نوجوان احتساب کریں کہ مایوسی کا شکار ہونے کے لیے وہ خود کتنے ذمہ دار ہیں؟

Education

راہ نما: مبارک کاپڑی

نوجوانوں میں ڈِپریشن: ذمّہ دار کون؟ تعلیمی نظام، معاشرہ یا والدین!(پانچویں اور آخری قسط)

نوجوان احتساب کریں کہ مایوسی کا شکار ہونے کے لیے وہ خود کتنے ذمہ دار ہیں؟

            نوجوانوں میں فی زمانہ مایوسی و ڈپریشن کے بڑھنے کے لیے معاشرہ، والدین تعلیمی نظام وغیرہ کا جائزہ لینے کے بعد اُنھیں دیکھنا ہے کہ وہ خود کتنا ذمہ دار ہیں؟

 

مسائل نہیں، وسائل:

            ہر کوئی یہ کہتا ہے، لکھتاہے، بولتا ہے کہ وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا بلکہ کچھ لوگ تویہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ مایوسی یعنی کیا وہ بھی اُنھیں پتہ نہیں البتہ حقیقت یہ ہے کہ ہر کوئی مایوسی سے دوچار ہوتا ہے۔ مایوسی پر کتابیں لکھنے والے، ریسرچ کرنے والے بھی مایوسی کی کالی آندھی سے اپنے آپ کو بچانہیں پاتے البتہ اُن میں سے چند مدبّر و مفکّر ایسے ضرور ہوتے ہیں جو گھٹا ٹوپ اندھیروں سے بھی اُجالے پیدا کرتے ہیں۔ اُن میں یہ بصیرت کہاں سے آتی ہے؟ وہ کاغذ قلم تھام لیتے ہیں اور اپنے مسئلے اُس پر تحریر کرتے ہیں۔ اپنے پہاڑ جیسے کسی مسئلے کو ٹکڑے ٹکڑے اور پھر ریزہ ریزہ کرنے کا عزم و حوصلہ رکھتے ہیں۔دراصل وہ مسائل کو قبول کرتے ہیں مگر اُن کی نگاہ ہمیشہ وسائل پیدا کرنے پر مرکوز رہتی ہیں۔ کورونا اور لاک ڈاؤن کے ایک بھیانک دَور سے گزرنے کے بعد اب مایوسی کے اندھیروں سے نکلنے کے لیے ہمارے نوجوانوں نے بھی وہی بصیرت و بصارت اپنے اندر پیدا کرنی چاہئیے:

(۱)امتحان میں ناکافی پر مایوسی: (الف) اپنے طریقہئ کارپر نظر ثانی کریں (ب) نئے سرے سے منصوبہ بندی کریں (ج) ناکامی کے اصل وجوہات سے فرار حاصل نہ کریں یا اُنھیں نظر انداز بھی نہ کریں (د) یہ بھی سمجھ لیں کہ کوئی بھی امتحان زندگی کا آخری امتحان نہیں ہوتا اور یہ بھی کہ کسی ایک، دو امتحانات میں ناکامی سے زندگی کے سارے راستے مسدود نہیں ہوتے۔

 

(۲)مالی تنگدستی پر مایوسی: (الف) ہم خواہشات کے مخالف نہیں، بے لگام خواہشات کو مضر سمجھتے ہیں۔اس لیے زندگی میں حقیقی سکون کے لیے اُسے بے ہنگم اور بے لگام خواہشات کا بھنڈارنہ بنائیں۔ (ب) کاغذ قلم سنبھالیں اور اپنے خرچ و آمدنی سے موازنہ کریں (ج) گھر کے سارے افراد کی میٹنگ لیجئے اور اُنھیں آگاہ کیجئے کہ کفایت شعاری آپ کے گھر اور آپ کی زندگی کا اہم اُصول ہوگا اور خاص طور پر نئی نسل کو سمجھا دیجئے کہ کفایت شعاری اور قناعت پر وہ اپنے دوستوں کے سامنے ہر گز پشیمان نہ ہوں۔

 

مایوسی کے بنیادی اسباب:

            آج جب تعلیمی،معاشی، و معاشرتی نظام (الف) وباء کی بناء پر (ب) سیاسی مکاّریوں کے سبب تہہ و بالا ہوچکے ہیں ہمارے نوجوانوں کو اپنے لیے راہیں تلاش کرنے کی فکر کرنی ہے اور مایوسی کا لبادہ اُٹھاکر پھینکنا ہے۔ آغاز کہاں سے کرنا ہے؟ نوجوانوں کو یہ یاد رکھنا ہے کہ ذہنی انتشار کا ایک بڑا سبب ہے:نصب العین کا فقدان۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کووِڈاور لاک ڈاؤن کے دَور میں اچھے اچھے باصلاحیت پُر عزم نوجوان بھی اپنے ہدف سے بھٹک گئے۔ بے یقینی کا ایسا ماحول پیدا ہوگیا کہ کئی سارے تو افسردگی اور ذہنی انتشار کا شکارہوگئے۔ ہم اس ضمن میں نوجوانوں کو دومشورے دینا چاہیں گے اوّل یہ کہ بے سمت زندگی سے ذہنی تناؤ پیدا ہونا لازمی ہے اس لیے بہر صورت اپنی منزل کی نشاندہی کریں اور اپنی نگاہیں ہر زاویے سے اپنی منزل ہی پر مرکوز رکھیں۔ ہمارا دوسرا مشورہ اُنھیں یہ ہے کہ کبھی بھی کسی بھی آفت، وبا یا کسی ابتلاء کے دَور میں بھی اپنے ہدف تبدیل نہ کریں۔ہمارے نوجوانان (الف) خود اعتمادی کے فقدان (ب) والدین ورشہ داروں کے دباؤ میں آکر (ج) اپنی سیمابی طبیعت کی بناء پر اپنا ہدف بار بار بدلتے رہتے ہیں۔ اپنی زندگی کے ہدف یا نصب العین کی بتدیلی سے صرف ذہنی تناؤ میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ مایوسی و ڈِپریشن اسی طرح پیدا ہوتا ہے۔

 

دنیا کو بدلنے کی خواہش:

            کوئی دو انسان بالکل ایک جیسے اور یکساں مزاج کے نہیں ہوتے۔ نوجوانو! یہاں ایک دوسرے کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے۔ سمجھوتہ کرنا پڑتاہے، برداشت بھی کرنا پڑتا ہے۔دوستو! اس دھرتی پر ایک ہی شخص ایسا ہے جس کو تھوڑا بہت نہیں بلکہ پورا تبدیل کیاجاسکتا ہے اور وہ ہے بذاتِ خود! خود کو بدلے بغیر حالات اور پوری دنیا کو بدلنے کی خواہش رکھنا حماقت ہے۔ سماج میں رائج حماقت کی نوجوان بھی نقل کرتے ہیں۔ وہ اپنے سارے ساتھی، اپنا پورا کلاس روم، اپنا پورا تعلیمی ادارہ بدلنے کی جستجو میں لگ جاتے ہیں۔ البتّہ تبدیلی کا آغاز اپنے آپ سے نہیں کرتے۔ اس لیے اُنھیں کوئی بڑی کامیابی نہیں ملتی اور فرسٹریشن کا آغاز وہیں سے ہوجاتا ہے۔

            ہم نوجوانوں کو یہ بتاناچاہیں گے کہ اپنے قول کے بجائے فعل پر اپنی طاقت و اینرجی لگائیں۔ایک مثالی شخصیت وہیں سے بنتی ہے جو پھر دوسروں کے لیے بھی رول ماڈل بن جاتی ہے اور اُس کے لیے اپنی زندگی میں نظم و ضبط پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ زندگی برتنے کے نظم و ضبط اور ڈسپلن کی بناء پر وہ ذہنی تناؤ کا شکارنہیں ہوتا اس لیے اُسے ہمیشہ قلبی سکون حاصل رہتا ہے جب کہ غیر منظّم شخص ہمیشہ ہڑ بڑاہٹ، بوکھلاہٹ اور اُکتاہٹ کا شکار رہتاہے، ڈپریشن کا آغاز وہیں سے ہوتاہے۔

 

جہانگیر سے جہانگیر پوری تک:

            نوجوانو! ہم فرسٹریشن، ڈپریشن سے پورے نکل جائیں اس کے لیے اب ہمیں ’جہانگیریت‘ اور ’عالمگیریت‘ سے نکلنا پڑے گا۔ لال قلعے کے لال پتھر اور تاج محل کے سفیدپتھر کے ہم وراث ہیں، ہم نے کبھی یہ نہیں سمجھا کہ جغرافیائی لکیریں تاریخ پر بھاری ہیں۔ جغرافیہ ہی تاریخ مرتّب کرتا ہے۔ اب ہمیں کیا کرنا ہے؟ نوجوانو! دہلی کے جہانگیرپوری پر چلے بُل ڈوزر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب یہ ملک بُل ڈوزر جمہوریہ بن گیا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو ہم البتّہ کچھ علٰحدہ فکر دیناچاہیں گے: (ا) کب تک ہم ٹھیلے، کباڑی اور باکڑے کے فٹ پاتھ چھاپ کاروبار کرتے رہیں گے؟ (س) ہم کارپوریٹ بزنس میں کب آئیں گے؟ (۳) دوسرے فرقے کچھ بھی کریں مگر ہم کب تک غیر قانونی تعمیرات کرتے رہیں گے؟ (۴) کب ہم اپنے عالیشان بزنس ہاؤس تعمیر کریں گے جہاں کی سیکوریٹی میں کوئی پرندہ بھی پَر نہیں مارے گا؟ (۵) گوشت وغیرہ کے کاروبار ہمارے یہاں عام ہیں، اب نسل در نسل وہی کاروبار کریں گے؟نئی نسل اعلیٰ تعلیم پر مبنی اپنی نئی راہیں کیوں نہیں اپناتی؟ (۶) جہانگیر پوری میں شر پرستوں نے انتہابرتی کچھ اس حد تک کہ برادرانِ وطن کے چند وکلاء کویوں بھی ورغلا یا گیا کہ مظلوموں کو قانونی مدد بھی فراہم نہ کیا جائے۔ آخر ہم اپنے وکلاء کی ٹیمیس کب کھڑی کریں گے؟ ہمارے اپنے لاء کالج قائم کرنے سے ہمیں کس نے روکا ہے؟ (۷)پوری دنیا ڈیجیٹل بن گئی ہے،ہمارے گھروں کو بھی ڈیجیٹل بنائیں، موبائل پر اذان کی آواز سے ہماری نیند غائب ہوجائے اور اذان کی آواز آئے نہ آئے ہماری توجہّ اس پر مرکوز ہو کہ ہر نماز میں پوری پوری اور ساری کے ساری صفیں بھری رہیں، صرف جمعہ کو نہیں۔