مسلم دنیا کے بدلتے مزاج اور حالات سے ہمارے طلبہ کیا سبق لیں!(دوسری قسط)

Education

راہ نما: مبارک کاپڑی

مسلم دنیا کے بدلتے مزاج اور حالات سے ہمارے طلبہ کیا سبق لیں!(دوسری قسط)

سائنس و ٹکنالوجی اور معیشت کے محاذ پر غفلت وکوتاہی کے اسباب و نتائج!

ہمیں بیش قیمت قدرتی وسائل حاصل ہیں۔ ہم عالمی سطح پر اُن سے سرخرو ہونے اور کم از کم اپنادفاع کرنے میں ناکام کیوں ہوئے آئیے اس کا مکمل جائزہ لیں۔

اُس بیش قیمت خزانے کا کیا ہوا؟

            مسلم ممالک کو قدرت نے جوتیل و قدرتی گیس کی شکل میں بیش قیمت خزانوں سے نوازاہے، اُن کا کیا ہوا؟ ملاحظہ کیجئے:

(۱) پیٹرولیم کے اُن خزانوں کو سمندر کی تہہ سے نکالنا اور اُنھیں محفوظ کرنے کی ٹکنالوجی سے اکثر مسلم ممالک نابلد ہیں اس لیے اُنھیں یورپی اور مغربی ممالک پر منحصر رہنا پڑتا ہے۔

 

(۲) اِن ممالک نے دفاع کی ٹکنالوجی میں کوئی پیش رفت نہیں کی اس لیے اُن فیلڈ میں امریکہ، برطانیہ، فرانس وغیرہ کو اپنا اِمام بنانا پڑا۔ وہ عالمی طاقتیں اُن کے دفاع کے لیے سارے ہتھیار و میزائیل مہیّا کرانے کو تیار تو ہوتے ہیں مگر اُس کے عوض میں وہ اِن ممالک سے تیل اور پیٹرولیم وغیرہ اپنی شرطوں پر حاصل کرتے ہیں۔

 

(۳) گزشتہ ہفتے خلیج کے ایک مسلم ملک پر دشمنوں نے ڈرون سے حملہ کیا۔ اُس کے دفاع کے لیے امریکہ اوراسرائیل تک نے دفاعی میزائیل کی پیشکش کی۔ ظاہر ہے ایسی پیشکش کرتے وقت اُن ممالک کی نظریں صرف تیل کے کنوؤں پر ہوں گی۔

 

(۴) عصری علوم سے بیزاری و نفرت کا نتیجہ یہ ہے کہ میزائیل تخلیق کرنا دُور کی بات ہے، چھوٹی موٹی مشنری کے لیے بھی اِن عالمی طاقتوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے جواِن مسلم ممالک کی قدرتی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔

 

(۵) دراصل قدرت نے اِن مسلم ممالک کویہ کب کہا تھا کہ یہ قدرتی وسائل کبھی نہ ختم ہونے والے ہیں؟ تیل کے خزانے کے زعم میں اِن مسلم ممالک نے اپنی نئی نسل کو تعلیم و ٹیکنالوجی سے دُور رکھا۔ہم پیٹرولیم انڈسٹری و انجینئرنگ کے طلبہ کو بتانا چاہیں گے کہ آج رفتہ رفتہ سعودی عرب کی تیل کی عالمی اجارہ داری ختم ہورہی ہے۔ تیل کے ایکسپورٹ میں اُس کا عالمی سطح پر حصّہ ۰۲/فیصد تھا وہ گھٹ اب ۲۱/فیصد ہوگئی ہے۔اب ٹیکساس، میکسیکو، برازیل،وین زولا وغیرہ میں تیل کی ریفائنری کے کام جدید مسلم طریقے سے ہورہے ہیں۔

 

(۶) اِن مسلم اکثریتی ممالک کی اپنی کوئی لُغت بننی چاہئیے تھے۔جس میں درج ہونا چاہیے تھا، تیل کے ’ت‘  سے تعلیم، تنظیم، تعمیر، تہذیب اور تاریخ نویسی۔ بصیرت و ویژن سے عاری اِن ممالک میں اعلیٰ تعلیم کا اپناکوئی نظم نہیں۔ اس لیے اِن ممالک کے نوجوان مغربی ممالک کی طرف چل پڑتے ہیں۔ اِن میں سے اکثریت کبھی واپس نہیں آتی یہ سوچ کر کہ اُن کے ملکوں میں واپس جاکر فائدہ کیا ہے۔جہاں تحقیق وتخلیق کے سارے راستے مسدود ہیں۔ آگے چل کر اُن کی نئی نسلوں کوبھی اعلیٰ تعلیم کے حصول میں رُکاوٹیں آنے والی ہیں ا س لیے مسلم ممالک کے وہ نوجوان مغرب اور مغربی تہذیب کے ہوکر رہ جاتے ہیں۔

 

(۷)تیل سے تعلیم پیدا کرنے میں ناکام اِن مسلم ممالک میں بعد از خرابیئ بسیار لگ بھگ ۰۰۸۱/یونیورسٹیاں قائم ہوئی تو ہیں البتّہ کسی بھی یونیورسٹی کو اعلیٰ معیاری اُس وقت کہا جاتا ہے جب اُن کے پروفیسر اور محققین کے مقالے عالمی معیار کے تحقیقی مجلّوں میں شائع ہوتے ہیں۔تیل اور قدرتی خزانے سے لبریز اِن مسلم ممالک کے بمشکل دس فیصد اسکالروں کے مقالے عالمی سطح کے رسالوں اور مجلّوں میں شائع ہوتے ہیں۔

(۸)یہ مسلم اکثریتی ممالک اعلیٰ تعلیم میں اس درجے پسماندہ کیوں ہیں؟ جن مغربی ممالک کو کوسے بغیر ہمارے اکابرین کی تقریر و تحریر پوری نہیں ہوتی وہ ممالک اپنی جی ڈی پی (مجموعی ملکی پیداوار) کا ۵/فیصد تک حصہ تعلیم کی مد دمیں کرتے ہیں جب کہ سارے مسلم ممالک میں صرف ملیشیا واحد ملک ہے جو اپنی جی ڈی پی کا ایک فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔ جی ہاں جس قوم کی آخری کتاب میں پہلا درس ’اقراء‘ کا دیا گیا اُس کی ترجیحات میں وہ لفظ شامل ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تعلیم و ٹکنالوجی کے علوم کے حصول میں دنیا کے ترقی یافتہ ۵۲/فیصد ممالک میں اسرائیل تو شامل ہے البتّہ کوئی مسلم ملک نہیں۔

معیشت بیزاری:

            دوستو! پتہ نہیں کیوں یہ قوم معاشیات کے محاذ پر بھی بُری طرح ناکام رہی۔ آج عالمی سطح پر مسلم ممالک کی اقتصادیات سے پیش رفت کی ہلکی سی جھلک دیکھ لیں:

 

(۱) دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو ٹوٹ رہی ہے اور اب اپنا پبلک ایشو بھی نکال چکی ہے۔

 

(۲) مسلم اکثریتی ممالک کی نصف تعداد غریبی سے نچلی سطح پر جی رہی ہے۔

 

(۳)ہمارا پڑوسی مسلم ملک ۷۴۹۱ء میں جب آزاد ہوا تب ڈالر اُس ملک کی کرنسی کی قیمت کے صرف دوگنا تھا جی ہاں ایک ڈالر برابر پاکستانی دو روپے۔ آج ایک ڈالر ۶۷۱/پاکستانی روپے کے برابر ہے۔ ہم کامرس و اقتصادیات کے طلبہ کو اس کے اسباب بھی بتانا چاہیں گے اور وہ یہ ہے کہ لگ بھگ پورے برِّ صغیر کی نام نہاد مسلم قیادت صرف جوشیلے و جذباتی پن پر قائم رہی ہے۔ اس کے لیے سب سے زیادہ استحصال صدی کے سب سے بڑے مفکّر شاعر مشرق کے کلام کا کیا گیا۔ زندگی سے بھرپور کلام کو سمجھنے اور اُس پر عمل کرنے کے بجائے اُن کے کلام (خصوصیات کو وہ جواب شکوہ) سے مسلم نوجوانوں کو صرف جوشیلا و جذباتی بنایا گیا۔ بدبختی سے یہ قائدین، نئی نسل کی ایک بڑی تعداد کو بہکانے اور بھٹکانے میں کامیاب رہی اور اس طرح صدیوں تک تمام علوم میں دنیا کی رہنمائی کرنے والی اس قوم کی نئی نسل اپنی منزلوں سے بھٹکتی گئی۔

 

(۴)اس ضمن میں طلبہ کی ہم یہ رہنمائی کرنا چاہیں گے کہ ہمارے اکابرین کی ایک بڑی اکثریت کئی دہائیوں سے نئی نسل کو ایک گھسی پِٹی اسکرپٹ سُنا رہی ہے۔اُس میں زندگی و زمانے کے نئے تقاضوں سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی ترغیب دینے والے چند جملے یا چند الفاظ بھی شامل نہیں۔ ہمیشہ یہ کہا جاتا ہے کہ موت برحق ہے (جو صد فی صد درست ہے) مگر کبھی یہ نہیں کہا جاتا کہ جدّ وجہد حیات بھی برحق ہے اوراس جدّ وجہد حیات کا سارا سامان صحیح و جائز طریقے سے حاصل کرنا بھی برحق ہے۔ جدّ وجہد حیات میں پچھڑنے کا سب سے بڑا سبب یہی ہے۔ نوجوانو! پہلے اس کا اعتراف کرلیں کہ اس غفلت کی بناء پر ہم اور ہماری قوم دو اہم جہات (الف) سائنس اور ٹیکنالوجی اور (ب) معیشت پر میلوں پچھڑی ہوئی ہے۔ اس غفلت و کوتاہی کا اعتراف کریں گے تبھی نئے سفر کا آغاز ہمارے لیے ممکن ہوپائے گا۔(جاری)