کیجریوال  نے جھاڑو اور کمل کا فرق   مٹا دیا  

National

کیجریوال  نے جھاڑو اور کمل کا فرق   مٹا دیا  

ڈاکٹر سلیم خان

بی جے پی کے نقشِ قدم پر چلتے چلتے عام آدمی پارٹی نے اپنے سر پر اپنا جھاڑو مارلیا ۔ وہ جگنیش میوانی کے انداز میں تجیندر پال سنگھ بگاّ کو گرفتار کرنے کی کوشش میں  بی جے پی سے مات کھا گئی کیونکہ پنجاب پولیس کی قانونی سوراخ میں دہلی پولیس  عدالت کی مدد سے  گھس گئی اور ہریانہ پولیس کے ذریعہ بگاّ کو بھگا کر دہلی کورٹ میں پیش کردیا ۔ دہلی کی عدالت نے اسے چھوڑ دیا کیونکہ پنجاب کی پولیس نے ضابطہ کی کارروائی مکمل نہیں کی تھی ۔ اس طرح اب پنجاب پولیس پر اغواء اور تجیندر کے والد کو زدوکوب کرنے کا معاملہ درج ہوگیا ۔ ممبئی میں کہتے ہیں کھایا پیا کچھ نہیں گلاس پھوڑا بارہ آنہجہانگیر پوری فساد  کا الزام  بھی عام آدمی پارٹی نے بی جے پی کی نقل کرتے ہوئے  روہنگیا اور بنگلا دیشیوں    کے سر ڈال کر اسی طرح کی رسوائی کا سامان کیا تھا ۔ وہ مثل مشہور ہے کوا چلا ہنس کی چال تو اپنی چال بھی بھول گیا ۔ ایسا ہی کچھ فی الحال عام آدمی پارٹی کے ساتھ ہورہا ہے۔اخلاقی سطح پر دونوں میں کوئی فرق نہیں رہا ہے۔

بلڈوزر کے زہریلے بادل جب اترپردیش سے نکل کر مدھیہ پردیش ہوتے ہوئے دہلی کے افق پر چھانے لگے تو      عام آدمی پارٹی  کے رکن اسمبلی  امانت اللہ خان نے  نصف شب میں ایک ویڈیو بیان جاری کرکےاس  کے استعمال سے منع کیا ۔ پارٹی کے  کسی اہم ہندو     رہنما کی جانب سے  پیغام نہیں آیا حالانکہ  یہ احمق اس بات کو نہیں سمجھ سکے کہ  بلڈوزر  صرف مسلمانوں کی دوکانوں پر نہیں چلے گا بلکہ   ہندووں کی دوکانیں بھی اس کی زد میں آئیں گی  اور ایسا ہی ہوا۔ اس معاملے میں جہاں فرید احمد اور ریحانہ بی بی کی دوکان ٹوٹی وہیں  دلیپ سکسینہ اور گنیش گپتا بھی محفوظ نہیں رہے بلکہ گپتا جی تو اپنے دستاویز لے کر سپریم کورٹ پہنچ گئے۔  یہ دیکھ کر عام آدمی پارٹی کو اپنی غفلت کے نقصان کا احساس ہوا اور اس کی بھرپائی کے لیے رکن پارلیمان  راگھو چڈھا کو میدان میں اتارا گیا۔ راگھو چڈھا نے پینترا بدل کر نہایت اعتماد اور سلیقہ سے بی جے پی پر زبردست  حملہ بول دیا۔ انہوں نے چار باتیں کہیں جس کو نہ صرف اروند کیجریوال نے خود ری ٹویٹ کیا  بلکہ منیش سسودیہ سے لے کر   آتشی تک سب نے اس بیان کے مواد  کو گھما پھرا  کر دوہرایا۔

 راگھو چڈھا نے سب سے پہلے تو بی جے پی پر سیدھا الزام لگا دیا کہ ملک بھر میں وہ جگہ جگہ فساد کروا رہی ہے۔  اس کے بعد چڈھا بولے اگر ملک بھر میں دنگا فساد روکنا ہے تو سب سے پہلے بی جے پی کے صدر دفتر پر بلڈوزر چلا نا چاہیے ۔ وہ گارنٹی دیتے ہیں کہ اگر ایسا کیا گیا تو فرقہ وارانہ تشدد رک جائے گا۔  اس کے بعد امیت شاہ پر نشانہ سادھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کے اشارے پر فساد ہورہا ہے۔ دنگوں کو روکنا ہے تو سب سے پہلے امیت شاہ  کے گھر پر بلڈوزر چلایا جائے ۔  چوتھی بات چڈھا نے یہ کہی کہ  پچھلے پندرہ سالوں سے بی جے پی میونسپل کارپوریشن پر قابض ہے ۔ اس کے رہنماوں نے رشوت لے لے کر یہ غیر قانونی تعمیرات کروائی ہیں۔ اس لیے بلڈوزر  ایم سی ڈی کےان  کارپوریٹرس اورافسران کے گھر پر بھی چلنا چاہیے جنھوں نے پیسے لے کر یہ تعمیرات کروائی ہیں ۔  ان حقائق  سے انکار تو ممکن نہیں ہے مگر یہ  رائے دہندگان کو رجھانے کی خاطر کہے جانے والے کھوکھلے الفاظ ہیں ۔

راگھو چڈھا نے اپنی باتوں کے درمیان میں تیسرے نمبر پر وہ بات کہہ دی جس نے  نظریاتی سطح پر عآپ اور اس کے باپ یعنی بی جے پی کو ایک ہی سطح پر کھڑا کردیا۔ وہ بولے  گزشتہ آٹھ سالوں میں  بی جے پی نے جگہ جگہ پورے ملک میں بنگلا دیشی اور روہنگیا لوگوں کو بسایا۔ بی جے پی انہیں استعمال کرکے فساد کروارہی ہے۔ انہوں نے  بی جے پی سے مطالبہ کیا کہ جن علاقوں میں مذکورہ لوگوں کو بسایا گیا اس کی فہرست انہیں دی جائے تاکہ  وہ بتا سکیں  کہ اگلا فساد کہاں ہوگا؟  دہلی سے بی جے پی کے رکن پارلیمان  منوج تیواری فساد کے لیے مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ڈھکے چھپے انداز میں شہر کے اندر مقیم غیر قانونی تارکین  وطن  کو پولیس اور امن و امان کے لیے ایک بڑا چیلنج  قرار دے چکے ہیں  اوران کا اشارہ   بلا واسطہ بنگلادیشیوں کی جانب  تھا مگر عآپ نے کھل کر وہی بات کہہ دی ۔ اس طرح کیجریوال کے جھاڑو نے   نفرت کا کچرا بے قصور اور بے ضرر مسلمانوں کے دروازے پر لے جاکر پھینک دیا۔ عام آدمی پارٹی  سے ایسی  گھٹیا  سیاست کا تصور بھی محال  تھا ۔

 اقوامِ متحدہ کے نےروہنگیا مسلمانوں کو ’’روئے زمین کی مظلوم ترین اقلیت‘‘ قرار دے رکھا ہے۔میانمار غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جو محض مذہبی عناد کی وجہ سے اپنے شہریوں کی شہریت کا انکارکرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ا  ن  کی بڑی تعداد ہجرت کرکے بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں پر پناہ لینے پر مجبورہے اور ان کی ایک قلیل تعداد  ہندوستان میں بھی بسی ہوئی ہے ۔ عالمی عدالتِ انصاف میں ان کی نسل کشی کا مقدمہ زیر سماعت ہے لیکن اس کا فیصلہ آنے سے قبل امریکہ نے نسل کشی کو تسلیم کرلیا ہے۔گزشتہ ماہ  امریکی وزیر خارجہ، اینٹنی بلنکن نے ایک بیان میں کہا تھا  کہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و تشدد نسل کشی ہے۔اس سے میانمارمیں  فوجی آمر  کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا راستہ کھل چکا ہے ۔بلنکن نے کہا تھا  کہ امریکی حکام نے میانمار  فوج کی بڑے پیمانے پر اور منظم مہم کے تحت شہریوں پرکیے گئے مظالم کی مصدقہ گواہیوں کو پرکھنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔ایسے بے خانماں لوگوں کو فساد کا موجب ٹھہرانا نہایت شرمناک حرکت عآپ سے سرزد ہوئی ہے اور اس کو معاف نہیں کیا جاسکتا ۔ غریبوں کا گھر جلاکر اس پر اپنی سیاسی روٹی سینکنے والوں پر ابوالمجاہد زاہد کا یہ شعر’سورج‘ کی جگہ ’جھاڑو ‘ اور ’سیم و زر ‘کے بجائے ’ووٹ ونوٹ ‘ رکھ دینے پر  صادق آتا ہے؎

نئی سحر کے حسین ’جھاڑو‘ تجھے غریبوں سے واسطہ کیا                                       

           جہاں اجالا ’ووٹ و نوٹ ‘کا ہے وہیں تری روشنی ملے گی

امیت شاہ کی مہربانی سے بنگلا دیشی کا نام آتے ہی  پڑوسی ملک  سے آکر بسنے والے مسلمانوں کا تصور ذہن  میں آجاتا ہے جو سراسر غلط ہے ۔ مغربی بنگال وطن عزیز کا حصہ ہے۔ اس میں تیس فیصد مسلمان بنگالی بولتے ہیں ۔ ملک کے دیگر صوبوں سے جس طرح لوگ بڑے شہروں میں آکر بسنے کے لیے مجبور کیے گئے ہیں وہی حال مغربی بنگال کا بھی ہے۔ دہلی کے اندرجس طرح  پنجابی، ہریانوی ، اترپردیش، اتراکھنڈ ، بہار اور راجستھان کے مزدوروں کی بہت بڑی تعداد    آباد ہے اسی طرح مغربی بنگال کے لوگ بھی بسے ہوئے ہیں ۔ ان میں ہندو مسلمان سب ہیں ۔ کسی ہندو کو بنگالی زبان بولتے ہوئے سننے پر اس کے بنگلا دیشی ہونے کا خیال نہیں گزرتا  لیکن اگر وہ مسلمان ہوتو اسے بنگلا دیشی  سمجھ لیا جاتا ہے۔  یہ بالکل الٹی صورتحال ہے ۔ بنگلادیش کے اندر دس فیصد ہندو ہیں ۔ ایک زمانے میں وہاں بہت غربت تھی اور سرحد  بھی کھلی کھلی سی تھی اس لیے وہاں کے ہندو روزی روٹی کے لیے ہندوستان میں آجاتے تھے ۔ اب وہ سلسلہ بھی بند ہوگیا ہے کیونکہ بنگلا دیش کی معیشت بہتر ہوگئی اور سرحد پر پہرا بھی سخت کردیا گیا ہے۔

 ایسی صورتحال کے اندر دہلی جیسے شہر میں  بنگالی بولنے والے ہندووں میں بنگلا دیش سے  نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد   مسلمانوں سے زیادہ ہے۔ امیت شاہ جیسے لوگوں نے انہیں  جونک کہہ کر معاملہ الٹ پلٹ دیا۔ پہلے بی جے پی اور  اب عآپ  فساد ٹھیکرا بنگلا دیشیوں کے بہانے مسلمانوں کے سر پر پھوڑنے کی نہایت مذموم کوشش کررہی ۔  سچ تو یہ ہے کہ اس معاملے میں عام آدمی پارٹی اپنے سیاسی فائدے کی خاطر بی جے پی سے بھی نیچے اتر گئی ہے۔ ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر عام آدمی پارٹی اس قدر گھٹیا سیاست کرنے پر کیوں مجبور ہوگئی ؟ اس سوال کے جواب کی خاطر دہلی کی انتخابی بساط کو سمجھنا ضروری ہے۔ دہلی  کہنے کو صوبہ ہے مگر اس کی حیثیت  ایک بڑے شہر سے زیادہ نہیں ہے۔  یہاں پر تین انتخابات ہوتے ہیں ۔ پارلیمانی ، صوبائی اور بلدیاتی ، ان تینوں میں دہلی کے رائے دہندگان کا رویہ بدل جاتا ہے۔

دہلی کے اندر  پارلیمانی انتخاب میں بی جے پی کے سارے امیدوار جیت جاتے ہیں اور ریاستی الیکشن میں عام آدمی پارٹی کو زبردست کامیابی مل جاتی ہے اس کے بعد جب بلدیاتی انتخاب آتے ہیں تو پھر سے بی جے پی کی قسمت کھل جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان رائے دہندگان  کے لیے نظریاتی سطح پر دونوں جماعتوں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا کیونکہ دونوں ہندو مذہبیت  کا راگ الاپتے ہیں۔  اروند کیجریوال چونکہ مفت کی سہولیات دیتے ہیں اس لیے انہیں ریاستی سطح پر کامیاب کردیا جاتا ہے۔ دہلی کا ووٹر جانتا ہے کہ اگر دہلی سے سارے ارکان پارلیمان جیت جائیں تب بھی اثر انداز نہیں ہوسکیں گے اس لیے بی جے پی کو کامیاب کردیتا ہے ۔ مقامی سطح پر بی جے پی کا اب عوام سے گہرا رابطہ ہے اس لیے وہ بلدیاتی انتخاب میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ ان دونوں جماعتوں نے عوام کے مذہبی جذبات   کا استحصال کرکے اپنی سیاست چمکائی ہے اس لیے وہ دونوں ان کی ناراضی سے خائف رہتے ہیں ۔بلا اجازت جلوس نکال کر اشتعال پھیلانے والے ہندو فسادیوں کا نام نہیں لیتے  ۔ مظلوم مسلمانوں کے آنسو نہیں پونچھتے ۔ ایسے میں بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے لیے روہنگیا اور بنگلا دیشیوں کے سر پر فساد کا ٹھیکرا پھوڑنے کے سوا کو ئی متبادل نہیں ہے ۔  یہ جمہوری نظام کی بدترین شکل ہے کہ جس میں حکمراں طبقہ ایک دوسرے کی دشمنی کےباوجود ظالم کے ساتھ اور مظلوم کے خلاف کھڑا ہوجاتا ہے۔ دونوں اپنی انا کے نشے میں آئین اور قانون کو قدموں تلے پامال کرتے ہیں۔   یہ حسن اتفاق ہے فی زمانہ علامہ اقبال کا یہ شعر آپس میں متحارب بی جے پی اور اے اے پی پر بیک وقت  صادق آتا ہے؎

تُو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہُوری نظام
چہرہ روشن، اندرُوں چنگیز سے تاریک تر!