ہاتھی نے سائیکل کو کچلا تب جاکر  بلڈوزر چلا

National

ہاتھی نے سائیکل کو کچلا تب جاکر  بلڈوزر چلا

ڈاکٹر سلیم خان

یوپی میں’ سب با‘  کے بعد یوپی   میں’ کابا‘ آیا   اور اب ہر کوئی کہہ رہا ہے یوپی میں  ’بابا‘ لیکن سچائی یہ ہے کہ انتخابی نتائج پر سب سے زیادہ اثر یوپی میں’ ہابا‘ نے ڈالا۔ ہابا یعنی ’ہاتھی با‘۔ اتر پردیش  کے نتائج کا اندازہ لگانے میں  بڑےبڑے مبصرین اس لیے ناکام ہوگئے کیونکہ  وہ سیاست  کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں  بہوجن سماج پارٹی کے ہاتھی کو نہیں دیکھ سکے اور انہیں اس سے  متوقع نقصان کا اندازہ نہیں ہوسکا۔مایا وتی کے ہاتھی نے    ابراہیم لودھی  کے ہاتھیوں کی یاد دلا دی جنہوں نے اپنی ہی فوج کو کچل کر  لودھی خاندان کی حکومت کا چراغ بجھا دیا تھا  ۔ فی الحال تمام مبصرین کا اس پر اتفاق ہے کہ  بی جے پی نے بی ایس پی کی مدد سے ایس پی کو روند دیا مگر اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہاتھی نے خود اپنی فوج کو بھی نہیں بخشا بلکہ پوری طرح کچل ڈالا۔  انتخاب سے قبل کئی لوگ یہ قیاس آرائی کررہے تھے کہ یہ مایا وتی کا آخری انتخاب ہے لیکن اس کے لیے ان کے پاس کوئی دلیل یا   شواہد نہیں تھے  لیکن اب تو وہ بھی سامنے آگئے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان کی سرزمین پر بی ایس پی نامی سیاسی جماعت  کا انتم سنسکار ہوگیا۔  اس پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ایم آئی ایم کے سربراہ بیرسٹر  اسدالدین اویسی نے دو قطرہ آنسو بھی بہا دئیے۔

 مایا وتی کی مانند  لودھی  خانوادہ  کا آخری حکمران ابراہیم  بھی  اپنے اکھڑ پن کے لیےمشہور  تھا۔میواڑ کےراجہ رانا سانگا نے اس کو زیر  کرنے کی خاطرکابل سے ظہیر الدین بابر کی  مدد طلب کی اور  لودھی کو  مغلوں سےپانی پت کی پہلی جنگ میں بھڑا دیا۔بابر جانتا تھا کہ لودھی کے پاس   ایک ہزار ہاتھیوں کا لشکرہے اور اپنے سے  آٹھ گنا بڑی فوج کا مقابلہ نہیں کرپائے گا۔اس کا توڑ کرنے کے  لیے  بابر نے سلطنت عثمانیہ کے جدید ہتھیار  استعمال کرنے کا ارادہ کیا ۔بابر  نے توپوں کے سا تھ   ترک توپچی بھی بلوائے اور انہوں نے ہی ہندوستان میں توپ سازی کی بنا ڈالی  ۔ بی جے پی کی مانند  اپنی جنگی چال و ہتھیار کو ابراہیم لودھی سےخفیہ  رکھنے  کی خاطر بابر  نے   سات سو بیل گاڑیوں   کے پیچھے توپچی اور بندوق بردا رچھپا دئیے۔ میدان جنگ میں توپوں کی اندھا دھند گولہ باری  کے ساتھ  کان پھاڑ دینے والے دھماکوں اور بدبودار دھویں نے لودھی کی  فوج کو حواس باختہ کر دیا ۔ اس کا فائدہ اٹھا کر اپنے  بارہ ہزار تربیت یافتہ گھڑسواروں  کی مددسے ظہیر الدین بابر نے لودھی کی فوج کو چہار جانب سے گھیر کر اس  کا صفایا کرکےہندوستان میں مغلیہ سلطنت کی بنیاد پڑ گئی  ۔

ابراہیم لودھی  اور مایا وتی کے ہاتھیوں میں یہ بات مشترک ہے کہ دونوں کے ہاتھیوں نے اصل تباہی  الٹے قدم اپنی ہی فوج کو  روند کر مچائی  ۔ بی جے پی نے اپنی دھواں دھار انتخابی مہم  میں افواہوں کے خوب گولے داغے اور نفرت کی بدبو پھیلا کر حامیوں اور مخالفین دونوں  کو ڈرانے کی  کوشش کی ۔ بھگتوں نے خوفزدہ ہوکر ووٹ دے دیا مگر مخالف نہیں ٖڈرے۔ اس کے بعد کیا خوب  اتفاق ہے کہ بابر کے دشمنوں نے اسی کی حکمت عمل کو اختیار کرکے  ایک تیر سے دو شکار کردئیے۔ زعفرانیوں نے بی ایس پی کے ہاتھیوں  سے پہلے  سماجوادی کی  سائیکل کو روندا لیکن جب وہ پلٹے تو خود  مایا وتی کی  بی ایس پی   کو بھی  کچل کر نمٹا دیا ۔ بی جے پی کے خلاف ایس پی کا چیلنج تو ختم ہوگیا مگر بی ایس پی کی جانب سے جو تھوڑی بہت مزاحمت  ہوا کرتی تھی  اس کا بھی ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوگیا۔ مہاراشٹر کے اندر ڈاکٹر امبیڈکر کی قائم کردہ  ریپبلکن پارٹی جس طرح سیاسی حاشیے پر پہنچ گئی ہے اب اسی مقام پر بی ایس پی کھڑی ہوئی ہے۔

اس  کا مستقبل تاریک ہوچکا ہے۔ کانشی رام کے خواب ٹوٹ کر بکھر گیا ہے ۔ موہ  مایا کے چکر میں پڑ کر ان کی شاگردہ نے اپنے استاد کے نظریہ اور پارٹی دونوں کو زندہ درگور کردیا اور اب اس ہاتھی کا دوبارہ کھڑا ہونا تقریباً ناممکن ہوچکا ہے۔

لودھی خاندان کی حکومت کا خاتمہ   رانا سانگا کی من مراد پوری نہیں کرسکا۔  اس   نے جب دیکھا کہ  ابراہیم لودھی کو   شکست دینے کے بعد  خلا ف ِ توقع واپس جانے کے بجائے   بابر تو جم کر بیٹھ گیا ہے ۔ رانا سانگا کا خیال تھا  بابر پانی پت میں ابراہیم لودھی کو ہرا کر محمود غزنوی  کی مانند لوٹ جائے گا اور اس کے بعد وہ خود دہلی کی سلطنت پر راج کرے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔رانا سانگا نے جب دیکھا کہ بابر تو یہیں براجمان ہوگیا ہے تو ہلدی کے مقام پر اس کے خلاف فوج لے کر آیا اور خود بھی شکست فاش سے دوچار ہوگیا ۔ اس لیے یہ  آخری مرحلہ نہیں ہے ۔ وزیر اعظم نے خود اس 2024  کا سیمی فائنل کہہ کر یہ تسلیم کیا ہے کہ اصل جنگ تو آگے ہے۔  بعید نہیں رانا سانگا کے نقشِ قدم پر چلنے والی      بی جے پی  بھی آئندہ کے معرکہ میں اسی انجام پر پہنچے کیونکہ اس بار جس ہاتھی نے بچایا وہ تو اب  ڈھیر ہوچکا ہے۔

یہ کوئی خیالی  مفروضہ نہیں ہے۔ 2007میں اپنی  سرکار بنانے والی بی ایس پی کے پاس اس وقت  جملہ  30.43 فیصد ووٹ تھے ۔ اس کے بعد  2012 میں اکھلیش کے مقابلے وہ  ہار گئیں مگر ان کے ووٹ کا تناسب  25.91 فیصد تھا۔ سوامی پرساد موریہ  کو اس وقت  ایوان اسمبلی میں حزب اختلاف کا رہنما  بنایا گیا ۔اس کے بعد  2017 میں مودی کی آندھی آئی تب بھی بی ایس پی کے ووٹ کا تناسب پر کوئی بہت بڑا فرق نہیں پڑا۔ مایا وتی کی حمایت میں   22.2 فیصد  رائے دہندگان تھے لیکن یہ ضرور ہوا تھا کہ  اس کے کامیاب امیدواروں کی تعدادگھٹ کر 19؍پر آگئی تھی ۔   اس زبردست شکست کے باوجودحوصلہ نہیں ٹوٹا تھا کیونکہ     22.2 فیصد ووٹ محفوظ تھے۔  اس لیے یہ امید تھی کہ  جلد یا بہ دیر  ہاتھی پھر سے کھڑا ہوکر دوڑنے لگے گا ۔

2022 کے حالیہ انتخاب  میں بی ایس پی کے ووٹ کا تناسب گھٹ کر 12فیصد پر آگیا ہے اور اس کا صرف ایک امیدوار کا میاب ہوسکا ہے۔ یہ حالت  گئی گزری کانگریس کے دو سے بھی ایک کم ہے ۔ اس طرح گویا بہوجن سماج پارٹی ملیا میٹ ہوچکی ہے۔   بھارتیہ جنتا پارٹی کی دوستی کا یہی انجام ہوتا ہے۔ مہاراشٹر میں راج ٹھاکرے اور بہار میں چراغ پاسوان اس کی تازہ مثالیں ہیں   ۔ ویسے  خود نتیش کمار کی  حالت  بہار میں اطمینان بخش نہیں ہے۔  آج وہ وزیر اعلیٰ ضرور ہیں مگران کی  جے ڈی یو جو کبھی   پہلے نمبر پر ہوا کرتی تھی وہ اب  تیسرے  مقام پر کھسک چکی ہے۔  ہندوستانی سیاست میں بی جے پی کی  بالواسطہ یا بلا واسطہ مدد کرنے والوں کو ان لوگوں کے عبرتناک انجام   سے سبق سیکھنا چاہیے ۔

اتر پردیش کی انتخابی مہم کے ابتدائی مرحلے میں اس بات کا امکان پیدا ہوگیا  تھا کہ بہوجن سماج پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان مفاہمت ہوجائے لیکن ان دونوں   نےکھلم کھلا بیاہ رچانے کے بجائے ’لوجہاد‘ قانون کے ڈر سے گویا اندر اندر تعلقات قائم کرلیے۔ اس کا مقصد مسلمانوں کا ووٹ  توڑنا تھا کیونکہ اگر ہاتھی اور کمل ساتھ ہوتے تو نہ بی ایس پی کو 91مسلمان  امیدوار ملتے اور نہ  22 یادو امیدوار اس کے ٹکٹ پر قسمت آزماتے ۔ بی جے پی چونکہ یادو سماج میں بھی پھوٹ ڈالنا  چاہتی تھی  اس لیے  مایا وتی کے ذریعہ اس  سماج کے اندر پائے جانے والے کمریا اور گھوشی طبقات کے اختلاف کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی  گئی۔  یعنی ایس پی کے کمریا امیدوار  کے سامنے  بی ایس پی نےگھوشی یادو کو کھڑا کرکے ووٹ کاٹے ۔ بی ایس پی نے جملہ 122؍نشستوں پر اسی ذات کے امیدوار کو ٹکٹ دیا جس برادری کا وہاں  ایس پی امیدوار تھا اور ان میں 64سے زیادہ سیٹوں پر بی جے پی نے  کامیابی درج کرائی ۔ کمل کے برے وقت میں  یہ ایک بہت بڑی مدد تھی۔

 اس طریقۂ کار سےمایا وتی نے ڈبل مایا کمائی ۔  امیدواروں کو خوب اچھی قیمت پر ٹکٹ فروخت کیا اور اس کا کمیشن بی جے پی سے لے لیا ۔ اس مایا کے کھیل کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک وقت میں اقتدار پر فائز رہنے والی بی ایس پی اب ایک  نشست پر سمٹ گئی ہے ۔ اس کو 18؍ سیٹوں کا بھاری نقصان ہوگیا ۔بی ایس پی کا  یہ نقصان بی جے پی کی 52؍سیٹوں کے مقابلے  کم ضرور ہے لیکن  بی جے پی کا نقصان تو صرف بیس فیصد کا ہے جبکہ بی ایس پی کا نقصان 95؍ فیصد کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خسارے کے باوجود  بی جے پی  کا اقتدار محفوظ  ہے اور وہ ہولی منارہی ہے جبکہ بی ایس پی کی ہولی جل رہی۔   دوسروں  سے ادھار کا تیل لے کران کے محل میں روشنی کی خاطر اپنا گھر جلا دینا اسی کو کہتے ہیں لیکن مایا جال میں پھنس کر انسان کچھ بھی کرگزرتا ہے اور اسے اپنی غلطی کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ اب مایا وتی مسلمانوں کو موردِ ٹھہرا کراپنی صفائی پیش کررہی ہیں لیکن ضرورت اپنےبغل میں جھانک کر دیکھنا چاہیے۔ بی ایس پی کی حالتِ زار پر مومن خاں مومن کا یہ شعر صادق آتا ہے؎

یہ عذر امتحان جذب دل کیسا نکل آیا                   میں الزام اس کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا

(۰۰۰۰۰جاری)