عالمی یوم مسرت  یا یوم ِ ندامت

National

عالمی یوم مسرت  یا یوم ِ ندامت

ڈاکٹر سلیم خان

عالمِ انسانیت  پھر ایک بار جنگ عظیم کے دہانے پر کھڑی ہے۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ اس تیسری جنگ عظیم کے بھی اہم ترین  فریقوں میں کوئی مسلم ملک نہیں ہے یعنی کہنے کو سب سے خونخوار قوم  مسلمان ہے مگر یوکرین اور روس کے تنازع نے پھر ایک بار  ثابت کردیا کہ عالمی امن کو اصل خطرہ مسلمانوں سے نہیں بلکہ یوروپی عیسائیوں سے ہے۔ اسی  خونی چہرے کو چھپانے کے لیے دنیا بھر میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف  ایک  بہتان تراشی کی مہم  چھڑی رہتی  ہے۔  مسلم ممالک میں خون ناحق بہانےکو دہشت گردی کی بیخ کنی  کےغلاف  میں لپیٹ کر خوشنما بنایا جاتا  تھا لیکن اب نہ روس  پر دہشت گردی کا الزام لگایا جاتا ہے اور نہ یوکرین پر کیونکہ انگریز وں کے اپنے ہی دانت اور اپنے ہی ہونٹ ہیں اس لیے کس کو موردِ الزام ٹھہرائیں ان کی  سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔  روس کے بجائے ترکی نے اگر فوج کشی کی ہوتی تو ابھی تک امریکہ سمیت ناٹو ممالک ہلہّ بول چکے ہوتے۔

اس عالمی تنازع  کو حل کرنے میں اقوام متحدہ  ہمیشہ کی طرح پھر ایک بار ناکام ہوگئی ہے حالانکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد اسی مقصد کے لیے   اس کا قیام عمل میں آیا  تھا۔ جس  تیسری جنگ عظیم  کو روکنے کے لیے یو این بنائی گئی تھی  دنیا آہستہ آہستہ اس کی جانب رواں دواں ہے۔جنگ و جدال سے نبردآزما اقوام  متحدہ میں  ہندوستان کے  ننھے  ہم سایہ   ملک بھوٹان  کو   2011  میں نہ جانے کیا سوجھی کہ اس نے   ’عالمی یوم مسرت ‘ منانے کی تجویز رکھ دی اور حیرت انگیز طور پر اسے منظوری بھی مل گئی ۔ اس طرح  ہر سال 20 مارچ کو عالمی یومِ   مسرت  منانے کا سلسلہ چل پڑا ۔ اقوام متحدہ  کے  اندر اسلاموفوبیا کے دن کی منظوری سے رسوائی ابھی تازہ ہی تھی  کہ  یو این نے سالانہ ’’ہیپی نیس انڈیکس‘‘  (خوشی کی شرح) کا جائزہ پیش کرکےہندوستان کے زخموں پر نمک پاشی کردی ۔

 اس رپورٹ میں پھر سے  فن لینڈکو مسلسل پانچویں سال دنیا کا سب سے خوش  باش ملک قرار دیا گیا ۔ یہ فہرست یوکرین پر روسی حملے سے پہلے مکمل کی گئی تھی ورنہ آخری درجہ پرافغانستان کی جگہ یوکرین  دنیا کا سب سے زیادہ ناخوش ملک ہوتا حالانکہ   اس کے پڑوسی بلغاریہ، رومانیہ اور سربیا کی رینکنگ میں نمایاں بہتری آئی ہے۔  امریکہ اگر اس سال افغانستان کی غصب شدہ رقم واپس کردیتا تو وہ انسانی بحران پر قابو پاکر اپنی  حالت بہتر بنا سکتا تھا لیکن فرنگی سفید پوش حکمرانوں کے پاس کہنے تو بہت ہوتا ہے لیکن وہ کرتے بہت کم ہیں۔  اس فہرست میں ہندوستان  139ویں نمبر سے ترقی کرکے136  پرآگیا یعنی تین درجات کی ترقی جبکہ ملیشیا نے گیارہ مقامات کی چھلانگ  لگائی 70پر آگیا ۔ہندوستانی حکمرانوں  کو اس سے کوئی پریشانی نہیں ہے مگر انڈیکس میں پاکستان کی پوزیشن میں زبردست بدتری کے باوجود وہ نا  خوشی  میں ہندوستان کی برابری نہیں کرسکا اور 112نمبر پر آکر اٹک گیا یعنی اب بھی ہندوستان 15 درجہ بہتر ہے ۔  ہم سایہ ممالک میں ہندوستان سے قریب ترین سری لنکا   127پر ہے۔ اس کے علاوہ بنگلا دیش (94)اور نیپال کی حالت بھی (84) پر ہم سے بہتر ہے۔

اس بار امریکہ نے بھی  تین درجے بہتری  کرکے برطانیہ کو ایک درجہ پیچھے چھوڑتے ہوئے 16 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ فرانس ان دونوں سے پیچھے  20ویں مقام  پرہے۔ویٹو پاور کے مالک ان بڑے بڑے ممالک کے مقابلے فن لینڈ ، ڈنمارک ، سوئٹزرلینڈ ، آئس لینڈ ، ناروے ، ہالینڈ ، سویڈن ، نیوزی لینڈ ، آسٹریا اور لگزمبرگ  جیسے ننھے منے ممالک کے سر فہرست رہنے کی وجہ یہ ہے کہ عوام کی خوشی کا تعلق نہ تو قومی آمدنی سے اور نہ اسلحہ و فوجی طاقت سے ہے۔ان  ممالک میں  چونکہ فی کس آمدنی  زیادہ ہے اس لیے  مادی خوشحالی  اور معاشی تحفظ  کی صورتحال بہتر ہے  اس لیے وہاں کے  باشندے خوش باش ہیں۔ اس کی ایک اور وجہ بدعنوانی سے پاک معاشرہ اور حکومت کی جانب سے بہترین معاشرتی تحفظ کی فراہمی  ہے۔

 دنیا کی سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا ملک  چین 94 ویں نمبر پر اس لیے  ہے کیونکہ  وہاں  عام لوگوں کی فلاح و بہبود کے بجائے قومی معیشت میں اضافہ کو ترجیح  دی جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ طویل عرصے تک جی ڈی پی کے لحاظ سے دنیا میں پہلے نمبر پر رہنے کے باوجود بھی چین میں خوش باش لوگوں کی تعداد نسبتاً کم ہے ۔ یہی حال  امریکہ کا ہے کہ وہ سب زیادہ  ترقی یافتہ ملک ہونے کے باوجود اس معاملے میں بہت  نیچے  ہے اور ہندوستان آخری گیارہ ممالک میں سے ایک ہے۔  ظاہر ہے جب  جی ڈی پی کے ساتھ  سماجی معاونت، انفرادی  آزادی اور بدعنوانی کی سطح کو درجہ بندی میں شمار  کیا جائے تو وطن عزیز کی وہی حالت  ہوگی کہ جو ہے۔ اس فہرست کو مرتب کرتے وقت  عوام کی آمدنی، اخراجات، سماجی آزادی، صحت، تعلیم، مشکل وقت میں دوسروں سے مدد ملنے کے امکانات نیز خود اعتمادی  جیسی کسوٹی پر عوام کو پرکھا گیا۔   اس لیےرپورٹ کے شریک مصنف جیفری ساچ نے لکھا کہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے سماجی معاونت، باہمی فراخدلی اورسرکاری  ایمانداری  بہت ضروری ہے لہٰذا عالمی رہنماؤں کو اس پر توجہ دینی چاہیے۔

جیفری ساچ  کے مشورے پر ممکن ہے دنیا کے دیگر رہنما توجہ دیں لیکن مودی جی تو ایسا کرنے سے رہے ۔ اس لیے  کہ بھکمری کی فہرست میں ہندوستان  101ویں مقام پر ہے ۔ آذادی کی بات کریں تو 119 واں مقام ، خوش باش  لوگوں میں  136واں اور صحافتی آزادی میں تو  ہمارا ملک  بدترین  142 ویں درجہ پر ہے ۔ اس کے باوجود بی جے پی نے چار ریاستوں میں اپنی حکومت بناڈالی ۔ کرناٹک میں حجاب کے ذریعہ یہ کوشش کی جائے گی ۔ گجرات میں انتخاب جیتنے کے لیے نصاب تعلیم میں مہابھارت کا شوشہ چھوڑا گیا ہے اور جموں کشمیر کی کامیابی کو یقینی بنانے کی خاطر کشمیر فائلس  کافی ہے۔ اس طرح کے کھیل تماشوں سے اگر  عوام کو بہلایا پھسلایا جاسکتا ہے تو ان  کی فلاح وبہبود کے لیے مشقت اٹھانے کی ضرورت ہی کیا ۔افسوس کہ یہ رپورٹ  بڑے برے وقت میں آگئی ۔ یعنی  اس سے پہلے کے ان  چار میں سے ایک بھی صوبے میں وزیر اعلیٰ کی حلف برداری ہوتی رنگ میں بھنگ پڑگیا ۔

بی جے پی کے ساتھ ایسا دوسری بار ہوا۔  2019 میں جب رافیل بدعنوانی کے منظر عام پر آتے ہی مودی سرکار کے خلاف ہوا بن گئی تھی اور ایسا لگنے لگا تھا بوفورس کا سا ماحول بن جائے گا جس نے راجیو گاندھی کو اقتدار سے محروم کردیا تھا ۔ ایسے میں پلوامہ کا سانحہ ہو ایا کروایا گیا ۔ اس نے مرکزی حکومت کی شبیہ مزید بگاڑ دی ۔ یعنی پہلے تو چوکیدار چور ہے کے نعرے لگ رہے تھے اب اس پر  بزدل ہونے کا  بھی الزام لگنے لگا۔  ایسے میں مودی جی سرجیکل اسٹرائیک کا شوشہ چھوڑ کر ماحول بدلنے کی کامیاب کوشش کی لیکن اسی کے ساتھ  عالمی یوم مسرت کی  رپورٹ آگئی۔ اس وقت بھی ہندوستان 133 سے کھسک کر 140 پر پہنچ گیا  تھا ۔ سارے پڑوسی ہندوستان سے بہتر  حالت میں تھے  لیکن عوام ہر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا ۔ انہوں نے اپنی ناخوشی  کے باوجود مودی  سرکار کو خوش کرنے کی خاطر  پہلے سے زیادہ نشستوں سے  نواز دیا ۔ ہندوستانی عوام کا مسئلہ یہ ہے کہ  وہ بڑی آسانی سے جھوٹے وعدوں کے پھیرے میں پڑ  جاتے ہیں ۔ اہنے غموں کو بھلا کر   حکمرانوں کی خوشی کے لیے جان لڑا دیتے ہیں ۔ ان کے نزدیک اپنے بیروزگاربچوں  کے مقابلے سیاستدانوں  عیش و عشرت زیادہ اہم ہے۔   یہی وجہ ہے کہ  موجودہ حکمراں عوام  کی خوشی اور غم سے بے نیاز ہوچکے ہیں۔ ان کی سار ی توجہ اپنی ذات  اور خاندان کے مفاد  تک محدود  ہوکر رہ گئی ہے ۔

 اس صورتحال کو بدلنے کی خاطر عوام کو اپنی ترجیحات تبدیل کرنی ہوں گی۔ ایسے حکمرانوں کو باہر کا راستہ دکھانا ہوگا جو اپنے فرضِ منصبی یعنی عوامی فلاح و بہبود کی ادائیگی میں ناکام ہوجائیں ۔ ایسا اگر نہیں ہوا تو  جمہوری انتخابات  کے طفیل شکست کے باوجود پشکر سنگھ دھامی وزیر اعلیٰ بن جائیں گے اور کیشو پرشاد موریہ کو نائب وزارت اعلیٰ کی کرسی سے نواز دیا جائے گا۔ اس طرح  ان  غم زدہ رائے دہندگان کے زخموں پر نمک چھڑک کرکے کہ  جنھوں اپنے امیدوار کو مسترد کردیا اقتدار پر فائز کیا جاتا رہے گا  اور  مسرت کا دن آنسو بہاتا رہے گا  ۔ماضی میں جو تماشا ہوتا رہا ہے اسے دوہرایا جاتا رہے گا ۔ حکمراں  کو خوش کرنے اورعوام  کو ناراض کرنے کے لیے انتخابی تماشا   ہوتارہےگا ۔ویسے یہ تلخ حقیقت ہے کہ  وزیر اعظم کا  اچھے دن والا خواب اگر  شرمندۂ تعبیر ہوجاتا  تومسرت کی اس فہرست میں ہندوستان کی یہ درگت نہ ہوتی۔عوام اور سرکار کی خوشی کے درمیان دن بہ دن بڑھنے والی  کھائی  کو کم کرنے کے حوالے سے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے؎

مسرت اور غم کی دونوں کی کوئی حد ضروری ہے                 کسی بھی ایک شئے کا سلسلہ اچھا نہیں ہوتا