کورونا لوٹا اومی کرون کی شکل میں

National

کورونا لوٹا اومی کرون کی شکل میں

فہیم اختر، لندن

 

            چند مہینے قبل کورونا وائرس کی نئی قسم ڈیلٹاسے نجات پانے کی امید میں کچھ پل کے لیے خوش ہوئے ہی تھے کہ پھر لندن اور برطانیہ میں کورونا کے نئے قسم اومی کرون کیس کے بڑھنے سے لوگوں میں خوف اور مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

 

            دسمبر 2021کے پہلے ہفتے سے شروع ہونے والی اومی کرون نے پورے ملک میں خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ کیا بچے، کیا بوڑھے اور کیا جوان، سبھوں کو اپنے جان کی فکر لگی ہوئی ہے۔پچھلے دو سال میں پوری دنیا میں جس طرح سے کورونا سے لاکھوں لوگوں کی موت ہوئی ہے، اس سے تو ہماری نیند اب تک حرام ہے۔

 

             دنیا اومی کرون کے سونامی زد میں ہے۔ سائنس داں، سیاست دان اور در حقیقت ہم سب اس بات سے دوچار ہیں کہ ہماری زندگی کے لیے اس کا کیا مطلب ہے۔ پچھلے دو سال سے شروع ہوئی کورونا نے ہماری زندگی کو کبھی پریشانی، تو کبھی کورونا ویکسن سے مثبت نتیجہ تو کبھی کورونا کے دوبارہ لوٹنے سے نا امیدی،کے جال میں پھنسا کر رکھ دیا ہے۔سمجھ میں یہ نہیں آرہا کہ اگر ہمیں کرونا کے ساتھ جینا ہی ہے تو پھر اس سے ہم اتنا خوف زدہ کیوں ہیں۔ہر بار ہم ویکسن لگوا کر معمول زندگی کی طرف لوٹتے ہیں تو پھر کورونا کی نئی قسم اس پر پانی پھیردیتی ہے۔اب تو حکومت چوتھی کورونا ویکسن دینے کی بات کر رہی ہے تو وہیں لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہے۔

 

            اخبارات اور ٹیلی ویژن پر کورونا کی نئی قسم اومی کرون کی سرخیوں نے پھر اپنا سکہ جما دیا ہے۔ یعنی خبریں کورونا کے پھیلنے سے لے کر حکومت کے احکامات سے بھری پڑی ہیں۔ سوشل میڈیا کی مقبولیت نے اب بی بی سی اور دیگر خبر ایجنسیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور سوشل میڈیا کی تیز رفتار پوسٹ سے اتنی خبریں مل جاتی ہے کہ ان ایجنسیوں پر جا کر خبروں کو دیکھنا ور سننا اب ضروری نہیں رہا۔ یوں بھی انٹر نیٹ کی سہولیت اور ویب کی آسانی سے خبروں کو جاننے میں اب ذرا دیر بھی نہیں لگتی ہے اور اس کام کو ہتھیلی پر لئے ہوئے موبائل نے اور آسان بنا دیا ہے۔تاہم دل کی تسلی کے لیے دن بھر میں کئی مرتبہ ہم کسی طرح خبروں پر ایک نظر ڈال ہی لیتے ہیں۔۔ تاکہ کم سے کم کہیں سے کوئی اچھی خبر سننے کو مل جائے۔میں بھی اوروں کی طرح خبر پر گہری نظر رکھے روز یہی دعا مانگ رہا ہوں کہ یا اللہ آخر ہمیں کب اس سے نجات ملے گی۔

 

            دسمبر میں جب ساؤتھ افریقہ سے اومی کرون کی شروعات کی خبر ملی تو کچھ پل کے لیے گھبراہٹ تو ہوئی مگر یہ بھی اعتماد رہا کہ ہم نے تو ایک نہیں، دو نہیں بلکہ تین کورونا ویکسن لگوائے ہیں تو ہم کیوں ڈریں۔لیکن جوں جوں وقت گزرا مت پوچھیے، یوں محسوس ہوا کہ اومی کرون تو صرف برطانیہ میں ہی ہے۔دیکھتے ہی دیکھتے کورونا کی پچھلی دو لہروں کی طرح اومی کرون خبروں کی سرخیاں بن گئی۔ اومی کرون کیسز ایک، دو، تین کے بعد سو پھر ہزار اور پھر ایک سو ہزار کو بھی تجاوز کر گئی۔اب تو خوف آنا ہی تھا۔ حکومت نے لوگوں سے تیسری ویکسن لگانے کی اپیل کرنے لگی۔ سائنسداں اپنے منفرد انداز میں کبھی ’ہاں‘ اور کبھی ’نا‘ کہنا شروع کر دیا۔ یعنی کہ اومی کرون دھیرے دھیرے برطانیہ میں قیامت برپا کرے گی تو کچھ سائنسدانوں نے کہا کہ برطانیہ کچھ زیادہ ہی اومی کرون کو لے کر ہنگامہ برپا کر رہا ہے۔ جبکہ کچھ سائنسدانوں نے کہا کہ ابھی یہ پتہ لگانا مشکل ہے کہ اومی کرون کس حد تک اثر انداز ہوگا۔گویا جتنے منہ اتنی باتیں۔کرسمس سے قبل تو عالم یہ تھا کہ چھ وزرا نے اپنے اپنے طور پر اتنی مختلف باتیں کہیں کہ لوگوں کا ذہن بپھر گیا کہ آخر وہ کس کی سنے اور کس کی نہ سنے۔

 

             شروع دنوں میں اومی کرون جب پھیلا تومیں لوگوں سے یہی کہہ رہا تھا کہ اومی کرون ممکن ہے اتنا اثر انداز نہیں ہوگا جتنا کہ اس سے قبل ڈیلٹا(یہ کورونا کی دوسری لہر کا نام ہے) ہو اتھا۔کیونکہ اس بارجن لوگوں نے نزلہ، زکام، بخار اور کھانسی کے بعد لیٹرل فلو ٹیسٹ کیا تو ان کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا۔ جس سے برطانیہ میں اومی کرون کے کیسز بہت زیادہ پائے جارہے ہیں۔ تاہم کورونا ٹیسٹ میں اگر آپ کو بخار، بدن میں درد، زکام، کھانسی وغیرہ ہوں تو عام طور پر ٹیسٹ مثبت آتا ہے۔ لیکن پچھلے دو کورونا کی لہروں کے دوران زیادہ تر لوگوں میں سانس لینے میں تکلیف ایک بات عام تھی جس کی وجہ سے انہیں ہسپتال میں بھرتی ہونا پڑا تھا۔اس کے علا وہ زیادہ تر لوگ زیادہ سے زیادہ تین چار روز ہی الگ تھلگ رہے اور پھر ان کی طبعیت ٹھیک ہونے لگی۔اس لئے اس بار اومی کرون ہونے کے باوجود بہت سارے لوگ ہسپتال نہیں گئے۔میں نے اپنے کام کے ساتھیوں سے جب بات کی تو انہوں نے یہی کہا کہ انہیں بخار آیا، بدن میں درد اور زکام ہوا۔ جس کے بعد انہوں نے ہسپتال اور حکومت کی ہدایت پر لیٹرل اور پی سی آر ٹیسٹ کروایا۔ جس میں نتیجہ مثبت پایا گیا۔ اس کے بعد حکومت کے گائیڈ لائن کے تحت آپ کو دس روز الگ تھلگ رہنا ہوگا جسے بعد میں گھٹا کر سات روز کر دیا گیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ برطانیہ میں ہسپتال، پولیس، اور دفاتروغیرہ میں لیٹرل فلو ٹیسٹ کے مثبت دکھانے سے کام کرنے والے لوگوں کی کمی ہوگئی۔جس سے کئی اہم شعوبوں کو بحالتِ مجبوری بند کردینا پڑاہے۔

 

            تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کووِڈ ڈیٹا کی نگرانی کر رہی ہے جہاں ابتدائی مطالعات سے پتہ چلا ہے کہ اومی کرون ویرئینٹ، ڈیلٹا ویرئینٹ کے مقابلے میں ہلکی بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔سائنسدانوں نے کہا کہ اب تک اومی کرون کے جانچ کے نتائج ایک اچھی خبر ہیں۔ لیکن یہ بھی انتباۃ کیا کہ کیسز کی ایک بڑی لہر اب بھی این ایچ ایس(نیشنل ہیلتھ سروس) کو زیر کرسکتی ہے۔ جس کی ایک وجہ لوگوں کا روزانہ ٹیسٹ ہے جس سے کیسز کو بڑھتے ہوئے دکھایا جارہا ہے۔تاہم ڈیٹا سے یہ بھی پتہ چلا کہ اومی کرون سے متاثر لوگوں کی ہسپتال میں علاج کی ضرورت کم ہے۔

 

            دریں اثنا، جنوبی افریقہ جہاں سے اومی کرون کی شروعات ہوئی ہے، اس کے ٹیسٹ کے ایک تحقیق میں اومی کرون کی لہر کے ہلکے ہونے کی طرف بھی اشارہ دیا ہے۔جس سے ظاہر ہوتا ہے اومی کرون سے متاثر لوگوں کو ہسپتال میں علاج کی ضرورت کا امکان کم ہے، جیسا کہ کورونا کی پہلی دو لہروں میں ہسپتال مریضوں سے بھر گئے تھے اور کافی اموات بھی ہوئی تھیں۔تاہم ڈبلو ایچ او(ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن) نے کہا کہ اومی کرون کے مختلف اقسام سے لاحق خطرہ اب بھی بہت زیادہ ہے۔ کیونکہ عالمی سطح پر کووِڈ کیسز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

 

            کورونا وباجب سے شروع ہوئی مختلف ماہرین ا س سے بچنے کے لیے اپنے اپنے طور پر مشورہ اور وارننگ دے رہے ہیں۔ جس سے بیچاری عوام شش و پنج میں ہیں۔اگر سائنسدانوں کی مانے تو ان کا کہنا ہے کہ کورونا سے بچنے کا واحد راستہ ہے گھروں میں قید ہوجائے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ماسک پہنیں، سوشل دوری بنائے رکھیں اور کورونا ویکسن اور بوسٹر لگوائیں۔تاہم سیاستدانوں نے پچھلی دو لہروں میں لاک ڈاؤن کر کے اب اس ترتیب کو دوبارہ لاگو کرنے سے گریز کر رہے ہیں کیونکہ اس سے معیشت تباہ ہورہی ہے اور لوگوں کے ذہنی صحت پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ گویا جتنے منہ اتنی باتیں اور بیچاری عوام اسی شش و پنج میں زندگی گزار رہے ہیں۔

           

            دسمبر 2021 میں کورونا کی نئی قسم اومی کرون کی آمد سے جہاں لوگوں میں ایک بار پھر خوف و ہراس بڑھاہے تو وہیں اس کے کم اثر ہونے سے لوگوں کو کچھ راحت بھی ملی ہے۔ تاہم خوف، دہشت اور ناامیدی نے بہت سارے لوگوں کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دی ہے اوردنیا بھر میں لوگ اومی کرون کی آمد سے بے حال و پریشان ہیں۔جس سے کہیں روزگار کا مسئلہ ہوگیا ہے تو کہیں لوگوں کی زندگی قید ہوگئی ہے تو کہیں لوگ اسی بات میں الجھے ہوئے ہیں کہ کورونا سے کب نجات ملے گی اورلوگوں کی ذہنی صحت دن بدن تخفیف ہورہی ہے۔ خیر ہم تو اللہ سے یہی دعا کرے گیں کہ اللہ ہمیں اس بلا سے جلد از جلد نجات دے۔آمین

 

فہیم اختر، لندن

fahimakhteruk@yahoo.co.uk

www.fahimakhter.co