" اُردو صحافت کے دو سو سال میں خواتین کے اہم کردار"

Education

" اُردو صحافت کے دو سو سال میں خواتین کے اہم کردار"

پر صوفی جمیل اختر لٹریری سوسائٹی کولکاتہ کے زیر اہتمام کامیاب نشست کا انعقاد ۔

 

پریس ریلیز(کولکاتہ) :27/مارچ 1822میں ہری ہردت نے اخبار"جام جہاں نما" کے ذریعہ کلکتہ سے اردو صحافت کی بنیاد ڈالی ۔گزشتہ ماہ مارچ میں اردو صحافت کے دو سو سال مکمّل ہوچکے ہیں ۔ہرطرف اس  دوسو سالہ جشن کو بڑے جوش وخروش سے منایا جارہاہے ۔تاہم اس دوران ہم خواتین کی صحافتی خدمات کو کہیں نہ کہیں نظرانداز کر جاتے ہیں ۔اس شکایت کو دور کرتے ہوئے 8/مئی 2022بروز اتوار شام 7بجے صوفی جمیل اختر لٹریری سوسائٹی کولکاتہ نے بذریعہ آن لائن زوم ایک کامیاب نشست بعنوان "اردو صحافت کے دو سو سال :خواتین کا اہم کردار "کا اہتمام کیا ۔اس پروگرام کے مہمانان میں تین معروف خواتین صحافی محترمہ ڈاکٹر شمع افروز زیدی (ایڈیٹر رسالہ "بیسویں صدی") ,محترمہ ممتاز خان(اینکر/پروڈیوسر, چینل "زی سلام") اور محترمہ رئیسه منور (اسسٹنٹ ڈیپوٹی ایڈیٹر, روزنامہ "انقلاب "ممبئی) شامل ہوئیں ۔ان خواتین صحافیوں کی زبانی اردو صحافت کے مختلف پہلوؤں اورخواتین کے کردار پر تبادلہ خیال ہوا۔نظامت کا فریضہ ایمن عنبرین صاحبہ نے بحسن و خوبی انجام دیا۔انہوں نے اپنے کارآمد سوالات کے ذریعہ پروگرام کے معیار میں اضافہ کیا۔اس تقریب کا آغاز ادارہ ہذا کے صدر جناب ایس-ایم-راشد کے استقبالیہ کلمات سے ہوا۔انہوں نے ادارہ کی ادبی وثقافتی خدمات کو پیش کرتے ہوئے تمام مہمانان اور سامعین کا خیر مقدم کیا ۔

 

        شمع افروز زیدی صاحبہ نے اپنی گفتگو میں اپنی تعلیمی, ادبی اور عملی سفر کو بیان کیا۔انہون نے کہاکہ کس طرح وہ جب اپنے خاوند جناب رحمن ایوبی کے ساتھ صحافت کی دنیا میں قدم رکھا تو سب سے پہلے ڈبی سیکھی۔وہ بیسویں صدی کے علاوہ کئی موقر رسائل سے جڑی رہیں جن میں" فکر وتحقیق "اور "امنگ"وغیرہ شامل ہیں ۔انہوں نے رسالہ بیسویں صدی کے سرکولیشن کو بڑھانے کے لئے کئ تجربے بھی کئے اور اس کے سرکولیشن کو 20000سے 40000تک پہنچا دیا مگر قارئین کے اصرار پر پھر افسانوں کی طرف لوٹ آئیں ۔انہوں نے اقرار کیاکہ جہاں جدید ٹیکنالوجی اور کمپوٹر سے سہولیات میسر ہوئیں ہیں وہیں پروف کی غلطیاں کافی پریشان کرتی ہیں ۔شمع افروز زیدی صاحبہ نے کہاکہ اردو سے محبت کے لئے جنون چاہئے اور بیسویں صدی چلانا میرا جنون ہے ,کیونکہ آج اردو صحافت گھاٹے کا سودا ہے لہزا اس سے محبت اور جنون ہی ہمیں اس سے جوڑے رکھتی ہے ۔

 

         رئیسه منور صاحبہ نے اپنی گفتگو میں کہاکہ وہ اپنے والد سے متاثر ہوکر صحافت کی طرف آئی ۔کمپوٹر آپریٹر سے ہوتے ہوئے وہ آج اسسٹنٹ ڈیپوٹی ایڈیٹر کے عہدے پر فائز ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پرنٹ میڈیا میں خواتین صحافی کی تعداد قدرے کم ہے اس کی وجہ گھر والوں کی سوچ بھی ہے, وہ دوسرے شعبوں کو ترجیح دیتے ہیں ۔رئیسه منور صاحبہ کا ماننا ہے کہ نوجوان نسل میں کافی صلاحیتیں ہیں آج کی خواتین کو اس طرف راغب کرنے کی ضرورت ہے ۔

 

       ممتاز خان صاحبہ نے ہندی جرنلزم سے اپنی صحافتی زندگی کی شروعات کی اور تین سال سے اردو چینل زی سلام سے جڑی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ وہ کبھی اردو نہیں پڑھی مگر اردو سے بےحد محبت کرتی ہیں اور ہم نے اردو زبان سے بات کرنے کا سلیقہ سیکھا ہے ۔انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ موجودہ وقت میں اردو زبان کو فروغ دینے کے لئے  کافی کام ہورہا ہے اور اردو صحافت کو تقویت بخشنے میں اردو چینل کا بہت ہاتھ رہا ہے ۔ہندی نیوز اینکر میں اردو جاننے والوں کو ترجیح دی جاتی ہے ۔ہری ہردت کی طرح زی سلام کے سابق ایڈیٹر سدھیر سرما کی اردو سے محبت نے اردو صحافت کے دو سو سال بعد بھی ثابت کردیا کہ یہ کسی مخصوص طبقہ کی زبان نہیں ۔لہزا آج اردو صحافت کا مستقبل کافی تابناک ہے ۔

 

      اس تقریب میں شرکاء کی خاصی تعداد موجود تھی جن میں ادارہ ہذا کے سرپرست جناب فہیم اختر(لندن), نائب صدر جناب امتیازگورکھپوری,جناب شمس الدین, سکریٹری جناب طیب نعمانی, جناب شمیم احمد ,محترمہ شاہدہ شمیم, محمد سلیم, غلام غوث اور محمد آفتاب احمد وغیرہ موجود تھے ۔اس پروگرام کو فیس بک لائیو کے ذریعہ کافی تعداد میں لوگوں نے دیکھا اور پسند کیا۔ڈاکٹر فاطمہ خاتون کے اظہار تشکر کے ساتھ اس تقریب کا اختتام رات 8:30 بجے ہوا۔

******************