ذہنی انتشار اور مایوسی کا شکار طلبہ کی شناخت کیسے کی جائے؟

Education

راہ نما: مبارک کاپڑی

نوجوانوں میں ڈِپریشن: ذمّہ دار کون؟ تعلیمی نظام، معاشرہ یا والدین!(چوتھی قسط)

ذہنی انتشار اور مایوسی کا شکار طلبہ کی شناخت کیسے کی جائے؟

            ہم ذکر اور فکر کر رہے ہیں ہمارے معاشرے اور تعلیمی کیمپس میں ذہنی انتشار و ڈِپریشن کے شکار طلبہ کی۔ ہمارے نوجوان کا مایوسی اور ڈپریشن کا شکار ہونے کی وجوہات پر غور کرنے پر کئی چھوٹے بڑے عناصر سامنے آجاتے ہیں جیسے بے روح تعلیمی نظام، تربیت سے عاری معاشرہ، ناقص معیارِتعلیم، کمزور امتحانی نظام، مناسب ملازمتوں کا فقدان وغیرہ۔ کووِڈ ۹۱/اور لاک ڈاؤن نے ان ساری ذہنی پریشانیوں میں کئی گنا اضافہ کردیا اور اب ہر چھوٹے بڑے امتحان کے رزلٹ کے بعد یا ریگنگ وغیرہ کے واقعات پربھی ہمارے طلبہ شدید مایوسی کا شکار ہورہے ہیں اور ان میں تو کچھ انتہائی قدم بھی اُٹھارہے ہیں۔ ہمارے یہاں اسے معاشرے میں بڑھنے والی بددلی، ناکامی اور مایوسی کے نتیجے میں فر کے اندر جنم لینے والی کم ہمّتی اور بد دلی کے ایک انتہائی منفی اور سفاک ردِّ عمل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اسے ایک فرد کی شخصیت میں بیک وقت اُبھرنے والی حساسیت اور بے حسی دونوں ہی کے مفہوم میں رکھا جاسکتا ہے۔ اس کے بہت زیادہ حسّاس ہونے کے عمل کو بھی اس کی شخصیت کا منفی پہلو ہی کہا جائے گا کہ یہ دنیا یا معاشرہ کسی لحاظ سے مکمل نہیں ہے اس لیے کسی ناکامی، بے عزتی یا نقصان کے تعلق سے حسّاس ہونا س کی کمزوری ہی تھی۔نیز اس کی بے حسی کا مظہر یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تعلق سے انتہائی قدم اُٹھانے سے پہلے اپنے بعد اپنے خاندان والوں کے تکالیف اور مشکلات میں مبتلا ہوجانے کے خیال کو ہی نظر انداز کردیتا ہے۔

 

            اس ضمن میں آج سب سے اہم یہ جائزہ لیں کہ ہم اپنے گھروں میں، تعلیمی اداروں میں اور معاشرے میں ان طلبہ یا دیگر نوجوانوں کی شناخت کیسے کریں جو زندگی سے مقابلے کی سکت کھو چکے ہیں اور فرسٹریشن، ڈپریشن حتّیٰ کہ موت کی آغوش پہنچ کر عافیت حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کررہے ہیں:

 

(۱) ہمیں سب سے پہلے مایوسی و ڈپریشن کا شکار طالب علم اپنی زندگی کے تعلق سے کسی انتہائی قدم کو یک بیک یا اچانک نہیں اُٹھاتا

(۲) ایسے کسی قدم سے پہلے وہ الگ تھلگ رہنا شروع کردیتا ہے۔

 (۳) گھر کے لوگوں سے بھی وہ ملنا جلنا بند کردیتا ہے البتّہ گھر کے لوگ اس تبدیلی کو کوئی اہمیت نہیں دیتے، رشتوں میں دراڑ بس یہیں سے شروع ہوجاتی ہے۔

 (۴) اس کے کھانے پینے کے اوقات میں تبدیلی آجاتی ہے۔

(۵) وہ اچانک بہت کم یا بہت زیادہ کھانا شروع کردیتا ہے۔ اس نمایاں تبدیلی پر بھی کوئی دھیان نہیں دیتا۔

(۶) کھانے کے بارے میں گھر میں جب اس سے پو چھا جاتا ہے کہ وہ کھانے میں کیا پسند کرے گا تو عام طور پر اس کا جواب ہوتا ہے’کچھ بھی‘۔ یہاں اس کے مزاج میں یہ تبدیلی اس لیے آتی ہے کہ دوزندگی کو خیر باد کرنا طے کر چکا ہے۔ اس لیے اس کی کھانے میں بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

 (۷) اس دَور سے گزرتے ہوئے وہ اکثر تنہانی پسند بن جاتا ہے۔ اپنے کمرے کے دروازے کی چٹخنی لگاکر حتّیٰ کہ کمرے کی لائٹ بند کر کے وہ بالکل تنہار بنا پسند کرتا ہے۔

(۸) زندگی سے بے تعلق ہو نے کاٹھان چکا وہ نو جوان اکثر خالی الذہن بیٹھا ہتا ہے اس حالت میں وہ ایک جگہ پربیٹھ کر گھنٹوں صرف خلاء میں گھورتا رہتا ہے۔ اس حالت میں بھی البتّہ وہ اس کے ساتھ بیٹھے افرادکو باور کراتا رہتا ہے کہ وہ محفل میں جسمانی طور پربھی حاضرہی ہے۔ کیوں کہ اس محفل کے سارے لطائف پروہ ہنستامسکراتا بھی ہے۔

 (۹) وہ اپنے دوست واحباب سے ہمیشہ صرف مایوسی کی باتیں کرتا ہے۔ اس محفل میں کوئی اگر امید افزا بات کرتا ہے تو وہ وہاں سے اٹھ جا تا ہے۔ بلکہ اس کو مایوسی کے اندھیروں سے امید کے اجالوں کی طرف بلانے والے کواپنا دشمن بھی سمجھنے لگتا ہے۔

 (۱۰) اپنی زندگی کے تئیں کوئی انتہائی قدم اٹھانے سے پہلے یہ نوجوان سگریٹ، پان، گٹکھا اور ڈرگس وغیرہ کا عادی بن جاتا ہے۔

 (۱۱) مایوسی کا شکار ایسا نوجوان ہمیشہ صرف مایوسی اور ناکامی کے قصے کہانیوں اورمضامین پڑھتا ہے اور مسلسل مایوس کن گانے بھی سنتے رہتا ہے۔

(۱۲) زندگی سے منہ موڑنے تیار نو جوان اپنے کاموں کو سمیٹنے لگتا ہے۔ا یسا کرنے کے بعد وہ گھر کے لوگوں سے معافی مانگنا شروع کر دیتا ہے۔وہ اکثر ہر ایک سے الگ الگ معافی مانگتا ہے اس لئے سبھوں کو اس کی خبر نہیں ہو پاتی۔بدقسمتی سے گھر کے لوگ اس کے اس برتاؤ کی ان تبدیلیوں کو نظر انداز کر جاتے ہیں۔

 

            ان معاملات کا علاج کیا ہے؟ ان ساری چیزوں کی روک تھام کے لئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ گھر کا ماحول خوش گوار ہو۔ گھر کے ہر فرد کے ساتھ رابطے کی کڑی جڑی ہوئی ہو۔ جہاں یہ کڑی ٹوٹ جاتی ہے وہاں غلط فہمی،بدگمانی اور پھر اس سے بھی زیادہ خطر ناک بیماریاں جیسے نفسانفسی اور خود غرضی شروع ہوجاتی ہے۔ مایوسی و ڈپریشن انہی بیماریوں کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں کیونکہ جب کوئی یہ سوچنے لگتا ہے کہ صرف وہ کامیاب ہو جائے، وہ سب سے زیادہ دھن دولت کمائے اور اس کے گُر کسی کو معلوم ہی نہ پڑے۔ اب اس خود غرضی میں جب اسے خاطر خواہ کامیابی نہ ملے تو دوافسردگی و سراسیمگی کا شکار ہو جا تا ہے البتہ اسی دوران صحیح محنت و فکر کر نے والے افراد زندگی کی ریس میں آگے نکل جاتے ہیں جبکہ وہ افسردہ ومایوس نوجوان مزید ایک بیماری کا شکار ہوتا ہے جس کا نام ہے ’حسد‘۔ بیماری نفسیاتی بیماریاں اس کے ذہن پر اس طرح قابض ہو جاتی ہیں کہ وہ زندگی سے منہ موڑنے میں اپنی عافیت سمجھتا ہے۔ والدین کو چاہئے کہ وہ اس بات پر نظر رکھیں کہ ان کے بچّوں کی زندگی میں اضطراب یا زیادہ سے زیادہ افسردگی سے زیادہ بات نہ بڑھے کیونکہ اس کے آگے جو کھائی ہے اس کا نام ہے: مایوسی اور ڈپریشن!

 

            مایوس نو جوان کی شناخت کیسے ہو؟ وہ ہمیشہ بس سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔ ہمیشہ اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کی کیفیت میں رہتا ہے۔ نا کام لوگوں کو اپنا رول ماڈل بنا تا ہے۔ ایسا نو جوان اگر ڈائری لکھنے کا عادی ہے تو اس کا پیچھا کر نا ضروری ہو جا تا ہے کہ وہ اپنی ڈائری میں مایوسی سے بھرے اشعار تو نوٹ نہیں کر رہا ہے؟ نا کامی اور ذہنی انتشار سے پُرتحریروں کو نوٹ کر رہا ہے؟ مبہم اور کوڈ الفاظ میں کچھ درج کرتا ہے؟ وہ اگر ڈرائنگ میں اچھا ہے تو یہ دیکھیں کہ تاریخ کے ظالم وسفّاک افراد کی تصویر یں تو نہیں بنا رہا ہے؟ اب ان جیسے نو جوانان اپنے سارے خیالات و جذبات کو اپنے موبائیل میں محفوظ کر رہے ہیں۔ والدین کی بھر پور نظر اس پر بھی ہونی چاہیئے کہ ان کے بچّے انٹرنیٹ کی کن کن سائیٹس پر جاتے ہیں (بچّے اس کے لئے راضی صرف اس وقت ہو سکتے ہیں جب والدین بھی اپنے موبائیل کو کسی تالہ یا کوڈ نہ رکھیں) انٹرنیٹ ویسے بھی زحمت زیادہ اور رحمت کم ہے کیونکہ وہا ں خودکشی کیسے کی جائے اس کی مکمل معلومات دینے والی سائٹس بھی کھلی ہوئی ہیں۔اگر کوئی نوجون ان قسم کی سائٹس پر جا چکا ہے اور دوستوں سے یا گھر والوں کو یہ کہتا ہے کہ وہ بس مذاق مذاق میں دیکھ رہا تھا یا خودکشی کر نے کے طریقے صرف معلومات میں اضافہ کے لئے پڑھ رہا تھا تب یہ سمجھئے کہ خطرے کی گھنٹی بج چکی۔ایسی خطرناک اور زیاں رساں سائٹس پر کوئی ’یونہی‘ نہیں جاتا۔ آج کل تو زندگی سے منہ موڑ نے والے سارے نوجوان اپنی ’بِپتا‘ صرف اپنے موبائیل کے نوٹ پیڈ پرتحریر کرتے پائے جار ہے ہیں۔ وہ اپنے موبائیل کوا پنا ساتھی سمجھتے ہیں اور اپنا ہمدرد بھی۔ یہ اور بات ہے کہ اس کی زندگی جس خطرناک موڑ پر آ گئی ہے اس کا ایک بڑا ذمہ دار اس کا وہی ’اسمارٹ ساتھی‘ ہے۔ والدین اگر اپنا موبائیل کھلا رکھتے ہیں تو پھر بچّے بھی اس کی تقلید کر میں گئے اور تب اس کے نوٹ پیڈ پر لکھی اس کی دل کی داستانیں آپ تک پہنچیں گی۔ اس طرح سے کئی راز بھی آپ پر عیاں ہوں گے کہ آپ اپنے بچّے کو بخوبی جانتے ہی نہیں تھے۔ (جاری)