مدارس کو اب جزیرہ نما قلعوں سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے : ڈاکٹر فہیم اختر ندوی 

Education

مدارس کو اب جزیرہ نما قلعوں سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے : ڈاکٹر فہیم اختر ندوی 

 

25 دسمبر ۲۰۲۱ پریس رلیز، ہندوستان میں مدارس اسلامیہ کا مستقبل- عالمی تعلیمی کانفرنس

 

کل ہند طلبہ مدارس طلبہ مدارس فورم اور انجمن علماء اسلام کے باہمی اشتراک سے منعقد دس روزہ آن لائن عالمی تعلیمی کانفرنس کا چوتھا دن آج بھی اپنی آب و تاب کے ساتھ منعقد ہوا، جس میں ملک و بیرون ملک کے مؤقر علمی شخصیات نے شرکت کی، ڈاکٹر مطیع الرحمن ندوی کی تلاوت سے کانفرنس کا آغاز ہوا اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر خبیب احمد صاحب نے انجام دئیےـ مدارس سے فراغت کے بعد پیش آنے والی مشکلات پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فہیم اختر ندوی نے فرمایا کہ مدارس کو اب قلعہ بند جزیرہ سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے، کیونکہ دنیا اور گرد و پیش میں رائج زبان سے ناواقفیت تمام مشکلات کی بنیادی وجہ ہے، ظفر سریش والا نے اپنے قیمتی لیکچر میں یہ فرمایا کہ مدارس کے نصاب میں محض چند چیزوں کو جوڑنے کی ضرورت ہے، تاکہ ایک معیاری بنیادی تعلیم مل سکے اور مفتی انجنیئر، مولانا ڈاکٹر اور مختلف عہدوں پر فائز علماء تیار ہوں، ایران کی المصطفی یونیورسٹی سے شریک ہوئے حجة الاسلام سید سبط حیدر زیدی نے چند مفید مشورے بھی دئیے کہ قوم میں یہ فضا عام کی جائے کہ دین و سیاست جدا جدا نہیں ہیں، اور مدارس کا وفاق بنایا جائے اور بنیادی اسکولی تعلیم فراہم کی جائے، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی پروفیسر محترمہ کشور ظفیر صاحبہ نے فرمایا کہ مدارس میں ٹیچر ٹریننگ کے ساتھ ساتھ مدارس سے آنے والے طلبہ کو یونیورسٹی سے جوڑنے کے لئے برج کورس کرانے کے بجائے اس طرح کے انتظامات مدارس میں ہی ہونے چاہے، ریسرچ اسکالر جناب عاطف نجمی صاحب نے تعلیم کی معیار سازی اور مدرسہ سینٹرل بورڈ بنانے کی جانب توجہ دلائی،، جناب مولانا ذیشان احمد مصباحی نے مسلکی گروہ بندی پر خطاب کرتے ہوئے مدارس میں وحدت فکر کے بجائے آداب اختلاف پر زیادہ توجہ دینے پر زور دیا۔ جناب نقی احمد ندوی نے کہا کہ اس دور میں سب سے پہلے علماء کرام کو تعلیم کے متعلق اپنا نظریہ بدلنے کی ضرور ت ہے، تعلیم اور دینی تعلیم کے متعلق اہل مدارس اورانکے ذمہ داروں کا نظریہ یہ ہے کہ ہم مدارس سے دین کی خدمت کے لیے علماء پیدا کرنا چاہتے ہیں، مدارس کے قیام کا مقصد معاش یا کسب معاش نہ تھا اور نہ ہے۔ یہ نظریہ حقائق پر مبنی نہیں ہے۔ ریحان اختر قاسمی نے کہا کہ مدارس کے فضلاء کو احساس کمتری کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے خواہ وہ کسی میدان میں ہوں، مستقبل کو کارآمد بنانے کیلئے جن چیزوں کی ضرورت محسوس ہو انہیں اپنانے اور اڈوپٹ کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے. شرط یہ ہے کہ اپنے تشخص کو برقرار رکھا جائےـ مشتاق الحق سکندر نے کہا کہ آج مدارس میں دین کی بجائے مسلک کی ترویج ہو رہی ہے، بین المسالک اور بین المذاہب مکالمہ کی ضرورت ہے. علماء کو اسکلس سکھائے جائیں تاکہ ان کا دائرہ محدود نہ رہ جائے

نصاب کو اپڈیٹ کیا جائے.

اس دوران شفقت جہاں، سلمان قاسمی علیگ، لقمان عثمانی اور عبد الخالق ندوی نے مقالہ بھی پیش کیا.