وشو (عالم) گرو بننے چلے تھے وش(زہر) گرو بن گئے

وشو (عالم) گرو بننے چلے تھے وش(زہر) گرو بن گئے

ڈاکٹر سلیم خان

راشٹریہ سیوک (خادم)  سنگھ (آر ایس ایس) جب سے راشٹریہ شاسک (حاکم) سنگھ میں تبدیل ہوا سیاست کا آوا بدل گیا۔ ایک زمانہ ایسا بھی تھا  جب اقتدار عوام کی خدمت  کا ذریعہ تھا   ۔ انتخابی عمل اقتدار حاصل کرنے کا وسیلہ  تھا۔  اس لیے سیاستدانوں کا زیادہ وقت عوام کے مسائل حل کرنے میں صرف ہوتا تھا اور اس کا ایک قلیل حصہ انتخابی مہم کی نذر ہوجاتا تھا ۔ اب زمانہ بدل گیا اقتدار کا حصول و قیام سیاسی زندگی کا مقصد حقیقی بن گیا۔  اس لیے فی الحال  سارا وقت انتخابی مہم میں لگانے کی تعریف و توصیف ہوتی ہے۔ حزب اختلاف کو جز وقتی سیاست کاطعنہ دیا جاتا ہے ۔ بی جے پی کی مانند  دن رات انتخابی موڈ  رہنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔  اس طرز فکر کا ایک اثر یہ بھی ہے  کہ ہر انتخابی نتیجہ اگلے الیکشن کی تیاری  بن چکا ہے۔ اتر پردیش  میں کامیابی کے فوراً بعد جب وزیر اعظم اپنے آبائی صوبہ گجرات کے دورے پر جاتے ہیں تو لوگ اسے سال کے اواخر میں منعقد ہونے والے ریاستی الیکشن سے جوڑ کر ان  کی ستائش  کرتے ہیں اور بڑے فخر سے کہا  جاتا  ہے یہ 24X7 انتخابی مہم  ہے ۔  بگاڑ کی اس کیفیت کو حالی نے یوں بیان کیا تھا ؎

غرض عیب کیجے بیاں اپنے کیا کیا

کہ بگڑا ہوا یاں ہے آوے کا آوا

ملک کےبیشتر  سیاسی مبصرین اس  انتخابی جنون کا مقابلہ کرنے کی خاطر ایسے ہی پاگل پن کی ضرورت  پر زور دیتے ہیں ۔ بی جے پی کو شکست دینے کی خاطر وہ  ہر سیاسی جماعت کو شب و روز صرف اور صرف الیکشن جیتنے کے چکر میں پڑے رہنے کا مشورہ دیتے ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں گویا قومی مسائل اور  عوام کے فلاح و بہبود سے اقتدار و سیاست کا رشتہ پوری طرح ٹوٹ  چکا ہے گویا  ان میں تین طلاق ہوچکی ہے ۔   قومی سیاست پر اس کا سب سے برا اثر یہ پڑے گا کہ کل کو جب بی جے پی اقتدار سے محروم ہوجائے گی تب بھی لوگ اسی چکر میں پڑے رہیں گے ۔  سیاستداں  اس بات کو بھول چکے ہوں گے کہ سیاست کا مقصد کیا ہے اور اقتدار کس لیے حاصل کیا جاتا ہے ؟ مودی اور شاہ کی ذہنی غلامی نے ایک ناپسندیدہ شئے کو سیاست کی مرغوب ترین خصوصیت   بنادیا ہے ۔ انتخابی عمل عیارانہ و مکارانہ جوڑ توڑ اور جھوٹے وعدے و کھوکھلے نعروں کی نذر  ہوچکا ہے   اور اس  کیفیت پر یہ شعر صادق آتاہے   ؎       

تھا جو ’ناخُوب، بتدریج وہی ’خُوب‘ ہُوا

کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

حکومت کی اس تنگ نظری کی قیمت اندرون ِملک  پر یہ چکائی جارہی ہے کہ حاکمیت (governance)  ناپید ہوگئی ہے۔  اس کے نتیجے میں  مہنگائی  بے لگام اور بیروزگای  بے قابو ہوگئی ہے  لیکن نفرت کی شراب میں مدہوش عوام اس کے جھٹکے محسوس کرنے سے قاصر ہیں۔  سرکار کی  بدانتظامی نے  گرمیوں میں بجلی کا بحران پیدا کردیا ۔ اس کے باوجود لوگ ہوش میں آنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔  اس کا دوسرا اثر ملک کی عالمی ساکھ پر پڑا ہے۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو  نے بین الاقوامی سطح پر پنچ شیل کے اصولوں کو متعارف کیا اور غیر جانبدار ممالک کی تحریک شروع کرکے ہندوستان کی ایک مثبت شناخت قائم کی  لیکن اقتدار کی لاچار  موجودہ  سرکار نے اس کی بھی مٹی پلید کردی ۔  اس بار لگاتار دوسری مرتبہ ہندوستان کے ہمنوا امریکہ بہادر کے سرکاری ادارے یونائٹیڈ اسٹیٹس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم (USCIRF) نے اپنی  سالانہ رپورٹ میں ہندوستان کے اندر  مذہبی   بنیادوں پرامتیازی سلوک کا الزام لگایا  اور اسے خصوصی تشویش والے ملک کے زمرے میں رکھنے کی سفارش کی ۔ ایک ایسے ملک کے لیے جو وشوگرو (عالمی سربراہی) کا دعویدار یہ کوئی نیک نامی نہیں بلکہ بہت بدنامی کا سودہ  ہے۔

آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے ہندو راشٹر والے بیان  پر دنیا نگاہ رکھے ہوئے ہے اور اس کی آڑ میں اقلیتی برادری کے ساتھ امتیازی سلوک کی  تنقید ہورہی ہے۔ یہ رپورٹ سرکاری زیادتی کے خلاف احتجاج کرنے والوں  کی آواز دبانے کی خاطر یو پی اے پی اور غداری  کاقانون استعمال کرکے  ڈراونا  ماحول بنانے کی کوشش پر تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ اس کے ظالمانہ قانون کے تحت  گرفتار   84 سالہ اسٹین سوامی، کی جولائی 2021 میں زیر حراست موت کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ صحافیوں اورسماجی کارکنوں کو نشانہ بنا نے کے باب میں  دہشت گردی کی فنڈنگ ​​کا الزام لگا کر گرفتار کیے جانے والے انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کا بھی تذکرہ کیا  گیا ہے ۔ تریپورہ میں مساجد پر حملوں کے بارے میں ٹویٹ کرنے والے صحافیوں  پریو اے پی اے کے تحت کارروائی  کو بھی قابلِ اعتراض قرار دیا گیا ہے۔

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ  کے ذریعہ تبدیلی مذہب کا الزام لگا کر داعیان مذہب  کے  خلاف این ایس اے لگانے کا بھی ذکر اس رپورٹ میں موجود ہے ۔ مولانا کلیم صدیقی ، عمر گوتم اور دیگر عیسائی پادریوں کے خلاف  کی جانے والی ناروا کارروائی کی جانب یہ اشارہ ہے۔ بین المذاہب شادیوں کو جرم قرار دینے اور اس حوالے سے  پر  غیر ہندووں پرتشدد کی بھی گرفت کی گئی  ہے۔  امریکہ کی یہ رپورٹ CAA قانون کی مخالفت اور این آر سی کے عمل میں  امتیازی سلوک پر سوال اٹھائے ہیں  اور اس کے تحت آسام کے اندر  19 لاکھ لوگوں میں سے  تقریباً سات لاکھ مسلمان اپنی شہریت پر لٹکتی تلوار کا ذکر کیا ہے۔ آکسفیم کی رپورٹ کا حوالے سے یہ انکشاف  کیا گیا ہے کہ  ہندوستان کے اندر 2021 میں 33 فیصد مسلمانوں کے ساتھ  اسپتالوں میں امتیازی سلوک ہوا۔ ان کے علاوہ دلت اور قبائلی برادریوں کے لوگ بھی بھید بھاو کا شکار ہوئے۔ سنگھ پریوار اگر چاہے تو اس پر فخر کرسکتا ہے لیکن حقیقت  یہ ہے کہ کسی بھی باوقار ملک کے لیے یہ  تفصیل شرمناک ہے اور ایسے ملک کو وشو گرو کا درجہ کبھی نہیں مل سکتا۔ 

ملک گیر  کسانوں کی تحریک میں شامل سکھوں کو ’دہشت گرد‘ قرار دینے پر احتجاج کرتے ہوئے یو ایس سی آئی آر ایف  نے یہ تجویز دی  ہے کہ ہندوستان کو خصوصی تشویش والے ملک کے زمرے میں رکھا جائےاور مذہبی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کو امریکہ میں داخلے  کی اجازت نہ دی جائے۔ ماضی میں وزیر اعظم نریندر مودی اس طرح کی  پابندی  جھیل چکے ہیں۔ ایسے لوگوں کی  جائیداد ضبط کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے جو ایک سخت اقدام ہے ۔ توقع تو یہی ہے کہ  پچھلی بار کی طرح حکومت ہند اس رپورٹ کو  تعصب پر مبنی قرار دے کر مسترد کردے گی  اور کہے گی  کہ غیر ملکی اداروں کو ہندوستان کے معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ یکطرفہ معاملہ تو نہیں چل سکتا کہ دیگر ممالک میں ایسی وارادات ہو تو ہماری سرکار اپنا اعتراض درج کرائے اور اپنے یہاں وہی سب ہو تو اسے رد کردیا جائے۔ اس طرح تو یوکرین کے معاملے میں عالمی برادری کی مداخلت بھی روس کے  داخلی فیصلوں  پر قد غن لگانے کی مترادف ٹھہرے گی اور دنیا کاہر ملک دیگر ممالک کے اندر ہونے والے ظلم و جبر کا خاموش تماشائی بن جائے گا۔ 

حکومت ہند کو فی الحال ملک کے اندر منعقد ہونے والے ریاستی انتخابات میں کامیابی کی فکر ستا رہی ہے اس لیے وہ بلڈوزر کی مدد سے اپنا مقصد حاصل کرنے کے فراق میں ہے۔ بلڈور کا استعمال تو چور بھی کرتے ہیں ۔ مہاراشٹر کے سانگلی شہر میں چوروں نے بلڈوزر کی مدد سے ایک اے ٹی ایم مشین کو پہلے اکھاڑا اور پھر توڑ کر اس میں سے روپیہ لوٹ لیا ۔ حکومت اسی مشین کے استعمال سے عوام کے ووٹ لوٹ رہی ہے۔ دونوں کے طریقہ کار میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔دہلی  کے جہانگیر پوری میں یہ استعمال عالمی ذرائع ابلاغ میں  ملک کی  بدنامی کا سبب بنا۔بلومبرگ ایک مشہو رعالمی ادارہ ہے جس کے تعاون سے دی کوئنٹ نے ہندوستان کے اندر ٹی وی چینل  شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس  نے جہانگیر پوری میں سرکاری کارروائی کے حوالے سے کہا کہ مودی حکومت نے مسلمانوں  کو ڈرانے ، مبینہ طور پر بغیر عدالتی کارروائی سے انہیں سزا دینے کے لئے بلڈوزر کااستعمال کیا ۔

ترکی کے  ٹی آر ٹی ورلڈ نے بلڈوزر کے ذریعہ  مذہبی ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کے دیرینہ تشخص یعنی جیو اور جینے دو کو تباہ کرنے کا الزام لگایا۔ اس کی غرض و غایت بی جے پی کے ذریعہ  ہندو ووٹ بینک کی  خوشنودی بتایا۔الجزیرہ نے کھرگون  اور گجرات کا حوالہ دے کرقانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی  ان واقعات کی مذمت کا ذکر کیا۔واشنگٹن پوسٹ نے جہانگیر پوری  مسجد کو توڑنے اور مندر کو چھوڑنے کا ذکر کرکےملک کی شبیہ پر داغ لگایا۔ ساری دنیا کے ذرائع ابلاغ میں ایسی  تنقید  شاید پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ امریکی سرکاری  ادارے کی رپورٹ کے سفارتی اثرات سے قطع نظر میڈیا کی ان رپورٹس نے ملک  کے عالمی وقار کو داغدار کیا ہے۔ دہلی کے میونسپل انتخاب کی معمولی  کامیابی کے لیے عالمی  شبیہ پر بٹہّ لگانابی جے پی کے لیے فائدے کا سودہ تو ہوسکتا ہے لیکن ملک و قوم کے لیے نہیں  ہر گز نہیں ۔اس طرح کی کوتاہ اندیشی پر ظفر بزمی  نے کیا خوب کہا ہے ؎

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے

لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی