جشن نورالحسنین ”میر ا صحافتی سفر“ پروگرام مں صحافیوں کاعظیم الشان استقبال

Maharashtra

جشن نورالحسنین ”میر ا صحافتی سفر“ پروگرام مں صحافیوں کاعظیم الشان استقبال

اردوصحافت نے اپنے دوسو سال کی عمرمیں کافی ترقی کی ہے۔(یونس عالم صدیقی)

مجھے وہائٹ ہاؤس کی میٹنگوں اور معاہدوں میں شرکت و صدر ایران سے ملاقات کا موقع اردو صحافت کے ذریعہ ملا ہے۔(شارق نقشبندی)

اورنگ آباد۔ وارثانِ حرف و قلم کے تحت گزشتہ دو سال سے جاری جشن نورالحسنین کے ضمن میں اتوار کو ”میرا صحافتی سفر“ کے عنوان سے منعقدہ پروگرام کڈس آئی ٹی ورلڈ ایجوکیشن سوسائٹی اور مسلم گریجویٹس فورم مہارشٹر کے اشتراک سے عمل میں آیا۔اس پروگرام کی صدارت یونس عالم صدیقی نے کی جبکہ صاحب جشن نورالحسنین کے علاوہ مہمانان خصوصی کی حیثیت سے غضنفر جاوید، شعیب خسرو، نایاب انصاری،محمدتقی (ناندیڑ)، ضمیر احمدقادری، شارق نقشبندی، سیدرضوان اللہ، ایڈوکیٹ نواب پٹیل نیز مہمانان اعزازی میں ایم اے پٹھان، سعید خان زیدی، منتہیٰ محی الدین فاروقی، تحسین احمد خان، یحییٰ خان، عبدالواحد فاروقی، شخ علیم الدین موجود تھے۔

            اردو صحافت کی ان مایہ ناز شخصیات کی موجودگی میں سابق انفارمیشن آفیسر معمر صحافی یونس عالم صدیقی نے اپنے خطبۂ صدارت میں کہا کہ اردو صحافت نے گزشتہ دو سو سال میں خوب ترقی کی ہے۔ خواہ معاملہ چھپائی کا ہو یا کاغذ کا ہو یا خبروں اور دیگر مواد کا ہو۔ آج اردو صحافت انٹرنیٹ کے ذریعہ خبریں حاصل بھی کررہی ہے اور اسی ذریعہ سے ساری دنیا میں پہنچ بھی رہی ہے۔ روزنامہ ایشیاء ایکسپریس کے ایڈیٹر انچیف سید شارق نقشبندی نے اپنے صحافتی سفر کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے صحافتی کیرئیر میں امریکہ کے دورے اور ہند امریکہ اہم معاہدوں کی میٹنگوں میں شرکت کا موقع ملا۔ وہائٹ ہاؤس میں اہم میٹنگوں میں انہوں نے شرکت کی اور اسی طرح ایران کے دورے اور اس وقت کے صدر ایران احمدی نژاد سے ملاقات اور تبادلۂ خیال کیا۔ نیوز 18/ کے نمائندہ محمد اظہر الدین نے کہا کہ انہوں نے عملی صحافت کا آغاز روزنامہ رہبر سے کیا تھا۔ بعد ازاں اورنگ آباد ٹائمز میں کام کرتے ہوئے انہوں نے ای ٹی وی جوائن کیا اور اس کے ہیڈ آفس حیدر آباد میں 12/ سال کام کیا۔ انہوں نے رہبر اور اورنگ آباد ٹائمز کے دور کی اہم خبروں اور ان کے رد عمل کا بھی ذکر کیا۔ گزشتہ 5/سال سے وہ اورنگ آباد میں آکر یہاں سے خبریں ارسال کررہے ہیں اورپچھلے کچھ عرصہ سے نیوز 18/میں کام کررہے ہیں۔ صحافتی میدان میں کامیابیوں کا سہرا انہوں نے اپنی اہلیہ کے سر باندھا جنہوں نے ایک مہلک مرض میں ان کی کافی خدمت کی اور انہیں دوبارہ زندگی سے آنکھیں ملاکر آگے بڑھنے کاحوصلہ دیا۔ سلیم احمد نے اپنی گفتگو میں اردو صحافت کی زبوں حالی اور ملازمین و صحافیوں کے مسائل پر کھل کر اظہار کیا۔ جس کی پذیرائی ہال میں موجود تمام صحافیوں نے تالیاں بجاکر کی۔ محمد عبدالوہاب نے اپنے صحافتی تجربات بتاتے ہوئے دکھ کا اظہار کیا کہ ہمارے بچے جرنلزم کے کورسیس کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ سید رضوان اللہ نے کہا کہ میں نے اپنے صحافتی سفر کا آغاز اردو اخباروں سے کیا اور بعد میں لوکمت ٹائمز میں ملازمت اختیار کی اور اس کے بعد ٹائمز آف انڈیا میں مجھے مرہٹواڑہ کے بیورو چیف کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع ملا۔ مجھے اپنے صحافتی سفر میں یہ سمجھ میں آیا کہ اگر آپ میں صلاحیت و قابلیت ہے تو کوئی تعصب اور فرقہ پرستی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔اس لئے ہمارے نوجوانوں کو اپنی قابلیت و صلاحیت میں اضافے اور مہارت کی کوشش کرنی چاہئے۔ ناندیڑ سے تشریف لائے روزنامہ ورق تازہ کے مدیر اعلی محمد تقی نے کہا کہ میرا صحافتی سفر اورنگ آباد ٹائمز کے ذریعہ شروع ہوا تھا۔ میں بی ایڈ کرنے کے لئے اورنگ آباد آیا تھا اور جز وقتی طور پر اورنگ آباد ٹائمز میں ترجمہ کیا کرتا تھا۔ میں نے تدریس کے ساتھ ساتھ صحافت کو بھی جاری رکھا اور پربھنی سے ورق تازہ کا اجراکیا۔ بعد ازاں اس کا ناندیڑ ایڈیشن شروع کیا اور پھر ناندیڑ منتقل ہوگیا۔ مجھے اپنے اخبار کو چلانے میں دشواریاں ضرور آئیں لیکن اخبار بند کرنے کی نوبت نہیں آئی اس لحا ظ میں خود کو ایک کامیاب صحافی سمجھتا ہوں۔سعید احمد نے کہا کہ میں جالنہ سے ایم اے ہندی کرنے کے لئے اورنگ آباد آیا تھا۔ یہاں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر یونیورسٹی میں ایم اے میں داخلہ بھی لیا تھا لیکن کچھ ہی ماہ میں ایم اے ہندی چھوڑ کر بی جے میں داخلہ لے لیا اور جرنلزم کر کے لوکمت سماچار میں ملازمت کرلی جو ابھی تک جاری ہے۔ مزمل باری نے جو لوکمت ٹائمز سے وابستہ تھے نے کہاانہوں نے ریختہ فاؤنڈیشن کے ایک کل ہند مقابلہ ”میری آواز ہی پہچان ہے“ میں حصہ لیا اور سرفہرست 10/ بہترین آوازوں میں اپنے آپ کو منوایا۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس آواز کی صلاحیت ہے جسے میں اردو کی ترقی کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہوں حالانکہ میرا ذریعہ تعلیم انگریزی رہا ہے۔دویا مراٹھی کے نمائندہ صحافی سید فیروز نے اپنے صحافتی تجربات اور حالات کے نشیب و فراز کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ابتداء میں مجھے ڈھائی ہزار روپے ملتے تھے اور میرے ماں باپ میری شادی کرنا چاہتے تھے۔میری کم آمدنی کی وجہ سے کہیں میرا رشتہ نہیں ہوپارہا تھا۔ اس لئے میں نے صحافت چھوڑ کر مارکیٹنگ شروع کی اور اس کے بعد میری ڈاکٹر ریحانہ سید سے شادی ہوئی اور میں پھر دوبارہ صحافت میں لوٹ آیا اور اب ایک کامیاب صحافی ہوں جس کا سہرہ میری اہلیہ کے سر ہے۔

اے ڈی این نیوز کے نیوز ایڈیٹر اعجاز علی نے اپنے صحافتی سفر کے بارے میں بتایا کہ  کِلّاری ضلع لاتور میں زلزلہ کے واقعہ نے مجھے صحافت میں لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس زلزلہ سے میری سوچ میں بھی زلزلہ آیا اور میں نے روزنامہ رہبر میں کام کا آغاز کیا۔ میری رہنمائی میر ے دوست خطیب الحسن انصاری کرتے رہے۔ اسی اخبار میں کام کرتے ہوئے میں نے اورنگ آباد کے نامنتر کی خبروں کو بہت نمایاں شائع کیا۔اس کے بعد اورنگ آباد ایکسپریس میں کام کیا جو میری صحافتی زندگی کا سنہرا دور ہے بعد ازاں میں نے شمع رہبر میں کام کیا اور ممبئی میں روزنامہ ہم اور آپ میں کام کیا اور اب ADNنیوز چینل میں نیوز ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کررہا ہوں۔ارباض انصاری نے بتایا کہ انہوں نے جرنلزم سے گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کیا اور ممبئی میں ایک ٹی وی چینل میں بالی ووڈ کے کوریج کا کام کیا جس میں سلمان خان، عامر خان، شاہ رخ خان جیسے سپر اسٹارس کے انٹرویوز لئے اور اسی طرح دیگر اداکاراوں اور اداکاروں کے بھی انٹرویوز لئے اور مجھے اس میدان میں کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔ ”میرا صحافتی سفر“ پروگرام کے کنوینئر قاضی محی الدین نے کہا کہ میں نے میٹرک کے بعد کچھ عرصہ تحسین احمد خان کی نگرانی میں اورنگ آباد ٹائمز میں خبروں کا ترجمہ کرنے کا کام کیا اور پھر کارپوریشن میں ملازم ہوگیا لیکن یہ ملازمت میری طبیعت پر گراں گزرتی تھی اس لئے میں نے اسے چھوڑ دیا اور کوچنگ کلاس شروع کردی۔جب مجھے ایم سی این اردو نیوز میں نیوز ریڈنگ کا موقع ملا تو میں نے اسے اختیار کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی اور پچھلے 15/سال سے اسی نیوز چینل میں نیوز کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے کام کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم جب کوئی نیوز بناتے ہیں یا نشر یا شائع کرتے ہیں تو وہ نہ کسی کے خلاف ہوتی ہے اور نہ کسی کے فیور میں ہوتی ہے۔اس نیوز کا اصل مقصد اصلا ح کرنا ہوتا ہے۔ اورنگ آباد کے معمر ترین اردو صحافی غضنفرجاوید نے کہا کہ میں نے صحافت میں پوری عمر گزاردی۔ میں مہاراشٹر کا واحد اردو صحافی ہوں جس کو آج ہر ماہ گیارہ ہزار روپے حکومت مہاراشٹر سے پنشن ملتی ہے۔ اور اسی طرح میں مہاراشٹر کا وہ پہلا اردو صحافی ہوں جسے حکومت مہاراشٹر کی جانب سے ایکریڈیشن کارڈ ملاتھا۔

 

صاحب جشن نورالحسنین نے اپنی مخاطبت میں کہا کہ اردو صحافت کاشمار آج دنیا کی اہم زبانوں کی صحافت میں ہوتا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میرے جشن کے حوالے سے آج تمام اردو اخبارات کے مدیران اور نمائندگان یہاں جمع ہیں خوشی کی بات یہ بھی ہے کہ وارثان حرف و قلم نے مراٹھی، انگریزی اورہندی زبانوں کے اخبارات اور نیوز چینلز میں کام کرنے والے مسلم صحافیوں کو بھی اس پروگرام میں مدعو کیا ہے۔ عام طور پر کسی بھی شخصیت کا جشن بعداز مرگ منایا جاتا ہے اور ایک دو دن کا جشن ہوتا ہے۔ لیکن میرے دوست خالد سیف الدین اور ابوبکر رہبر میرا جشن گزشتہ دو سال سے منا رہے ہیں۔ مجھ پر ملک کے اہل قلم سے مضامین لکھوائے گے اور 436/ صفحات پر مشتمل کتاب ”من شاہ جہانم“ شائع کی گئی اور  اب میرے لئے منعقد کئے گئے تمام پروگراموں کی روداد اور تصویروں پر مشتمل مجلہ کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔

 

جشن نورالحسنین کے روح رواں اور اس کے منتظم اعلی خالد سیف الدین نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ ہم جشن نورالحسنین میں ہر اس شعبہ حیات کو جشن کا حصہ بنارہے ہیں جن جن شعبوں میں نورالحسنین نے کام کیا ہے۔ نورالحسنین نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ہی روزنامہ ”آج“ میں کالم ”مستند ہے میرا فرمایا ہوا“ سے کیا تھا۔ اس لئے ہم نے تمام اردو صحافیوں کو ایک جگہ جمع کیا تاکہ ایک ساتھ بیٹھیں اور اس طرح ہمارے اتحاد و اتفاق کا بھی مظاہرہ ہو۔ مجھے خوشی ہے کہ تمام روزناموں اور ہفت روزہ اخبارات کے مدیران آج یہاں موجود ہیں۔ ہم نے اس بات کا بھی خیال رکھا کہ پرنٹ میڈیا کے ساتھ الیکٹرانک میڈیا اور ریڈیو صحافت سے متعلق صحافی بھی اس پروگرام میں شرکت کریں اور اپنی صحافتی زندگی کے نشیب و فراز سامعین کے سامنے پیش کریں۔ الحمد اللہ اس میں ہمیں کامیابی ہوئی اور آج ہم نے تقریباً 77/ صحافیوں کو یہاں مدعو کیا جو ہال میں موجود ہیں۔

 

واضح رہے کہ اس پروگرام کا آغاز مولانا سید زبیر ندوی کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ بعد ازاں سیدفاروق احمد نے نعت پڑھی اور خالد سیف الدین کے افتتاحی کلمات سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ اس پروگرام کی نظامت سینئر صافی ابوبکر رہبر نے کی اور ہر صحافی کے تعارف میں اس کے اخبار اور سابقہ کریئر پر فی البدیہہ روشنی ڈالتے رہے۔ اس پروگرام کے کنویئنر قاضی محی الدین (ایم سی این نیوز) تھے جبکہ رابطہ کار سید اطہر احمد (وارثان حرف وقلم) تھے۔ تمام صحافیوں کی خدمت میں مسلم گریجویٹ فورم مہاراشٹر کی جانب سے تحفہ پیش کیاگیا۔ اس موقع پر وارثان حرف و قلم کے صدر محمد وصیل بھی اسٹیج پر موجود تھے۔

 

مہمانان خصوصی اور مہمانان اعزازی اور مقررین کے علاوہ اس پروگرام میں جن صحافیوں کا استقبال کیا گیا ان میں حمید ملک، اظہر شکیل، عقیل اختر، عبدالواجد شیخ، شیخ لعل، رفیق عزیز، محمد معراج، مجیب دیونیکر، محمد ارشاد، شفیع حسینی، اشفاق شیخ، سید ذاکر علی، خطیب الحسن انصاری، عبدالہادی، اسرار چشتی، محبوب انعامدار، ذکی صدیقی، عارف دیشمکھ، شیخ اختر، محمد ذاکر، شیخ فاروق، توصیف خان، شکیل خان، طیب ظفر، افروز خان (فے فے)، انیس رامپورے اور عمران زویری شامل تھے۔ پروگرام کا اختتام محمد اظہر الدین کے شکریہ پر عمل میں آیا۔