دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے،دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے

National

دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے،دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے

ڈاکٹر سلیم خان

عالمی سطح پر  فی الحال روس اور یوکرین کاتنازع  سب سے زیادہ بحث کا موضوع بنا ہوا ہے ۔ اس جنگ  چالیس  کا طویل عرصہ گزر گیا مگر دور دور تک کوئی حل نظر نہیں آتا۔   اس معاملہ میں جہاں اقوام متحدہ کے علاوہ کئی  بڑے ممالک بلواسطہ یا بلا واسطہ ملوث ہو چکے ہیں وہیں  اسرائیل بھی اپنے انداز میں  ڈرامہ بازی کرنے کی ایک ناکام کوشش کی لیکن   متحارب ملکوں  کے وزرائے خارجہ  کو پہلی مرتبہ   بالمشافہ بات چیت  کی میز پر لانے کا سہرا  ترکی کے سر بندھا۔  روسی  فوجی مہم کے دو ہفتوں اسے ترکی نے یوکرین کے ساتھ  اعلیٰ سطحی نشست کے لیے اپنے شہر اناطولیہ میں گفتگو کے لیے آمادہ کرلیا ۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف  نےیوکرین کے اپنے ہم منصب ڈیمیٹرو کولیبا سے ملاقات کی ۔ یہ گفتگو نتیجہ خیز نہیں ہوسکی کیونکہ فی الحال روس کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔ اس تنازع کی مدد سے ایک طرف تو والدیمیر پوتن اپنی مقبولیت میں اضافہ کررہے ہیں دوسری جانب  اس کی آڑ میں چین دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کررہا ہے کہ اب امریکہ بہادر کے دن لد گئے ہیں ۔ امریکی برانڈ سرمایہ دارانہ جمہوریت  پر علامہ اقبال کا یہ شعر صادق ہوا چاہتا ہے کہ ؎

گیا دور ِ سرمایہ داری گیا          

تماشا دکھا کر مداری گیا

اس میں شک نہیں کہ چین بھی اشتراکیت کے پردے میں سرمایہ دارانہ نظام چلا رہا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ چینی سرمایہ داری کا رنگ ڈھنگ امریکہ اور یوروپ سے خاصہ مختلف ہے ۔  اس لیے جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ نظریاتی سطح پر یوروپ کا کوئی متبادل نہ ہے اور نہ ہوسکتا ہے انہیں بہت جلد ایک  زور کا جھٹکا دھیرے سے لگ سکتا ہے۔  دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی سطح پر جو صف بندی کی گئی تھی اب اس کی بنیادوں کو چیلنج کیا جارہا ہے۔ مثال کے طور پر ماضی میں اس کا تصور محال تھا  کہ روس یا کوئی اور ملک  وارساو معاہدے کی مانند نیٹو کو دریا برد کرنے کا مطالبہ کرے گا۔ روس  کا یوکرین کو بزور قوت نیٹو میں شامل ہونے سے روکنے میں کامیاب ہوجانا  اور اس کے آگے نیٹو  ممالک کی مجبوری  و بے بسی اس بات کا اشارہ  ہے کہ اب اس اتحاد میں دم خم باقی نہیں ہے۔  عالمی قیادت کی ایک علامت اقوام متحدہ کے صدر دفتر کا امریکہ میں موجود  ہونا بھی  ہے۔ روس  کے ذریعہ اس کی منتقلی کا مطالبہ دراصل   امریکی امامت  کو براہ راست  چیلنج ہے۔ اسی طرح  عالمی کرنسی کی حیثیت سے   ڈالر کا غیر اہم کرنا  دراصل امریکی قیادت و سیادت کے طابوت میں آخری کیل ثابت ہوسکتا ہے۔  خیر یہ تو گردشِ زمانہ ہے ۔ غالب نے کیا خوب کہا تھا ؎

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں

ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا؟

مغرب اسلام پر غلامی کے فروغ کا الزام تو لگاتا ہے مگر بھول جاتا ہے کہ اسلامی دنیا میں تو اس کا خاتمہ بہت پہلے ہوگیا   اس کے برعکس پولینڈ کی  حکمرانی کے دور میں جب   یوکرین کے اندرکسانوں کے حالات مسلسل خراب ہو تے چلے گئے تو ان لوگوں نے یوکرین سمیت  لتھوانیا کے آزاد کسان طبقہ کو اپنا  غلام بنا لیا تھا ۔ وطن عزیز میں کسانوں کے خلاف بنائے جانے والے قوانین اسی تاریخ کو مہذب انداز میں  دوہرانے  گی ایک مذموم کوشش تھی جس کو عارضی طور پر تو روکنے میں کسان تحریک کامیاب ہوئی ہے مگر حکومت کی خراب  نیت کا اظہار مختلف انداز میں ہوتا رہتا  ہے ۔ اوریسٹ سٹنلی نامی مورخ  ’یوکرین، ایک تاریخ ‘  میں لکھتے ہیں کہ سولہویں صدی کے آخر میں خاص طور پر مشرقی یوکرین میں کسانوں کی بے چینی  میں اضافہ ہوا۔ یہ یوکرینی  کسان  آرتھوڈوکس (قدیم عقائد کے پیروکار عیسائی )تھے۔ اس کے برعکس  بیشتر زمیندار   پولش نسل سے تعلق رکھنے والے  رومن کیتھولک تھے۔ ان زمینداروں نے کسانوں کے استحصال کی خاطر یہودیوں کو اپنا نمائندہ  یا ٹھیکیدار بنارکھا تھا۔   سماجی عدم اطمینان  اور  قومی اور مذہبی اختلاف سے شکایات کو  بڑھاوا ملا تھا ۔ ویسے آج بھی روس آرتھو ڈکس عیسائیت کا قائل ہے جبکہ  مغربی  یوروپ کے نیٹو ممالک  زیادہ تر پروٹسٹنٹ ہیں ۔  یعنی صدیوں کی چپقلش اور دو عظیم جنگوں کا مزا چکھنے کے بعد بھی یوروپ کے عقائد کا  جھگڑا  شیعہ سنی اختلاف سے شدید تر ہے۔

سرخ انقلاب سے بہت پہلے 1591 میں  پولینڈ، لتھوانیا اور ماسکو کے اندر  غلامی سےنجات حاصل کرنے کی خاطر کسانوں اور دیگر سماجی طبقوں نے جدوجہد کا آغاز  کیا تو اس شورش کو   بڑی مشکل سے دبایا گیا۔سولہویں صدی کے وسط میں پھر سے جنرل اسمبلی  اور کمانڈر ان چیف سمیت منتخب افسران  پرمشتمل جمہوری قسم کی ایک فوجی تنظیم وجود میں آئی ۔ اس گروہ نے  1648 اور 1657 کے دوران میں پولش - لتھوانیائی دولت مشترکہ کے مشرقی علاقوں میں بغاوت کر دی۔ اس کی قیادت بوہدان نخمیل نتسکی  نےکی اور اس طرح  یوکرین تیزی سے انقلاب کی لپیٹ میں آگیا۔بوہدان   اپنے زمانے میں گاندھی جی کی مانند مقبول عام رہنما تھے ۔ پولش فوج  نے ان کی تحریک کو  کچلنے کی کوشش کی تو  پورے یوکرین میں تشدد پھیل گیا۔ قزاقوں اور  کسانوں کا غم و غصہ استحصالی گٹھ جوڑ میں شامل  جاگیرداروں ان کے یہودی  اہل کاروں ، لاطینیوں  اور پادریوں کے خلاف تھا ۔  جنوری 1649 میں  یہ بغاوت کامیاب ہوئی اور بوہدان آزادی کے علمبردار  فاتح کی حیثیت سے  کیئو میں داخل ہوئے۔اس طرح   یوکرین میں  ایک آزاد ریاست کی  تشکیل کا خواب دیکھا گیا  جو بدقسمتی سے شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکا ۔

ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات قائم کرنے کے لیے  بوہدان نے 1654 میں  ماسکو کے ساتھ ایک معاہدہ کیا۔ روس  نے اس کو یوکرین کے ذریعہ  زار کی بالادستی قبول کرنے کے مترادف سمجھ لیا جبکہ  یوکرین نے اسے  خودمختار حکومت، اور غیر ملکی تعلقات کو چلانے کے حق یعنی آزادی کا نام دیا۔ آگے چل کر یوکرین کے اندرونی معاملات میں روسی مداخلت پر تنازع کے بعدبوہدان ماسکو اتحاد سے مایوس ہوگئےاور زیلنسکی کی طرح انہوں نے  سویڈن اور ٹرانسلوانیا سےپینگیں بڑھانی شروع کردیں ۔ یہ بات بہت آگے نہیں بڑھ سکی اور اس سے پہلے کہ   ماسکو سے اتحاد  کے خاتمہ پر منتج  ہوتی  بوہدان  کا انتقال ہوگیا۔   اس وقت قزاقوں کا نیپر کے دا ئیں جانب  اورروس کے حلیف پولینڈ کا  بائیں کنارے سمیت مغربی یوکرین  کے زیادہ تر حصےپر قبضہ تھا۔ یوکرین میں 17ویں صدی کا دوسرے نصف میں تیس سالوں تک   انتشار و بربادی کا بول بالا تھا۔اس دوران انہیں پولینڈ کی انتقامی کارروائیوں اور تاتار چھاپوں کے علاوہ  قحط اور طاعون کی  تباہی کا سامنا بھی  کرنا پڑا۔

مندرجہ بالا  بغاوت کے بعد دو دہائیوں میں یہودیوں کی بڑے پیمانے پر  ہلاکتیں ہوئیں جن کی بابت مختلف  تخمینہ تاریخ کی کتابوں میں درج ہے۔ ایک اندازے کے مطابق  کم از کم 100,000 لوگ ہلاک ہوئے  مگرامریکی مورخ ہارولو پیلنسکی نے ان  کی تعداد 6,000 اور 14,000 کے درمیان بتائی ہے۔  اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ ہٹلر کے  ہولوکاسٹ سے قبل بھی یہودی اپنے بارے میں غلط فہمیاں پھیلا کر عوام کی ہمدردی حاصل کرتے رہے ہیں۔ ایک پولش افسر نے اس تباہی کی منظر کشی اپنی ایک رپورٹ  میں اس طرح کی ہے کہ :’میرا اندازہ ہے کہ سڑکوں اور قلعوں میں مردہ پائے جانے والے صرف شیر خوار بچوں کی تعداد 10,000 تک پہنچ گئی۔ میں نے انھیں کھیتوں میں دفن کرنے کا حکم دیا اورصرف ایک قبر میں 270 سے زیادہ لاشیں تھیں... تمام شیر خوار بچوں کی عمر ایک سال سے بھی کم تھی کیونکہ بڑے بچوں کو قید کرلیا گیا تھا۔ زندہ بچ جانے والے کسان اپنی بدقسمتی کا رونا روتے ہوئے گروہوں میں گھومتے پھرتے ہیں۔   

یوکرین کے اندر پولینڈ کی فوج مظالم تاریخ کی کتابوں میں اس طرح محفوظ ہیں کہ وہ ہر موڑ پر جلاؤ، لوٹ مار اور قتل کرتے تھے۔ پولینڈ کے ایک  کمانڈر نے  یوکرین کے چہیتے رہنما  بوہدان کی قبر کو کھول کر ان  کی باقیات کو ہواؤں میں بکھیر دیا تھا ان کے جانشین  ایوان ویہووسکی کو گرفتار کرنے کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا ۔بوہدان  کے بیٹے  یوری  کو راہب کی کوٹھڑی سے گھسیٹ کر نکالا گیا  تاکہ  پولینڈ میں قیدکیا جاسکے۔ اس طرح  یوکرینیوں اور پولینڈ کے درمیان دشمنی پڑ گئی اور باہمی تعاون کی ساری راہیں مسدود ہوکر رہ گئیں۔ جن لوگوں کو اس بات پر حیرت ہے کہ روس  اپنے ہی نسل کے ہم مذہب لوگوں پر یوکرین میں ظلم و ستم کے پہاڑ کیوں توڑ رہا ہے وہ اس کی تاریخ سے واقف نہیں ہیں۔  پوتن کی مانند فرنگی ہمیشہ سے قتل و غارتگری کرکے اپنے مخالف کو معاہدے پر مجبور کرتے رہے ہیں۔  1658 میں جب بغاوت کو کچلا گیا تو  15,000 باغی  میدان جنگ میں مارے گئےاور  اس  نتیجے میں برپا ہونے والی خانہ جنگی میں تقریباً 50,000 جانیں ضائع ہوگئیں۔  اس کے بعد مرتا کیا نہ کرتا یوکرین نے ستمبر 1658 میں پولینڈ کے ساتھ ہدیچ کے معاہدے پر دستخط کردیئے اور یوکرین  کو پولینڈولتھوانیائی دولت مشترکہ  میں شامل کرلیا گیا  ۔ یوکرین کو اس کے ہم سایہ ہم مذہب اور ہم نسل قوموں جو اذیت دی ہے اس پر حیدر علی آتش کا یہ شعر صادق آتا ہے؎

دوستوں سے اس قدر صدمے اٹھائے جان پر      

دل سے دشمن کی عداوت کا گلہ جاتا رہا