سنگھ پریوار پر کسانوں کا وار

National

سنگھ پریوار پر کسانوں کا وار

ڈاکٹر سلیم خان

یوٹیوب پر جتنی ویڈیوز انسانوں کی ہے کم و بیش اتنی ہی  ویڈیوز جانوروں کی بھی ہیں  ۔ ان ویڈیوز میں خیالی قصے کہانیاں نہیں بلکہ اصلی واقعات دکھائے جاتے ہیں جن میں انسانوں کے لیے بہت سارے سبق آموز واسباق ہوتے ہیں ۔ ابھی حال میں اس طرح کی ایک ویڈیو  دیکھنے کا موقع ملا ۔ اس میں مختلف جانوروں کے غلط قسم کے جانوروں سے پنگا لینے کے واقعات نظر آئے۔ ان میں سے ایک دسمبر 2020کا جنوبی افریقہ کےکروگرنامی  چڑیا گھر کا واقعہ ہے۔ یہ وہی زمانہ ہے جب کسانوں نے دہلی کی سرحد پر اپنا احتجاج شروع کیا تھا۔ اس ویڈیو میں ایک چیتا اپنی پیاس بجھانے کی خاطر ایسے تالاب کا رخ کرتا ہے جو مگر مچھ کا مسکن  تھے۔ مودی جی نے بھی یہی کیا اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کی خاطر سرمایہ دار دوستوں کو چھوڑ   کسانوں کے کچھار میں گھس گئے ۔ ویڈیو میں دکھائی دیتا ہےکہ  ایک مگر مچھ کو چیتے کی یہ حرکت ناگوار گزری  اس نے جھپٹا مار کر چیتے کو اپنے مضبوط جبڑوں میں جکڑ لیا اور اندر لے جاکر زبردست دعوت منائی۔  ایسا ہی کچھ مودی جی کے ساتھ بھی ہوا۔ ان کو اپنی غلطی کا جب  احساس ہوا تو اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی ۔ مگر مچھ جشن منا رہے تھے اور چیتے کے پاس آنسو بہانے کا بھی موقع نہیں تھا ۔    اس لیے وعظ و نصیحت کے بعد وہ ایوان میں بحث سے قبل بھاگ کھڑے ہوئے۔

یہ ایک سچائی ہے کہ   کسان تحریک نے مودی جی سے بھی  زیادہ نقصان سنگھ پریوار کا کیا۔ آر ایس ایس نے اترپردیش کے اندر1960میں کسانوں کو اپنے پرچم تلے منظم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت مودی جی عمر دس سال تھی اور وہ اپنے گاوں میں بقول خود چائے بیچتے تھے۔ سنگھ کو اپنی پہلی کوشش میں  خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔ اس کے بعد   1972 میں مہاراشٹر کے ودربھ  میں  دوبارہ کوشش کی گئی وہ بھی بارآور نہیں ہوسکی ۔  بالآخر  1978 کے اندر معروف سنگھی رہنما دتو پنت تھینگڑی  کی قیادت میں   راجستھان  کی سرزمین پر  بھارتیہ کسان سنگھ(بی کے ایس)   کا باقائدہ قیام عمل میں آیا۔    یہ ایک حقیقت ہے کہ اس تنظیم کو بھارتیہ مزدور سنگھ کی مانند غیر معمولی  مقبولیت نہیں ملی اس کے باوجود اچھے خاصے کسانوں کی حمایت مل گئی۔ زرعی قوانین کے خلاف اٹھنے والی  کسان تحریک نےسب سے بڑا دھرم سنکٹ  بی کے ایس کے لیے کھڑا کیا۔ یہ قانون اگر کانگریس نے بنایا ہوتا تو وہ اس کے خلاف  لنگوٹ کس کرمیدان میں اتر جاتا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اسے بی جے پی نے وضع کیا تھا ۔ بی کے ایس اور بی جے پی  ایک  ہی  سنگھی تھیلے کے چٹے بٹے ہیں۔

بھارتیہ کسان یونین کے پرچم تلے جب  پنجاب کا دہقان  دارالخلافہ کی جانب  بڑھا  تو ہریانہ کی بی جے پی حکومت  نے انہیں بزورِ قوت  روکنے کی کوشش کی ۔ اس طرح کسان مخالف زعفرانی چہرا بے نقاب ہوگیا۔ ان رکاوٹوں کو عبور کرکے احتجاج کرنے والے کسانوں کا سیلاب  جب   دہلی کی سرحد پر پہنچا تو  وزیر داخلہ کے اوسان خطا ہوگئے۔ امیت شاہ نے  انہیں  بُراری میں نرنکاری گرودوارہ میدان میں احتجاج کے لیے جمع ہونے کی اجازت دے دی۔ اس تجویز کو کسانوں نے انہیں ایک کھلی جیل میں مقید کرنے کی سازش کے طور پر دیکھا اور اس کوٹھکراکر   دہلی کو جوڑنے والی اہم شاہراہوں  پر دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔بی جے پی نے  اس  نازک وقت  میں سنگھ کی پٹھو بھارتیہ کسان سنگھ کو میدان میں اتارا اورانہیں بُراری کے   گرودوارہ میدان میں  احتجاج  کے لیے بیٹھادیا۔ گودی  میڈیا نے  تک انہیں  پوری طرح نظر انداز کر دیا ۔ یہاں  تک کہ مجبوراً انہوں نے  نیم برہنہ (بغیر کرتے کے) احتجاج بھی کیا لیکن بات نہیں بنی۔ آگے چل کروہ  ڈرامہ ازخود ہوا میں تحلیل ہوگیا ۔

  کسان تحریک نے جب اپنے ۹؍ ماہ مکمل کرلیے اور  تقریباً سارے کسان اس کے ساتھ ہوگئے تو بی کے ایس نے 8؍ستمبر کو ملک کے 600 ضلعوں میں احتجاج کرکے اپنی زندگی کا ثبوت دینے کی کوشش کی اورتمام  فصلوں کی مناسب قیمت کا مطالبہ کیا مگر وہ بھی ناکام رہا ۔ زرعی قوانین کی حمایت کرتے ہوئے کسانوں کو اپنے ساتھ رکھنا بھارتیہ کسان سنگھ کے سامنے سب سے بڑا چیلنج تھا۔   اس مقصد کے حصول کی خاطر وہ کسی نہ کسی بہانے سے میدان عمل میں سرگرم رہ کر کسانوں کو زرعی قوانین فائدے سمجھاتا رہا  لیکن اسے خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔  وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں اس ناکامی کا اعتراف یوں  کیا کہ’ ہم چند کسانوں کو سمجھانے میں کامیاب نہیں ہوسکے‘  ۔ اس ’ہم‘ میں دن رات ایک کرنےوالا پورا سنگھ پریوار شامل ہے ۔ وزیر اعظم نے اس ناکامی کے لیے اپنی  تپسیا( عبادت و ریاضت) میں کمی  کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کفارہ کے طور پر ہتھیار ڈال دئیے۔ مودی جی  نےتو   بڑی انکساری کے ساتھ قوانین کو واپس لینے کا اعلان فرما کر اپنا قد بڑھا لیا کیونکہ چاپلوس میڈیا اس پر بھی ان کی تعریف و توصیف کے پُل باندھنے میں جُٹ گیا تھا۔

وزیر اعظم   کےلیے آسانی یہ ہے کہ وہ جن خوشامد پرستوں  کے درمیان گھرے رہتے ہیں وہ  ان کے سامنے  لب کشائی کی جرأت نہیں کرتے ۔ اس لیے مودی جی بلاتکلف اپنے ’من کی بات ‘ کہہ کر نکل جاتے ہیں لیکن عوام کے اندر کام کرنے والے سنگھ پرچارکوں کےلیے یہ ممکن نہیں ہے۔ عوام ان کو پرانی باتیں یاد دلاکر سوال کرتے ہیں اور  انہیں  جواب دینا پڑتا ہے ۔قانون واپسی کا اعلان ہوتے ہی بھارتیہ کسان یونین کے رہنماوں پر یہی ’اگنی پریکشا‘(آزمائش)  آن پڑی ۔   ا ن کے لیے چونکہ اپنی سرکار کو منہ چڑھانا ممکن نہیں تھا اس لیے عوام کو منہ دکھانا  مشکل ہوگیا۔ ایسے میں ان’پاسباں (کسان) بھی خوش رہے، راضی رہے صیاد(مودی) بھی ‘کی درمیانی راہ نکالنی  پڑی چنانچہ  بی کے ایس نے اپنے ردعمل میں  پہلا جملہ یہ لکھا کہ  ’تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا سرکاری فیصلہ  غیرضروری تنازع ٹالنے کے حوالے سے ٹھیک ہے‘۔ 

اس  حمایت سے  یہ صاف ہوگیا  کہ بی کے ایس میں   ان قوانین کو مسترد کرنے پر حکومت کی مذمت  کرنےکا حوصلہ  نہیں ہے۔  اس کمزوری کی پردہ پوشی کے لیے ’غیر ضروری تنازع ٹالنے‘ کا جواز پیش کیا گیا ۔ سوال یہ ہے کہ اگر تنازع غیر ضروری تھا تو مداہنت کیوں کی گئی ؟ اور  اسے ٹالنا ہی تھا تو اس قدر تاخیر کی کیا ضرورت تھی؟  ابتداء میں ٹال  دیتے تو کم از کم رسوائی سے تو بچ جاتے ۔ بی کے ایس اب بھی  ان قوانین کی واپسی کو کسانوں کا طویل المدتی خسارہ قرار دیتی ہے لیکن اس کے لیے مودی جی کے بجائے نام نہاد کسانوں کی ہٹ دھرمی کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔ قانون و اپس لینے والے  دبنگ وزیر اعظم کے بجائے کسی اور کو نام نہاد  نقصان  کا ذمہ دار ٹھہرا نا مضحکہ خیز ہے۔  بی کے ایس کے مطابق اگر ان قوانین  میں   اصلاح کی جاتی تو  اس سے چھوٹے اور درمیانہ کسانوں کا زیادہ فائدہ ہوتااگر ایسا ہی تھا تو وہ وزیر اعظم  نے قانون واپس لے کر مذکورہ نقصان کیوں کیا؟ بی کے ایس  اپنی  ہی سرکار  کو  یہ بات سمجھانے میں کیوں ناکام ہوگئی؟ وہ ایسا  دباو کیوں نہیں بناسکی کہ جس کے آگے وزیر اعظم سرِ تسلیم خم کردیتے؟؟

  اس صورتحال میں اگر بی کے ایس سے منسلک کسان یہ سوچنا شروع کردیں   کہ ایسے   وزیر اعظم  کو کیوں ووٹ دیا جائے   جو مٹھی بھر کسانوں کے دباو میں آکر ان کے لیے مفید قوانین کو واپس لے لیتا  ہے ؟ کیوں نہ اس کی چھٹی کرکے ایسا متبادل  تلاش کیا جائے جو ان کے مفادات کا تحفظ بھی کرسکے اور کسی کے آگے نہ جھکے ۔ تو اس میں ان کا کیا قصور ہے؟ حکومت کے ذریعہ اعلان شدہ ’ایم ایس پی‘ کی کمیٹی میں اپنی شمولیت پکیّ کرانے کے لیےکسان سنگھ نے  اس کا خیر مقدم کرکے اس میں  غیر سیاسی تنظیموں (مثلاً بی کے ایس ) کو شامل کرنے پر زور دیا۔ بی جے پی سرکارتو یہ کام ویسے بھی مروتاً اور ضرورتاً کرہی دیتی کیونکہ اس کو کمیٹی کے اندر نندی بیل کی مانند سر ہلانے والی بھیڑوں  کی ضرورت ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ مودی جی کی قانون واپسی  نے کسانوں کے درمیان  سنگھ کی 80سالہ محنت پر پانی پھیر دیا ہے لیکن وہ  آنسو کے دو قطرےبھی نہیں  بہا سکتا ۔ فی الحال سنگھ پریوار ’’کہا بھی نہ جائے اور سہا بھی نہ جائے ‘‘ کی   کیفیت میں مبتلاء ہےاور اس پر یہ مصرع صادق آتا ہے:’آخرِ شب دید کے قابل تھی بسمل کی تڑپ‘۔  ابتداء میں جس ویڈیو کا ذکر ہوا اس  میں ایک جگہ شیر اپنی سلطانی کے زعم میں جنگلی  بھینسوں کے جھنڈ  سے بھڑ جاتا ہے ۔  اس کے بعد  ایک بھینسا اس کو اپنی سینگ پر اٹھا کر دو مرتبہ پٹختا  ہے۔ اس منظر کو دیکھ کر بے ساختہ   نریندرمودی  اور راکیش ٹکیت کا خیال آگیا ۔ خیر  جانوروں کی دنیا بھی انسانوں سے کم دلچسپ نہیں ہوتی۔  

(۰۰۰۰۰۰۰۰جاری