آوارہ سانڈ کی  بے قابو سیاست

National

آوارہ سانڈ کی  بے قابو سیاست

ڈاکٹر سلیم خان

وطن عزیز میں انتخابی مہم کے دوران مختلف مسائل کو زور و شور سے اٹھایا جاتا ہے لیکن نتائج کے بعد انہیں آئندہ الیکشن تک  کے لیے ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ ان مسائل میں سے ایک اتر پردیش کے آوارہ مویشیوں کا مدعا بھی ہے۔2024 کے قومی انتخابات پر اب اس پر کوئی کچھ نہیں بولے گا۔   انتخابی مہم کے دوران زمینی سطح پر کام کرنے والے صحافی جب گاوں دیہات میں جاکر عوام سے ان کی مشکلات و مسائل کی بابت دریافت کرتے تھے تو عام لوگ آوارہ مویشیوں کا ذکر ضرور کرتے تھے ۔ سرکار مخالف صحافی اس سے یہ اندازہ لگایا کرتے تھے کہ ممکن ہے اس بار آوارہ جانور ووٹ کی فصل نگل جائیں گے   لیکن ایسا نہیں ہوا ۔  اترپردیش کا ہر کسان  یوں تو اس سے پریشان ہے لیکن  وہ  نہ اس کے لیے حکومت کو  ذمہ دار نہیں  سمجھتا ہے اور اس کو پیدا  کرنے کی سزا اصحاب اقتدار کو دینا چاہتا ہے ؟  اس لیے انتخابی نتائج نے یہ ثابت کردیا کہ رائے دہندگی کے وقت عوام نے اسے اہمیت نہیں دی  بلکہ  حکومت کو گئو ماتا کا رکشک ( محافظ ) مان کر اس کی حمایت کردی۔

عوام کے اس  حیرت انگیز ردعمل پر سماجیات اور نفسیات کے ماہرین کو غورو خوض کرنا چاہیے ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ  جب کسی معاملے کو عقیدت سے جوڑ دیا جائے تو لوگ اس پر معروضی انداز میں نہیں سوچ پاتے۔  اس کی کئی مثالیں ہیں مثلاً  رام مندر کی تعمیر میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہوئی   یہ سب جانتے ہیں ۔  جن لوگوں نے اس معاملہ میں کروڈوں روپئے لوٹے ان کا حکمراں پارٹی سے تعلق بھی  اظہر من الشمس ہے ۔  اس کے باوجود حزب اختلاف اس لوٹ کھسوٹ  کے خلاف  جم کر مہم  نہیں چلا سکا اور نہ اسے انتخابی مدعا بنا نے کی کوشش کی   کیونکہ عام لوگوں کے نزدیک  اس کا مطلب رام مندر کی مخالفت ہو سکتا تھا ۔ اترپردیش کا عام ہندو چاہتا ہے کہ ایودھیا میں رام مندر بنے اور  جانتا ہے کہ  یہ کام  بی جے پی کی مرہونِ منت  ہے۔ وہ اس کے لیے حکومت کا ممنون ہے اور اسی لیے ساری گھپلے بازی کو نظر انداز کرکے اسے ووٹ دیتا ہے ۔

عقیدت کے علاوہ غلامانہ ذہنیت بھی سرکار کا احتساب لے کر اسے سزا دینے میں رکاوٹ بن جاتی ہے ۔ اس کی مثال  گنگا  میں  بہنے والی لاشیں ہیں جن  کو بھول کر ایک عام  ووٹر  اپنے   زندہ رہنے کے لیے ملنے والے اناج کو اہمیت دیتا ہے اور احسانمندی کے تحت ووٹ دے کر اپنا قرض چکا دیتا ہے۔ وہ اس بات کا ادراک نہیں کرپاتا ہے کہ وباء تو سارے ملک میں تھی اور اناج بھی ملک بھر میں تقسیم ہوا لیکن  جس حکومت کی نااہلی کے سبب شمسان کم پڑ گئے ۔ کہیں لاشوں کو دفنانا  اور کہیں گنگا میں بہانا پڑا ، اسے اس لاپروائی  کی سزا ملنی چاہیے ۔ایک عام ووٹر کے نزدیک اس کے اعزہ کی موت سے زیادہ اہم اس کا گزر بسر  ہے۔  آوارہ مویشیوں کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے کہ گائے کی عقیدت میں چاہے کھیتوں کی رات رات بھر کھیتوں کی پہرے داری  کرنی پڑے بلکہ سانڈوں  کے حملوں  میں جان گنوانی پڑے تب بھی  ووٹ تو اسی کو دیں گے جس نے گئو کشی کے قانون کو سخت کرکے ان کی ذبیحہ کی روک تھام کے لیے غیر قانونی مذبح خانے بند کروا دیئے ۔  یوگی نے ہندووں کو تو   آوارہ سانڈوں بھروسے چھوڑ دیا مگر چونکہ گئو کشی کی آڑ میں مسلمانوں پر حملے کرنے والوں سے نرمی کا معاملہ کیا  اس لیے وہ ان کے ووٹ کا مستحق بن گیا۔

پچھلے سال نومبر میں جب  صوبائی انتخابات کی ہوا سازی شروع ہوئی تو ایودھیا میں ۵۵ سالہ رام راج کو اپنے کھیت کی رکھوالی کرتے ہوئے ایک سانڈ نے سینگ پر لے لیا اور اٹھا کر پٹخنے کے بعد آشیش مشرا کی ماند روند ڈالا۔ اس طرح  بے رحمی کےساتھ رام راج کا  قتل ہوگیا۔ یہی جرم کوئی ہندو کرتا تو اسے پھانسی کی سزا ملتی اور مسلمان سے سرزد ہوتا تو وہیں  ہجومی تشدد کا شکار ہوجاتا مگر اس کا ارتکاب کرنے والے  گئوماتا کے شوہر نامدار کو سیاسی  پشت پناہ نے  بچا لیا اور اس کا بال بھی بیکہ نہیں ہوا۔      رام راج کی بہو انیتا کماری کے مطابق سانڈ نے اس بے دردی سے قتل کیا تھا کہ  اس کے خسرکی لاش ناقابلِ دید ہوگئی  تھی ۔  رام راج تو خیر جان بحق ہوگیا مگر آوارہ   سانڈوں اور گایوں کے حملوں زخمی ہونے کے بعد بچ نکلنے والوں کی تعد اد  بھی بے شمار ہے ۔

 ایک اندازے کے مطابق  فی الحال  ملک میں موجود بیس  کروڈجملہ  مویشیوں میں سے پچاس   لاکھ آوارہ  ہیں ۔ ان  لاوارث  مویشیوں کی تعداد ملک بھر میں کم ہورہی ہے مگر اتر پردیش میں اس کے اندر پندرہ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔   اس طرح یہ کہنا پڑے گا کہ ان آوارہ مویشیوں کی تعداد  سنگھ پریوار کے رہنماوں سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ  سانڈ گلی گلی محلہ محلہ گھوم گھوم کر یہ  پرچار کرتے ہیں کہ  دیکھو ہم   زعفرانی سرکار کی بدولت کھلے گھوم رہے  ہیں ۔ اپنی من مانی کررہے ہیں کوئی روک سکے تو روک لے۔اترپردیش میں  جن دانشوروں نے یہ توقع کی تھی کہ کچھ نہیں تو اسی مسئلہ پر عوام یوگی سرکار کو سبق سکھائیں گے ان کے ہاتھ مایوسی آئی   کیونکہ نہ تو بیروزگار  چوٹ دے سکے اور نہ آوارہ مویشی ووٹ چٹ کر سکے۔

  وزیر اعظم نے عوام کا جذباتی استحصال کرتے ہوئے کہہ دیا کہ  گائے کچھ لوگوں کے لیے گناہ ہوسکتی ہے مگر ہمارے لیے ماں اور قابلِ پرستش ہے۔  گائے بھینس کا مذاق اڑانے والے بھول جاتے ہیں کہ ملک کے آٹھ کروڈ لوگوں کی روزی روٹی کا انحصار انہیں مویشیوں پر ہے ۔  وزیر اعظم کو یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ جب گائے اور بھینس دونوں پر معیشت کا دارومدار ہے تو ان میں سے  ایک  بھینس کو ذبح کرکے اس کا گوشت  برآمد کیوں کیا جاتا ہے؟  اور دوسری  گائے کی نسل کو  سڑکوں پر آوازہ گھومنے کے لیے کیوں چھوڑ دیا جاتا ہے؟  مودی  جی نے جب  کہہ دیا وہ گوبر سے معیشت کو مضبوط کریں  گے  تو  جن رائے دہندگان کی کھوپڑی میں گوبر بھرا ہوا تھا ،انہوں نے آنکھ موند کر  اس پر یقین کرلیا اور ان کے جھانسے میں آ کر پھر سے کمل کھلا دیا۔

   اس معاملہ میں کانگریس کی رہنما پرینکا گاندھی نے تو ہمت کرکے کہہ دیا کہ پچھلے ساڑھے چار سال میں بی جے پی  سرکار نے مصیبت بڑھانے سوا کچھ نہیں کیا مگر اکھلیش تو اس کی جرأت نہیں کرسکے۔ انہوں نے کہہ دیا بی جے پی کی پالیسی کے سبب صوبے میں لاکھوں آوارہ مویشیوں نے کسانوں کے خوابوں کو روند دیا  ہے۔  اس کی بنیادی  وجہ بتانے کے بجائے انہوں نے گائے کے حملے  کا شکار ہونے والوں کو پانچ لاکھ معاوضہ دینے کا وعدہ کردیا ۔ رائے دہندگان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا ۔ انہوں نے آوارہ سانڈ کی مانند اکھلیش کو تو صرف  زخمی کیا مگر پرینکا کا سیاسی جنازہ اٹھا دیا ۔ یہ آوارہ مویشیوں کی خونخوار سیاست ہے  ۔

 سلطانپور کے دینا ناتھ یادو کہتے ہیں کہ پہلے صرف نیل گائے سے فصل کا نقصان ہوتا تھا اور اب  وہ مسئلہ تین گنا ہوگیاہے۔  بوڑھے جانوروں کے پالنے کی سکت غریب کسانوں میں نہیں ہے۔  پہلے وہ  انہیں  بیچ دیتے تھے اب  کباڑ کی مانند چھوڑ دیتے ہیں ۔ سرکار مویشی بیچنے نہیں دیتی اور گاڑی پر کہیں دور  چھوڑنے کے لیے جاو تو پولس پکڑکر تھانے میں بند کردیتی ہے۔ اس کے بعد ز چھوٹنے کے لیے پیسے دینے پڑتے ہیں۔ اس کی وجہ  لکھیم پور اشوک یہ  بتاتے ہیں کہ  پولس  کہتی  ہے’ انسان چاہے مرجائے لیکن گائے نہ مرے ‘۔ لکھیم پور میں جسونت سنگھ اور ہری اوم کشیپ جیسے نہ جانے کتنے لوگوں نے  سانڈوں کے غم و غصے کا شکار ہوکر اپنی جان گنوائی ہے۔

عام  لوگوں  میں اب ان آوارہ جانوروں کے تئیں غصہ  اتنا بڑھ گیا ہے کہ انہوں نے ان آوارہ مویشیوں کو مشہور سیاسی رہنماوں کے نام سے یاد کرنا شروع کردیا ہے ۔  اس علاقہ میں  عوام کے صبر و تحمل کا پیمانہ اب لبریز ہوچکا  ہےاور انہوں نے پولس کی سزا سے بچنے کے لیے سانڈوں سے نجات کی خاطر ایک نہایت سفاکانہ طریقہ ایجاد کرلیا ہے جس کے تصور سے روح کانپ جاتی ہے۔  یہ لوگ سانڈ کے گلے میں لوہے کے تار کی زنجیر اور لکڑی  کےٹکڑے کااستعمال کرتے ہیں۔ اس کا دیسی نام ڈینگور ہے ۔  کسان سانڈ کو گھیر کر کٹیلے تاروں والا ڈینگور اس کے گلے میں ڈال دیتے ہیں۔ اس سے لکڑی کا ایک ٹکڑا لٹکا رہتا ہے جو چلتے وقت اس کے پیروں میں آتا ہے۔

   سانڈ جیسے جیسے چلتا ہے دھیرے دھیرے اس کی گردن کٹنے لگتی  ہے۔ اس طرح ایک وقت آنے پروہ  خون سے لت پت زمین پر گر کر تڑپ تڑپ کے  مر جاتا ہے۔ سانڈوں کے ساتھ بچھڑوں کے ساتھ بھی یہ سفاکانہ سلوک جانوروں کے حقوق کی خاطر اپنی جان ہلکان کرنے والی رکن پارلیمان   مینکا گاندھی کے حلقہ ٔ انتخاب میں ہورہا ۔وہ تو ایک زمانے میں  مکھی کے مرنے پر بھی آسمان سر پر اٹھا لیا کرتی تھیں لیکن اب گئو ونش کی اس درگت پر خاموشی سادھے ہوئے ہیں۔  گائے کی نسل  کے اس دردناک  انجام کے لیے پوری طرح یوگی سرکار ذمہ دار ہے۔ اس نے ذبیحہ پر پابندی  لگا نے کے ساتھ  کسانوں کو آوارہ مویشیوں  سے حفاظت کی خاطر کھیت کے اطراف لوہے کے تار لگانے سے روک دیااور  وجہ یہ بتائی کہ اس سے جانور زخمی ہوجاتے ہیں ۔ اب کسانوں کے پاس اس مسئلہ کا کوئی حل ہی نہیں بچا اور انہیں اس سفاکی پر مجبور ہونا پڑا۔ اس  طرح مویشیوں کے  ذبح کرنے سے ان کے ساتھ کیے جانے والے رحمدلانہ سلوک کی اہمیت بھی سب کے سمجھ میں آگئی۔

 انسان جب فطرت سے بغاوت کرتا ہے تو اپنے آپ کو اس طرح کے مسائل میں گرفتار کرلیتا ہے۔ ریاستی  حکومت نے پچھلے سال اس کام کے لیے248 کروڈ خرچ کیے لیکن مسئلہ حل ہونے کے بجائے بگڑ گیا۔ گاوں کے ایک کسان سنیل کمار نے اس پر یوں روشنی ڈالی  کہ  بھینس دودھ نہ دے تو وہ بک جاتی ہے ۔ ان کے بچے بھی جاتے ہیں ۔ قصائی انہیں خرید لیتے ہیں لیکن گائے کوئی  نہیں خرید تا ۔ اس وجہ سے ان کی ناقدری ہورہی ہے۔ اس جواب سے ظاہر ہے کہ موجودہ حکومت نے گائے کے نام اپنی سیاست تو چمکائی مگر بالآخر ماں ماں کہہ کر اس کو بھینس سے بھی  کم اہم بنادیا  لیکن پھر وہی عقیدت کی عینک ہے کہ جس سے حقائق عام لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل ہوجاتے ہیں اور وہ  اندھے ہوکر شر کو اپنے لیے خیر سمجھنے لگتے ہیں ۔

اس کام کو کیسے کیا جاتا ہے اس کو سمجھنے کے لیے گرو گوبند سنگھ اندر پرستھ یونیورسٹی میں قانون کے امتحان طلباء سے پوچھے جانے والا ایک سوال ملاحظہ فرمائیں ۔ ان سے پوچھا گیا ،‘‘احمد نامی ایک مسلمان نے بازار میں روہت، تشار، مانو اور راہل  کے سامنے جو ہندو ہیں  ، کے سامنے ایک گائے کو ماردے تو وہ جرم ہے یا نہیں؟  اس خبر کو بعد میں ہٹا دیا مگر اس کا کیا جانا بتاتا ہے کس طرح طلباء کے ذہن کو مکدرّ کیا جارہا ہے حالانکہ  نہ تو سانڈوں کے گلے میں ڈینگور ڈالنے والے مسلمان ہیں اور نہ گئو شالہ میں ان کے نام سے سرکاری مدد سے اپنی تجوری  بھر کر انہیں بھوکے مارنے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق ہے۔