ہمارا ناقص و غیر منطقی امتحانی نظام طلبہ میں ذہنی انتشار پیدا کر رہا ہے؟

Education

راہ نما: مبارک کاپڑی

نوجوانوں میں ڈِپریشن: ذمّہ دار کون؟ تعلیمی نظام، معاشرہ یا والدین!(دوسری قسط)

ہمارا ناقص و غیر منطقی امتحانی نظام طلبہ میں ذہنی انتشار پیدا کر رہا ہے؟

اس ملک کے تعلیمی نظام کا المیہ یہ ہے کہ اس پر سرکاری ماہرینِ تعلیم کا غلبہ ہے۔ اُنھیں کا مرتّب کردہ تعلیمی و امتحانی نظام طلبہ کے لیے ضرر رساں ثابت ہورہا ہے۔ کیا والدین صرف خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟

            ہم جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح ہمارے ناقص امتحانی نظام کی بناء پر ہمارے طلبہ،ہمارے ملک و ملّت کا سرمایہ مسلسل متاثر ہورہا ہے اور اس میں تذکرہ کر رہے ہیں میڈیکل داخلہ امتحان کا کہ ناقص امتحانی نظام کی بناء پر اس امتحان سے چند ہزار ڈاکٹر پیدا ہورہے ہیں اور کئی لاکھ ذہنی مریض!

(۲)کورونا وائرس کے وبائی دَور میں ڈاکٹروں کی کمی شدّت سے محسوس کی گئی اِس کے باوجود اِس ملک کے شعبہئ تعلیم اور اُس کے سیاسی آقاؤں نے ابھی تک یہ نہیں سوچا کہ اس ملک کے میڈیکل داخلہ امتحانات کے طریقہئ کار میں کیا مثبت رُخ اختیار کیا جائے، کیا کیا تبدیلیاں لائی جائیں۔ آج میڈیکل کے اخلہ امتحان میں ۰۲۷/نمبرات میں سے کم و بیش ۰۰۶/نمبر ملتے ہیں اُن طلبہ کو گورنمنٹ میڈیکل کالج میں داخلہ ملتا ہے جہاں کی فیس کی ادائیگی لگ بھگ سبھی طلبہ کے لیے ممکن ہے۔ ۵/نمبر کم ہونے پر اب اُسے ہر سال لگ بھگ آٹھ لاکھ روپے ادا کرنے ہوں گے۔ ۰۵/نمبر کم ہوئے اب اُسے میڈیکل نشست خریدنی ہے لگ بھگ ایک کروڑ ادا کرکے۔ اس ضمن میں ہمارے سارے (بشمول سرکاری) ماہرینِ تعلیم کو بنیادی بات جو سمجھ لینی ہے وہ یہ ہے کہ جن طلبہ کو اس داخلہ میں ۰۲۷/میں سے ۰۰۴/نمبرات حاصل ہوتے ہیں اوروہ بھی ڈاکٹربننے کے لیے ۰۰۱/فیصد قابل و لائق ہیں۔ بس تکنیکی بنیاد پر اُنھیں زیادہ نمبر حاصل نہیں ہوسکے جیسے (الف) وہ تھوڑے بہت سٹپٹاگئے (ب) امتحان ہال میں وہ کچھ خالی الذہن ہوگئے (ج) اُن کا ٹائم مینجمنٹ کچھ بگڑ گیا (د) نگیٹیو مارکس کا خوف اُن کے سر پر ایک تلوار کی طرح لٹکا رہا اور اُس خوف میں اُنھوں نے کئی سوالات حل نہ کرنے کا ارادہ کرلیا (و) وہ بائیولوجی پر پورے فوکس رہے اور فزکس نے اُن کو کلین بولڈ کردیا۔ یہاں سوچنے والی بات یہ بھی ہے کہ جو طلبہ میڈیکل میں کرئیر بنانے جارہے ہیں اُنھیں اس قدر اعلیٰ درجہ کے فزکس کے امتحان سے کیوں گزرنا پڑے؟ ذہنی آزمائش کے سوالات بائیولوجی میں بھی مرتّب کئے جاسکتے ہیں!

(۳)میڈیکل داخلہ امتحان میں ۰۰۴نمبرات تک حاصل کرنے والے طلبہ کو بھی اگر گورنمنٹ میڈیکل کالجوں میں داخلہ دیا جاتا ہے تو اس ملک میں ڈاکٹروں کی کمی کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہوسکتا ہے۔ یقین جانئے نیٰٹ میں ۰۰۴/سے ۰۰۶/نمبرات حاصل کرنے والے طلبہ کسی لحاظ سے کم نہیں ہیں اور وہ پوسٹ گریجویشن بھی کرکے ماہر ڈاکٹر بن سکتے ہیں۔ اس اہم مسئلے پر اب تک کوئی پیش رفت کیو ں نہیں ہوئی ہے۔ اُس کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں:

(الف) والدین خاموش ہیں، برسہابرس سے خاموش ہیں۔میڈیکل داخلہ امتحان کے ذہنی ٹارچر کو سہتے ہوئے وہ اپنے بچّوں کو دیکھ لیتے ہیں، ذہنی انتشار اور ڈپریشن سے گزرتے دیکھتے ہیں مگر اپنے جمہوری حق کے لیے آواز نہیں اُٹھاتے، کوئی تحریک نہیں چلاتے۔

(ب) اس ضمن میں آواز اُٹھانے کے لیے وہ اپنے منتخب نمائندے پارلیمنٹ میں بھیجتے ہیں مگر وہ نمائندے پہلے ہی سے اپنے اپنے میڈیکل کالج نام کی دکانیں اور شوروم کھولے بیٹھے ہیں جن میں لاکھوں بلکہ کروڑ سے بھی زیادہ رقم اینٹھی جاتی ہے ایک ایک نشست کے لیے۔ وہ نمائندے بھلا عوام، اُن کے طلبہ اور ملک کے صحت کے نظام پر کیونکر زبان کھولیں گے؟

(۴) بارہویں سائنس کے بعد کے انتہائی اہم کرئیر جیسے میڈیسن، انجینئرنگ، آرکٹیکچر وغیرہ کے سارے داخلہ امتحانات کا نصاب سی بی ایس ای سطح کا ہوتا ہے۔ ہمارے والدین اس پر بھی احتجاج نہیں کر رہے ہیں کہ آخر ریاستی بورڈ کے نصاب سے فارغ طلبہ اچانک سی بی ایس ای نصاب کو کس طرح اپنا سکتے ہیں۔ ہمارے سرکاری ماہرینِ تعلیم یہ بھی نہیں جانتے کہ ہندوستان گاؤں میں بستا ہے۔ گاؤں میں ضلع پریشد کے زیر اہتمام اسکولیں چلتی ہیں، ہزاروں اسکولوں میں صرف ایک اُستاد پوری پرائمری اسکول کو پڑھاتا ہے اور کئی اسکولیں تو درخت کے نیچے جاری رہتی ہیں جو برسات کے چار ماہ بند رہتی ہیں۔ اُن اسکولوں کے طلبہ سی بی ایس ای سطح کے امتحان میں شریک ہونے کے لائق ہیں؟ گویا یہ داخلہ امتحان کچھ اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اُس میں سی بی ایس ای سے فارغ طلبہ یا امیروں کے بچّے ہی کامیابی حاصل کرسکیں؟

(۵)چند ہزار کامیاب طلبہ پر جھومنے والا یہ تعلیمی نظام اُن لاکھوں ناکام طلبہ کی کیفیت سے بھی واقف ہے؟ دو دو تین تین بار اس امتحان میں شریک ہوتے ہیں۔ رشتہ داروں، دوستوں سبھی کے طعنے سنتے اور اُن کے حقارت آمیز جملے براشت کرتے۔ اُن میں سے ایک بڑی تعداد اُن طلبہ کی بھی ہوتی ہے جو اس داخلہ امتحان سے ایسے دہشت زدہ ہوجاتے ہیں کہ ہر بار کی کوشش میں اُن کے نمبرات مزید گھٹ جاتے ہیں اور پھر وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اُن کی زندگی ہی تباہ ہوگئی ہے اور اب جینے کا کیا فائدہ؟ ہمارا معاشرہ اور میڈیا کامیابی پر خوب خوب ڈھول پیٹتاہے مگر اُس داخلہ امتحان کی غیر فطری ترکیب و ترتیب کی زد میں آئے لاکھوں طلبہ پھر زندگی کے کن اندھیروں میں گُم ہوجاتے ہیں اس کی کوئی خبر بھی رکھتا ہے؟

(۶) میڈیکل میں داخلہ پانے کے متمنّی ہمارے لاکھوں جونئیر کالج میں ہی ریاضی مضمون سے چھٹکارہ، حاصل کرلیتے ہیں۔ اسکول یا جونیئر کالج کی سطح پر اُن طلبہ کی کوئی یہ رہنمائی نہیں کرتا کہ میتھس کتنی اہمیت کا حامل مضمون ہے جو (الف) فزکس کے پرابلم حل کرنے میں بھی کام آتا ہے (ب) ریاضی سے انسان میں ایک منطقی سوچ پیدا ہوجاتی ہے اور (ج) خدانخواستہ نیٖٹ کے امتحان میں اگر معاملہ کچھ بگڑ جائے تو ریاضی کے مضمون کی بنیاد پر ایک نئی دنیا بسائی بھی جاسکتی ہے۔

(۷) ہم تو آج یہ بھی پوچھنا چاہیں گے کہ نیٖٹ داخلہ امتحان کے نصاب کو طے کرنے والے اور اُس کے امتحانی پرچے مرتّب کرنے والے خود صحت مند دماغ کے مالک ہوتے ہیں؟ یہ سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ کئی مرتبہ (الف) نصاب کے باہر سے سوال پوچھے جاتے ہیں (ب) غلط سوال پوچھے جاتے ہیں یعنی وہ جو حل ہی نہیں ہوسکتے۔ امتحان کے بعد جب واویلا مچتا ہے تب صرف ’سوری‘ کہہ کر دامن بچایا جاتا ہے کہ سوال غلط تھا۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ ایک غلط سوال حل کرنیکے وقت میں طلبہ چار درست سوالات حل کرسکتے ہیں۔ ہم دماغی صحت کی بات اس لیے بھی کررہے ہیں کہ کہیں اُن ممتحن حضرات اورپیپر سیٹرس کے لاشعور میں اُن کی اپنی ناکامیاں تو حاوی نہیں ہیں؟ یہ ممتحن حضرات سائنس فیکلٹی کے ہوتے ہیں، کہیں ایسا تو نہیں کہ اُن کے زمانے میں اُنھیں ڈاکٹر بننا تھا۔ وہ بن نہیں پائے اور اب نیٖٹ کا ایسا مشکل ترین پرچہ مرتّب کر رہے ہیں کہ کوئی ڈاکٹر بننے ہی نہ پائے یا اُنھیں ناکوں چنے چبانا پڑے۔(جاری)