مختار انصاری سے الکا رائے تک سیاسی نشیب و فراز

National

مختار انصاری سے الکا رائے تک سیاسی نشیب و فراز

ڈاکٹر سلیم خان

یوگی ادیتیہ ناتھ  ایک کیا دس انتخاب جیت لیں تب بھی  اپنے ماتھے  سے وکاس دوبے کے انکاؤنٹر کا کلنک نہیں مٹا سکتے ۔  انہوں نے اپنی شخصیت کو اتنا مشکوک بنادیا ہے کہ اب کوئی بھلا مانس ان پر اعتماد نہیں کرسکتا ۔ اس تناظر میں جب  28 مارچ 2022 کو  جب یہ خبر آئی کہ بی ایس پی کے سابق ایم ایل اے مختار انصاری کو اتر پردیش کی لکھنؤ جیل لے جانے والی پولیس کی گاڑی  باندہ میں خراب ہو گئی تو اچانک قارئین کے رونگٹے کھڑے ہوگئے ۔ ایسا اس لیے بھی ہوا کیونکہ حالیہ انتخابی مہم میں  یوگی سے لے کر امیت شاہ تک سب نے صوبے کے رائے دہندگان کو مختار انصاری  سے بہت زیادہ  ڈرا کر خوب  ووٹ بٹورے   تھے ۔ ان کے بیٹے اور نومنتخب  رکن اسمبلی عباس انصاری پہلے ہی  اپنے والد کی جان کو خطرہ بتا چکے ہیں۔ اس تناظر میں  جب  گاڑی کے  خراب ہونے کی خبر آئی تو اس  کے بعد مختار انصاری کے اہل خانہ کا فکرمند ہوجانا فطری عمل تھا ۔

مختار انصاری کا نام آتے ہی دور دراز کے لوگوں  میں کپکپی چھوٹ جاتی ہے کیونکہ اپنے سیاسی فائدے کی خاطر  بی جے پی نےمیڈیا میں ان کی نہایت سفاک شبیہ بنارکھی ہے۔  لوگ یہ نہیں جانتے کہ جس مئو حلقہ انتخاب سے وہ الیکشن لڑتے تھے وہاں 1952 کے بعد کوئی امیدوار دوسری مرتبہ  کامیاب نہیں  ہوسکالیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ  1996 کے بعد جب سے مختار انصاری نے وہاں قدم جمائے ان کو کوئی ہٹا نہیں سکا۔انہوں نے لگاتار پانچ مرتبہ کامیاب ہوکر ایک ریکارڈ بنایا اور چھٹی بار اپنے بیٹے عباس کو جیل میں رہنے کے باوجود کامیاب کروایا۔پہلے وہ بہوجن سماج پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے مگر  اس بار جب سماجوادی پارٹی انہیں ٹکٹ دینے کے لیے جھجک رہی تھی تو ایم آئی ایم نے پیشکش کی۔ اس طرح ایم آئی ایم نے اپنا کھاتہ کھولنے کا داوں چلا لیکن پھر راج بھر کی ایس بی ایس پی نے ٹکٹ دے دیا ۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ عین وقت پر ان کا بیٹا پرچۂ نامزدگی بھر کر کامیاب ہو جائے گا۔ مئو کے تقریباً پانچ لاکھ رائے دہندگان میں صرف سوا لاکھ یعنی پچیس فیصد مسلمان ہیں ۔ ان کے علاوہ ایک لاکھ دلت اور ۵۵ ہزار راج بھر رائے دہندگان ہیں ۔ ایسے میں 28؍ہزار سے زیادہ کے فرق سے بی جے پی کے امیدوار اشوک کمار سنگھ کو دھول چٹوانا کوئی معمولی بات  نہیں ہے۔     

نو منتخب رکن اسمبلی عباس انصاری نے راستے میں ان کے والد کو نقصان پہنچائے  جانے کے خطرے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے  کہا تھا کہ "میری  سمجھ میں نہیں آ رہا ہے  کہ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے  انہیں کیوں منتقل  کیا جا رہا ہے۔ مجھے معلوم ہوا کہ میرے والد کو لکھنؤ جیل  میں منتقل کرنے کی تیاریاں ایک  رات قبل  دیر گئے  شروع  کی  گئی تھیں"۔ اس سے پہلے کہ کوئی ناگہانی اطلاع ملتی  عباس انصاری نے  اچانک منصوبے میں تبدیلی کی خبر دے کر معاملہ ٹھنڈا کردیا ۔ مندرجہ بالا خبر کے چند گھنٹوں بعد پتہ چلا  کہ مختار انصاری کو  لکھنؤ سے کچھ گھنٹے بعد واپس باندہ جیل لے آیا گیا ہے۔  یوگی سرکارکے ترجمان نے  یہ وضاحت کی  کہ انہیں ایک  سماعت کے لیے رکن پارلیمنٹ/رکن اسمبلی عدالت میں لایا گیا تھا اور اب وہ لوٹ  رہے ہیں۔  ان کی ضمانت و ایک دیگر معاملے میں 2؍ اور 8؍ اپریل کی تاریخ لگی ہے۔ عدالت نے یہ حکم مختار انصاری کی ضمانتی درخواست پر فریق استغاثہ کی گزارش پر تاریخ طلب کیے جانے کے بعد دیا تھا۔ عدالت میں مختار انصاری نے اپنے قتل کے اندیشہ کو لے کر سیکورٹی مہیا کیے جانے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ عباس انصاری نے یہ اطلاع بھی دی  کہ ان کے والد ریڑھ کی ہڈی میں تیز درد سے متاثر تھے اس لیے  بذریعہ سڑک طویل اور مشکل سفر کرنا ان کی صحت کے لیے مضر ہے۔

اس معاملہ کا ایک نہایت دلچسپ پہلو یہ ہے کہ خود یوگی سرکار تو ایمبولینس کے ذریعہ  انہیں باندہ جیل سے لکھنؤ لے کر آئی لیکن  پچھلے سال پنجاب کےروپڑ جیل سے باندہ ایمبولنس کے ذریعہ لانے کا انتظام کرنے کے جرم میں گینگسٹر ایکٹ کے تحت نیا مقدمہ درج کرلیا گیا ۔ یہ معاملہ میں مئو، غازی پور، لکھنؤ اور پریاگ راج سے تعلق رکھنے والے بارہ لوگوں کے خلاف ہے۔  اس  مقدمہ کا حیرت انگیز پہلو یہ بھی ہے کہ   پنجاب کی جیل میں قید کے دوران عدالت میں پیش کئے جانے کے لئے مختار انصاری پر فرضی رجسٹریشن کی ایمبولنس استعمال  کرنے کا الزام ہے اور اس کی  ملزم  بی جے پی کی سابق رکن اسمبلی مئو  کی رہنے والی ڈاکٹر الکا رائے اور ان کے بھائی ڈاکٹر شیش ناتھ رائے  ہیں جنہیں بارہ بنکی پولیس گرفتار کر چکی ہے ۔ سنجیونی اسپتال چلانے والی ڈاکٹر الکا رائے پر مختار انصاری کو ایمبولنس دستیاب کرانے کا الزام ہے۔صوبہ پنجاب میں مختار انصاری جو ایمبولنس کا استعمال کررہے تھے  وہ اترپردیش کے ضلع بارہ بنکی میں رجسٹرڈ تھی اور جانچ میں اس کے کاغذات   فرضی پا ئے گئے  تھے۔  اس  معاملے میں ڈاکٹر الکا رائے پہلے بھی گرفتار ہوچکی ہیں اور انہیں   8؍ مہینے جیل میں گزارنے کے بعد ضمانت ملی  تھی۔ اب پھر انہیں بھائی  گینگسٹر ایکٹ کے تحت  گرفتار کیا گیا ہےْ۔

ڈاکٹر الکا رائے اور مختار انصاری کا تعلق بالکل افسانوی ہے۔ انصاری کی طرح رائے کا تعلق  بھی مجرمانہ سیاست سے بتایا جاتا ہے۔ مئو ضلع  میں   الکا رائے کا محمد آباد  حلقۂ انتخاب 1957سے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کا گڑھ رہا ہے۔   1985 سے  1996 تک وہاں افضال انصاری چار مرتبہ سی پی آئی اور ایک بار سماجوادی پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوتے رہے ہیں۔   2002 میں انصاری خاندان کی کاٹ کرنے کے لیے بی جے پی نے ایک مجرم پیشہ  مافیا ڈان کرشنانند رائے کو ٹکٹ دے دیا  اور وہ کامیاب بھی ہوگئے لیکن  2005میں ان کا قتل ہوگیا اور اس کا الزام مختار انصاری پر لگایا گیا۔ اس کے بعد جو ضمنی انتخاب ہوا تو بی جے پی نے ان کی اہلیہ ڈاکٹر  الکا کو میدان اتارا۔انصاری خاندان نے ان کے خلاف اپنے میں  سے کسی کو نہیں لڑایا ۔ اس طرح  کرشنانند رائے کے قتل کی ہمدردی کے سبب الکا  بھی  کرشن کمار عرف گاما رام  کو شکست دے کرانتخاب  جیت گئیں  لیکن ایک سال بعد  2007 میں مختار انصاری کے بھائی صبغت اللہ نے انہیں ہرا دیا ۔   

2017 میں بی جے پی نے پھر سے ڈاکٹر الکا رائے کو ٹکٹ دیا اور وہ کامیاب ہوگئیں ۔ اس دوران یہ بھی ہوا کہ 2019 میں مختار انصاری کو کرشنانند کے قتل معاملے سے بری کردیا گیا ۔ اسی زمانے میں مغربی اتر پردیش کے باغپت کی ضلع جیل کے اندر سنیل راٹھی نے پروانچل کے نامور مافیا ڈان پریم پرکاش عرف منا بجرنگی کے سر میں گولیاں  برسا کر قتل کردیا۔ یوگی جی جہاں صوبے کو مجرموں سے پاک کرنے کا دعویٰ کررہے تھے وہیں جیل کے اندر  راٹھی کے پاس اسلحہ پہنچ گیا  اوراس نے ایک ایسے  منا بجرنگی کو قتل کیا جس سے اس کی  کوئی  دشمنی کا ریکارڈ نہیں تھا۔ منا کے قتل کی خاطر ایسے مقام کا انتخاب کیا گیا جہاں سی سی ٹی وی کیمرہ  نصب نہیں تھا ۔پولس کی ناک کے نیچے  اس نہایت منصوبہ بند قتل  کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے  وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے باغبت ضلع کے جیلر کو معطل کرنے کے بعد  انتہائی تشویش کا اظہار کیا۔ ویسے اس واردات کے تقریباً دس روز قبل منا بجرنگی کی بیوی  وزیراعلیٰ سے لے کر اعلیٰ پولیس افسران تک کو یہ درخواست دے چکی تھی کہ جیل میں اس کے شوہر کی زندگی کو خطرہ ہے لیکن کسی نے اس پر توجہ نہیں دی۔ یوگی یا ان کا انتظامیہ اگر پہلت سے  خبردار ہوجاتا تو اسے ٹالا جاسکتا تھا اس لیے اس کی براہِ راست ذمہ داری ان پر آتی تھی۔

 منا بجرنگی پر بی ایس پی کے سابق رکن اسمبلی لوکیش دکشت سے بھتہ وصول کرنے کاالزام تھا ۔ اسی معاملے کی سماعت کیلئے  عدالت میں پیش کرنے کی خاطر اُسے جھانسی سے باغپت لایا گیا تھامگر وہ پرلوک سدھار گیا۔اس معاملے میں ایک دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب  بی جے پی کی رکن  اسمبلی اور سابق بی جے پی ایم ایل اے و مافیا ڈان کرشنا نند رائے کی بیوہ الکا رائے نے منا بجرنگی کے قتل پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے  کہہ دیا کہ  ان کے شوہر کا بدلہ آج جیل میں مافیا ڈان سنیل راٹھی نے لے لیا۔ انھوں نے منا بجرنگی کے قتل کے بعد سکون کے احساس  کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس شخص نے میرے شوہر اور ان کے6 ساتھیوں کو اے کے 47رائفل سے بھون دیا تھا۔ الکا رائے اس وقت ضلع غازی پور کے محمد آباد اسمبلی حلقے سے بی جے پی کی رکن اسمبلی تھیں۔ ڈاکٹرالکا نے یہ  الزام  بھی لگایا تھا  کہ منا بجرنگی نے اپنے سالے کے قتل کا جھوٹا الزام ان کے بیٹے پر لگایا  تھا۔  اس بیان سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں پہلے تو مختار انصاری کے خلاف قتل کا بے بنیاد الزام لگا کر ہمدردی سے ووٹ بٹورنا مبنی بر فریب  تھا ۔ دوسرے یہ کہ  پاک صاف سیاست کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی  خودمجرمانہ  سیاست میں کس قدر ملوث ہے۔

 اس کے بعد ڈاکٹر الکا رائے پر مختار انصاری کو  ایمبولنس فراہم کرنے  کا الزام لگ گیا ۔ اس  کا مطلب یہ ہے کہ جس وقت ان پر مختار انصاری سے تعاون کا الزام لگا اور جیل گئیں تو اس وقت وہ بی جے پی کی رکن اسمبلی تھیں ۔ یہ کیسی منافقت ہے کہ ایک طرف تو  جو بی جے پی والے مختار انصاری سے ڈرا ڈرا کر رائے دہندگان  سے ووٹ مانگ رہے ہیں دوسری جانب خود ان کی رکن اسمبلی موصوف کا تعاون کرنے کے الزام میں جیل کے اندر چکی پیس چکی  تھیں۔ اس سنگین الزام کے باوجود الکا رائے کو پارٹی سے نکالا نہیں گیا بلکہ  انہیں یوگی جی نے     2022 میں پھر سے کمل تھما کر میدان میں اتار دیا ۔  اس بار ان کے روایتی حریف صبغت اللہ نے اپنے بیٹے   صہیب انصاری عرف منو کو انتخاب لڑانے کا فیصلہ کیا اور انہوں نے ڈاکٹر الکا رائے کو شکست فاش سے دوچار کرکے اپنے والد کی شکست کا انتقام لےلیا  ۔

 مئو ضلع میں بی جے پی کے مقامی صدرگپتاجی  اب  کہہ رہے ہیں کہ ہم نے الکا رائے کو پارٹی سے نکال دیا ۔  سوال یہ ہے کہ کب نکالا ؟ اور اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ اگر وہ انتخاب جیت جاتیں تو کیا انہیں نکالا جاتا ؟  کیا بی جے پی میں صرف جیتنے والوں کی اہمیت ہے اور جو گھوڑا بیٹھ جاتا ہے اسے سیاسی گولی ماردی جاتی ہے؟  اس قدر عریاں ابن الوقتی  کا مظاہرہ دنیا کی کسی سیاسی پارٹی نے نہیں کیا ہوگا کہ جس دن  بی جے پی کے کامیاب ارکان اسمبلی حلف لے رہے تھے  اسی روز ناکام ہونے والی  سابق رکن اسمبلی کو گرفتار کرکے  خود انہیں کی سرکار  نےجیل بھیج دیا۔  یہ وہی بی جے پی ہے جس نے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کے بیٹے آشیش رائے کو کسانوں کے قتل عام کے باوجود ضمانت پر رہا کردیا۔ یوگی سرکار کے اس چہرے کو گودی میڈیا کبھی بھی عوام کے سامنے پیش نہیں کرے گا کیونکہ اسی پردہ پوشی کے لیے تو یوگی جی نےسرکاری خزانے میں سے  بجٹ کا ۸؍ فیصد ذرائع ابلاغ پر لٹا دیا ۔ یوگی جی کا ’ہنستا ہوا نوارنی چہرا‘ اسی میڈیا کی لیپا پوتی کے مرہونِ منت ہے۔