مدارس و مساجد کی جانچ کے نام پر پولیس کی شرپسندی

Maharashtra

مدارس و مساجد کی جانچ کے نام پر پولیس کی شرپسندی

   حکومت مدارس و مساجدکے معاملات میں غیردستوری مداخلت بند کرے۔ مولانا ندیم صدیقی

ممبئی ۔ 28؍ دسمبر2021 ( پریس ریلیز ) مدارس کے تعلیمی زمرے کے تعین اور ان کے معاملات میں مرکزی و ریاستی حکومت کی مداخلت کی کوشش عرصہ سے جاری ہے کبھی مدرسہ بورڈ کے نام پر تو کبھی دینی مدارس کے طلباء کو مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم دینے اور مالی امداد فراہم کرنے کی اسکیم پیش کرکے حکومت  مدارس کے نظام تعلیم میں مداخلت کرنا چاہ رہی ہے ،اسی کی ایک کڑی یہ ہے کہ اس وقت ریاست کے کولھا پور ضلع و مہا راشٹر کے دیگر اضلاع میں واقع مدارس اور مساجد میں پولیس کی خفیہ ایجنسی کی جانب سے انکوائری کرنے کی بھی خبرملی ہے۔ ضلع کے مختلف مدارس میں پولیس مدارس کے منتظمین سے جانچ کے نام پر طلبہ واساتذہ کے فون نمبرات اور دیگر ذاتی تفصیلات بھی دینے کے لئے ذمہ داروں پر زورد ے رہی ہے ، جس کی وجہ سے مدارس اور مسا جد کے ذمہ داران میں خوف وہراس پایا جارہا ہے۔ اس خفیہ انکوائری کے خلاف جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے ریاستی صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے حکومت سے اس کو روکنے اور اس طرح ہراساں کرنے والے پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حافظ ندیم صدیقی کے مطابق ریاست کے مختلف مقامات کے مدارس سے اس طرح کی خبریں آرہی ہیں کہ پولیس اہلکار مدرسوں اور مسجدوںکے منتظمین کو انکوئری کے نام پر ہراساں کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ ان علاقوں کے ذمہ داروں سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ وہاں کے طلبہ واساتذہ بری طرح خوف ہراس میں مبتلا ہیں۔ اس خوف وہراس کی وجہ یہ ہے کہ پولیس نے مسجداور مدرسے کے ذمہ داروں کو ایک نوٹس بھیجا ہے جس میںمدرسہ میں پڑھنے والے طلبہ کی تعداد، وہ کہاں کے رہنے والے ہیں، کتنے اساتذہ ہیں، کہاں سے آتے ہیں ،کیا تعلیم دیجاتی ہے ، مدرسہ اور اساتذہ کے بینک اکاونٹ کی تفصیلات،مدرسہ میں چندہ دینے والے کون کون ہیں ،ان کے فون نمبرات، آمدنی ، ذرائع آمدنی وغیرہ کے بارے میں طرح طرح کے سوالات کئے ہیں جس سے مدرسوں میں بے چینی پھیلتی جارہی ہے۔اسی طر ح کے سوالات مساجد کے ٹرسٹیوں سے ائمہ کرام اور موذنین و خادمین کے تعلق سے بھی کئے جا رہےہیں جو کہ تشویشناک بات ہے۔

 انہوں نے کہا کہ یہ کام پولیس کی جانب سے ہورہا ہے اور ظاہر ہے کہ وزارتِ داخلہ کی ہدایت پر ہورہا ہے۔مولانا ندیم صدیقی نے اس معاملے میں فوری طور پر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس طرح کی جانچ بند کرائے اور مدارس کے منتظمین کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف کارراوئی کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگرحکومت کو مدارس کی جانچ ہی کرنی ہے تو تمام مدارس اس کے لئے تیار ہیں ، لیکن اس کے لئے جو دستوری طریقہ ہے وہ اختیار کیا جائے۔ محکمہ تعلیمات کے ذریعہ مدارس کی انکوائری کرائی اورمہا راشٹر وقف بورڈکے ذریعہ مساجد کی انکوئری کرائی جائے ۔ لیکن پولیس کی جا نب سے ہونی والی انکوائری غیر دستوری طریقے سے کی جا رہی ہے ، جوکہ نہ صرف غیر آئینی اور غیر قانونی ہے بلکہ مدارس و مساجد پر دبائو بنانے کا ہتھکنڈہ ہے تاکہ مدارس و مساجد کو معاشی امداد پہونچانے والے لوگ تعاون کرنے سے پر ہیز کریں ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اس طرح کے واقعات کو روکے اور مدارس کے معاملات میں غیردستوری مداخلت بند کرے۔انہوں نے مدارس اور مساجد کے ذمہ داروں سے اپیل کی ہے کہ انکوائر ی کرنے والے آئیں تو پہلے ان سے دریافت کریں کہ کس کے حکم پر یہ انکوائری کی جا رہی ہے اور ساتھ ہی ان سے اس کی آڈر کاپی طلب کریں ۔