مرکزِ تبلیغ کی    ابتلاء و آزمائش :  یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم

National

مرکزِ تبلیغ کی    ابتلاء و آزمائش :  یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم          

ڈاکٹر سلیم خان

تبلیغی جماعت کے مرکز پر   لگی ساری پابندیاں ختم ہو گئیں۔ اس موقع پر پیچھے مڑ کردو سال میں گزرنے والے  واقعات پر ایک نظر ڈال لینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ جماعت پر آزمائش کی ابتداء وزیر اعظم کے ذریعہ 25   ؍ مارچ  2020 کے احمقانہ لاک ڈاون سے ہوئی  جس میں انہوں نے  بغیر سوچے سمجھے اچانک پورے ملک کو منجمد کردیا۔ نقل و حرکت کے تمام ذرائع پر روک لگا دی اور سب کو اپنے گھروں میں بند رہنے کا ناعاقبت اندیش فرمان جاری کردیا ۔  پہلے دوچار دن تو مزدور پیشہ افراد کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا مگر انہیں بہت جلد احساس  ہوگیا کہ اس طرح تو ہم بھوکے مرجائیں گے کیونکہ وہ بیچارے تو ہر روز کنواں کھود کر پانی پینے والوں میں سے تھے ۔ سرکاری حکمنامہ سے یکلخت سارے کنوئیں خشک ہوچکے تھے ۔ ’مرتا کیا نہ کرتا‘ کی مصداق  28-29سے لاکھوں مزدور گاہے بہ گاہے   اہل و عیال کے ساتھ سرکاری احکامات کو قدموں تلے روندتے ہوئے  بڑے شہروں سے اپنے گاوں کی جانب پیدل  نکل کھڑے  ہوئے اور ایسا محسوس ہونے لگا گویا سارا ملک چل پڑا ہے۔ بے کس   بچوں،کمزور بزرگوں اوربے سہارا خواتین اور بے سروسامان نوجوانوں  کی اتنی بڑی تعداد انسانی تاریخ میں شاید ہی کبھی  سڑکوں پر اتری ہوگی ۔

 

 عام لوگوں کی جانب سے  حکومت وقت  کے تئیں یہ  سب سے واضح عدم اعتماد کا اظہار تھا اور کھلی نافرمانی تھی۔ اس عظیم سانحہ  سے ساری دنیا میں ہندوستان کی زبردست بدنامی ہونے لگی  تھی ۔ اس کی جانب سے توجہ ہٹانے کی خاطر 30؍ مارچ کو  بنگلہ والی مسجد میں24؍ افراد کی کورونا  جانچ کے مثبت آنے کو’ کورونا جہاد‘   کا نام دے کر سرکاری ناکامی کی میڈیا کے ذریعہ   پردہ پوشی شروع کی گئی۔ حکومت کی  نااہلی  سےتوجہ ہٹانے کے  لیے تبلیغی جماعت اور اس کی آڑ میں تمام مسلمانانِ ہند کو بلی کا بکرا بنایا گیا ۔  مرکز کے ذمہ داران پر  فوجداری کارروائی کے علاوہ  جماعت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔  ملک بھر میں جب یہ دشنام طرازی شروع ہوئی تو  تبلیغی جماعت کے نگراں مولانا یوسف نے دو صفحات پر مشتمل ایک مکتوب جاری کیا جو 29؍ مارچ کو دہلی پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر اتل کمار کو لکھا گیا تھا ۔ وہ خط تبلیغی جماعت کو بے قصور ثابت کرنے کے لیے کافی تھا مگر اس کو نظر انداز کردیا گیا کیونکہ اس بہتان طرازی کا مقصد تو کچھ اور ہی تھا اور اس کے حصول  یعنی مزدوروں کے مرتے پڑتے اپنے گھروں کو پہنچنے تک کورونا جہاد کا راگ الاپنا ضروری تھا۔  

 

آگے بڑھنے سے قبل مولانا یوسف کے اس خط پر ایک نگاہ ڈال لینا ضروری ہے جو انہوں نے  22؍ مارچ کے جنتا کرفیو اور  پھر  مکمل لاک ڈاؤن کے اعلان کی وجہ سے جماعت کے افراد کے پھنس جانے کا حوالہ دے کر لکھا تھا ۔اس  میں درج تھا کہ  " تبلیغی جماعت کے مرکز بنگلہ والی مسجد میں سال بھر بھیڑ ہوتی ہے ۔  ملک و بیرون ملک سے جماعت کے احباب تشریف لاتے ہیں۔ کورونا وائرس کے مد نظر ابتدائی احکامات  کے آتے  ہی مرکز کو بند کردیا گیا اور کوئی نئی جماعت نہیں آئی۔ لاک ڈاؤن کے بعد کوئی بھی شخص مرکز میں نہیں آیا، تاہم جو لوگ پہلے سے وہاں موجود تھے، ان میں سے کچھ چلے گئےمگر باقیماندہ افراد کو  مجبوری کے سبب  وہیں رکنا پڑا۔مولانا یوسف نے مزید بتایا تھا کہ 21؍ دن کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے انخلا کے عمل کو روکنا پڑا، کیوں کہ وزیر اعظم نےلوگوں کو اپنے گھروں میں رہنے یا جہاں موجود ہیں، وہیں رکنے کی ہدایت کی  تھی۔

 

مذکورہ وضاحت   29؍ مارچ 2020کو ایک نوٹس کے جواب میں کی گئی  تھی۔ اس خط میں مولانا یوسف نے کمشنر کو بتایا تھا  کہ وزیر اعظم کی تاکید پر کہ  " جو جہاں ہیں، وہیں رہیں " عمل کرتے ہوئے متعدد ہندوستانی اور غیر ملکی رضا کار مرکز میں محصور ہیں۔وہاں خود امیر جماعت مولانا سعد کے اہل خانہ کی رہائش بھی ہے۔ مولانا یوسف نے بتایا تھا  کہ 24 تاریخ کو مقامی تھانہ سے نوٹس موصول ہوا۔ 25 تاریخ کو تحصیل دار نے طبی عملہ کے ساتھ دورہ کیا اور وہاں موجود افراد کی فہرست تیار کی۔ اس کے بعد مرکز نے ایس ڈی ایم سے انخلاء کے عمل کے لیے اجازت طلب کی  اور گاڑیوں کی جانکاری دی گئی۔ 26 تاریخ کو ایس ڈی ایم نے مرکز کا دورہ کیا۔ اس کے بعد ڈی ایم سے ملاقات  ہوئی، جہاں انخلاء کی درخواست پھر سے جمع کی گئی لیکن اسے  منظوری  نہیں ملی۔  27؍ تاریخ کے دن  6؍ افراد کو طبی جانچ کے لئے لے جایا گیا، جو ہریانہ (جھجر) میں قرنطینہ کے اندر ہیں۔ 28 تاریخ کو ایس ڈی ایم اور ڈبلیو ایچ او کی ٹیم نے دورہ کیا اور 33 افراد کو طبی جانچ کے لئے لے جایا گیا، جو اسپتال میں ہیں۔ اس تفصیل سے ظاہر ہے کہ یہ کوئی کورونا بم نہیں تھا جو اچانک پھٹ پڑا ہو بلکہ انتظامیہ  اس  صورتحال سے پوری طرح واقف تھا اورا نخلاء کی  اجازت نہیں دینے کی وجہ سے  خود  اس  کے لیے  ذمہ دار  تھا ۔

اس کے باوجود انتظامیہ پر بروقت فیصلہ     کرنے میں کوتاہی پر کارروائی   کے بجائے 31؍ مارچ کو الٹاحضرت نظام الدین مرکز معاملے میں دہلی پولیس نے مولانا سعد اور دیگرافراد  کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی  ۔ اس کے بعد دہلی پولیس کی کرائم برانچ کو جانچ کا کام سونپ دیا گیا۔ اس گناہِ بے لذت ّ میں  دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال اور ان  کے وزیر صحت ستیندر جین نے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل کو خط لکھ کر نہایت گھناونا کردار ادا کیا  تھا۔ اس  خط میں نہایت بے حیائی کے ساتھ  مرکز کی انتظامیہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی سفارش کی گئی تھی۔ مرکز کی  بدنامی سے دہلی سرکار کی ناکامی بھی چھپ رہی تھی اس لیے اس نے بھی بہتی گنگا میں ڈبکی لگا لی  حالانکہ جماعت  کے وکیل فیصل ایوبی نے ایس ڈی ایم کو کرفیو پاس کےلئے لکھا جانے والا خط ذرائع ابلاغ میں پیش کردیا  تھا۔ اس مکتوب میں  17 گاڑیوں کےلئے پاس کا مطالبہ کیا گیا تھاتاکہ  دور دراز کے لوگوں  کو ان کے گھروں تک پہنچایا  جا سکے لیکن کوئی اس پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں تھا ۔ اس وقت  اروند کیجریوال نے نہایت احمقانہ بیان میں کہا  تھا کہ لاک ڈوان کے دوران  نظام الدین علاقے میں ایک ہزار سے 1500 لوگوں کو جمع کرنا سنگین معاملہ ہےحالانکہ وہ جمع ہونے کا نہیں  بلکہ مجبوراً واپس نہیں جاسکنے کا معاملہ تھا۔

 

یہ بڑی  آزمائش کا زمانہ تھا ۔ اس وقت گودی  میڈیا میں  مولانا سعدکو ایک خطرناک دہشت گرد کے  طور پر پیش کیا جارہا تھا اور ان کی گرفتاری کے لیے دباو بنایا جارہا تھا لیکن بفضل تعالیٰ  حکومت اس کی جرأت نہیں کرسکی۔  خدا نخواستہ اگر ایسا ہوجاتا تو امت کی بڑی حوصلہ شکنی ہوتی۔اس وقت  جماعت کے لوگوں  کو اسپتالوں میں بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی  رہی۔ ان پر اوٹ پٹانگ الزامات لگائے جارہے تھے اور میڈیا ان افواہوں کو خوب اچھال رہا تھا۔  ماحول اس قدر بگاڑ دیا گیا تھا  مسلمانوں کو کورونا بم کہہ کر پکارا جانے لگا تھا ۔ تبلیغی جماعت کے سلسلے میں اپنائے جانے والے انتظامیہ کے مبینہ متعصبانہ رویہ اور میڈیا کے زہریلا پروپیگنڈےکےخلاف  جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی  کیونکہ میڈیا  نےاپنے سیاسی آقاوں کی خوشنودی کے لیے ملک میں یکجہتی، سماجی آہنگی، بھائی چارہ، مذہبی رواداری اور ہندو مسلم اتحادکوفروغ دینے کے بجائے منافرت پھیلانے کی خاطر ہر واقعہ کو مذہبی رنگ دےکر مسلمانوں کو بدنام کرنے کی دانستہ کوشش کر رہ تھا ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلم پھیری والوں کو دیگر علاقوں  میں گھسنے سے روکنے کے واقعات بھی سامنے آنے لگے تھے ۔میڈیا کے دوہرے رویہ پر حکومت خاموش تائید پر چیف جسٹس کو کہنا پڑا  تھاکہ’’ یہ ہمارا تجربہ ہے کہ جب تک ہم حکومت کو حکم نہیں دیتے حکومت کچھ نہیں کرتی‘‘۔ کیونکہ  انڈیا ٹی وی،زی نیوز، نیشن نیوز،ری پبلک بھارت،ری پبلک ٹی وی،سدرشن نیوز وغیرہ نے صحافتی اصولوں کو تار تار کرتے ہوئے مسلمانوں کی دل آزاری اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی ناپاک سازش کی تھی۔

 

ایسے نازک وقت میں  ملک کے طول و عرض کے اندر تبلیغی جماعت کے کارکنان نے کمال  صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ۔ مساجد میں جب محدود لوگوں کو نماز کی اجازت ملی تو انہیں آباد کرنے والوں میں وہی پیش پیش تھے۔  اپریل کے اواخر میں  تبلیغی جماعت کے کورونا سے متاثر  لوگ صحت یاب ہونے لگے  اور اسی دور میں  پلازما عطیہ کرنے کا مطالبہ سامنے آیا ۔ ایسے میں کسی غم و غصہ  کا شکار یا انتقام کے جذبہ سے مغلوب ہوئے کارکنانِ تبلیغ   نے آگے بڑھ کر انسانی فلاح و بہبود کی خاطر اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا اور  یہاں سے منظر بدلنا شروع ہوگیا۔ ویلن  کے طور پر پیش کرنے والا میڈیا اب ان کی تعریف و توصیف کے لیے مجبور ہوگیا تھا۔اس وقت معروف صحافی راج دیپ سردیسائی نے دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال سےسوال کیا تھا کہ ’’اب جبکہ تبلیغی جماعت کے متعدد اراکین پلازمہ عطیہ کرنے کیلئے آگے آرہے ہیں تو کیا میڈیا میں ان کے تعلق سے جو تاثر قائم کیاگیا ہے وہ تبدیل کیا جائےگا؟‘‘ کانگریس کے رہنما سلمان نظامی نے لکھاتھا کہ ’’ایسے وقت میں جبکہ اسپتالوں کو پلازما عطیہ کرنے والوں کو تلاش کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے،  تبلیغی جماعت کے اراکین اپنے خون کا پلازما عطیہ  کررہے ہیں۔ یہ تبلیغی  جماعت کے وہی لوگ ہیں  جن پر اوٹ پٹانگ الزامات عائد کئے گئے تھے۔‘‘  یہ واقعات علامہ اقبال کے اس شعر کے ترجمان ہیں ؎

 

یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم

       جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

(۰۰۰۰۰۰۰۰جاری)