جاتے جاتے یونہی پل بھر کو خزاں ٹھہری ہے

National

جاتے جاتے یونہی پل بھر کو خزاں ٹھہری ہے

ڈاکٹر سلیم خان

سیاسی گلیاروں میں فی الحال یہ سوال زور و شور کے ساتھ گردش کررہا ہے کہ     اتر پردیش میں بی جے پی نے ایسا کیا کردیا کہ وہ ہاری ہوئی بازی  جیت گئی۔ اس سوال کا جواب  بہوجن سماج پارٹی شکست و ریخت میں پوشیدہ ہے۔ اعدادو شمار کی روشنی میں دیکھیں تو اس بی ایس پی کے 9.4فیصد ووٹ کم ہو گئے۔ سوال یہ ہے کہ ووٹ آخر کہاں گئے؟  اس کا سیدھا سا جواب  ہے کہ یہ ووٹ   بی جے پی کے کھاتے میں چلے گئے اور یہی وجہ ہے کہ تمام تر ناکامیوں کے باوجود اس کے ووٹ کا تناسب بڑھ کر 41فیصد  پر پہنچ گیا۔  اس میں سے اگر بی ایس پی کے  ووٹ  کم کردیئے جائیں  تو بی جے کی جھولی میں صرف 32فیصد ووٹ بچتے ہیں جبکہ یہ حقیقت ہے کہ  سماجوادی پارٹی کو  35 فیصد ووٹ ملے ہیں ۔  یہ بات بچہ بچہ جانتا ہے کہ جب دو رخی مقابلہ ہو تو تین فیصد ووٹ اقتدار میں تبدیلی کا سبب بن جاتے ہیں۔

سیاست میں اگر مگر نہیں ہوتا لیکن جائزے میں ہوتا ہے۔ بی ایس پی کی مدد کے بغیر بی جے پی انتخاب ہار چکی تھی  ۔ خیر اس کی قسمت اچھی ہے جو کبھی اس کو کامیاب کرنے کے گودھرا ہوجاتا ہے تو کبھی پلوامہ کروا کر اس کی آڑ میں سرجیکل اسٹرائیک کا ناٹک کیا جاتا ہے۔ ہندوستان کے بھولے بھالے عوام بار بار جھانسے میں آجاتے ہیں ۔ اس بار اسے ہاتھی کی سواری مل گئی  اور سچ یہی ہے کہ  بابا  بلڈوزر پر نہیں ہاتھی پر سوار ہوکر وہ لوٹےہیں ۔بی جے پی کے لیے یہ کوئی نیا کھیل نہیں ہے بلکہ اس نے وہی   بہار والا تماشا  دوہرا دیا ۔ وہاں پر اس نے چراغ پاسوان کے ذریعہ نتیش کمار کو ہرا کر اقتدار پر قابض ہونے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی۔ گیم پلان تو یہ تھا کہ چراغ کو الگ رکھ کر اس کے ذریعہ نتیش کو شکست دی جائے اور پھر جن شکتی پارٹی کے ساتھ مل کر اپنا وزیر اعلیٰ مسلط کردیا جائے ۔ چراغ پاسوان علی الاعلان یہ دعویٰ  کررہے تھے ۔ بی جے پی والے اس کی تائید  نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ بیک وقت دوکشتیوں میں سوار تھے ۔ یہ دراصل ان کے اندر عدم اعتماد کی علامت  تھی۔

 چراغ کے شعلوں نے ایل جے پی کا جھونپڑا جلا کر خاک کردیا ۔  بی جے پی نے بڑی بے حیائی سے  انہیں  دودھ سے مکھی کی طرح  این ڈی اے سے نکال  باہر کر  کے چراغ  کے چچا  پشوپتی  کمار پاسوان  سے الحاق کرلیا ۔ نتیش کمار کے زخموں پر مرہم رکھنے کی خاطرچراغ پاسوان کو بلی کا بکرا بنایا گیا۔    مایا کا  بھی یہی حشر ہوگا کیونکہ کل تک ٹکٹ بیچنے والی مایا نے اب پارٹی کو بیچ دیا ہے۔دلتوں کے لیے  فی الحال اترپردیش میں امید کی کرن چندر شیکھر راون ہیں ۔ انہوں نے اگر مایا وتی کی سیاسی موت  سے  پیدا ہونے والے خلاء کو پرُ کردیا اور اسی طرح بی جے پی کے خلاف  بر سرِ جنگ رہے  تو بعید نہیں کہ  اگلی بار  یہ دلت ووٹ رام  کے بجائے راون کے حصے میں چلا جائے۔ راون اگر رام کے خلاف پرشورام کے بھکت اکھلیش یادو کے ساتھ چلے جائیں تو  اس کے نتیجے میں کمل کے لیے پھر سے مشکلات پیدا ہوجائیں گی اور بعید نہیں کہ اس وقت بی جے پی کھل کر مایا وتی کے ساتھ میدان میں آجائے۔ 

پچھلے انتخاب میں بوا اور ببوا یعنی مایا وتی اور اکھلیش اپنے اختلافات مٹا کر ساتھ آگئے تھے اس کے باوجود اکھلیش کی سڑک پر کمل کھل گیا ۔ اس بار پھر سے ببوا نے بوا کو منانے کی کوشش کی لیکن بی جے پی نے بلیک میل کرکے مایا وتی کو روک دیا  اور دونوں میں پھوٹ ڈال دی ۔ رامائن کے طالب علم جانتے ہیں کہ ’گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے‘  کس قدر  آزمودہ نسخہ ہے ۔ اس کا استعمال کرکے  شری  رام  نے راون کے بھائی  وبھیشن کو اپنے ساتھ ملا لیا اور   لنکا پتی  کا قلع قمع کیا  تھا ۔  بی جے پی  نے سب سے پہلے مایا کو ای ڈی کے چھاپے کی دھمکی دے کر  بلیک میل کیا۔اس ہاتھی کو سائیکل کے ساتھ  جانے سے روک دیا گیا۔  سماجوادی پارٹی کے ساتھ جانے سے روکنے کے بعد انہیں مسلمان امیدواروں کو ٹکٹ دینے کی ترغیب دی نیز امیت شاہ نے پانچویں مرحلے کی مہم میں مایا کی تعریف بھی کردی  لیکن اس سے مسلمان اور بھی زیادہ برگشتہ ہوگئے مگر مایا وتی کو اپنی ماں سمجھنے والے دلت بی جے پی کی جانب جھک گئے۔  اس طرح  دلت رائے دہندگان  کو اپنی جانب راغب  کرکے بی جے پی  اپنا اقتدار بچانے میں کامیاب ہوگئی۔  اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ  کمل کی  فتح کا سہرا بلڈوزر کو نہیں بلکہ  ہاتھی کو جاتا ہے۔

بی ایس پی چونکہ اب ایک نمائش سفید ہاتھی میں تبدیل ہوچکی ہے اس لیے بعید نہیں  کہ بی جے پی مایا وتی کو صدر مملکت یا نائب صدر بناکر دلتوں میں اپنی ساکھ بڑھائے۔ ذات پات میں منقسم  ہندوستانی سماج کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ اس میں مظلوم قومیں ایک دوسرے  کو اپنا حریف سمجھ کر باہم  برسرِ پیکار رہتی ہیں ۔ گاوں دیہات کے اندر دلتوں کا زیادہ سابقہ پسماندہ طبقات سے پڑتا ہے اور وہ بھی انہیں حقیر سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ ظلم و ستم کا رویہ اختیار کرتے ہیں ۔ اس لیے تقریر کے اندر دلت اور اوبی سی اتحاد کی باتیں کرنا جس قدر آسان ہے زمینی سطح پر اسے قائم کرنا اتنا ہی مشکل ہے۔ رہنما ایک دوسرے کے ساتھ آجاتے ہیں مگر ان کے پیروکار ایک ساتھ نہیں آپاتے۔    نام نہاد اونچی ذات کے لوگ اس کا بھر پور فائدہ اٹھا تے ہیں ۔ وہ  ایک مظلوم طبقہ کی حمایت کرکے اس کو اپنا ہمنوا بنالیتے ہیں ۔  اس لیے ایک عام دلت کے نزدیک یادو اور ٹھاکر میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ 

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بہت سارے دلت یادو سماج کو اپنے لیے براہمنوں سے زیادہ مضر سمجھتے ہیں ۔ان دونوں میں سے  جب انہیں کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتو وہ برہمن کو یادو پر ترجیح دے دیتے ہیں۔ میں جس  بلذنگ میں رہتاہوں اس کا یادو چوکیدار دوسرے نائی چوکیدار کو حقیر سمجھتا ہے اس لیے وہ  بی جے پی کی حمایت پر مجبور ہے۔ اس کے لیے سماجی رویہ میں تبدیلی درکار ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ سنگھ پریوار کے منافقین کی طرح  یادو چکنی چپڑی باتیں نہیں کرپاتا اور  ابن الوقت نہیں ہوتا  ۔ اکھلیش کو اترپردیش میں  اگرمزید ترقی کرنی ہے تو اسے دلتوں کے راون کو اپنے ساتھ لینا ہوگا یا کم ازکم بی جے پی سے الگ کرنا ہوگا اس کے بغیر ان کی سیاسی دال نہیں گلے گی ۔   دلت سماج پر یوگی راج میں جتنے مظالم ہوئے شاید پہلے کبھی نہیں ہوئے ۔ ہاتھرس کا واقعہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے کہ مظلومہ کے گھر والوں کی مرضی کے خلاف اس کی لاش پر مٹی کا تیل ڈال کر جلادیا گیا۔ آج بھی تحفظ کے نام اس کا خاندان اپنے ہی گھر میں قیدی کی سی زندگی گزار رہا ہے۔  

اتر پردیش کے اندردلت خواتین  کی آبرو ریزی کرکے اس کا الزام انہیں پر تھوپ دیا  جاتا ہے ۔ اس کے باوجود دلتوں نے بی جے پی کو ووٹ دے کر یہ ثابت کردیا کہ وہ اپنے رہنماوں کے اندھے مقلد ہیں اور صدیوں سے ظلم سہتے سہتے وہ اس قدر عادی ہوچکے ہیں کہ ان میں ظلم و جبر کے خلاف بغاوت کرنے کا عزم و حوصلہ ختم ہوچکا ہے اور وہ اپنے رہنماوں کے جھانسے میں آکر دوست و دشمن میں  تفرق نہیں کرپاتے۔   مسلمانوں کی حالت اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہ کسی رہنما کے  جھانسے میں نہیں آتے ۔ کانگریس اگر مندر کا تالہ کھلواتی ہے تو اس سے اصولی اختلاف کرکے سماجوادی پارٹی کی طرف چلے جاتے ہیں ۔ بابری مسجد کے مجرم کلیان سنگھ کو بی جے پی سے بغاوت کے باوجود نہیں بخشتے۔ ملائم سنگھ یادو جب بغض بی جے پی میں  کلیان سنگھ کی  جماعت کرانتی دل کی جانب  پینگیں بڑھاتے ہیں  تو مسلمان ان سے بھی ناراض ہوکر بی ایس پی   کو آزماتے ہیں  اور ہاتھی کے ذریعہ کمل کو کچلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بی ایس پی کی نیت خراب ہوتی ہے تو اسے بھی دھتکار دیتے ہیں۔

یہ  خوددار اور بیدار مغزامت کو کسی فرد یا جماعت سےا ندھی  عقیدت   مبتلا نہیں ہوتی   بلکہ اسے  ملت کا اجتماعی مفاد عزیز  ہوتاہے ۔ اس لیے وہ بڑی  ہمت اور ذہانت کے ساتھ بی جے پی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتی ہے ۔سنگھ پریوار کو    مسلمانوں سے اصل پریشانی یہی ہے کہ اس قوم کوخریدنا ،  بانٹنا یا فریب دینا  بہت مشکل ہے۔ عام حالات کے اندر امت کے اندر بھی بے شمار اختلافات موجود رہتے ہیں اور آپسی سرپھٹول کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے لیکن جب سنگین صورتحال پیدا ہوتی ہے تو یہ   آپسی نزاعات کو بالائے طاق رکھ کر  غیر معمولی اتحاد کا ثبوت دیتی ہے۔  اس مرتبہ امید تھی کہ کمل مرجھائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا تو مسلمانوں کو ایسا لگا گویا؎

آتے آتے یونہی دم بھر کو رکی ہو گی بہار

      جاتے جاتے یونہی پل بھر کو خزاں ٹھہری ہے

اس شعر  میں خزاں کے پل بھر کو رکنے میں امید کی ایک کرن تو موجود ہے لیکن بہار کے حوالے سے مایوسی کا پیغام بھی ہےجس کا علاج  حکیم الامت علامہ اقبال کے اس شعر میں ہے؎

یہ نغمہ فصلِ گُل و لالہ کا نہیں پابند                     

                        بہار ہو کہ خزاں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ