ہز ہولی نیس ایم ایس انگلش اسکول کا افتتاح

Beed

ہز ہولی نیس ایم ایس انگلش اسکول کا افتتاح

            سلام ایجوکیشن اینڈآدر ویلفیئر سوسائٹی، بیڑ کے زیر انصرام ہز ہولی نیس  ایم  ایس  انگلش میڈیم (CBSE)  اسکول کا افتتاح مشہور ماہر تعلیم ڈاکٹر خواجہ شاہد (ریٹائرڈ IAS آفیسر، سابقVC مولانا آزاد اُردو یونیورسٹی حیدرآباد، سابق رجسٹرار،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، AIEM کے صدر)کے ہاتھوں عمل میں ا ٓیا۔

            یہ تقریب سرپرست اعلیٰ محمد ابراہیم انوری کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ ڈاکٹر محمد صفی انوری نے اس تقریب کے مقاصد کو شرکاء کے رو برو پیش کیا۔ انگلش اسکول کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انگریزی اسکول شروع کرنے کا مقصدانگریزی کے ساتھ ساتھ اپنے طلباء میں آسانی کے ساتھ انگریزی زبان اور ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ با اخلاق و باکردار رہنا آج وقت کی اہم ضرورت ہے۔مقابلہ جاتی امتحانات میں نمایاں کارکردگی، اور قائدانہ صلاحیت پیدا کرنا ہے۔

            ہز ہولی نیس  MS(CBSE)  انگلش میڈیم اسکول، ایک جدید اور جامع تعلیمی پروگراموں کو فروغ دینے کے لیے،  جدید دور کی تدریسی درس گاہ کوقائم کرنے کے عزم کے ساتھ ایک اسلامی اور سیکھنے کا ماحول فراہم کرے گا۔ KG سے کلاس 8  تک کی تعلیم  CBSE نصاب کے ساتھ مکمل طور پر تعمیل، معروضی سوال و جواب کی مشق، مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی کا مقصد۔ اسکول کی سطح پر مختلف مسابقتی امتحانات جیسے، MMS،   NTSE، اولمپیاڈ وغیرہ کا انعقاد کرکے اپنے طلباء میں دلچسپی کو فروغ دینا اور ملک کے مضبوط رہنما کے طور پر ان کی تعلیمی صلاحیتوں کو بااختیار بنانا ہے۔  ”وژن  IAS ،2030“  کا اہم مقصد ہے۔

            اس موقع پر مشہور ماہر تعلیم ڈاکٹر خواجہ شاہد نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور طلباء کو ہندوستانی انتظامی خدمات میں شامل ہونے اور ہندوستان  کے مسقتبل کو  روشن بنانے کی ترغیب دی۔

            ڈاکٹر عبدالقدیر (شاہین گروپ آف ایجوکیشن) نے ”چراغ سے چراغ جلے“ اس محاورے کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کی،  ”نسل ہی اصل ہے“  اس جملے کو بار بار دہرایا۔  سبھی تعلیمی اداروں کا ایک دوسرے سے روابط ہونے چاہیے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبا کی صحیح تربیت پر زور دیا جائے۔

             سید منصو ر آغا(سابقہ ایڈیٹر قومی آواز  و  صدر دلی مجلس مشاورت) نے اپنے خطاب میں طلباء،  سرپرست،  اساتذہ کرام اور سلام ایجوکیشنل سوسائٹی کے ذمہ داران و دیگر تعلیمی انجمن کی حوصلہ افزائی کی۔

            ڈاکٹر حلیمہ سعدیہ(ڈپٹی ڈائرکٹر آف ایجوکیشن وقف بورڈ، نئی دہلی) نے اپنی تقریر کا آغاز شرکاء سے ایک سوال کے ذریعے کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس تقریب میں آپ کس مقصد سے شریک ہوئے ہیں...؟  ڈاکٹر صاحبہ نے بڑے ہی دلکش انداز میں تعلیم کا مقصد اور اس کی ضرورت کو سامعین کے روبرو پیش کیا۔

            معیاری تعلیم صدی 2021  کے عنوان سے بین المدارس مقابلوں کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں شہر بیڑ کے مختلف تعلیمی اداروں نے حصہ لیا۔ حضرت منصور شاہ ہائی اسکول  شاہو نگر، حضرت منصور شاہ پرائمری اسکول  وڑونی، حضرت منصور شاہ اُردو پرائمری اسکول  جمعہ پیٹھ، الہدیٰ اُردواسکول، الفاروق اُردو اسکول، ایڈمس انٹرنیشنل انگلش اسکول، شامل تھے۔ قرات، رنگ بھرو، کیلی گرافی(پوسٹر مقابلہ)، طغریٰ نویسی، خوشخطی،مضمون نویسی اور نظم گوئی(مسد س حالیؔ) یہ مقابلے لیے گئے۔ سرفہرست آنے والے طلبا کو مومنٹو، میڈل اور سرٹیفیکٹ سے نوازا گیا۔

            اس تقریب میں شہر بیڑ کے نامور  اداروں کے ذمہ داراوں کے علاوہ کثیر تعداد میں صدر مدرسین، اساتذہ، سرپرست اور دیگر شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے افراد  موجود تھے۔

             تقریب کا آغازتلاوت کلام پاک سے صائم شمشیر خان اور عبد الماجد محمد اسلم انوری نے کیا۔ عائشہ ہارون باغبان نے سرور کائنات حضر ت محمد ؐ  کی خدمت میں نعت پاک کا نذرانہ پیش کیا۔ایم ایس انگلش اسکول کی طالبات نے اسکول کا ترانہ دلکش انداز میں سنا کر شرکاء کا د ل موہ لیا۔

            اس تقریب کی نظامت ایم ایس انگلش اسکول کے پرنسپل شبانہ کوثر میڈم اور حضرت منصور شاہ اُردو ہائی اسکول کے مدرس منہاج احمد خان نے انجام دی۔

             منصور شاہ گروپ آف اسکولس کا تدریسی اور غیر تدریسی عملہ نے اس تقریب کو کامیاب بنانے کے لیے انتھک محنت کی۔