بغیر کسی بدلے کی چاہت کے خدمت خلق جمعیۃعلماء کا وطیرہ ہے

Maharashtra

بغیر کسی بدلے کی چاہت کے خدمت خلق جمعیۃعلماء کا وطیرہ ہے

جمعیۃ علماءضلع ناگپور کے ایک روزہ تربیتی پروگرام سے مفتی سید محمد حذیفہ کا خطاب

  ناگپور ۔ 27 ؍ دسمبر 2021 ( پریس ریلیز ) انسان کی تخلیق کا مقصد خدمت خلق اور اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے،انسان کی بہت ساری برائیوں میں سب سے بڑی برائی اللہ کی ناشکری ہے،معاشرہ کے حالات معاشرے میں اترے بغیر پتہ نہیں چلیں گے،معاشرے میں اتر کر ضرورت مندوں محتاجوں کی خدمت کرنا بہت بڑا ثواب ہے صلہ رحمی کرنے والے والے اور خدمت کرنے والوں کو آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی بدلہ ملتا ہے جمعیۃ  علماءکے خدام نے شدید سے شدید حالات میں خدمت کا کام انجام دیا ہے اسلئے جمعیۃ علماء کا نام بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں میں ہوتا ہے ان زریں خیالات کا اظہارحضرت مولانا مفتی سید محمد حذیفہ قاسمی صاحب ناظم تنظیم جمعیۃ علماء مہا راشٹرنے گذشتہ دنوں کمیونٹی ہال جعفر نگر ناگپور میںمنعقدہ جمعیۃ علماء کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے جمعیۃ کے کام کرنے کے طریقہ پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایاکہ جمعیۃ علماءکے خدام بغیر کسی بدلہ کی امید کے صرف اللہ کی رضاء حاصل کرنے کے لئے کام کرتے ہیں نئی تعلیمی پالیسی کے متعلق بات کرتے ہوئے موصوف نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ کے بعد مدارس و مکاتب کے وجود کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے اسی فکر کو لے کر جمعیۃ علماءکے اکابرین حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب ( صدر جمعیۃ علماء ہند ) کی ہدایت کے مطابق جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب نے دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مدارس اور مکاتب کے طلباء اور دیگر اسکولی تعلیم سے محروم بچوں کے لئے جمعیۃاوپن اسکول کا نظام شروع کردیا ہے۔ مفتی صاحب نے اپنے تفصیلی بیان میںامت میں خدمت کرنے کے کئی طریقوں مثلا ضرورت مند طالب علم کی فیس کا انتظام کردینا، بیماروں کے لئے دوائوں کا انتظام کردینا اپنے اطراف بیوہ ،یتیم وغیرہ کے لئے راشن کاانتظام کردینا وغیرہ پرروشنی ڈالی ۔

مفتی محمد ساجد صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ہمارے بچے مستقبل میں سماج کے ذمہ دار افراد ہونگے اور انہیں ہی قائدارانہ کردار نبھانا ہے،امت کا مستقبل انہیں کے ہاتھوں میں ہے، اسلئے اگر آج ہم ان کی صحیح دینی تربیت نہیں کی تو ہمارا مستقبل بھی تاریک ہو گا،مفتی محمد عمران صاحب قاسمی نے اپنے خطاب میں کہاکہ دنیا اور آخرت میںکامیابی کا دارومدار عقیدہ پر ہوتا ہےاگر عقیدہ صحیح ہوگا تو اعمال بھی صحیح ہونگے۔ مفتی محمد عارف قاسمی صاحب نے جمعیۃ العلماء کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ بغیر جمعیۃ العلماء کی خدمات کے تذکرہ کے مکمل نہیں ہوسکتی، پہلی نشست کے اختتامی مقرر کے طور پر مولوی مسعود صاحب نے اپنے خطاب میں مقامی سطح پر جمعیۃ العلماء کی خدمات کی توسیع کس طرح کی جاسکتی ہے اس پر روشنی ڈالتے ہوئےچھوٹے چھوٹے گائوں تک جمعیۃ کی رسائی کرنے کے لئے ذیلی یونٹوں کے قیام پر زور دیا۔

اجلاس کا آغاز حافظ محمد عرفان کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا، جناب اشہر اللہ نے نعتیہ کلام پیش کیا الحاج حافظ سید عبدالجبار صاحب نے اجلاس کی صدارت فرمائی ، اس پروگرام میں مقامی علماء کرام نے اپنے تاثرات پیش کئے اور جمعیۃ العلماء کی خدمات و طریقہ کار پر روشنی ڈالی مفتی عتیق ذکی فلاحی صاحب نے نبیٔ کریم ؐ کی سیرت میںانسانیت اور انسان کی خدمت کے پہلو پر روشنی ڈالی، مفتی زبیر صاحب قاسمی نے اپنے خطاب میں نماز باجماعت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ خدمت خلق اللہ کی مدد کے بغیر نہیں ہوسکتی اور اللہ کی نصرت نماز سے حاصل ہوگی ۔ دوسری نشست کے اختتام میںجناب الحاج حافظ سید فراز عبدالجبار صاحب کے صدارتی بیان ہوا۔ جناب فاروق قیصر صاحب جنرل سکریٹری مغرب ناگپور نے آخر میں ہدیہ تشکر پیش کیا ۔اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے صدر جمعیۃ العلماء ضلع ناگپور جناب مولانا محمد سراج احمد قاسمی، جنرل سکریٹری حاجی محمد سلیم، خازن امتیاز الدین اختر، عبدالرحمٰن بھائی، حافظ ریاض الدین، عبدالرشید بھائی، سہیل قریتی محمد خلیق کانی و دیگر اراکین نے  بھر پورکوششیں کیں۔