جمعہ نامہ:مرحبا اے ماہِ رمضان

National

جمعہ نامہ:مرحبا اے ماہِ رمضان

ڈاکٹر سلیم خان

پچھلے دوسالوں میں  کورونا کی وباء کے سبب رمضان  المبارک کے اجتماعی  فیوض و برکات سے محرومی کا شدید قلق رہا ۔ اس دوران  رمضان آیا اور چلا گیا مگر اس کا خاطر خواہ اہتمام نہیں ہوسکا ۔ اس لیے امسال  ملاقات کا اشتیاق کچھ زیادہ ہی ہےکیونکہ کسی نعمت کے عارضی طور پر چھن جانے کے بعد مل جانے پر اس کی قدروقیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس مبارک مہینے  سے ہماری ملاقات ہر سال ہوتی ہے ۔  ہم ایک ماہ کا طویل عرصہ اس کی معیت میں گزارتے ہیں لیکن اس  مہمان کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں حالانکہ یہ اسمِ بالمسمیٰ ہے ۔ اس کے نام کا مطلب ہی  اگرسمجھ لیا جائے تو  اس کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہو جاتا ہے۔ عربی زبان میں رمضان کا مادہ رَمَضٌ ہے، جس کا معنی سخت گرمی اور تپش ہے۔الرمض کا معنی ریت یا زمین وغیرہ پر دھوپ کی شدت ہے۔ اس کو سورج کی شدید تمازت کے سبب پتھر کی گرم ہوجان بھی  ہے ۔ اسی سے الرمضاء کا معنیٰ تپتی ہوئی زمین ہے۔ ان  مطالب  کو  رمضان میں  روزہ دار بھوک و پیاس کی حدت اور شدت  سے جوڑ کر دیکھنا فطری   ہے اور کہا جاتا ہے یہ روزے گناہوں کو جلا کر مٹا دیتے ہیں۔  ایک مشہور حدیث میں حضرت جبرائیل ؑ  نے دعا کی کہ ہلاک ہوجائے وہ شخص جس کو رمضان کا مہینہ ملے اور وہ اپنی بخشش نہ کرواسکے،اس پر حضرت محمد ﷺ نے آمین! کہا۔ اس  دعا  بھی  رمضان  المبارک کےاس پہلو کا  اہم اور ضروری  تعارف موجود ہے۔

سوال یہ ہے کہ  روزوں کی فرضیت  سے قبل ہی اس ماہ کا یہ نام کیسے پڑگیا؟  اس بابت معروف  ماہر لسانیات ملا علی قاری لکھتے ہیں کہ رمضان رمضاء سے مشتق ہے اس کا معنی سخت گرم زمین ہے لہٰذا رمضان کا معنی سخت گرم ہوا۔ رمضان کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ جب عربوں نے پرانی لغت سے مہینوں کے نام منتقل کئے تو انہیں اس وقت کے   اوقات اور زمانوں کے ساتھ موسوم کر دیا ۔ اتفاقاً رمضان ان دنوں سخت گرمی کے موسم میں آیا تھا۔ اس لئے اس کا وہی  نام  رکھ دیا گیا۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی مشیت  ہے کہ رب کائنات نے روزوں کے لیے اسی ماہ کا انتخاب فرمایا ۔ رمضان کی بابت ایک حدیث قدسی ہے کہ  نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اگر مجھے آپ ﷺ کی اُمت کو جہنم میں ہی جلانا ہوتا تو رمضان کا مہینہ کبھی نہ بناتا‘‘۔ اس  طرح رمضان میں چونکہ  مغفرت اور جہنم کی خلاصی کا اہتمام ہے  اس لیے یہ یقیناً  اللہ تعالی ٰ کی عظیم رحمت ہے۔ 

عربی لغت میں جہاں  رَمِضَ  یا رَمَضاً  کے معنیٰ ’ تپتی ہوئی زمین یا پتھروں پر چلنا‘ ہے وہیں  اس کا ایک مطلب ’ موسم خزاں سے قبل ہونے والی بارش بھی ہے  جبکہ زمین گرم اور تپی ہوئی ہوتی ہے‘۔  اس اسم اور اول الذکر فعل کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ مطلب نکلتا ہے کہ ماہِ رمضان   میں اگرچہ  مومنین کے لیے   صیام  شدت  تپتی ہوئی ریت کی مانند ہے مگر  راتوں کا قیام یعنی تراویح و تہجد اس برسات کی طرح ہے جو گرم اور تپی ہوئی ریت کو ٹھنڈا اور خوشگوار کردیتی ہے۔ رات کی ابتداء میں اہل ایمان نمازِ تراویح کے دوران   قرآن حکیم کی سماعت کا اہتمام کرکے قلبی سکون سے فیضیاب ہوتے ہیں اور آخری پہر میں اپنے رب کے حضور اپنی  مشکلات و مناجات پیش کردیتے ہیں ۔   نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’ماہِ رمضان میں اﷲ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا بخش دیا جاتا ہے اور اس ماہ میں اﷲ تعالیٰ سے مانگنے والے کو نامراد نہیں کیا جاتا۔‘‘

رمض کے ایک معنیٰ  ’ نیزے کے پھل کو تیز کرنا‘ بھی ۔  نیزہ اگر کند ہو تو وہ اپنے مقصدِ حقیقی کو حاصل نہیں کرسکتا  اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس کی دھار کووقتاً فوقتاً تیز  کرنے کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔ انسانی نفس کا یہی حال ہے اور صیام و قیام  نفس کی دھار تیز کردیتا کہ اس کے بغیر دنیاوی آلائشوں کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ کی مندھہ ذیل  تلقین  میں  اس  کے حصول  کی بابت   رہنمائی ملتی ہے فرمایا  :’’  اس ماہ  میں چار کام زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوشش کرو۔ دو کاموں کے ذریعے تم اپنے رب کو راضی کروگے اور دو کاموں کے بغیر تمہارے لیے کوئی چارہ کار نہیں۔ جن دو کاموں کے ذریعے تم اپنے رب کو راضی کروگے ان میں سے ایک لا الہ الا اللہ کی گواہی دینا ہے اور دوسرا اس سے بخشش طلب کرنا ہے۔ جن دو کاموں کے بغیر تمہارے لیے کوئی چارہ نہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو اور دوسرا یہ ہے کہ دوزخ سے پناہ مانگو‘‘۔اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں  رمضان مبارک  کا شایانِ شان استقبال کرنے کی اور اس سے بھرپور استفادہ کی توفیق عطا فرمائے ۔ اس موقع پر رمضان کے حوالے سے غالب یہ دواشعار یاد آتے ہیں ؎

مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے                جوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے

کرتا ہوں جمع پھر جگر لخت لخت کو                                 عرصہ ہوا ہے دعوت مژگاں کیے ہوئے