مودی سر کار کے چار یار:سنگھ ،بھکت ،میڈیا اور سرمایہ دار

National

مودی سر کار کے چار یار:سنگھ ،بھکت ،میڈیا اور سرمایہ دار

ڈاکٹر سلیم خان

 عوام کو اس کا تجربہ نہیں ہے کہ ’ اچھے دن ‘کیسے آتے ہیں؟ اس لیے کہ ان کے تو آئے نہیں لیکن مشاہدہ ضرور ہے۔  لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ  کس طرح ایک چائے والا وزیر اعظم دس لاکھ کا کوٹ پہن کر بیروزگاروں کو پکوڑے تلنے کا مشورہ دیتا ہے۔  یہ اچھے دنوں کی گاڑی چار پہیوں پر چلتی ہے۔ اس میں آگے دوپہیے اندھے مقلد یعنی اندھ بھکت اور گودی میڈیا ہے اور پیچھے کے دوپہیے سنگھ پریوار اور سرمایہ دار ہیں۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ رفتار بڑھانے اور گھٹانے کا کام پیچھے کے پہیے کرتے ہیں آگے والے تو صرف توازن قائم رکھنے کی خاطر گھومتے رہتے ہیں یعنی دو دانت دکھانے کے اور دو کھانے کے ہوتے ہیں ۔پچھلے سات سالوں میں   ان چاروں کےخوب  اچھے دن آئے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ ایک کے بعد ایک یہ  ٹائر پنچر ہونے لگے  ہیں۔ کسان قانون واپسی نے سب سے پہلے سنگھ پریوار کے لیے دھرم سنکٹ کھڑا کیا کہ اگرمنسوخی  کا استقبال کیا جائے تو  وفادار کسان ناراض ہوتے ہیں اور مذمت کی جائے تو سرکار کی  مخالفت ہوتی  ہے۔ اس دوران گودی میڈیا کے پالتو اینکرس کو این بی ڈی ایس اے نے پھٹکار لگا دی۔ شیئر بازار کے گرنے سے امبانی  جیسے   بڑے وفادار سرمایہ داروں کا نقصان ہوگیا اور اندھے بھگتوں کے لیے توخیر آج کل  منہ چھپانا مشکل ہورہا ہے۔  اب سوال یہ ہے  جب چاروں پہیے پنچر ہوجائیں تو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے مودی جی سرکار کی  گاڑی چلائیں بھی تو  کیسے چلائیں؟   

 

کسان تحریک نے سنگھ پریوار کا جو حال کیا وہ تو کل کے مضمون میں بیان ہوچکا آج میڈیا اور دیگر دو یاروں کا پوسٹ مارٹم ہوگا۔ مثل مشہور ہے ’اوپر والا جب  دیتا ہے تو چھپر پھاڑ کردیتا ہے‘۔ اس دینے میں مصیبت بھی شامل ہے۔ بی جے پی کے ساتھ یہی ہورہا ہے۔ سنگھ اور بھگت (اندھےمقلد) تو پہلے ہی  پریشان تھے کہ   نیشنل براڈکاسٹنگ اینڈ ڈیجیٹل اسٹینڈرڈس اتھارٹی(این بی ڈی ایس اے)نے نیوز نیشن کے دیپک چورسیا ، ٹائمز ناؤ کے دو اینکرز راہل شیوشنکر اور پدمجا جوشی   نیزژی نیوز کو سخت لتاڑ لگائی ۔  نیوز نیشن کا دیپک تو زعفرانی اندھیر پھیلانے پر مامور ہے۔ اس نے ’کنورزن(تبدیلیٔ مذہب) جہاد ‘  کے نام سے ایک متنازع پروگرام پیش کیا تھا ۔ ذرائع ابلاغ کی انجمن نے اس کو اخلاقی حدود و قیود کی پامالی قرار دیتے ہوئے  ڈانٹ سنائی اور یو ٹیوب سمیت سارے پیلٹ فارمس سے اس ویڈیو کو ہٹانے کی تلقین کی۔  ٹائمز آف انڈیا برسوں پرانا ایک پر وقار اخبار ہوا کرتا تھا لیکن دولت کے حرص نے اسے اتنا گرا دیا اس کے ٹیلی ویژن چینل پر بھی فروری2020 دہلی کے فسادات پر  کیے گئے مباحثہ میں جانبدارای  اور عدم  معروضیت کا فیصلہ سنایا گیا۔

 

ٹائمز ناو کو 14؍ستمبر 2020 کے‘انڈیا اپ فرنٹ’ایپی سوڈ اور 23 ستمبر 2020 کو جوشی کےذریعے پیش کردہ ‘انڈیا اپ فرنٹ’کے ایپی سوڈ کو ہٹانے کا حکم دیا گیا۔ ان دونوں پروگراموں میں  این بی ڈی ایس اےکی جاری کردہ  مختلف ہدایات کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔اس چینل نے عدالتوں اور پولیس کے تجزیہ کو چنندہ طریقے سے دکھاکرسی اےاے مخالف مظاہرین کو فرقہ وارانہ تشدد کے لیے ذمہ دار ٹھہرا یا تھا ۔یہ شرارت  ایک طبقہ  (یعنی مسلمانوں)  کو نشانہ بنانے کے ارادے سے کی گئی تھی تاکہ ان کی شبیہ کو بگاڑا جائے۔ چینل نے پولیس کے دعووں اور جانچ پر سوال اٹھانے والے عدالتی تجزیے کو اجاگر کرنے کے بجائے  یواے پی اے کے تحت دہلی پولیس کے غیرمصدقہ الزامات کو  نشر  کرکے اس کی تعریف و توصیف کی جبکہ عدلیہ  نے اس پر  جو اعتراض کیا تھا مگر اس کو چھپا دیا گیا جو کتمانِ حق کا مترادف ہے۔ پدمجا جوشی نے شو میں  جس بائیں بازو کی خفیہ میٹنگ کا ذکر کیا وہ دراصل  ایک  عوامی  ویبی نار تھا جسے فیس بک لائیو کیا گیا تھا اور اسے ہر کوئی دیکھ سکتا تھا۔ اس طرح وہاٹس ایپ چیٹ کی بنیادپر سی اےاےمخالف مظاہرین کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس طرح  ایک  زیر  سماعت متنازعہ معاملے میں رکاوٹ ڈالنے کی خاطریکطرفہ  میڈیا ٹرائل چلایا گیا ۔ ٹائمز ناو  چینل  نے اس حقیقت کو بھی  نظر انداز کردیا کہ  دہلی فساد میں سب سے زیادہ  مسلمان مارےگئےتھے۔

 

زی نیوز  پر  کئی پروگراموں میں کسان  تحریک کو  بدنام کرنے کا الزام لگایا گیا۔  جس طرح ٹائمز نے اشتعال انگیز سرخی لگائی تھی کہ’ سی اے اے احتجاج کی آڑ میں  پولس اور کافروں کے قتل عام کی سازش بے نقاب‘ ، اسی طرح زی نے بھی کئی بھڑکاو عنوانات لگائے مثلاً ’یوم جمہوریہ پر خانہ جنگی(سوِ ل وار)‘، مملکت جمہوریہ کے خلاف جنگ کی سازش‘، ’احتجاج پر خالصتان کا غلبہ‘  اور ’حکومت کے خلاف خالصتانی بغاوت کا منصوبہ‘۔        ان پروگراموں کے ذریعہ کسان مظاہرین کو خالصتان کا ہمدرد بتایا گیا۔ عوام کے اندر خوف و دہشت پیدا کرنے کی خاطر ایک جرمن  ٹریکٹرکو بکتر بندگاڑی  میں تبدیل کرنے کی افواہ اڑائی گئی حالانکہ تحقیق کے بعد انکشاف ہوا  کہ کرسمس کی تیاری والی اس  پرانی ویڈیو تھی کاہندوستان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ لال قلعہ پر ترنگا ہٹاکر نشان صاحب لگانے کی خبر بھی غلط نکلی۔ اس کے باوجود  نہ تو زی نیوز نے معافی مانگی اور نہ ان ویڈیوز کو ہٹایا اس لیے این بی ڈی ایس اے نے ڈانٹ کر انہیں ہٹانے کا حکم دیا ۔  اس ادارے نے زی نیوز پر  صحافتی اقدارکی پامالی کا بھی الزام لگایا لیکن یہ چینل اب صحافی نہیں بلکہ سرکار کا بھونپو بن چکا ہے۔ اس لیے اس سے ایسی توقع کرنا بجا نہیں ہے۔ دراصل  گزرے زمانے میں ڈھنڈورچی ہوا کرتے تھے ان صحافی کہنا صحافت کی توہین ہے۔  ان پر تو جاں نثار اختر کا یہ شعر صادق آتا ہے ؎

واقعہ شہر میں کل تو کوئی ایسا نہ ہوا

یہ تو اخبار کے دفتر کی خبر لگتی ہے

اس دورِ پر فتن میں جبکہ میڈیا پر شب خون مارا جاچکا ہے این بی  ڈی  ایس اے کا یہ اقدام غنیمت لگتا ہے مگر یہ کافی نہیں ہے کیونکہ صرف زبانی وعظ و نصیحت پر اکتفاء کیا گیا ہے۔  اس طرح  کی سنگین  خلاف ورزی کرنے والے چینل پر  کم ازکم  دو چار دن کی پابندی لگائی جانی  چاہیے۔ اس کےساتھ  جرمانہ بھی عائد کیا جانا چاہیے تاکہ وہ دوبارہ ایسی غلطی نہ کرے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایسے اینکرس پر جو  دولت یا شہرت کی خاطر سرکار کی چاپلوسی میں اپنے فرضِ منصبی کو بھول جاتے ہیں ، کچھ دنوں کے لیے معطل کردیا جائے یا ان کے خلاف تعزیزی کارروائی ہو۔ صرف ویڈیوز کو ہذف کردینا کافی نہیں ہے بلکہ پہلے تو  ایسا ھرم کرنے والوں  کو معافی مانگنے کے لیے مجبور کیا جاتا تھا اور پرائم ٹائم میں اپنی  غلطی کا اعتراف کرکے سرِ عام معذرت طلب کرنے لیے کہا جاتا تھا۔ این بی ڈی ایس اے  ان اینکرس کی تربیت پر بھی زور دیا ہے لیکن یہ کام تو خود اس کے کرنے کا ہے کہ وہ ایسے ورکشاپ کا انعقاد کرے اور میڈیا کے لوگوں کو ان کے اخلاقی حدود و قیوسے واقف  کراکے  پاسداری کی ترغیب دے ۔    بی جے پی ترجمان سمبت پاترا کے خلاف  دہلی کے  اروند کیجریوال کی ایک  ویڈیوکوبگاڑ کر  سوشل میڈیا پر پوسٹ  کرنے کے الزام میں  عدالت کے حکم پر  ایف آئی آر درج کرنا بھی خوش آئند ہے۔

 

مودی جی کے چوتھے یار سرمایہ دار کو زرعی قوانین  کی واپسی کے بعد بہت بڑا جھٹکا لگا ۔ اس اعلان کے بعد والے ہفتے میں جب مارکٹ کھلا تو پہلے ہی دن حصص بازار میں  1,170 پوائنٹ  یعنی  (1.96%) کی کمی آئی  اور جب ہفتہ ختم ہوا تو دوسرا جھٹکا لگا اور بامبے حصص مارکٹ  1687.94 پوائنٹ نیچے گر کر بند ہوایعنی 2.87% کی کمی آئی ۔ اس کے پہلے  دن جمعرات کو بھی وہ 540.3 پوائنٹ نیچے اتر کر بند ہوا تھا۔ ہفتے کی ابتداء میں جو گراوٹ آئی تھی اس میں مودی جی  کے منظور نظر مکیش امبانی کی ریلائنس کے حصص  4% سے زیادہ گرے تھے ۔  اس طرح ریلائنس کے مارکٹ کیپ میں 70ہزار کروڈ کی کمی واقع ہوئی تھی۔ اس کی وجہ سعودی عرب سے پندہ ارب ڈالر کے معاہدے کی منسوخی تھی۔  یعنی اتفاق سے کسان بل کے ساتھ سعودی عرب کا معاہدہ بھی منسوخ ہوا اور مودی کے ساتھ امبانی بھی خسارے میں چلے گئے۔  اس طرح  ریلائنس دوسرے سے تیسرے نمبر پر کھسک گئی تھی۔ پچھلے ایک ماہ میں بامبے حصص بازار  تقریباً 5000پوائنٹ گرا ہے۔   اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے زرعی قانون کی واپسی کے بعد مودی کے  چاروں یارکتنے پریشان ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سنگھ ، بھگتوں ،میڈیا اور سرمایہ داروں کی یہ پریشانی آگے چل کر  دور ہوتی ہے یا وہ اس سرکار کو اقتدار سے دور کردیتی ہے؟   ویسے مودی یگ میں ان کے چہیتے  سیاسی سرمایہ دار امبانی اور اڈانی کے ایسے وارے نیارے ہوئے کہ اس پر جاں نثار اختر کا یہ شعر صادق آگیا؎

کوئی آسودہ نہیں اہل سیاست کے سوا

یہ صدی دشمن ارباب ہنر لگتی ہے