ہماری قوم میں سائنسی ذہن کیوں تشکیل نہیں پا رہا ہے؟

Education

راہ نما: مبارک کاپڑی

ہماری قوم میں سائنسی ذہن کیوں تشکیل نہیں پا رہا ہے؟

کبھی ہم سائنس، نفسیات، ریاضی، طب و حکمت کے امام ہوا کرتے تھے۔آج اس کی پیش رفت میں جو سُست روی دکھائی دے رہی ہے اس کا حقیقی جائزہ ضروری ہے۔

 

            ہماری قوم کی جدید علوم (خصوصاً سائنس) کے محاذ پر پسپائی کا ذکر جب جب ہم کرتے ہیں، تب تب ہمارے دانشور بلکہ تھوڑی بہت فہم و ادراک کے حامل افراد سے یہ کہتے رہے ہیں کہ ہماری موجودہ نسل ہماری تاریخ سے نابلد ہے اور سائنسی یا جدید علوم کے محاذ پر ہماری پیش رفت جو نہیں ہورہی ہے کہ اُس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں مکمل مسخ شدہ تاریخ پڑھائی جارہی ہے۔ ہمارے عیش و عشرت کے دَور میں جب ہم مکمل غفلت کی نیند سورہے تھے، جب جانتے ہیں ہماری تاریخ کے ساتھ کیا کیا گیا؟ سُن لیجئے مغربی مؤرّخین نے ہمارے انبیاء کو ساحر، اولیاء کو شعبدہ باز، سلاطین کو جلّاد اور علماء و حکماء کو جاہل قرار دیا ہے۔ تاریخ کے ہر تیسرے صفحے پر لکھ دیا گیا کہ (۱)اسلام بزورِ شمشیر پھیلا(۲) اسلام عورت کا دُشمن ہے (۳) اسلام آزادیئ انسانیت کا مخالف ہے (۴) غزنوی لُٹیرا تھا (۵) اورنگ زیب متعصّب تھا (۶) محمد شاہ رنگیلا تھا (۷) محمد تغلق احمق تھا۔ یہی نہیں رابرٹ کلائیو، ڈک ٹرین اور کیسٹن ڈریک سفّاک حکمرانوں کو ہیرو بناکر پیش کیا گیا۔ آزادی کے ۵۷/سالوں بعد بھی یہ خرافات برِّصغیر کی درسی کتابوں میں موجود ہے اور سرکاری اسکولوں میں ہمارے اساتذہ اُسے پڑھا رہے ہیں اور بڑی دل جمعی سے پڑھارہے ہیں۔ من و عن پڑھارہے ہیں اور اُنھیں تحقیق کرنے کی فرصت بھی نہیں ہے کہ جو تاریخ وہ پڑھارہے ہیں وہ کتنی سچّی ہے۔

 

            سائنس کے محاذ پر ہمارے جمودکی آج وجہ یہ نہیں ہے کہ ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے عرب سرزمین کو تیل کی صورت میں من و سلویٰ سے نوازا کچھ اس قدر کہ ان ممالک کے لگ بھگ ساری عوام میں کوئی لکھ پتی نہیں ہیں بلکہ سب کروڑ پتی ہیں۔اُن کی معیشت مضبوط ہے۔ سعودی کرنسی روپے سے ۱۲/گنا اور کویتی کرنسی ۰۵۲/گنا زیادہ مضبوط ہے۔ مگر اسے کیا کہیے کہ اِن تمام ممالک میں اعلیٰ تعلیم، سائنسی تحقیقی وغیرہ کے لیے کوئی مواقع دستیاب نہیں ہیں۔ سبھی واقف ہیں کہ اِن ممالک میں بارہویں جماعت سے زیادہ تعلیم کا کوئی خاطر خواہ نظم نہیں ہے اور بارہویں جماعت یعنی جدید علوم کی بال واڑی ہے، اعلیٰ تعلیم و تحقیق کی کوئی سہولت اِن امیرترین ممالک میں موجود نہیں، لہٰذا شاہوں اور شیخوں کے بیٹے بھی اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپی ممالک کا رُخ کرتے ہیں اور پھر وہاں کیا پڑھتے ہیں اُس کی ایک ہلکی سی جھلک ملاحظہ کیجئے۔

 

(۱)ووین مارٹن نے اپنی تحقیقی میں کسی مسلم جغرافیہ داں کا نام نہیں لیا جب کہ وہ ادریسی، سلیمان بصری، مسعودی، ابن جوقل، المقدّس اور ابن بطوطہ سمیت کم و بیش پچاس مسلم جغرافیہ داں کے کارنامے گنا سکتا تھا۔

 

(۲)کیمبرج یونیورسٹی جہاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے آج کے سارے مسلمان دیوانے ہوئے جاتے ہیں وہاں پر پڑھائی جانے والی کیمبرج مڈیول ہسٹری کی کئی جلدوں والی کتاب پانچ ہزار صفحات پر مشتمل ہے اور اُس میں اسلام کی ساڑھے چودہ سو سال کی علمی و ثقافتی تاریخ کو صرف پچیس ورق دئے گئے ہیں۔

 

(۳)جیمز ہنری رابن سن کی تاریخ مڈیول اینڈ ماڈرن ٹائمز آٹھ سو صفحات پر مشتمل ہے اور مغرب کی تمام نامور جامعات میں پڑھائی جارہی ہیں مگر اُس میں اسلام، اسلامی ثقافت و تاریخ سے متعلق ایک لفظ بھی نہیں ہے۔

 

            یہ تاریخ ہے، تاریخی حقیقت ہے اور اُس کی روشنی ہی میں اگلی راہیں تلاش کی جاسکتی ہیں،اِس لیے ہم دوبارہ یہ کہنا چاہیں گے کہ علمِ کیمیا، الجبرا کا ابتدائی کلی حصّہ اور طبیعیات کا جزوی حصّہ صرف اور صرف مسلمانوں کی دین ہے اور یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ اگر عرب نہیں ہوتے تو یورپ کا حال افریقہ سے زیادہ بدتر ہوتا اور یورپ کے دانشوروں کا پچھلے دَور میں کُل وقتی ایک ہی کام تھا، سائنسی عربی کتابوں کا ہسپانوی، انگریزی، ڈچ اور فرانسیسی زبانوں میں ترجمہ کرنا۔ مثلاً انگریزی زبان کا لفظ measure  معیار سے بنا، انفلوئنزا، انزال الاُنف (ناک بہنا)، سیفران، زعفران سے بنا،ہارس فرس اور ارتھ، ارض سے بنا۔ جی ہاں! اُس دَور کے جدید علوم کے اُستاد عرب تھے اور مغربی ممالک کے محققین اُن کے شاگرد۔

            دراصل مفکّرینِ یورپ کو اس بات کا یقین ہے کہ اگر کوئی تہذیب مغربی تہذیب کو شکست فاش دے سکتی ہے تو وہ صرف اسلامی تہذیب ہے جو انسانیت، اُخوّت، محبت اور شائستگی کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔ مصر و بابل کی تہذیبیں نیست ونابود ہوگئیں۔ یونانی تہذیب مٹ گئی، ہندو تہذیب اوہام و خرافات کا مجموعہ ہے (ہندو تہذیب میں اوہام کے خلاف لڑنے والے ڈاکٹر نریندر دابھولکر،گووند پانسارے،گوری لنکیش وغیرہ کاقتل اس کا حالیہ ثبوت ہے) لہٰذا یورپ نے اپنے ’علم‘ کے دروازے کھول دئے۔ ہزاروں قابل مسلم نوجوانوں پر وضائف کی برسات کردی تاکہ مسلم نوجوان اپنی تہذیب، تاریخ اور روایات سے متنفر ہوکر اُن کے بنائے ہوئے پونڈ و ڈالر کے سنہرے جال میں پھنس جائیں (کچھ عجب نہیں کہ روپے کے مقابلے ڈالر کا ۵۷/اور پونڈ کا ۰۰۱/تک پہنچ جانا مسلم نوجوانوں کے لیے بھی بحث کا موضوع بنا ہو اہے)

 

            صاحبان! مسلم ممالک کے پاس وسائل ہیں، دھن دولت ہے، مگر اعلیٰ تعلیم کے لیے کوئی نظم نہیں اور کوئی عزم بھی نہیں اور مسلم نوجوانان یورپ کی طرف ہر روز صبح و شام کوچ کر رہے ہیں اس کا مطلب کیا ہے؟ اور ہمارے صاحب ثروت حکمرانوں کے پاس کس چیز کی کمی ہے؟ ایک ہی چیز کی کمی ہے (بڑاہی ثقیل لفظ ہے یہ، مگر حقیقت ہے کہ اُن میں) غیرت کی کمی ہے۔ غیرت ہوتی تو اپنا کُل سرمایہ یعنی نئی نسل کو راضی بہ رضا مغربی اقوام کے حوالے نہیں کیا ہوتا۔

 

            مسلمانوں میں سائنسی ذہن تشکیل پانے میں ایک بڑی رُکاوٹ ہیں ہمارے ’اکابرِ ملّت‘ کی تحریریں و تقریریں۔ ہمارے قائدینِ ملّت کی تحریروں کے مقبول جملے سُن لیجئے: (۱) ہمیں کون شکست دے سکتا ہے؟(۲)ہم کو اس دنیا کی امامت کرنی ہے (۳) یہ سارے علوم ہماری جوتی کی نوک پر …… اب اِن کی تقریروں کے مقبول عام جملے سُن لیجئے: (۱) ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں (۲) جو ہم سے ٹکرائے گا، مٹّی میں مل جائے گا(۳) تیغ کیا چیز ہے،ہم توپ سے لڑجاتے ہیں ……۔

 

            ۷۵۸۱ء کی جنگِ آزادی انگریزوں اور مسلمانوں کے درمیان براہِ راست جنگ تھی اُس میں ہماری مکمل پسپائی کے باجود مسلم اکابر یہ کہتے رہے اور قوم کو گمراہ کرتے رہے کہ ”ہم ہارے نہیں ہیں“،”کسی کی مجال نہیں جو ہمیں شکست د ے سکے“ اُس وقت صرف سر سیّد اُٹھے اور کہا: تسلیم کرلوہم ہار چکے ہیں، انگریزوں سے ٹکنالوجی و سائنس میں ہم مکمل طو رپر پچھڑ گئے ہیں اور اب قوم کی تعمیرِ نو کی منصوبہ بندی میں جٹ جاؤ۔“ لہٰذا پھر مسلمانوں کے نشاۃ الثانیہ کے لیے سر سیّد نے پہلا قدم کیا اُٹھایا؟ اُنھوں نے کوئی کلچرل سوسائٹی قائم نہیں کی، کوئی ادبی انجمن نہیں بنائی بلکہ جو سوسائٹی بنائی اُس کا نام تھا ’سائنٹفک سوسائٹی‘۔(جاری……)