کامیاب ٹائم مینجمنٹ کے لئے ہمیں اپنی ہر چھوٹی بڑی کمزوری کا جائزہ لینا ہے۔

Education

راہ نما: مبارک کاپڑی

نوجوانو!کووِڈ کے بعد اب آئیے زندگی کی تعمیر ِ نو میں جُٹ جائیں!(چوتھی اور آخری قسط)

کامیاب ٹائم مینجمنٹ کے لئے ہمیں اپنی ہر چھوٹی بڑی کمزوری کا جائزہ لینا ہے۔

ٹائم مینجمنٹ میں بہتری اور خوش اسلوبی پیدا کرنے کے لئے ہمیں اپنی غلطیوں پر مسلسل توجہ دینا ہے

۱۵۔   یادیں:

            یہ خیال اکثر انسانوں کی فطرت سے وابستہ رہتا ہے کہ اُن کا ماضی کتنا شاندار تھا۔ وہ اکثر اپنی ماضی کی یادوں کو اپنے سینے سے لگائے رہتے ہیں اور اس عمل میں سب سے یقینی شہ یعنی ’حال‘ کو بڑی بے رحمی سے ضائع کرتے ہیں۔ آہیں بھرتے رہنے کا مشغلہ صرف عمر رسیدہ افراد کا نہیں کہ وہ اپنی جوانی کو یاد کر رہے ہیں، بلکہ یہ بھی دکھائی دیتا ہے کہ کالج میں پڑھنے والے طلبہ اپنے اسکول کے’سنہرے دَور‘ کو یاد کرکے کالج کی پڑھائی اور اپنے کرئیر کو ضائع کرتے رہتے ہیں کہ اسکول کی زندگی میں استاد کاسوال پورا ہونے سے پہلے جواب دینے کے لیے ہم ہاتھ اُٹھاتے تھے۔ اب وہ دن کہاں؟ اور اسکول تو ہمارا تھا، یہ کالج ہمارا نہیں ہے۔ اس طرح کی یادوں میں وہ کالج کا قیمتی وقت گنواتے رہتے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ انسان اپنے ماضی کو بھول جائے بلکہ صرف یہ کہنا چاہیں گے کہ اس سے سبق لینے کی حد تک یاد رکھیں اور آہیں بھر کر اپنی بچی ہوئی زندگی کو ایک ’داستانِ غم‘ نہ بنائیں کیوں کہ ایک بات تو یقینی ہے کہ یادوں میں زندگی کی رفتار تھم سی جاتی ہے۔

۱۶۔  ٹائم مینجمنٹ کا گورکن:

            صرف ’ہیلو‘ کرنے کی غرض سے ایجا دکیا گیا آلہ آگے چل کر بے حد ’اسمارٹ‘ بن گیا۔ اس آلے سے ایک بڑا ناقابل تصور کرشمہ بھی ہوگیا کہ اس آلے نے ہزاروں کتابیں نہیں بلکہ لائبریریاں محفوظ کرلیں اور سمندر سے زیادہ وسعت کا حاصل یہ میڈیا اب ہر ایک کی زندگی سے لازم و ملزوم ہوگیا۔ کووِڈ ۹۱/اور لاک ڈاؤن میں یہ تعلیمی نظام کا بھی لازمی جُز بن گیا اس لیے مجبوراً بچّوں اور نوجوانوں کو اُس کے حوالے کرنا پڑا، اور اب اُس کا نتیجہ یہ ہے کہ:

(۱)ہر ایک کے ٹائم مینجمنٹ کا گورکن بن گیا ہے یہ میڈیا۔

(۲) ہر دس منٹ کے بعد شعوری یا لاشعوری طور پر طلبہ کے ہاتھ موبائیل کی طرف لپکتے ہیں۔

(۳)ایک آدھ گھنٹے میں کوئی مسیج نہیں آیا تو جھنجھلاہٹ ہوتی ہے اور دوچار گھنٹے کسی میسیج یا چیٹ کے بغیر گزرے تواُس میں ایک جنونی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔

(۴) اس میڈیا سے ایک بیماری میں شدّت آگئی ہے وہ ہے ’ٹوہ لینا‘۔ اس لیے رات میں سونے سے پہلے ہمارے اکثر نوجوانوں کا یہ روزانہ کا مشغلہ بن گیا ہے کہ وہ معلوم کریں کہ کون کون آن لائن ہے۔ بیک وقت دوچار دوست آن لائن دکھائی دے تو اوّل تویہ خیال آتا ہے کہ وہ سب آپس میں چیٹنگ کر رہے ہوں گے اور پھر تھوڑی دیر میں وہ خیال بدگمانی کی شکل اختیار کرلیتا ہے کہ وہ ضرور اُس کے خلاف بات کر رہے ہوں گے۔ جھنجھلاہٹ اور ذہنی کوفت اُسے اس بات پر بھی ہوتی ہے کہ کسی شناسانے دو تین بار آن لائن آنے کے باوجود اُس کا میسیج نہیں پڑھا۔ اُس کے ’گرانقدر‘ میسیج کی یہ بے حرمتی اُس سے برداشت نہیں ہوتی اور اُس دل برداشتگی کی کیفیت کا وہ گھنٹوں شکار رہتا ہے۔

(۵)سوشل میڈیا کی وجہ سے ایک نیا ’ٹائم پاس‘ شعبہ وجود میں آیا ہے جس کا نام ہے کمنٹس لکھنا۔ہر کوئی اور ہر کسی بحث میں حصّہ لیتا ہے یا ٹپک پڑتا ہے چاہے اُس موضوع پر اُس کا علم بالکل صفر کیوں نہ ہو۔ اُس کے باوجود اُن کی کمنٹری سننے لائق ہوتی ہے۔ ”بہت دیر تک سب کے کمنٹس پڑھتا رہا پھر رہا نہیں گیا اس لیے بحث میں کود پڑا اور دیکھتے ہی دیکھتے دس منٹ میں سب کی بولتی بند کردی۔ ایک سے ایک تیس مارخان میدان میں اُترے تھے۔ سبھوں کو پچھاڑدیا۔“ جی ہاں سوشل میڈیا میں اپنے ترکی بہ ترکی جوابات پر ہمارے نوجوان پھولے نہیں سماتے اور اس وقتی میڈیا پر وقتی کامیابی کو بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ گھنٹے، دن، ہفتے اور مہینے اس ماڈرن وقت گزاری میں کب گزرجاتے ہیں، پتہ ہی نہیں چلتا۔

(۶) سوشل میڈیا کی وجہ سے نوجوانوں کو جوڈَر ستائے جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ’کہیں کچھ چھوٹ نہ جائے‘۔ ہر لمحہ یہی خیال آتا ہے کہ سوشل میڈیا میں بڑی بحث چل رہی ہوگی،حجّت و تکرار ہورہی ہوگی، ہنگامہ آرائی ہورہی ہوگی اور میں اُس سے محروم ہوں۔

۱۷۔  چیزوں کی بے ترتیبی:

            کئی لوگوں کا نصف وقت اپنی چیزوں کو ڈھونڈنے میں ضائع ہوجاتا ہے کیوں کہ وہ اپنی چیزوں کو بے ترتیبی سے رکھنے کے عادی ہوتے ہیں۔ کاغذات کو فائل کرنا، ان کو کلاسیفائیڈ کرنا یعنی الگ الگ خانوں میں رکھنا اُنھیں کبھی نصیب نہیں ہوتا۔ وہ سوچتے رہتے ہیں کہ ایک دن ساری چیزوں کو ترتیب سے رکھیں گے اور وہ دن ان کی زندگی میں کبھی نہیں آتا(ہمارے طلبہ بھی اپنی بیاضیں، کتابیں اور دوسرے رہبر کتابوں کو الگ الگ نہیں رکھتے) اور اسی لیے جھنجھلاہٹ اور پریشانی میں ان کا وقت صرف ضائع ہوتے رہتا ہے۔

۱۸۔  خوش ہونا:

            اب کچھ لوگ یہ کہیں گے کہ خوش ہونا بھی کوئی بیماری ہے اورخوش ہونے اور ہوتے رہنے میں تضیع اوقات کا کیا امکان ہے؟ ذرا ملاحظہ کیجئے:

(الف)الیکشن کے ایک جلسے میں مسلمانوں سے ایک نیتا کا خطاب: ”اس ملک میں مسلمانوں کو برابر کا نہیں بلکہ زیادہ حق حاصل ہے (تالیاں)اردو زبان کی تو بات ہی اور ہے اس میں گالیاں دو تو بھی وہ اچھی لگتی ہیں (تالیاں) مسلمانوں کے تہواروں کی تو بات ہی اور ہے۔ عید ابھی دُور ہے مگر شیٖر خورمہ اور بریانی کی خوشبو تو ابھی سے آرہی ہے (تالیاں)“۔

(ب) ایک تقریب میں مہمان خصوصی کا تعارف: ”یہ محترم و معظّم، عظیم المرتبت، قائد ملّت، نباضِ قوم، جہاندیدہ، مفکّر، مدبّر، محسنِ قوم، ہمدرد انسانیت، اقلیت نواز…… اب اس سے زیادہ صفتیں ہم نے اسکول میں نہیں پڑھیں اور کسی لغت میں بھی نہیں ہیں۔

            جی ہاں ہماری ہر تقریر میں، ہر اسٹیج پر یہی کچھ گھنٹوں سننے ملتا ہے اس لیے کہ ہم ان ساری باتوں سے خوب خوب خوش ہوتے رہتے ہیں اسی لیے ہمارا یہ کہنا ہے کہ خوش ہونا اور خوش فہمیوں کے میٹھے نشہ میں مبتلا رہنا صرف تضیع اوقات ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ اس قسم کے شغل میں ہم چند سال، چند دہائیوں تک تو مشغول رہ سکتے ہیں مگر سمجھ میں نہیں آتا کہ ’خوش‘ ہونے کا یہ سلسلہ نسل درنسل کیوں کر جاری رہ سکتا ہے؟