’’ ادب و فن کی گہری مشاقی و ریاضت اور اخلاص نے کیفی اعظمی کومیسر مواقع کو کامیابی میں بدلنے کا خوب کردار ادا کیا‘‘

Education

’’ ادب و فن کی گہری مشاقی و ریاضت اور اخلاص نے

 

کیفی اعظمی کومیسر مواقع کو کامیابی میں بدلنے کا خوب کردار ادا کیا‘‘

 

کلکتے میں مغربی بنگال اُردو اکادیمی نے ممتاز ترقی پسند شاعر کیفی اعظمی کی صد سالہ  یوم پیدائش پر یک روزہ’’ یادِ کیفی‘‘ کا اہتمام کیا

14جنوری2022  کو مغربی بنگال اُردو اکادیمی نے ممتاز ترقی پسند شاعر (سید اطہر حسین رضوی)کیفی اعظمی کے صد سالہ یوم پیدائش پر کلکتے میںسَہ روزہ’’ یادِ کیفی‘‘ کا اعلان کیا تھا جس میں ممبئی سے کیفی کی دُختر شبانہ اعظمی اور مشہور شاعر جاوید اختر خصوصی طور پر مدعو کیے گئے تھے مگر عین موقع پر ’کووِڈ‘ کے خدشات کے سبب یہ پروگرام ملتوی ہوا مگر اکادیمی مذکور کے نائب چئیر مین ندیم الحق( روزنامہ اخبار مشرق۔ کلکتہ) اور مہتمم اکادیمی ڈاکٹر دبیر احمد نے ’یاد کیفی کے ‘پروگرام کو ’’ کووِڈ‘‘ ضابطوں کو ملحوظ رکھتے ہوئےیک روزہ تقریب میں بدل دِیا اور یہ پروگرام مغربی بنگال اردو اکادیمی کی پُر شکوہ عمارت کے ایک ہال میں(15جنوری کو) منعقد کیا گیا۔

  یہ  تقریب صبح دس بجے شروع ہوئی اور شام تک جاری رہی۔ جس کے پہلے سیشن (سمینار)میں کلکتے کے کئی معروف اہل قلم نے کیفی اعظمی کی شخصیت اور ان کی ادبی و فلمی تخلیقات پر کلام کیا۔ بالخصوص کلکتے کی ایک ممتاز اُستاد محترمہ نصرت جہاں نے اپنے مقالے میں بہت سلیقے سے   کیفی اعظمی  کے فکر و فن پر روشنی ڈالی۔ ظہرانے کے بعد دوسرے سیشن میں لکھنؤ سے آنے والے معروف شاعر اور ٹی وی اینکر حسن کاظمی نے کیفی اعظمی کے اس کردار کہ وہ اپنے چھوٹوں کے ساتھ کس قدر شفقت برتتے تھے، بہت تفصیل سے اپنے تجربات و واقعات سنائے ۔ جبکہ ممبئی کے سینئر صحافی اور اُردو کے معروف شاعر و ادیب ندیم صدیقی نے کیفی اعظمی کے تشخص اور ان کی ادبی و فلمی کارکردگی نیز ترقی پسند تحریک کے اصول و نظریات کی پاسداری کو اپنی گفتگو کا موضوع بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کیفی مرحوم نے اپنی ادبی اور تحریکی زندگی مہاراشٹر( ممبئی) سے شروع کی اور اسی کی خاک میں وہ آسودہ ہوئے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مہاراشٹر کے اُردو والے اپنے اس سپوت کی صد سالہ یوم پیدائش  پر اس کے شایان شان پروگرام کا انعقاد کرتے مگر اس سلسلے میں مغربی بنگال اُردو اکادیمی نے بازی مار لی اور یہ کوئی عجببات یوں بھی نہیں کہ مغربی بنگال بھی ترقی پسند نظریے پر کاربند رہا ہے یہاں ترقی پسند شعرا و ادبا کی آمد و رفت بھی رہی اور یہی وہ ریاست ہے جس نے مشہور ترقی پسند شاعر و دانشور فیض احمد فیض کو اپنی جامعہ(یونی ورسٹی) میں ’’اقبال چئیر‘‘ کے قیام پر اس کی سربراہی کی دعوت دی تھی۔

 ندیم صدیقی نے کیفی کی نظم ’’ کلکتہ‘‘ کا بھی ذکر کیا اور نئی نسل کو ترغیب دی کہ وہ کیفی اعظمی اور دیگر رفقائے ترقی پسند کے کردار و ایثار کا مطالعہ کریں کہ انہوں نے اپنی تحریک کے اصولوں اور اس کی پاسداری میں کس قدر سختی سے عمل درآمد کیا ،کیفی اعظمی سمیت اکثر ترقی پسند رائٹر ، تحریک کے ترجمان اخبار ’’ قومی جنگ‘‘ میں نہ صرف لکھنے لکھانے پر مامور تھے بلکہ وہ سڑک پر آکر اخبار بھی عوام میں فروخت کرنے کا کام  کرتے تھے، یعنی وہ اپنے عوام سے جڑے ہوئے تھے۔ ان کو بہت معمولی اُجرت ملتی تھی مگر وہ اس کے شاکی نہیں بلکہ اس پر قانع رہے۔ ان کے نظریات سے اختلاف تو ممکن ہے مگر اپنی تحریک اور اس کے اصولوں سے ان کا اخلاص ہر شک و شبہے سے بالاتر تھا۔ ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ فطرت کسی کی سعی رائیگاں نہیں جانے دیتی۔ ان لوگوں میں کیفی اعظمی سمیت کئی حضرات ایسے ہیں جن کو آسودگی اور آسائش بھی میسر ہوئی مگر اس کے پسِ پشت ان کی سخت زندگی گزاری کے ساتھ ادب و فن کی گہری مشاقی اور ریاضت نے انھیں میسر مواقع کو کامیابی میں بدلنے کا خوب کردار ادا کیا۔

 کیفی اعظمی اور ان کے اکثر رفقا شہرت و تشہیر کے سراب سے دور رہے جبکہ ان کی ادبی خدمات کا یہ بھی ایک ثمرہ ہے کہ مغربی بنگال میں آج انھیں عزت و توقیر کے ساتھ یاد کیا جارہا ہے۔

 کیفی اعظمی نے فلموں میں اپنے قلم کی جو رنگینیاں بکھیری ہیں وہ بھی ہر طرح سے یادگار ہیں۔

 ’’ یادِ کیفی‘‘پروگرام کے آخری حصے میں انکے لکھے ہوئے گیت و نغمے کی محفل آراستہ ہوئی اور اخیر میں اکادیمی کے سرکردہ رکن ڈاکٹر دبیر احمد نے تمام مہمانوں اور جملہ شرکا کا شکریہ ادا کیا اور اکادیمی کے نائب چئیرمین ندیم الحق سے یہ عندیہ بھی ملا کہ آج کا پروگرام ’’ یادِ کیفی‘‘ کی ایک بڑی تقریب کی ابتدا ہے، حالات ساز گار ہوتے ہی ہم جلد ہی کیفی اعظمی کے شایان شان یہ پروگرام ضرور کریں گے۔

تصویر میں پروگرام کی مختلف مناظرآپ کے پیش نظر ہیں۔ ایک تصویر میں مغربی بنگال اردو اکادیمی کے نائب چئیر مین جناب ندیم الحق اپنے مہمان ندیم صدیقی کا خیر مقدم کرتے ہوئے بھی نظر آرہے ہیں۔