نوجوانوں میں ڈِپریشن: ذمّہ دار کون؟ تعلیمی نظام، معاشرہ یا والدین!

Education

راہ نما: مبارک کاپڑی

نوجوانوں میں ڈِپریشن: ذمّہ دار کون؟ تعلیمی نظام، معاشرہ یا والدین!

کووِڈ کا دَور قریب الختم ہے البتّہ طلبہ کی بڑی تعداد ذہنی انتشار کا شکار دکھائی دے رہی ہے، کون ذمہ دار ہے اس کا، آئیے اِس کا جائزہ لیں:

            ہمارے طلبہ جو سراسیمگی، ذہنی انتشار، مایوسی اور ڈپریشن کا شکار ہوتے جارہے ہیں اُس کے لیے واضح طور کئی عناصر ذمہ دار پر نظر آتے ہیں۔ ایسے طلبہ کو مایوسی و پست ہمتی کے اندھیروں سے نکالنے کے لیے معاشرے کی سرد مہری کا جائزہ ہم لے چکے ہیں کہ ہم میں سے اکثر اپنے محلے کے کسی اسکول میں جاکر طلبہ کی تعلیمی و نفسیاتی رہنمائی کرنے کو تیار نہیں ہیں اور جب اُن میں سے ایک آدھ طالب علم مکمل ذہنی تناؤ کا شکار ہوکر اگر کوئی انتہائی قدم اُٹھاتا ہے تب ہمارے یہاں واویلا مچایا جاتا ہے۔ معاشرہ کے اس بدبخت رویّے کے بعد جس کے رویّے سے نقصان پہنچ رہا ہے وہ ہے ’میڈیا‘۔ پہلے صرف پکّی سیاہی والا میڈیا یعنی پرنٹ میڈیا تھا۔ پھر الیکٹرانک میڈیا نے اینٹری لی اور اب آیا سوشل میڈیا، اوردیکھتے ہی دیکھتے اس میڈیا نے ہمارے خاندان کے رُکن کی حیثیت اختیار کرلی۔ اپنے رشہ داروں کی خیر خبر ہم مہینوں نہیں لے پاتے البتّہ سوشل میڈیا پر ہر پانچ منٹ میں اپنی حاضری لگاتے رہتے ہیں۔ اِس میڈیا میں صحافت کی دو لفظی تعریف ہے بریکنگ نیوز کیوں کہ اِسی سے اُس کا ٹی آر پی (ٹیلی ویژن ریٹنگ پوائنٹ) بڑھتا ہے۔ اُسی مطابق اُنھیں اشتہارات ملتے ہیں اور اُن چینلوں کا ’قد‘ بڑھتا ہے۔ اِس ٹی آر پی کی دکانداری میں ساری قدروں کو طاق پر رکھ دیتے ہیں اور ہمارے نوجوانوں کی زندگی سے خود سپردگی کی بدبخت خبروں کو بریکنگ نیوز کی طرح پیش کیا جاتا ہے۔ اُس وقت ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں سوچا جاتا کہ ان انتہائی افسوس ناک واقعات کو بکنے والے پروڈکٹس کی طرح پیش کرکے اُن متاثرہ خاندانوں پر کیا گزرتی ہوگی؟ وہ اس لیے نہیں سوچتے کہ ایک قیمتی جان کا نقصان اُن میڈیا والوں کے لیے اُن کے کرائم شوکا صر ف ایک ایپی سوڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔

            معاشرہ اور میڈیا کے بعد والدین ذمہ دار قرار پاتے ہیں، ان سارے معاملات کے لیے جو ہمارے نوجوان کو مایوسی کے اندھیروں کے نذر کرتے رہتے ہیں۔ دراصل والدین کے یہ رویّے و برتاؤ جگ ظاہر ہیں۔ (۱) اوّل تو یہ کہ اکثر والدین اپنے بچّوں پر اپنے خوابوں کو تھوپنا چاہتے ہیں کہ جو میں نہیں بن سکا، وہ بہر حال اُن کے بچوں کو بن کے دکھانا ہے۔ (۲)بچّہ چاہے کتنے ہی ذہنی تناؤ کا شکار ہوجائے، ذہنی دباؤ میں اُن کا دماغ پھٹنے لگے، وہ شدید قسم کے ڈپریشن کا شکارہوکر اپنے وقتی سکون کے لیے نیند کی گولیوں کا شکار ہوجائے البتّہ والدین کے مطلوبہ ہدف کو تو حاصل کرنا ہی ہے۔ (۳) کچھ والدین اپنے بچّوں کی ساری صلاحیتوں کو نظر انداز کر اُنھیں بس گھر کے چولہے کا ایندھن بنانا چاہتے ہیں، چاہے اُس بناء پر بچّہ گھُٹ گھُٹ کر ختم ہی ہوجائے، اُنھیں پرواہ نہیں۔(۴) کچھ گھروں میں ایسا ماحول قائم رہتا ہے کہ پرائمری اسکول کے بچّوں پر بھی اسکول چھوٹنے کی گھنٹی بجلی بن کر گرتی ہے: ”اوہ…… پھر وہی گھر……پھر وہی امّی ابّو کے جھگڑے…… پھروہی تُو تُو مَیں مَیں …… ہر روز اسکول سے گھر ہی جانا ہوتا ہے۔“ (۵) اپنے بچّوں سے برتی جانے والی جانب داری بھی ایک بڑا سبب ہے جس سے بچّے ڈسٹرب ہوجاتے ہیں۔ والدین اس میں ہمیشہ اپنے ذہین بچّے کی طرف داری کرتے ہیں اور اُس سے کم ذہین و کند ذہن کے حامل بچّے مسلسل ذہنی ٹارچر کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ اس ضمن میں والدین یہ نہیں جانتے یا نظر انداز کرتے ہیں کہ اس دھرتی پر جتنے بچّے ہیں اُ ن میں سے صرف پانچ فیصد انتہائی ذہین یا جینئیس ہوتے ہیں۔ ۰۲/فیصد ذہین اور بقیہ ۵۷/فیصد یعنی ایک بڑی اکثریت، اوسط درجے کے یا کند ذہن بچّوں پر مشتمل ہوتی ہے۔اس لیے ہر بار والدین آسمان کی طرف دیکھ دیکھ کر اوپر والے سے اپنے بچّوں کے تعلق سے جو شکایت کرتے ہیں، وہ مناسب نہیں ہے کیوں کہ سُست فہم یا کند ذہن بچّے صرف اُن کے حصّے میں نہیں آئے ہیں اُن کی تو بڑی اکثریت ہے،لہٰذا والدین اپنے کمزور بچّوں پر محنت کرنے سے جی چُراکر اُن پرجو ظلم اور اُن کے ساتھ جو نا انصافی کرتے ہیں اُس سے وہ اپنے بچّوں کو ذہنی مریض تک بنالیتے ہیں جس کی بناء پر اُن میں سے کچھ اپنی زندگی سے ہی روٹھ جاتے ہیں۔

            زندگی سے منہ موڑنے پر آمادہ کرنے والے عناصر میں ایک بڑا سبب ہے: ہمارا موجودہ تعلیمی نظام۔ (۱)اس تعلیمی نظام کو اب بھی بڑی پیچیدہ پہیلی سمجھا جاتا ہے لہٰذا والدین کے جی یا پہلی جماعت کے طلب علم کے لیے ٹیوشن کو لازمی سمجھتے ہیں۔ کچھ ٹیوٹر اُنھیں یہ یقین بھی دلاتے رہتے ہیں کہ نچلی جماعت ہی سے ٹیوشن ایک لازمی و ملزوم چیز ہے۔ (۲) آج اس ملک میں سب سے زیادہ ذہنی تناؤ پیدا کرنے والے امتحانات میں سے ایک میڈیکل نیٖٹ کا امتحان ہے۔ آج اکثر بچّے اس امتحان کے لیے دو تین بار کوششیں کرتے رہتے ہیں اور ہر بار کی ناکامی پر وہ شدید ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں اور امتحان کے نتیجے آنے پر ہر سال کئی طلبہ اپنی زندگی کے تعلق سے انتہائی قدم بھی اُٹھاتے ہیں۔ اِن حالات کا سب سے بڑا ذمہ دار اِس ملک کا تعلیمی نظام ہے جو انگوٹھے چھاپ،خود غرض و مطلب پرست سیاست دانوں کے پاس گروی پڑا ہے جو طلبہ کے تعلق سے بالکل بے حِس اور لاتعلق کورونا وائرس کے ہولناک دَور میں بھی اُنھیں یہ احساس نہیں ہوا کہ آج اِس ملک میں میڈیسین میں جتنی نشستیں دستیاب ہیں اُن سے دوگنی تعداد ہونے کی ضرورت ہے اسی بناء پر ہر سال ملک بھر میں ہزاروں نقلی اور جھولا چھاپ ڈاکٹر پکڑے جاتے ہیں وہ رشوت دے کر چھوٹ جاتے ہیں اور پھر اپنا علاقہ تبدیل کرکے دوسری جگہ اپنا ’مطب‘ شروع کردیتے ہیں۔ حکومت کو یہ سب منظور ہے مگر میڈیکل کالجوں میں نشستوں کے اضافے کے لیے وہ آمادہ نہیں۔اگر کچھ ریاستوں میں وہ راضی ہوجاتے ہیں تو اپنے منظور نظر کو اُس میڈیکل کالج کا سربراہ بناتے ہیں تاکہ وہ میڈیکل کالج کے گریجویشن کی سیٹ کے لیے ایک آدھ کروڑ اور پوسٹ گریجویشن سیٹ کے لیے چار پانچ کروڑ روپے تک چارج کریں۔ کچھ طلبہ ایسی کوئی سیٹ خرید کر ہی ذہنی تناؤ کا شکار ہوجاتے ہیں، اور جو طلبہ اس طرح لاکھوں /کروڑوں روپے کی ادائیگی سے بھی میڈیسن میں داخلہ نہیں لے پاتے، وہ مزید ذہنی تناؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام اور اُس کے سیاسی سربراہان کی اب بھی آنکھیں کھُلی کہ صرف ایک یوکرین ملک میں ہمارے بیس ہزار سے زائد طلبہ کا میدیکل کا سپنا داؤ پر لگا ہو اہے۔ دوسرے ممالک کے ایسے ہندوستانی طلبہ کی کُل تعداد لاکھوں میں ہوگی۔ کوئی اُن ہزاروں طلبہ کی ذہنی کیفیت کا اندازہ تو لگالے کہ اس ملک کی ناقص داخلہ پالیسی کی بناء پر اُن کا کورس پورا ہونے میں صرف چھ ماہ سے ا یک سال ہی باقی تھا۔(جاری)