کیجریوال : جیسے کو تیسا ملا بڑا مزا آیا

National

کیجریوال : جیسے کو تیسا ملا بڑا مزا آیا

ڈاکٹر سلیم خان

 مغل اعظم میں اگر اکبر کا بیٹا سلیم بھی بالکل اس کی ہو بہو  نقل ہوتا تو اپنے تمام تام جھام کے باوجود اس فلم کو وہ شاندار کامیابی نہیں ملتی ۔ شعلے میں تو یہ متضاد کردار وں کی لمبی  چوڑی قطار ہے۔ ٹھاکر کے مدمقابل گبرّ،ویرو کے سامنے جئے،سورما بھوپالی کے ساتھ انگریز کے زمانے کا جیلر اور بسنتی کے مقابلے رادھا۔ کرداروں کا یہی تضاد فلم کی جان ہیں ۔  فلمی دنیا سے سیاست کی  میدان  میں  آئیں تو زبان و بیان کی حد تک مودی  جیسے گبرّکے مقابلے کیجریوال ہی ٹھاکر  ہے۔ وہی  وزیر اعظم کو  ترکی بہ ترکی جواب دیتا  ہے اسی لیے جب دونوں آمنے سامنے ہوتے ہیں تو ذرائع ابلاغ میں  کیجریوال کابول بالہ ہو جاتا ہے ۔ اس کی تازہ مثال   کشمیر فائلز  ہے کہ جس کو لے کر دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نےوزیر اعظم نریندر مودی کے  چیتھڑے اڑا دیئے۔  اس کا یہ اثر ہوا کہ دہلی شہر کے تو کمل والے چوڑیاں پہن کر اپنے گھروں میں دبک گئے مگر بنگلورو کے  تیجسوی سوریا نے زعفرانیوں غنڈوں کے ساتھ کیجریوال کی سرکاری رہائش گاہ پر ہلاّ بول دیا۔

 اس حملے سے بی جے پی کا تو کوئی بھلا نہیں ہوا مگر وزیر اعلیٰ دہلی کا یہ الزام درست ثابت ہوگیا کہ  سنگھ پریوار  فی الحال  کشمیر فائلز کا تشہیری  دلال بنا ہواہے ۔  ویسے تو یہ متنازع فلم حملے والے دن   تک 231.28 کروڈ کا کاروبار کرچکی تھی  مگر آخری چار دنوں میں اس کے کاروبار پر ایک نظر ڈالیں تو تیجسوی سوریا کے تماشے کی وجہ سمجھ میں آجاتی ہے ۔ جمعہ  25مارچ کو اس فلم نے  4.50 کروڈ کا کاروبار کیا ۔ اسی دن اروند کیجریوال نے بی جے پی پر تنقید کی ۔ اس کے بعد سنیچر کو یہ بڑھ کر 7.60 کروڈ ہوگیا ۔ فلمساز وویک اگنی ہوتری خوش ہوگئے ۔ ٹیلیویژن والوں نے اسے خوب اچھالا۔ بی جے والے بھی ان کو اربن نکسل اور ملک دشمن کہنے لگے اتوار کو کاروبار بڑھ کر 8.75 کروڈ پر پہنچ گیا لیکن جب پیر آیا تو یہ کاروبار اچانک گھٹ کر 3.10 کروڈ پر آگیا ۔ اس کے بعد لگاتار گراوٹ جاری رہی اور جمعہ یکم اکتوبر تک یہ گھٹ کر ڈیڑھ کروڈ پر آگیا ۔

 فلم کی گرتی ہوئی  مقبولیت کو سنبھالنے کے لیے کسی بڑے ناٹک کی ضرورت تھی  اس لیے  منگل (29مارچ) کو مشرقی دہلی میونسپل کارپوریشن ہاؤس کی میٹنگ میں  بی جے ہی نے ہنگامہ مچا یا گیا اور بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی ۔بی جے پی کے ارکان  کمل لے کر میدان میں اترے تو عآپ والے جھاڑو رتھام کر ان  سے بھڑ گئے اس طرح کل یگ کی مہابھارت کا ایک منظر سامنے آگیا ۔کشمیر فائلز میں تو سب کچھ نقلی ہے ابھی نیتا(اداکار) سج دھج کر نوٹنکی کرتے ہیں  مگر یہ تو حقیقی دھرم یدھ تھا ۔  اس کی ایک ویڈیو نے  عوام کو کشمیر فائلز  سے زیادہ تفریح مہیا کیا۔ آپس میں گتھم گتھا  رہنماؤں کو چھڑانے کے لیے  پولیس کو  مداخلت کرنی پڑی ورنہ سرینگر سے بڑا خون خرابہ ہوسکتا تھا ۔ اس ہنگامہ کی شروعات اگنی ہوتری کے ایجنٹ  بی جے پی کونسلرس نے کی ۔ انہوں نے کیجریوال کے بیان کی مخالفت کرتے ہوئے  میٹنگ میں مذمت کی تحریک  پیش کردی  اور  الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ نے دہلی اسمبلی میں کشمیری پنڈتوں کا مذاق اڑایا ہے۔ اس لیےعآپ لیڈروں اور کونسلروں کو اس پر معافی مانگنی چاہئے۔

یہ عجیب منطق ہے کہ  نہ تو کیجریوال نے اس ایوان میں  بیان دیا اور نہ  وہاں موجود کاونسلرس نے اس کی تائید کی ۔ اس لیے اسے وہاں اٹھانا ہی غلط تھا ۔  اس کے علاوہ  سب سے بڑا تماشہ  یہ  تھا  کہ  کیجریوال کی تقریر کے حوالے سے جو الزام لگائے جارہے تھے وہ بھی بے بنیاد تھے ۔  انہوں نے اپنی تقریر میں کشمیر پنڈتوں کا کوئی مذاق نہیں اڑایا بلکہ کشمیر فائلز نامی جھوٹ کے پلندے پر گفتگو کی  جو کسی طور پر کشمیری پنڈتوں کی نمائندہ نہیں ہے۔ کیجریوال نے بی جے پی کو آئینہ دکھایا جو  اپنے سیاسی فائدے  کی خاطر اپنے مقام سے گر کر اور اپنی آئینی ذمہ داریوں کو فراموش کرکے ایک فلم کی دلالی کررہی ہے۔ بی جے پی کے  کونسلرس کا سارا غصہ  اس کریہہ چہرے کے منظر عام پر آجانے کو لے کر تھا ۔  اروند کیجریوال کا سوال ان کو کھل گیا  کہ آپ لوگ سیاست میں کس لیے آئے تھے اور کیا کررہے ہو؟ کیجریول نے مزید کہا کہ کشمیری پنڈت کے نام پر کوئی فلم بنا کر کروڑوں کما گیا اور بی جے پی کو پوسٹر لگانے کا کام دے دیا ۔ اب گھر جانے پر جب بچے پوچھیں گے کہ کیا کرکے آئے تو کیا یہ کہیں گے کہ فلم کاپوسٹر لگا کر آئے ہیں؟ یہ ایسے تیکھے سوال تھے کہ جس نے دودھ  کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا ۔ 

 اروند کیجریوال  نے بی جے پی کی سب دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے سیدھے پی ایم  نریندر مودی کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے  کہا کہ اگر 8 سال تک حکومت کرنے کے بعد بھی کسی ملک کے وزیراعظم کو ایک  فلم ہدایتکار وویک اگنی ہوتری کے قدموں میں گرنا پڑے تو اس کا مطلب  ہےکہ وہ ناکام ہوچکا  ہے۔ اس نے کوئی کام نہیں کیا۔ یہ ایک  تلخ حقیقت ہے کہ اس عرصہ میں وزیر اعظم نریندر مودی نے انتخابی مہم چلانے کے علاوہ کوئی قابلِ ذکر کارنامہ نہیں انجام دیا ۔  ان میں سے بیشتر صوبوں میں پرچار منتری کی حیثیت سے بھی مودی کے ہاتھ  ناکامی ہی آئی لیکن چونکہ دو مرتبہ  قومی اور دوبار اترپردیش میں انہیں  کامیابی ملی اس لیےیار دوستوں نے ان کو  سُپر  مین بنادیا ۔ اروند کیجریوال نے فلم بنٹی اور ببلی کا حوالہ دے کر کہا کہ  اس میں نعرہ تھا ’’ہمارے مطالبات پورے کرو ‘‘ مگر مطالبے کا کہیں اتہ پتہ ہی نہیں تھا اس کے علاوہ انہوں نے طنزیہ انداز میں یہ بھی  کہا کہ اب تو مان لو کہ 56 انچ کا سینہ نہیں ہے سب جھوٹ ہے۔ یہ بات درست ہے کہ فلم اور اس کی تعریف کرنے والی زبان اور سینہ سب کچھ جھوٹ ہی جھوٹ ہے۔اس کے بعد بی جے پی والوں کو چاہیے تھا کہ چلوّ بھر پانی میں ڈوب مرتی مگر اس نے ڈھٹائی کے ساتھ شور شرابہ کرنا  شروع کردیا ۔ اپنی بے نقابی کے سبب بی جے پی والوں کے کیجریوال پر کیچڑ اچھالنے پر یہ شعر صادق آتا ہے؎

کس سلیقے سے متاعِ ہوش ہم کھوتے رہے

 گرد چہرے پر جمی تھی آئینہ دھوتے رہے

کونسل ہال کے اندر ہنگامہ آرائی سے کشمیر فائلز پھر ایک بار ذرائع ابلاغ میں موضوع بحث بن گئی فلمساز نے سوچا اس کے ذریعہ  مزیدفائدہ اٹھانے کے لیے کچھ بڑا کیا جائے  کہ جس میں بی جے پی کے لوگ مار کھاتے ہوئے نظر نہ آئیں  فلم کی تشہیر بھی ہو۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر کشمیری پنڈتوں کی آڑ میں  دہلی  کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی رہائش  پر چڑھائی کرنےکا فیصلہ کیا گیا۔ دہلی کی پولیس اگر وزیر اعلیٰ کے ماتحت ہوتی تو  بی جے پی رہنما  تیجسوی سوریہ ہرگز اس کی جرأت نہیں کرتے مگر انہیں پتہ تھا ’’یہ اندر کی بات ہے پولیس ہمارے ساتھ  ہے‘‘ اس لیے تیجندر پال سنگھ بگّا کے ہمراہ  بی جے پی کارکنان نے وہاں پہنچ کر  خوب ہنگامہ کیا۔ اس تعلق سے عام آدمی پارٹی  کی رہنما آتشی نے  یہ سوال  پوچھ کرکے  کہ ’’کیا توڑ پھوڑ کرنے کے احکامات امیت شاہ نے دیئے تھے؟‘‘ بی جے پی کی ساری قلعی کھول دی ۔  اس سوال کا جواب اگر نفی میں ہو تب بھی  ان حملہ  آوروں کو پولیس کا تحفظ  یقیناً حاصل تھا ۔ اس لیے ملک کے وزیر داخلہ کا  پوشیدہ ہاتھ اس معاملے کے پیچھے نظر آتا ہے۔  آپ کے مصدقہ  ٹوئٹر ہینڈل نے بی جے پی پر کیجریوال کی رہائش پر توڑ پھوڑ کرنے کا سنگین  الزام  لگاتے ہوئے لکھا ’’وزیر اعلیٰ کیجریوال کے گھر پر بی جے پی نے حملہ کیا! سیکورٹی بیریئر توڑا گیا، سی سی ٹی وی کیمرے ٹوٹے، بی جے پی کو دہلی پولیس کی مکمل حمایت  حاصل رہی۔‘‘

کشمیر فائلز فلم کی بابت  وزیراعلیٰ کیجریوال پرجہاں  دہلی کے اندر   دہشت گردوں کی زبان استعمال کرنے کا الزام لگا کر معافی کا مطالبہ کیا  جارہا ہے وہیں  مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں وزیر اعلیٰ نے دی کشمیر فائلز کو بے گھر کشمیری پنڈتوں کے درد اور تکلیف کو بیان کرنے والی فلم قرار دیا۔ شیوراج سنگھ چوہان اس قدر جوش میں آئے کہ انہوں  نے ریاست میں نسل کشی میوزیم قائم کرنے کے لیے زمین فراہم کرنے کا اعلان کردیا۔یہ اعلان   کشمیر فائلز کے ڈائریکٹر وویک اگنی ہوتری کی تجویز پر  کیا گیا تاکہ  لوگوں کو معلوم ہو سکے  کہ کس طرح کشمیری پنڈتوں نے دہشت گردانہ حملوں کا سامنا کیا اور مشکلات کے باوجود کبھی ہتھیار نہیں اٹھائے۔ وہ تو سر پر پیر رکھ کر بھاگ گئے اس لیے مقابلہ کہاں کیا؟ شیوراج سنگھ  نے دراصل وویک اگنی ہوتری کا پورا بیان نہیں سنا ورنہ اس کی تجویز ماننے کے بجائے اسے بھوپال کے لوگوں کی توہین کرنے کے الزام میں  جیل بھیج دیتے۔ ویویک اگنی ہوتری کا تعلق مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال سے ضرور ہے اور اس کی  تعلیم و تربیت بھی بھوپال میں ہوئی ہے۔ اس کے باوجود اس نے   ایک نہایت نازیبا اور توہین آمیز بیان دے کر بھوپال کے عوام کو چونکا دیا ۔

وویک نے اپنے متنازع بیان میں کہہ دیا  کہ بھوپال میں پڑھا ہوا ہوں، لیکن بھوپالی نہیں ہوں کیونکہ بھوپالی ہونے کا ایک الگ مطلب ہوتا ہے اور اسے میں آپ کو اکیلے میں سمجھاؤں گا۔ کسی بھوپالی سے پوچھ لینا ۔ کیونکہ بھوپالی کا مطلب عام طور پر ہوتا ہے کہ یہ ہم جنس پرست ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف اوٹ پٹانگ بیانات دے کر سرخیوں میں رہنے والی سادھوی پرگیہ کی غیرت نہ جانے کہاں چلی گئی جو انہوں نے شتر مرغ کی مانند اس نازیبا بیان کو برداشت کرلیا اور اس کے خلاف ایک لفظ نہیں  بول سکیں۔ یہ ہے بھگوا چولے اندر چھپا پاکھنڈ جس کو اروند کیجریوال نے بے نقاب کیا اس لیے بی جے پی تلملا رہی ہے ۔ خیر کشمیر فائلز تو بہت جلد اتر جائے گی اور اس کا  زہر بھی کورونا وائرس کی مانند  بے اثر ہوجائے گا مگر اس کا زخم آسانی سے نہیں بھرے گا ۔

(۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰جاری)