کے بجائے اس مرتبہ تم ہمارے آبائی گاؤں جاؤ۔ تم نے اپنے کالج کے دوران کئی منصوبوں اور پروجیکٹ پر کام کیا، اب آئندہ عمرانیات یا سوشیالوجی اور علم بشریات یعنی اینتھراپولوجی کا ارادہ بھی رکھتے ہو۔ بیٹا سب سے پہلے یہ طے کر لو کہ تمھاری تحقیق محض کسی جامعہ کی لائبریری کی زینت نہیں بننی چاہیے بلکہ اُس سے معاشرے کو فیض پہنچے اور نئی سمت کی نشاندہی بھی۔

 

            گاؤں جاتے ہی تمھیں وہاں کی مٹّی سے سوندھی سوندھی خوشبو آئے گی کیوں کہ مئی مہینے کے اوائل میں گاؤں میں ہر شام ہلکی ہلکی بارش ہوتی ہے اور اُسی سے یہ خوشبو آتی ہے، شہر کے سمینٹ والے راستوں پر تمھیں وہ نہیں ملے گی۔

 

            گاؤں کے ہمارے گھر میں یہ دیکھو کہ وہ چھوٹا سا ٹیبل جس پر میں اپنی پڑھائی کرتا تھا، اب کس حالت میں ہے۔ گھر میں یہ بھی ڈھونڈو کہ میرا قندیل وہیں کہیں رکھا ہے۔ ہمارے گھر میں بجلی نہیں تھی اس لیے میں اُس قندیل کی روشنی میں پڑھتا تھا۔ اُس قندیل کی روشنی آج کے برقی قمقموں جیسی نہیں تھی مگر اُس میں پڑھائی کرکے میرے امتحان کا نتیجہ ہمیشہ روشن ملتا تھا۔ وہ قندیل لے آؤ، وہ ہمارے ڈرائنگ روم میں سجانے کے لائق ہے۔

 

            گاؤں کی زندگی سے اگر تمھیں واقعی محظوظ ہونا ہے اور سنجیدگی سے کچھ تحقیق بھی کرنی ہے توگاؤں کے تعلق سے اُردو ادب کے شاہکار افسانے و کہانیاں پڑھ کر جاؤ۔ سب سے پہلے تودھنپت رائے کی کہانیاں پڑھ لو، دنیا جنھیں منشی پریم چند کے نام سے جانتی ہے۔ احمد ندیم قاسمی کی کہانی’جوتا‘ اور قاضی عبد الستّار کی کہانی ’پیتل کا گھنٹہ‘ تو تمھارے نصاب میں ہی شامل تھا۔ اب تم اعظم کریوی کی کہانی ’کنول‘ حیات اللہ انصاری کی کہانی ’آخری کوشش‘ کرشن چندر کی کہانی ’شہتوت کا درخت‘ اور علی عباّس حسینی کی کہانی ’ندیا کنارے‘پڑھ کر جاؤ۔ کہیں سفر کو نکلو تو گوگل میپ صرف جغرافیہ چلے گا مگر اُس علاقے کی تاریخ و ثقافت سے استفادہ کرنے کے لیے خود محنت و مطالعہ کرنا ضروری ہے۔

 

            ہمارے گاؤں میں دیکھنا گھر کے پیچھے ایک آم کا درخت ہے۔ اب بھی ہوگا وہ، گاؤں کے درخت بڑے وفادار ہوتے ہیں، زندگی بھر ساتھ نبھاتے ہیں۔ یہ درخت تو میری پیدائش سے پہلے کا ہے۔ ابّا کہتے تھے دادا نے اُسے لگایا تھا۔ گاؤں کے لوگوں کی فطرت میں ایک پلاننگ ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ پھل کون کھائے گا، کسے چھاؤں نصیب ہوگی اور کسی دھوپ، یہ نہیں سوچتے،سوچتے، بس اللہ کی اس دھرتی کو آباد رکھنا، یہی خیال اُن کے دل میں ہمیشہ غالب رہتا۔ ہم تو اُس درخت کے آخری سرے تک چڑھاکرتے تھے۔ تم البتّہ اُس پر چڑھنے کی کوشش مت کرنا، گِر جاؤ گے۔ ہم گاؤں والوں کو درختوں سے بڑی دوستی ہوتی ہے اور تم شہر میں پلے بڑھے ہو، تم لوگ اُنھیں صرف درخت سمجھتے ہو، ہم اُنھیں اپنا ساتھی سمجھتے ہیں۔ پہلے تو اُس درخت پر خوب آم لگتے تھے یعنی پتّے کم، آم زیادہ۔ جب سے انسان قدرت کے نظام سے کھیلنے لگا ہے، یہ پھل پھول بھی ہم سے روٹھ گئے ہیں۔ اِس کے باوجود اگر درخت پر آم لگے ہوں گے تو دوچار توڑ لاؤ۔ ہم تو پتھر سے برابر نشانہ لگاکر آم گرایا کرتے تھے۔ تم پتھر مت مارنا، تم شہر میں پلے بڑھے ہو، تمھارا نشانہ برابر نہیں ہوگا ورنہ پڑوس کے گھر کی چھت توڑ ڈالو گے۔

 

            گاؤں میں ذرا یہ بھی دیکھو بیٹا کہ موذن کی اذان سے پہلے ہی گاؤں کا مرغ نیند سے جگاتاہے یا نہیں؟ مرغ کے بانگ کے ساتھ ہی آس پڑوس کے سارے درختوں پر سینکڑوں چڑیا ایک ساتھ چہچہانہ اور صبح ہونے کا اعلان شروع کرتی ہیں۔ جب سے یہ دھرتی قائم ہے وہ سبھی یوں ہی بآواز بلند چہچہاتی ہیں، وہ سب سیاست دانوں کو اور عدالتوں کو پسند آئے یا نہیں۔ فجر کی نماز کے فوراً بعد تم ندی پہنچ جاؤ،کیوں کہ سورج کے طلوع ہوتے وقت ندی کے پانی کی پوری سطح پر سورج کی کومل کِرنیں جو سنہری چادر بچھادیتی ہیں وہ تمھیں شہر میں کہیں دکھائی نہیں دے گی۔

 

            ندی سے واپس ہوتے وقت گاؤں کے کنویں کے پاس جاؤ۔ تھوڑا رُکو وہاں، دیکھو لوگ کتنی محنت ومشقّت سے کنویں سے پانی نکال نکال کر لے جاتے ہیں۔کچھ اسکولی طلبہ بھی تمھیں کنویں سے پانی نکالتے اور کندھے پر لے جاتے نظر آئیں گے۔ اُن پر مت ہنسو، وہ میں ہوں۔ ہاں بالکل میں بھی اُنہی کی طرح کنویں سے پانی کھینچ کھینچ کر گھر لے آتا تھا۔ یہ طلبہ جو سر پر پانی سے بھرے ہنڈے لے جارہے ہیں، اُن کی آنکھوں میں دیکھنا، وہ زندگی سے ہار ماننے والے نہیں ہیں۔ تم بھی چاہتے ہو کہ زندگی سے ٹکّر لینے کا وصف تم میں پیدا ہوجائے تو اُن میں سے کسی ایک نوجوان کے ہاتھ سے ایک ہنڈا اپنے کندھے پر لے کر اُس کے گھر تک چھوڑ آنا، یقین جانو، زندگی سے مقابلے کی ایک عجیب طاقت تم میں آجائے گی۔

 

            اب اس پانی کی بات سُن لو کہ اس کنویں کا پانی پینے کی بناء پر ہم کبھی بیمار نہیں ہوتے تھے۔ گاؤں کی ندی میں نہانے سے ہم کبھی کسی جِلدی بیماری کا شکار نہیں ہوئے۔ یہ بھی سُن لو کہ پگڈنڈیوں پر بھاگتے ہم بچّوں کو کسی جِم کی بھی کبھی ضرورت نہیں پڑی۔ پانی اور قدرت کی نعمتوں سے انسان کی لاپرواہی کا نتیجہ بھی سُن لو بیٹاجو ایک دل دہلانے والی خبر ہے کہ اب تیل اور سونے چاندی کی طرح پانی بھی ایک شہ کے طور پر وال اسٹریٹ پر رجسٹرڈ ہوگی۔ اب اسٹاک ایکسچینج پر اُ س کی تجارت ہوگی۔ کیلیفورنیا میں اس کی ایک سال میں قیمت دوگنی ہوگئی یعنی اب قدرت کی اس نعمت کو لوگ جمع کریں گے اور جب لوگ تڑپنے اور سسکنے لگیں گے تب اُس کی بلیک مارکیٹنگ ہوگی۔ تم اِ ن چھٹّیوں میں اِسی پر ریسرچ کرلو کہ گاؤں کے لوگ قدرت کی اِن بیش قیمت نعمتوں کو کیسے سنبھال رکھتے ہیں۔

            رات کے وقت تمھیں دُور ایک گھر سے مسلسل کھانسی کی آواز سُنائی دے گی، وہ پرائمری اسکول کے سبکدوش ہیڈ ماسٹر ہیں۔گاؤں کا لگ بھگ ہر شخص اُن کا طالب علم رہ چکا ہے۔ ہمیں جس طرح وہ پڑھاتے تھے، اُس کا ایک ایک نقش ذہن پر موجود ہے۔ وہ کبھی ڈانٹتے نہیں تھے، اُ سکی نوبت ہی نہیں آتی تھی کیونکہ اُن کی آنکھوں میں ہم پڑھ لیتے تھے کہ وہ ہم سے ناراض ہورہے ہیں۔ پچھلے چند برسوں سے ’جناب‘ (پورا گاؤں اُنھیں اِسی نام سے جانتا ہے) بیمار چل رہے ہیں کھانسی ہے کہ پیچھا نہیں چھوڑ رہی ہے، مگروہ بڑے خوددار ہیں (لفظ ’خوددار‘ تمھیں صرف گاؤں میں سُنائی و دکھائی دے گا) اس لیے پچھلی بار میں نے ایک بند لفافے میں کچھ رقم اُن کے علاج کے لیے پیش کردئے جسے اُنھوں نے مسکراکر یہ کہتے ہوئے لوٹادی ”میں نے یہ طے کیاتھا کہ اس گاؤں کو اور اُس کے طلبہ کو کچھ نہ کچھ دیتا ہی رہوں گا، اُن سے کچھ نہیں ہوگا۔“ پنشن میں زندگی کے آخری ایّام گزار رہے ہیں مگر کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ بیٹا، گاؤں کی مٹّی کے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔

 

            گاؤں میں پڑوس میں حلیمہ خالہ رہتی ہیں، اُنھیں اگر معلوم ہوا کہ تم گاؤں آئے ہو تو وہ تمھارے لیے چاول کی روٹی اور چٹنی لے کر آجائیں گی۔ ہم بھی بچپن میں حلیمہ خالہ کے ہاتھ کی بنی چاول کی روٹی کھاکر ہی اسکول جاتے تھے، وہ چاول کی روٹی تمھیں شہر میں کہیں نہیں ملے گی۔

 

            تم علمِ بشریات پر ریسرچ کرنا چاہتے ہو نا تو جناب جی اور حلیمہ خالہ کے چہروں کا مطالعہ کرلو۔ پنشن کی ایک چھوٹی سی رقم پانے والے جناب جی اور کووِڈ کے مریضوں کی خدمت کرنے والی حلیمہ خالہ کے چہروں پر اس قدر نُور کس طرح پھیلا ہوا ہے؟ وہ ہر حال میں خوش کیونکر رہتے ہیں؟ اِن حالات میں بھی اگر کوئی مہان آجائے تو اُسے خداکی برکت کیسے خیال کرتے ہیں؟ فضامیں نصب کئے ہوئے سیّاروں سے ٹکنالوجی گاؤں میں بھی داخل ہورہی ہے مگر گاؤں کی روایتوں کی ایک حسین تاریخ ہے جو ساری ٹکنالوجی پر بھاری ہے اس لیے ابھی گاؤں زندہ ہے اور اُسے زندہ رہنا چاہیے بیٹا!