فتح مکہ

National

فتح مکہ  : وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا

ڈاکٹر سلیم خان

رمضان مبارک کے بیش بہا تحفوں میں جہاں  روزہ اور قرآن ہے وہیں فرقانِ بدر اور فتح مکہ کی برہان بھی ہے۔ غزوۂ بدر میں قافلہ یا فوج کے درمیان انتخاب کا موقع تھا تو جنگ کو منتخب کیا گیا  کیونکہ وہ غلبۂ اسلام کی ضرورت تھی  لیکن   فتح مکہ کے موقع پر خونریزی  سے بچنے کی خاطر مہم کو راز میں رکھا گیا۔    مرالظہران میں الگ الگ چولہے جلا کر دشمن پر دھاک بٹھائی گئی اور یکے بعد دیگرے تمام  قبیلوں کے پرچم  بردار کا ابو سفیان سے تعارف کرواکر  اس قدر مرعوب کردیا گیا کہ انہوں نے اسلام قبول کرکے  سپر ڈال دی ۔  اس طرح بغیر کسی خون خرابے کے مکہ فتح ہوگیا ۔  یہ اظہار دین کی حکمت تھی ۔ فتح مکہ  کی بابت ارشادِ ربانی ہے: ’’جب خدا کی مدد اور فتح کی منزل آجائےاور آپ دیکھیں گے کہ لوگ دین خدا میں فوج در فوج داخل ہورہے ہیں‘‘ یہاں  فتح مکہ کی عظیم نعمت کو اللہ تبارک و تعالیٰ  کی مدد و نصرت سے منسوب کرنے کے بعد فرمایا کہ اس کے نتیجے میں لوگ جوق در جوق دین اسلام میں داخل ہورہے ہیں ۔ یعنی  اسلام کی حقانیت کے قائل ہوجانے کے بعد بھی  دنیوی مخالفت کے سبب پیش قدمی کی جرأت نہیں کرپانے والوں کے لیے  فتح مکہ نے آخری رکاوٹ بھی دور کردی  اور منظر بدل گیا ۔ غلبۂ  دین  کی  ضرورت اور اہمیت کو واضح کرنے والی  یہ  کھلی   مثال  ہے  ۔

غزوۂ بدر و احد اور خندق کے بعد    صلح حدیبیہ سے شروع ہونے والے انقلاب  کی   معراج  فتح مکہ تھی کہ اس کے بعد رومی سلطنت بھی تبوک میں مقابلہ پرآنے  کی  ہمت نہیں جٹاپائی ۔ اس موقع پر   فاتح اعظم ﷺاور ان کے صحابۂ عظام  کو یہ تلقین کی جارہی ہے کہ :’’  تو اپنے رب کی حمد کی تسبیح کریں او راس سے استغفار کریں کہ وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ہے‘‘یہ  اسلامی عجزو انکسار کا عظیم نمونہ ہے ۔عام طور شکست و ریخت کے عالم میں انسان اپنے رب سے چمٹ جاتا ہے۔  اپنی بے ثباتی کااحساس شدید تر اس کو  توبہ و استغفار کی جانب راغب کرتا ہے لیکن فتح و کامرانی اسے اپنے خالق و مالک سے غافل کردیتی ہے۔ وہ کامیابی کا سارا کریڈٹ خود لے کر اس کا مختصر حصہ ساتھیوں میں تقسیم کردیتا ہے لیکن نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ کے بعد جو خطبہ ارشاد فرمایا اس کاپہلا جملہ یہ تھا کہ  :’’خدا کے سوا اور کوئی معبود نہیں ۔ وہ یکتا و یگانہ ، اس نے آخر کار اپنے وعدے کو پورا کردیا ۔ اور اپنے بندے کی مدد کی ، اور اس نے خود اکیلے ہی تمام گروہوں کو شکست دے دی‘‘ ۔  یہاں پر کامیابی کے حصول  میں  خدائے بزرگ و برتر  کا کوئی شریک نہیں ہے۔

 آپ ﷺ نے آگے عالم انسانیت کو ماضی کے بوجھ سے نجات دلاتے ہوئے فرمایا:’’جان لو کہ ہرمال ، ہر امتیاز ، اور ہر وہ خون جس کا تعلق ماضی اور زمانہٴ جاہلیت سے ہے ، سب کے سب میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہیں ۔ اور زمانہٴ جاہلیت کے تمام اعزازات اور امتیازات بھی باطل ہو گئے ہیں‘‘نبیٔ مکرم ﷺ  ماضی کو دفن کرکے یکلخت    ساری فائلیں بند فرمادیں ۔ نبیٔ رحمت کی  سماعت سے   جب ’’آج انتقام کا دن ہے“ کا نعرہ ٹکرایا تو آپؐ نے اسے ’’ آج رحمت کا دن ہے“ سے بدل دیا ۔   خانہ کعبہ  کو”حق آگیا اور باطل مٹ گیا،اور باطل ہے ہی مٹنے والا“کے ساتھ بتوں کی نجاست سے پاک کرنے کے بعدحاضرین سے پوچھا :’’اب کیا سلوک کیا جائے؟‘‘  توجن  لوگوں  نے نبی ٔ رحمت کو ہجرت پر مجبور کردیا تھا وہ کہہ رہے تھے کہ :’’ہم نیکی اور بھلائی کے سوا کوئی توقع نہیں رکھتے۔ آپ ہمارےبزرگ بھائی اور بزر گوار بھائی کے فر زند ہیں۔آج آپ برسرِاقتدارآگئے ہیں ،ہمیں بخش دیجئے‘‘۔

یہ سن کر پیغمبر اسلام ؐ نمناک ہوگئے اور اہلیانِ   مکہّ بھی بہ  آوازِبلندرونے لگے ۔ آسمانِ گیتی نے فتح کا ایسا منظر اس پہلے یا بعد میں نہیں دیکھا ہوگا۔  نبیٔ مکرم ؐنے فر مایا:”میں تمہارے بارے میں وہی بات کہتا ہوںجو میرے بھائی یوسفؑ نے کہی تھی کہ آج تمہارے اوپر کسی قسم کی کوئی سر ز نش اور ملامت نہیں ہے،خدا تمہیں بخش دے گا،وہ ارحم الراحمین ہے‘‘۔ آپ ؐ عام  معافی کا اعلان کرتے ہوئے  فرمایا:”تم سب آزاد ہو،جہاں چا ہو جا سکتے ہو‘‘  رحمت العالمین ؐ ہی  اپنے دشمنوں کے ساتھ اس فراخدلی کا مظاہرہ   کرسکتے ہیں ۔حالی نے کیا خوب کہا  ؎

خطا کا ر سے درگزر کرنے والا              بد اندیش کے دل میں گھر کرنے والا

مفاسد کا زیر و زبر کرنے والا                قبائل کو شیر و شکر کرنے والا