پسماندگی کی بنیاد پر پانچ فیصد مسلم ریزرویشن فراہم کرنے کے معاملے میں حکومت کا رویہ افسوس ناک

Maharashtra

پسماندگی کی بنیاد پر پانچ فیصد مسلم ریزرویشن فراہم کرنے کے معاملے میں حکومت کا رویہ افسوس ناک

 جمعیۃ علماء مہا راشٹر نے مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن کا مطالبہ کیا ہے

 ممبئی 26؍ دسمبر 2021 ( پریس ریلیز ) مہاراشٹر میں مسلمانوں کو پسماندگی کی بنیاد پر پانچ فیصد ریزرویشن فراہم کرنے کے معاملے میں مہاوکاس آگھاڑی حکومت نے جو رویہ اختیار کیا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے جمعیۃ علماء نے کبھی بھی مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ پسماندگی کی بنیاد پر مطالبہ کیاہے ،ان خیالات کا اظہار آج یہاں دفتر جمعیۃ علماء مہا راشٹر واقع زین العابدین بلڈنگ بھنڈی بازار میں مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی ( صدر جمعیۃ علماء مہا راشٹر) نے اخبارات کے لئے جاری اپنے ایک صحافتی بیان میں کیا۔ انہوں نےمسلم ریزرویشن کے معاملہ پر موجودہ حکومت کی جانب سے اسمبلی میں دئیے گئے بیان اور مسلم ریزرویشن کے معاملہ کو لے کر کئے گئے ہنگاموں پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مہا راشٹر کے جومسلمان سماجی ،معاشرتی ،اقتصادی،تعلیمی اور معاشی اعتبار پسماندگی کے شکار ہیں ان کی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے ریزرویشن ناگزیر ہے۔ مہا وکاس اگھاڑی حکومت بننے کے بعد یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ یہ حکومت مسلمانوں کو  پسماندگی کی بنیاد پرریزویشن فراہم کرکے ان کے مسائل کو حل کرے گی،لیکن اب یہ معاملہ صاف ہو گیا ہے کہ مسلم ریزرویشن کی فراہمی کے سلسلہ میں خکومت کی نیت صاف نہیں ہے ۔

 مولانا ندیم صدیقی نےکہا کہ جمعیۃ علماء ہند نے ملک کی آزادی کے بعد ۱۹۵۱ء سے ہی مسلمانوں کی سماجی ،معاشرتی، اقتصادی، تعلیمی ،سیاسی اور معاشی پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن کے لئے جد و جہد کا آغاز کر دیا تھا اور اپنے تمام مر کزی و صو بائی اجلاسوں اور کانفرنسوں میں ریزر ویشن کا مطالبہ کر تی رہی ، سچر کمیٹی ،رنگا ناتھ مشرا کمیشن اور محمود الرحمن کمیٹی نے بھی مسلمانوں کی زندگی کے ہر شعبہ میں پسماندگی کو بنیاد بناتے ہوئے ریزرویشن فراہم کرنے کی سفارش کی ہے ،ان سفارشات اور جمعیۃ علماء کی کو ششوں سے ملک کی مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کو پسماندگی کی بناء ریزرویشن ملا ہے۔  ہم نے جمعیۃ علماء کے پلیٹ فارم سے مہا راشٹر میں ریزرویشن کے حصول کیلئےبے شمار اجلاس کانفرنسیںاور دھرنے کئے جس کے نتیجہ میں مہاراشٹر کی این سی پی اور کانگریس کی سابقہ حکومت نے 2014 میں جاتے جاتے مراٹھا سماج کو ۱۶؍ فیصد اور مسلمانوں کو ۵؍فیصد ریزرویشن کا اعلان کیا تھا ، لیکن ممبئی ہائی کورٹ نے اس معاملے میں عبوری حکم دیتے ہوئے سرکاری تعلیمی اداروں میں مسلمانوں کے 5 فیصد ریزرویشن کو بحال رکھا تھا، اور مراٹھا سماج کے ریزرویشن کو مکمل طور پر ختم کر دیا تھااس کے با وجو د سابقہ بی جے پی حکومت نے مراٹھا سماج کے ریزرویشن بل کواسمبلی میںپیش کرکے منظور کرالیاتھا ۔اور مسلم سماج کے ریزرویشن بل کومحض مسلم دشمنی کی بنیاد پر اسمبلی میں پیش ہی نہیں کیا ہم کو ان سے قطعا امید بھی نہیں تھی کہ وہ مسلم ریزرویشن کے لئے کچھ اقدام کرے گی ۔

 انہوں نے یہ بھی کہا کہ مہا راشٹر کے مسلمانوں کے لئے پسماندگی کی بنیاد پر دیئے گئے ریزرویشن ودیگر سہولیات فراہم کرنے جیسے حساس مسائل پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی کی قیادت میں جناب پی اے انعامدار صاحب پونہ ، ڈاکٹر ظہیر قاضی صاحب انجمن اسلام ممبئی ،بابا صدیقی صاحب سابق ایم ایل اے باندرہ ، جمعیۃ علماء لیگل سیل کے سکریٹری ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان صاحب ، مولانا محمد ابراہیم قاسمی صاحب ( صدر جمعیۃ علماء ضلع شولاپور ) مفتی محمد روشن قاسمی صاحب ( جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ودربھ) ایڈوکیٹ عشرت علی خان ودیگر پر مشتمل وفد نے کئی مرتبہ نائب وزیر اعلی اجیت داداپوار صاحب ، پی ڈبلیو ڈی کے وزیر اشوک چوہان صاحب ،وزیر محصول بالا صاحب تھورات ،سابق اسپیکر نانا پٹولے سمیت کئی کابینی وزراءسے ملاقات کرکے ان کے سامنے دو باتیں رکھی تھیں ایک یہ کہ پسماندگی کی بنیاد پر مسلمانوں کو ۵؍ فیصد ریزرویشن دیا جائے اور اس ضمن میں حکومت مہا راشٹر کی جا نب سے اٹھائے گئے خدشات اور قانونی نکاۃ پر جمعیۃ علماء کے وفد نے قانونی طور پر عدالت عالیہ سپریم کورٹ اور ملک کے دیگر ہائی کورٹس کے فیصلے کے پیش نظر مکمل ،تفصیلی اور فیصلہ کن انداز میں ہر زاویہ سے وضاحت کی تھی ۔

 دوسری بات یہ تھی کسی وجہ سے ریزرویشن دینے میں اگر تاخیر ہو رہی ہے تو اس صورت حال میں مسلمانوں کو تعلیمی ،سماجی اور پسماندگی کی بنیاد پر مراٹھا برادری کے برابر ترقی کے مواقع فراہم کئے جائیں جن میں نمایاں طور انا پاٹل ،آرتھک وکاس مہا منڈل کے طرز مسلمانوں کے لئے 12 سو کروڑ روپئے کا اعلان کیا جائے ۔ شری شاہو مہا راج اسکالر شپ کا دائرہ مسلمانوں تک تو سیع کیا جائے ،75 فیصد طلباء کی فیس ریفنڈ کی جائے ،بارتی اور سارتی سینٹر قائم کئے جائیں ، پری میٹرک ،پوسٹ میٹرک ،میرٹ کم مینس اسکالر شپ کا اعلان کیا جائے ،اقلیتی طلباء کے لئے اقامتی اسکول قائم کئے جائیں ۔ ایسے ہی دیگر سماجی و معاشی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے مراٹھا سماج کو  ترقیات کے لئے جو اسکیمات و مراعات دی گئیں ہیں وہ مسلمانوں بھی دی جائیں، جس پر انہوں نے تیقن دیا تھا کہ اس مسئلہ پر غور کیا جائے گا اور ہمیں امید ہی نہیں بلکہ یقین بھی تھا کہ مہا وکاس اگھاڑی سرکار مسلمانوں کے فلاح و بہبود کے لئے اپنے وعدوں کو نبھاتے ہوئے اقدامات کرے گی لیکن افسوس ایسا کچھ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔