یو پی کی ا نگنے  میں یوکرین کا کیا کام ہے؟

National

یو پی کی ا نگنے  میں یوکرین کا کیا کام ہے؟

ڈاکٹر سلیم خان

اترپردیش میں جب یوگی کا جادو فیل ہوگیا تو امیت شاہ گجراتی تشریف لائے۔ ان کی بھی دال نہیں گلی تو نریندر مودی میدان میں کود پڑے  اور ان سے بھی بات نہیں بنی تو  گجرات کی پولس پہنچ گئی۔    سوال یہ ہے کہ کیا سارے ملک کے بی جے رہنماوں کی طرح  پولس بھی مرکھپ گئی ہے جو گجرات سے دستہ بلواکر طعینات کرنا پڑا۔ ان پولس والوں کو کیوں لایا گیا تھا اس راز کو گجرات کی پولس کے ایک جوان نے  مودی والا جملہ طوطے کی مانند دوہراکر کھول  دیا کہ  ’آئے گا تو یوگی ہی‘ لیکن افسوس کہ یوگی کے بلڈوزر کی مانند گجرات  پولس  بھی ووٹ نہیں دے سکتی ۔ کسان رہنما یوگیندر یادو نے اس گجراتی پولس والے کا ویڈیو ٹویٹ کیا تو اسے ہٹا دیا گیا ساتھ ہی ڈی ایم نے اعلان کیا کہ وارانسی میں کسی گجراتی کو تعینات نہیں کیا گیا مگر کاشی اور مرزا پور میں فرق ہی کیا ہے اور اگر وہاں بھی نہیں بھیجا گیا تو ہٹایا کیسے گیا؟ ویسے مودی  جی نے وارانسی میں تین دن قیام کیا ۔ پوجا پاٹ کے ساتھ ڈمرو بھی بجایا اس کے باوجود تین بجے تک ان کے اپنے حلقۂ انتخاب میں صر ف 43.76فیصد ووٹ پڑے اس کا مطلب ہے کہ ان کی ساری محنت مشقت پر پانی پھر گیا ۔ وزیر اعظم  اگر  آر ایس ایس کی بات مان کر خود کو اس جھنجھٹ سے دور رکھتے تو اچھا تھا لیکن کیا کریں ؟ دل ہے کہ مانتا نہیں۔

اتر پردیش  کی انتخابی مہم میں  احمد آباد دھماکوں کے بعد یوکرین کی جنگ داخل ہوگئی ۔ یوکرین کی آمد  پر گفتگو سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟   یوپی میں بی جے پی کو زبردست اکثریت کے ساتھ پانچ سال حکومت کرنے کا سنہرہ موقع ملا ۔ اس کے پاس یوگی جیسا شعلہ بیان وزیر اعلیٰ ہے جس کی خدمات سارے ملک میں انتخاب جیتنے کی خاطر حاصل کی گئیں ۔ یہ اور بات ہے ڈھاک کے تین پات کی مانند وہ اور ان کی پارٹی یکے بعد دیگرے شکست فاش سے دوچار ہوتی رہی لیکن وہ خود اپنے صوبے میں چاروں خانے چت ہوجائیں گے اور ان کے اپنے حلقۂ انتخاب گورکھپور ان کی تصویر  پوسٹر سے ہٹا کر صرف مودی کے نام پر ووٹ مانگا جائے گا یہ کسی نے نہیں  سوچا تھا ۔یہ مشیت ایزدی ہے کہ  اترپردیش کے ایودھیا میں بھی جہاں  رام مندر ہے، اکھلیش کی ریلی یوگی سے زیادہ کامیاب ہوجاتی ہے۔ وارانسی کوریڈور بنانے کے باوجود مودی جی کے اپنے حلقۂ انتخاب میں کرسیاں خالی منہ تاکتی ہیں تو ایسے میں اگر یوکرین  ڈوبتے کو تنکے کا سہارا نظر آئے تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟

یو پی اور بی جے پی  کا موازنہ اگر یوکرین سے کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ  1920 میں جس وقت آر ایس ایس کا قیام عمل میں آیا اس وقت  سے 1991 تک وہ سوویت یونین کا حصہ رہا۔ جولائی 1990 میں جب اڈوانی جی  رام رتھ لے کر نکلے تو یوکرین نےسوویت  یونین سے علیحدگی کا اعلان کیا ۔ آگے چل کر اگست 1991 میں   خودمختاری اور مکمل آزادی  حاصل کرلی ۔ یوکرین کا مسئلہ یہ  ہےکہ جس طرح یوپی میں 20 فیصد مسلمان اقلیت بی جے پی کے لیے مصیبت بنی ہوئی ہے  اسی طرح وہاں بھی   17 فیصد روسی النسل لوگ موجود ہیں  ۔  2014 جب مودی جی نے دہلی میں اقتدار سنبھالا تو  یوکرین کے اندر روس نواز  صدر وکٹر ینوکووچ کو اقتدار سے محروم ہونا پڑا اور  روس نے کرائمیا پر چڑھائی کر دی  جیسے چین آج کل اروناچل پردیش یا لداخ میں کرتارہتا ہے۔ 2015 میں فرانس کے تعاون سے یوکرین جو امن قائم ہوا تھا  وہ  2021 کے اواخر میں غارت ہوگیا  اور امسال 22  فروری کو روسی صدر ولادی میر پوتن نے یوکرین سے الگ ہونے والے ڈونیسک اور لوہانسک کی آزاد ریاستوں میں امن قائم رکھنے کے لیے فوجیں روانہ کردیں ۔  اس طرح گویا  2014 سے  2021 کے آنے تک بی جے پی کی مانند یوکرین کا عروج زوال میں بدل گیا۔  آج سے ۸ سال قبل جو چیز کسی کے خواب و خیال میں نہیں تھی وہ ایک حقیقت بن گئی اورجس طرح  ناٹو یوکرین کے کسی کام نہیں آسکا اسی  طرح  یوگی ادیتیہ ناتھ بھی مودی کے لیے  بے سود بلکہ مضر ثابت ہوئے۔   

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور یوگی ادیتی ناتھ میں بھی  بڑی مماثلت ہے ۔ یوگی جس طرح ایک مٹھ سے ایوان پارلیما ن میں پہنچے  اور پھرغیر متوقع طور پر وزیر اعلیٰ بن گئے اسی طرح   ٹی وی سیریز ’سرونٹ آف دی پیپل‘ میں ایک استاد کا کردار اداکرنے والے زیلنسکی  ٹی وی کے پردے پر بدعنوانی  کے خلاف  جذباتی تقریر کرتے کرتے  صدارت  کی کرسی تک پہنچ گئے۔انہوں نے اسی نام سے سیاسی جماعت بنائی اور بدعنوانی کے خاتمہ کا نعرہ لگاکر  2019 میں 73 فیصد ووٹ حاصل کرکےصدر پیٹرو پوروشینکوکو شکست سے دوچار کردیا ۔ مگر جس طرح یوگی جی پر کمبھ میلے میں کرپشن کا الزام لگ چکا ہے اسی طرح زیلنسکی  کا نام پینڈورا پیپرس کے خفیہ بنک اکاونٹس میں سامنے آگیا۔ یعنی دونوں کا پاکھنڈ کھل گیا۔  پوتن ایک زمانے تک  زیلنسکی  سے خوش تھے مگر جب انہوں نے امریکہ اور نیٹو سے پینگیں  بڑھا نی شروع کیں  وہ ناراض ہوگئے۔ ویسے ایک یہودی صدر سے یہی توقع تھی کہ وہ امریکہ نواز ملکوں کی جانب جائے گا لیکن اس چکر میں اس کا ملک اور اقتدار کن خطرات سے دوچار ہوجائے گا اس کا اندازہ کسی کو نہیں تھا۔ اسی طرح یوگی کو  بھی مودی   نے ایک حیران کن وزیر اعلیٰ کے طور پر وزیر اعلیٰ بنایا اور اپنا   منظور نظر رکھا ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے شاہ سے پنگا لے  وزیر اعظم بننے کا خواب  بننے لگے  ۔ اس  آرزومندی نے دونوں کے تعلقات بگاڑ دیئے۔  فی الحال یوکرین میں ولادیمیر زیلنسکی کی حالت اترپردیش کے یوگی  جیسی ہی ہے۔

اتر پردیش میں اگر بی جے پی ہار جاتی ہے تو مودی اور یوگی کے تعلقات اسی طرح کشیدہ ہوجائیں گے جیسے نیٹو اور یوکرین کے ہوگئے ہیں۔  صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک ویڈیو پیغام میں یوکرین اور روس کے درمیان جاری تنازعہ کے دوران حال ہی میں ختم ہونے والی نیٹو سربراہی کانفرنس کو ’کمزور‘ قرار دیا۔ اسی طرح یوگی اپنی ناکامی کے لیے مودی کی کمزور قیادت کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے اور ان کی مہم جوئی کے بارے میں وہی کہیں گے جوزیلنسکی  نے نیٹو کی بابت  کہا کہ اس  نے یوکرین کو 50 ٹن ڈیزل فراہم کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ زیلنسکی اس لیے جھلاّئے ہوئے ہیں کیونکہ انہوں  نے نیٹو ممالک سے  یوکرین کو ’نو فلائی زون‘قرار دینے کی کو اپیل کی تھی جس کو  ٹھکرا دیا گیا۔ نیٹو کے اس فیصلے کے بعد زیلنسکی نے کہا کہ اب اگر لوگ مارے جائیں گے تو اس کا ذمہ دار نیٹو ہوگا۔ اسی طرح  تنقید یوگی جی انتخاب کے بعد مودی جی  پر کریں گےکہ مودی (نیٹو)  کو معلوم تھا کہ روس (اکھلیش ) ابھی حملہ اور تیز کرے گا۔ ایسی صورت میں جب سب کو معلوم ہے کہ  نشستیں کم ہوں گی(یعنی نئے حملے اور اموات ہوں گی )تو مودی(نیٹو) کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ جس طرح زیلنسکی نے نیٹو کے سربراہی اجلاس کو ایک کمزور اور الجھا ہوا  کہا وہی الزام یوگی بھی مودی کی قیادت پر لگائیں گے۔

یوکرین اور روس کے تنازع نے یہ ثابت کردیا کہ ہندوستان کی مانند اسرائیل بھی اس معاملے میں خاصہ کنفیوز ہے۔  پہلے تو اس نے اپنے ہم مذہب زیلنسکی اور آقا امریکہ کی خوشنودی کے لیے روس کی خوب تنقید کی مگر پھر وزیراعظم نفتالی بینٹ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو یوکرین بحران پر ثالثی کی پیشکش کرکے  دونوں کو ناراض کردیا۔ اس حماقت کو کرنے کی خاطر اسرائیلی صدر نفتالی بینٹ نے ماسکو میں روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن سے تین گھنٹے کی طویل ملاقات کی۔  سنا ہے خودیوکرین  نے اسرائیل سے ماسکوکے ساتھ بات چیت کی درخواست کی تھی حالانکہ جس روس نے امریکہ کی ایک نہیں مانی وہ بھلا اسرائیل کو کیسے خاطر میں لاسکتا ہے؟ اس موقع پر جب کہ دنیا پر تیسری جوہری جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں ایک اسرائیلی افسر نے روسی صدر سے ملاقات میں یوکرین کے دوران  ویانا میں ایران جوہری مذاکرات میں پیش رفت پر گفت و شنید  کے بے وقت کی راگنی کا ذکر کیا ۔ اس ملاقات کو یوکرینی صدراورامریکہ، جرمنی اور فرانس کی حمایت حاصل ہونے کا دعویٰ کیا گیا اس کے باوجود   صدر پیوٹن سے ملاقات کے بعد  یوکرینی صدرکوفون کرنے کی بات کی گئی لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ روسی صدر نے اس پر کس ردعمل کا اظہار کیا؟ اسرائیل جو فلسطینیوں کے ساتھ روسیوں سے برا سلوک کررہا ہے اور عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ  ہے ایسے میں اس سے کیا امید کی جائے؟ اس کا مطلب یہی ہے کہ انہوں نے اس کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی  اور یہ سفارتکاری ٹائیں ٹائیں فش ہوگئی۔

یوگی جی کے حالتِ زارکی وجہ  یوکرینی صدر کی مسنند ٹیلی ویژن پر اشتہار بازی پر انحصار ہے ۔زیلنسکی اگر ٹیلی ویژن پر نوٹنکی کرنے کے بجائے اپنی گوریلا فوج تیار کرتے تو روس کا وہی حال ہوتا جو افغانستان میں ہوا تھا لیکن میدان عمل میں لڑنا اور چیز ہے اور  ٹیلی ویژن پر جھوٹ پھیلانا بالکل مختلف ہے۔ یوگی کی  سرکار نے  ترقی کی تشہیر پر اپنے بجٹ کا 8 فیصد خرچ کرکے عوام بیوقوف بنانے کی کوشش کی لیکن اگر وہ بلڈوزر چلانے اور انکاونٹر کرنے بجائے 5 فیصد بھی ایمانداری سے عوامی فلاح و بہبود پر صرف کرتے تو  دکھانے کے لیے کچھ  تو ہوتا  ۔ اس معاملے تو یوپی کے اندر  ’زیرو بٹے سناٹہ‘ ہے ۔  خدا کے فضل سے یوپی کے اندر  مسلمانوں سےڈرا  کر ووٹ بٹورنے   کا کھیل ختم ہوچکا ہے اس لیے عالمی حالات سے خوفزدہ کرکے    مودی جی ’ یوکرین کے نام کچھ دے دے بابا‘ کی صدا لگا رہے ہیں لیکن  عوام تو یوکرین سے ہندوستانی طلباء کی آہ و بکا سن سن کر پریشان ہے ۔ طلباء مودی سرکار سے مدد مانگ رہے ہیں اور وزیر اعظم ان کی جانب توجہ دے کر عوام کو یہ  بتانے کے بجائے کہ ابھی تک ان کی حکومت نے اپنے شہریوں کو واپس لانے کے لیے کیا کیا؟ اور آگے کیا کرنے جارہے ہیں ؟ عوام سے  سوال کررہے ہیں کہ ایسے غیر یقینی  حالات میں  مضبوط قیادت کی ضرورت کتنی ہے؟ اس سوال کا جواب تو یہ ہے کہ یقیناً ضرورت ہے لیکن مودی جی آپ کے اندر وہ دم خم نہیں ہے ۔  آپ نہ عالمی سطح پر  اثر انداز ہوپارہے ہیں اور نہ اپنے شہریوں کو بروقت  واپس لانے میں کامیاب ہوسکے ہیں ۔ اس لیے خود اپنے دعویٰ کے مطابق ’ جھولا اٹھائیے اور چل دیجیے‘۔ بدری ناتھ اور کیدار ناتھ دھام آپ کا انتظار کررہا ہے۔