بڑھتی  عسکریت اور  سرکاری غفلت

 

بڑھتی  عسکریت اور  سرکاری غفلت

ڈاکٹر سلیم خان

وزیر داخلہ کی بنیادی ذمہ داری نظم و نسق قائم رکھنا ہے۔ ملک کے طول و عرض میں  پچھلے دنوں کئی ایسے  واقعات رونما ہوئے کہ جن پر وزارت داخلہ کو متوجہ ہونا چاہیے تھا ۔ کشمیر کے علاوہ منی پور  اور بہار میں تشویشناک وارداتیں ہوئیں  اور مہاراشٹر میں نکسل نوازوں کے خلاف ایک بہت بڑا آپریشن کیا گیا۔  یہ اتفاق کی بات ہے مہاراشٹر کے علاوہ بقیہ تینوں صوبوں میں بی جے پی کا اقتدار ہے ۔ منی پور میں اقلیت کے اندر ہونے کے باوجود امیت شاہ نے اپنا وزیر اعلیٰ تو بنوا دیا مگر عسکریت پسندی  پر قابو نہیں پاسکے ۔ بہار میں متحدہ قومی محاذ کی حکومت ہے وزیر اعلیٰ نہ سہی مگر دو عدد نائب وزرائے اعلیٰ بی جے پی کے ہیں۔ کشمیر میں صدر راج نافذ ہے یعنی مرکزی حکومت کے تحت بی جے پی  کا لیفٹننٹ  گورنر سرکار چلا رہا ہے۔  اس کے باوجود  وزیر داخلہ نے ان لوگوں کے ساتھ   مل کر حالات کو بہتر بنانے کے بجائے اپنی ساری توجہات کو اتر پردیش کی جانب مرکوز کر رکھی ہیں  ۔

 اتر پردیش میں فی الحال بی جے پی کا اسٹار پرچارک وزیر اعلیٰ ہے جسے انتخاب جیتنے کی خاطر ملک بھر میں  دوڑایا جاتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کامیابی کم ہی ہاتھ آتی ہے۔  اتر پردیش  میں اس  وزیر اعظم کا حلقۂ انتخاب  ہے جسے انتخابی کھیل   میں ترُپ کا پتاّ سمجھا جاتا ہے۔  اس کے باوجود آئے دن وزیر داخلہ کا اپنا کام  کاج چھوڑ کر یوپی جانا اس بات کااشارہ  ہے کہ  یاتوان کے اندر اپنی  اہم ترین ذمہ داری نبھانے کی صلاحیت نہیں ہے یا دلچسپی نہیں ہے۔  ہر دو صورت میں انہیں  وزارت داخلہ کسی اور کے حوالے کرکے پھرسے پارٹی کا صدر بن جانا چاہیے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان پر  انتخاب کا   جنون اس طرح  سوار ہوجاتا ہے کہ  وہ اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ پاتے ہیں ۔ اس کی ایک اور وجہ اتر پردیش   کی  انتخابی مہم میں وزیر اعلیٰ یوگی کو دوسرے مقام پر ڈھکیلنا  بھی  ہوسکتا ہے کیونکہ اگر بی جے پی کے ہاتھ پھر سے بٹیر لگ جانے کی وجہ سے  وہ کامیاب ہوجائے تو اس کا فائدہ اٹھا کر یوگی شاہ کی جگہ   مودی کی جانشینی کا دعویٰ  کردیں گے ۔ اس لیے کامیابی کا کریڈٹ لے کر اپنی اہمیت جتانے کے لیے شاہ جی  انتخاب میں لگے  رہتے ہیں  اور عوام جس کی قیمت چکا تے ہیں ۔ اس لیے بہتر  یہی ہے کہ وہ دائمی نہ سہی تو کم ازکم عارضی طور پر وزارت داخلہ کسی فعال اور باصلاحیت فرد کے حوالے کرکے الیکشن پر یکسو ہوجائیں  ۔  

وزیر داخلہ جب اپنی ذمہ داری نہیں ادا کرتے تو غیر متعلق لوگ اظہار خیال کرنے لگتے ہیں مثلاً چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت نے کشمیر کی زمینی صورتحال کو بہتر قرار دیتے ہوئے  کہہ دیا کہ مقامی لوگوں کی مدد سے جنگجوئوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کامیاب آپریشن جاری ہے کیونکہ کشمیری عوام اب تشدد سے پاک ماحول چاہتے ہیں جو کہ ایک مثبت چیز ہے ۔ سرکارکا  اپنے آپریشن میں مقامی عوام کوا ستعمال کو مبصرین ماب لنچنگ کی ترغیب قرار دیا۔  ڈیفنس چیف آف  اسٹاف کا   اسے  کامیاب آپریشن کہہ کر یہ اعلان کرنا کہ   کسی بھی جنگجو کو بخشا  نہیں جائےگا غیر ذمہ دارا نہ اور حیرت انگیز  ہے۔ اسی کے ساتھ جنرل راوت نے  یہ اعتراف  بھی کیا ’  وہ نہیں جانتے کہ آیا یہ مقامی لوگوں کی طرف سے جنگجوئوں کے لیے کوئی پیغام ہے یا یہ کھیل انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذریعے کھیلا جا رہا ہے‘۔ یہ عجیب بات ہے کہ عدم معلومات کے باوجود انہوں نے اس کو ایک اچھا کارڈ قرار دے دیا ۔ وہ اسے نگرانی کی حوصلہ افزائی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں مانتے اس لیے کہ ان کے نزدیک  جنگجوئوں کو مارنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے ۔

جنرل راوت  نے ٹائمز ناو کے انٹرویو میں جواب دینے کے بجائے  سوال کیا کہ   اگر آپ کے علاقے میں کوئی عسکریت پسند کام کر رہا ہے تو آپ اسے کیوں نہ ماریں؟ لیکن کسی  کو مارنے کا کام اگر عوام کے صوابدید پر چھوڑ دیا جائے تو قانون کی حکمرانی کہاں باقی رہے گی؟  ہر بارسوخ آدمی اپنے دشمن کو عسکریت پسند کہہ کر مارڈالے گا ۔ اتفاق سے جس دن ان کا یہ بیان چھپا  اسی دن بہار کے گیا میں  نکسلیوں کے  ذریعہ چار لوگوں کو ہلاک کرنے کی خبر بھی اخبارات میں چھپی  ۔  یہ واردات ڈومریا کے سنوبر جنگل سے متصل علاقہ میں انجام دی گئی جہاں سریو سنگھ بھوکتا کے بیٹے ستیندر اور مہندر  اپنی بیویوں منورما اور سنیتا کے ساتھ رہتے تھے۔ نکسلویوں  نے ان کو گھر میں گھس کر ماردیا اور لاشوں کو کھلے عام پھندے پر لٹکانے کے بعد بارود سے گھراڑا دیا۔  اس واردات  کی ذمہ داری قبول کرنے والا  کاغذ  بھی وہ وہاں چپکا گئے ۔ اس پر لکھا تھا کہ انسانیت کے قاتل ، غداروں اور دھوکہ بازوں   کو سزائے موت دینے کے علاوہ کو متبادل نہیں ہے۔  یہ ہمارے چار ساتھیوں امریش ، سیتا ، شیوپوجن اور اودے کمار کے قتل کا انتقام  ہے۔     یہ واقعہ  اس بہار کے اندر  پیش آیا جہاں بی جے پی  حکومت میں شامل ہے ۔ سرکار اس طرح قانون کو ہاتھ میں لے کر سزا دینے کو غلط ٹھہراتی ہے لیکن  سوال یہ ہے کہ کشمیر میں جنرل  بپن راوت  جس طریقۂ کار  کودرست ٹھہراتے ہیں اس میں اور اس میں فرق کیا ہے؟ دونوں جگہ ماورائے عدالت سزا دینے کو درست ٹھہرایا گیا ہے۔

نکسل نوازوں  سے نمٹنے کی  سرکاری  حکمت عملی کا مظاہرہ مہاراشٹر میں   گڈچرولی ضلع  کے اندر سامنے آیا جہاں  ایک انکاؤنٹر میں 26 نکسلیوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ گڈچرولی کی تاریخ کا یہ دوسرا طویل ترین انکاؤنٹر تھاجو صبح  6 بجے سے شام 4 بجے تک چلا ۔ اس سے قبل 23؍ اپریل 2018 کو گڈچرولی پولیس نے دو الگ الگ جھڑپوں میں 40 ماؤنوازوں کو ہلاک کیا تھا۔ حالیہ  تصادم میں پولیس نے ملند تیل تمبڈے کے مارے جانے کی اطلاع  دی جس پر 50 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ وہ  بھیما کوریگاؤں کیس کے این آئی اے  چارج شیٹ میں ملزم تھا۔  مہلوکین  میں   4 ماؤنواز خواتین بھی شامل تھیں۔ حیرت کی بات ہے یہ  کمانڈوز جب  26 نکسلیوں کی لاشوں کے ساتھ گڈچرولی ہیڈکوارٹر واپس آئے تو ان کے ساتھیوں نے ڈھول بجا کر ان   کا استقبال کیا۔  اس پر محبوبہ مفتی کا وہ فقرہ ثبت ہوجاتا ہے حکومت اپنے ہی لوگوں سے بر سرِ پیکار ہے اوریہ  اضافہ کرنا پڑے گا کہ اس کا جشن بھی منانے سے گریز نہیں کیا  جاتا۔ 

ملک میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ساری علٰحیدگی پسندی وادی کشمیر  تک محدود ہے لیکن ابھی  حال  میں منی پورکے اندر  آسام رائفلز کے کمانڈنگ آفیسرویپلو تیواری  اور ان کے اہل خانہ پر عسکریت پسندوں نے گھات لگا کر حملہ کردیا۔ اس حملے میں تیواری کے ساتھ ان  کی اہلیہ اور ایک بچے کے علاوہ  چار  فوجی  جاں بحق ہوگئے ۔   اس کی ذمہ داری پیوپلس لبریشن آرمی منی پور اور منی پور پیوپلس فرنٹ نے مشترکہ طور پر قبول کی ۔  ان لوگوں نے تیواری کے اہل خانہ کی موجودگی کے بارے میں اپنی لاعلمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے حفاظتی دستوں کو ایسے علاقوں میں اپنے اہل خانہ کو نہیں بلانا چاہیے جنھیں حکومت ہند نے شورش زدہ قرار دے دیا ہو۔ اس طرح گویا عسکریت پسندوں نے بے قصور لوگوں کی ہلاکت کا الزام بھی ویپلو تیواری پر ہی ڈال دیا ۔ یہ سب اس وزیر داخلہ کے دور میں ہورہا ہے جو اپنے آپ کو سپرمین سمجھتا ہے۔

منی پور میں اپنی حکومت قائم کرنے کے بعد بی جے پی نے سوچا تھا اب ساری  دہشتگردی ختم  ہوجائےگی مگر 4جون  2018 کو اسی طرح کا  ایک حملہ ہوا جس میں حفاظتی دستے کے 18؍ اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔حالیہ حملے کی بابت  منی پور  کے وزیر اعلیٰ بیرن سنگھ نے انکشاف کیا کہ حملہ آور میانمار سے آئے تھے ۔ یعنی یہاں پاکستان سے  در اندازی  کا الزام بھی نہیں لگ سکا۔  انہوں نے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے  اس کو  بزدلانہ حرکت بتایا اور اعلان کیا کہ کسی  کو بخشا نہیں جائے گاکیونکہ  ان کی نظر میں یہ ایک غیر انسانی اور دہشت گردانہ کارروائی ہے۔ بیرن سنگھ کے مطابق ملزم جہاں بھی ہوں گے ، کسی  بھی ملک کیوں نہ ہوں ، انہیں پکڑ کر سزا دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں کے کیمپ میانمار میں ہیں۔ ان کے مطابق 70؍سال سے سرحد کھلی پڑی ہے خاردار تار نہیں لگ سکی ۔ ان سے جب پوچھا گیا مودی جی نے کیوں نہیں لگائی تو بولے کل 100 کلومیٹر سے آمدو رفت ہوسکتی ہے جبکہ صرف  40 کلومیٹر کی سڑک لگ چکی ہے۔ اس طرح ایک سال میں مودی جی 6؍ کلومیٹر سرحد کو بھی محفوظ نہیں کرسکے۔  

میانمار اور ہندوستان کی سرحد کو بند کرنا آسان نہیں ہے۔ سرحد پر واقع مورے گاوں کے لوگ اسکوٹی خریدنے کے لیے میانمار جاتے ہیں کیونکہ وہ سستی ملتی ہے۔  ایندھن ۱۰۰؍ کے بجائے ۷۰ روپیہ فی لیٹر مل جاتا ہے۔  میانمار کے لوگ مورے گاوں کی سڑکوں پر روزمرہ کا سامان سستے داموں پر بیچتے ہیں۔   ویسے یہ بھی ایک  حقیقت ہے کہ منی پور میں اس طرح کے حملے ہوتے رہے ہیں بلکہ 24 ؍ اکتوبر  2016 میں کانگریسی وزیر اعلیٰ اوكرام ابوبي سنگھ پر بھی اس طرح کا  حملہ ہوچکا ہے جس میں وہ بال بال بچ گئےتھے۔ اس سے یہ  معلوم ہوتا ہے کہ  کشمیر ہو یا منی پور حکومت کے بدل جانے سے یا بندوق کی نوک پر اس طرح کے مسائل حل نہیں ہوتے۔  اس کے لیے حکومت کو عوام کے مسائل حل کرکے ان کا اعتما د حاصل کرنا پڑتا ہے مگر موجودہ سرکار اس کی قائل نہیں ہے اس لیے حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں ۔ وزیر داخلہ کو چاہیے کہ وہ انتخابی مہمات کے بجائے ان حالات  کو سدھارنے پر  مخلصانہ توجہ فرمائیں ۔  ویسے یہ کام ان کے لیے بہت مشکل ہے۔