مہکتی یادیں

Education

مہکتی یادیں ۔۔ افسانہ

 افسانہ نگار: ڈاكٹر ولاء جمال العسيلى 

ايسوسي أيٹ پروفيسر- اردو شعبہ

عين شمس يونيورسٹى-قاہره- مصر

 

ان دونوں کی ملاقاتوں میں قسمت نے کیسی کنجوسی کی ہے ! وہ نہ ملتے تھے اور نہ ہی فون پر بات کرتے تھے ۔۔۔۔

ضحی لیپ ٹاپ پر اپنے کام میں مصروف تھی کہ اچانک اس کا فون بج اٹھا اور پہلی بار اس نے اپنے فون پر یاسر کا نام دیکھا تو فرط مسرت سے جھومنے لگی۔ ضحی  ایک پل بھی انتظار نہیں کر سکی اور دوسری گھنٹی کا انتظار کئے بغیر اس نے فون اٹھا لیا ۔ ادھر سے یاسر کی آواز آئی: کیسی ہو ضحی؟ تو اس کا چہرہ خوشی سے سرخ ہو گیا۔ضحی دھیرے بولی: اچھی ہوں اور تم ؟ یاسر نے تپاک سے جواب دیا: بہت اچھا ہوں، بس اسے اپنے شہر کے وہ تمام مقامات بہت یاد آتے ہیں ، جہاں وہ ضحی دو سال پہلے دونوں کی پہلی (اور شاید آخری) ملاقات ہوئی تھی۔ ضحی بھی یادوں میں کھو گئی، جب وہ اپنی کمپنی کی طرف سے اور کام کے سلسلے میں چھ دن تک ہندوستان گئی، وہاں اس کی ملاقات یاسر سے ہوئی تھی، وہ اس کی کمپنی کی شاخ کے ملازمین میں سے تھے۔ کمپنی کے کام ختم ہونے کے بعد وہ یاسر کے شہر دیکھنے کے لئے دو دن رکی تھی جہاں یاسر اور دو تین اور لوگ شہر گھومنے میں اس کے ساتھ تھے۔ ایک کافی شاپ میں ضحی سب کے ساتھ کافی پیتے وقت، گفتگو کرتے وقت ایک لمحے کے لئے یاسر میں کھو گئی تھی۔ اس نے یاسر کی بلند خوبصورت ہنسی، اس کی لمبی سیاہ پلکوں، اور اس کے صاف بھورے چہرے پر توجہ دی تھی۔ اس وقت اس کا دل تو زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔ 

اسے معلوم نہیں تھا کہ کیا ہوا اور کیوں ایسا ہو رہا تھا۔۔۔۔

فون پر گفتگو کرتے وقت ضحی ہر اس لفظ کو دوہرا رہی تھی جو یاسر نے اس سے پہلی ملاقات کے دوران کہا تھا۔ وہ بے خیالی میں بولے چلی جا رہی تھی اور اس کے ذہن کے اسکرین پر بس وہی منظر چل رہے تھے جب وہ یاسر کے ساتھ خوبصورت، ہلچل سے بھرے با رونق شہر میں سمندر کے کنارے اکٹھے ٹہل رہی تھی ۔ ویسے بھی وہ شہر عشق اور عاشقوں کے شہر کے بطور جانا اور پہچانا جاتا تھا۔ ضحی چاہتی تھی کہ گفتگو کا سلسلہ ختم نہ ہو ہر چند کہ اس کو کچھ نہیں معلوم پڑ رہا تھا کہ وہ کیا بول رہی ہے اور یاسر اس کی ہر ایک بات پر ادھر سے کیوں قہقہے لگا رہا تھا ۔

ضحی بولے چلی جا رہی تھی  اور یاسر کی باتوں پر ذرا دیر کے لئے بالکل خاموشی اختیار کر لیتی تھی۔ اس کے اردگرد پرانی یادوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی جہاں وہ  دونوں  پہلی بار ملے تھے۔ یاسر کا ہر لفظ ضحی کے دل کو چھو رہا تھا۔ اس کی ہر بات ذہن کو دریچے کھول رہی تھی۔ ضحی کی زندگی میں موبائل کی یہ کال ان تمام کالوں سے بالکل مختلف تھی جن کو وہ روز اٹھاتی تھی یا جن سے وہ بات کیا کرتی تھی۔ یاسر کی گفتگو نہ صرف یہ کہ گہری تھی بلکہ دل کو ماضی کے سمندر میں ڈبونے والی بھی تھی ۔ضحی کی نگاہوں میں تو یاسر کا وہ تحفہ ہے بھی گھوم رہا تھا جو اس نے اسے اپنے کے شہر سے رخصت ہوتے وقت دیا تھا.. یاسر کی خوشبو اب بھی اس تحفے میں محفوظ تھی اور جب وہ اپنی الماری  کھولتی تھی وہ تحفہ خوشبو کے ایک جھونکے کی طرح اس سے لپٹ جاتا تھا۔

کال ختم ہونے کے فورا بعد ضحی نے جلدی سے اپنی الماری کھولی.. اس نے اپنے کپڑوں میں سے یاسر کا تحفہ نکالا جو اس نے سب کی نظروں سے چھپا کر رکھا تھا۔ ضحی نے یاسر کا تحفہ اپنے سینے سے لگایا اور اسے اپنے ہونٹوں سے چوم لیا، اس کی خوشبو سونگھی، اور اپنی ہر اس سانس کو یاد کیا جب وہ یاسر کے ساتھ تھی، اور یاسر کی نظر اس کی طرف تھی۔ ضحی اس سے دوبارہ ملاقات کا خواب دیکھنے لگی، اس نے ملاقات کے لمس کو اپنے ہاتھوں پر محسوس کیا.. وہ اس احساس کے بارے میں حیران تھی اور سوچ رہی تھی کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ کیا یہ ممکن ہے؟ جس سے ہم نہیں مل سکتے، اس سے ہم محبت کر سکتے ہیں؟ جنہیں ہم نہیں دیکھ سکتے ان کے دیدار کی چاہ اور تڑپ بے چین کر سکتی ہے، جنون کی حد تک؟