دورے میں بھی سیاستیں نکلیں،قربتوں میں بھی فاصلہ نکلا

National

دورے میں بھی سیاستیں نکلیں،قربتوں میں بھی فاصلہ نکلا

ڈاکٹر سلیم خان

جموں کشمیر میں تشدد کے اعدادو شمار گواہ ہیں کہ ایوان پارلیمان میں وزیر داخلہ نے دہشت گردی کے خاتمے کا جو دعویٰ کیا تھا وہ غلط  ثابت ہوچکا ہے۔  تشدد کی وارداتوں میں اچانک  ہونے والے  اضافہ سے متعلق جب   وادی کے ایک معمر کشمیری رہنما طارق حمید کراّ سے سوال کیا گیا تو انہوں  سیدھا جواب دینے کے بجائے ایک مثال سے بات  سمجھانے کی کوشش کی ۔ وہ بولے  جب آپ ریت کو مٹھی میں بند کرتے ہیں تو جب تک شکنجہ سخت ہوتا ہےایک ذرہ   بھی باہر نہیں جاتا  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ  ہاتھوں میں ورم آجاتا ہے اور شکنجہ کمزور ہونے لگتا ہے۔ اسی کے ساتھ ریت  باہر آنے لگتی ہے۔  انہوں نے  صلاح دی کہ  اگر آپ جنگجوئیت کم کرنا چاہتے ہیں، قلب و ذہن سے  اس کی  بیخ کنی کرنا  چاہتے ہیں تو  یہ صرف   ہمدردی سے ممکن ہے ۔ سابق مرکزی وزیرپروفیسر سیف الدین سوز کے مطابق  آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے  بھی حال میں ناگپور کے اندر  اعلان  کیا تھا کہ آئین کی دفعہ 370 اور 35A کو کالعدم کرنے کے بعد ابھی بہت کچھ کرنا باقی  ہے تاکہ کشمیر ہندوستان میں دوسری ریاستوں کی طرح مدغم ہو جائے ۔اس طرح سنگھ پریوار کی  یہ خوش فہمی کہ کشمیر کے خصوصی درجہ کا خاتمہ  تشدد ازخود ختم کردے گا ان د و سالوں میں  دور ہوچکی ہے۔

 

وزیر داخلہ نے فاروق عبداللہ کے پاکستان سے بات چیت کے مشورے کو ٹھکراتے ہوئے کہا کہ اگر گفتگو کرنی ہی ہو تو ہم اپنے کشمیری نوجوانوں سے کریں گے  ؟ اسی کے ساتھ انہوں نے دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے علٰحیدگی پسندی کے ختم ہونے کا دعویٰ  بھی  کردیا مگر اتفاق سے مرکزی وزیر داخلہ کی موجودگی میں   پاکستان کی ٹیم  نے کرکٹ  کے میدان میں ہندوستان کو ہراد یا ۔   اس  کے بعد بلی تھیلے سے باہر آگئی کیونکہ  کشمیر یونیورسٹی کے چند طلباء نے   خوشی  منا ئی ۔   یہ الزام بھی ہے کہ  میچ کے بعد جموں وکشمیرمیں ہندوستان مخالف نعرے بازی کی بھی اطلاع ملی ۔ اسے لے کر پولیس نے سرینگر میں واقع دو میڈیکل کالج کے ہاسٹل وارڈن، منیجمنٹ اور طلبا کے خلاف یو اے پی اے اور دیگر دفعات میں ایف آئی آر درج کرلیں۔ اس کے علاوہ سرینگر کے گورنمنٹ میڈیکل کالج اور شیرکشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کےبھی کچھ ویڈیو سامنے آئے۔

 

اس بابت جموں وکشمیر پولیس کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ، ’سری نگر شہر کے سورہ اور کرن نگر پولیس اسٹیشن میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کی دفعہ 13 اور تعزیرات ہند کے 505 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور جانچ کے بعد  اس معاملے کے ذریعہ مثال قائم کریں گے‘۔ اس بابت سوشل میڈیا پر بھی صارفین نے جموں وکشمیر حکومت اور پولس سے میڈیکل طلبا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ ہونے لگا۔ جی ایم سی طلبا نے یہاں تک  کہا کہ ، ’ایسے ڈاکٹرس انسانیت کے لئے خطرہ ہیں۔ خدا جانے یہ کشمیر میں تعینات فوجیوں کا علاج کیسے کریں گے‘۔  سوشیل میڈیا تو خیر اپنی  غیر ذمہ داری کے لیے مشہور ہے لیکن بی جے پی کے قومی ترجمان نے بھی ٹیلی ویژن پر کہہ دیا کہ ’ہم 303سیٹ جیت کر اس لیے نہیں آئے ہیں کہ کسی کو ہندوستان کی مخالفت کرنے دیں ۔ ‘ اس موقف کی مخالفت نہ صرف محبوبہ مفتی بلکہ معروف صحافی تولین سنگھ نے بھی کی۔  اس معاملے میں خیر سگالی کا  تقاضہ تو یہ  تھا کہ اسے نظر انداز کردیا جاتا لیکن  پنجاب کے اندر بھی  کشمیری طلباء کو ہاسٹل میں زدو کوب کیا گیا۔ اتر پردیش کے آگرہ میں کچھ غنڈہ عناصر کالج کے کیمپس میں داخل ہوگئے اور کشمیری طلباء کو ہراساں کیا۔ انتظامیہ نے شر پسندوں پر کارروائی کرنے کے بجائے کشمیری طلبا پر غداری کا مقدمہ قائم کرکے عدالت میں حاضر کیا  تو  وہاں ان پروکیل کے ذریعہ حملہ ہوگیا ۔  کیا عوام کادل  اسی طرح  جیتا جاتا ہے؟

 

ہندوستانی ٹیم کے کپتان   وراٹ کوہلی نے تو پاکستانی کپتان کو  کھلے عام مبارکباد دی تو کیا وہ بھی غدارہیں ؟ دنیا بھر میں ہندوستان کی ٹیم اچھے کھیل کا مظاہرہ کرتی ہے تو وہاں کے لوگ اسے سراہتے ہیں تو کیا اپنے ملک کے وفادار نہیں رہتے؟ کیا حریف ٹیم کو سراہنا ملک  سے غداری ہے؟  1999میں چنائی کے اندر پاکستان نے ہندوستان کو شکست دی تو اسٹیڈیم کے سارے لوگوں نے کھڑے ہوکر اس کی پذیرائی کی تھی ۔ توکیا وہ سب غدارِ وطن ہو گئےتھے ؟ کیا اب اپنے ملک آنے والی کسی ٹیم کی کامیابی کو سراہا نہیں جائے گا ؟ یا یہ سلوک صرف پاکستان کے لیے خاص ہے؟  اس رویہ کے بعد امیت شاہ کا یہ کہنا کہ اب کشمیری طلباء کو طب کی تعلیم حاصل کرنے کی خاطر پاکستان جانے کی ضرورت نہیں بے معنیٰ ہوجاتا ہے۔ اپنے وطن میں اگر ان کے ساتھ یہ سلوک ہو تو  اپنائیت کا جذبہ کیسے پیدا ہوگا؟  وزیر داخلہ کو سیاسی جملہ بازی سے اوپر اٹھ کر ان سوالات پر ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہیے۔  طلباء کے خلاف یو اے پی اے جیسے قوانین   کا بے دریغ  استعمال  دوستی کے ہاتھ کا پاکھنڈ ظاہر کرتا ہے۔  یہ قانون تو دن دہاڑے  کسانوں پر گاڑی چڑھانے والے آشیش  مشرا پر بھی نہیں لگایا گیا۔کشمیر کی بابت  حکومت کایہ  کنفیوژن نہیں تو کیا ہے کہ کبھی دوستی کا ہاتھ بڑھایا جاتا اور کبھی کھینچ لیا جاتا ہے۔  وزیر اعظم  دل کی دوری دور کرنے کے لیے جن کشمیری سیاستدانوں کو دلی بلاتے ہیں وزیر داخلہ کشمیر میں جاکر ان کے خلاف محاذ کھول دیتے ہیں ۔

 

 کشمیر سے دفع 370کا خاتمہ کرتے ہوئے یہ اعلان کیا گیا تھا اب وہاں پر ہر ہندوستانی وہاں  زمین خرید سکتا ہے لیکن ابھی حال میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے  اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کی ایک انچ زرعی زمین بھی باہر کے کسی شخص کو نہ دی گئی ہے اور نہ دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ یونین ٹریٹری کے نئے اراضی قوانین کے مطابق یہاں زرعی زمین کوئی باہر کا شخص خرید نہیں سکتا ہے الاّ یہ کہ وہ  کسان ہو۔ باہر سے آخر زمین خریدنے والے صنعتکار یا تاجر ہوتے ہیں کیونکہ کوئی کسان وہاں زمین خرید کر زراعت کرنے کی خاطر کیوں جائے گا؟ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بڑے جوش میں مقامی لوگوں کو مخاطب کرکے  کہا  کہ: ’’بڑا شور ہو رہا ہے کہ یہاں کی زمین باہر والوں کو دی جا رہی ہے۔ میں آپ سب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کسی بھی گاوں میں اگر کسی کی ایک انچ زمین کسی باہر کے آدمی کو دی گئی ہے تو مہربانی کر کے ہمیں بتائیں‘‘۔ اس کے بعد وہ بولے  میں یہ بات ذمہ داری سے کہنا چاہتا ہوں کہ کسی بھی کسان کی ایک انچ زمین بھی باہر کے کسی شخص نے نہیں لی ہے۔ا نہوں نے کشمیر میں  زرعی زمین کی حفاظت کرنےکو انتظامیہ کی ذمہ داری قرار دیا، ساتھ آسمانی آفات سے جن باغ مالکان کا نقصان  بھرپایہ کے لیےپوری مدد کرنے کا وعدہ کیا۔  یہ بات اگر حقیقت ہے تو کشمیر خصوصی درجہ اس معنیٰ میں ہنوز  بحال ہے اور عوام کو صرف بیوقوف بنایا گیا تھا۔

 

وزیر داخلہ نے اپنے دورے کے دوران یہ غیر عقلی  کرونولوجی پیش کی کہ   پہلے حلقہ ہائے  انتخاب کی تنظیم نو ہوگی  اور پھر  الیکشن کا انعقاد کیا جائےگا ۔ اس   کے بعد جاکر  صوبے کی حیثیت بحال کی جائے گی ۔ اس الٹی  ترتیب کی ہر چہار جانب سے تنقید ہوئی۔ کشمیر سے متعلق تبصرہ کرنے والے ہر ذی شعور مبصر نے اسے غلط قرار دیا کیونکہ یہ    ’گاڑی آگے اور گھوڑا پیچھے‘ کی مصداق  ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ سب سے پہلے جموں کشمیر کو یونین ٹریٹری کے درجہ سے ترقی دے کر باقائدہ صوبہ بنایا جائے۔ اس کی پرانی حیثیت بحال کرنے کے بعد  وہاں انتخابات منعقد کرائے جائیں ۔ اس کے بعد تنظیم نو کی ذمہ  داری منتخبہ حکومت کو سونپی جائے لیکن شاہ جی کے اندر خود اعتمادی کی کمی ہے۔ انہیں یقین نہیں ہے کہ وہ کامیاب ہوں گے اور اگر پھر سے مخلوط حکومت بنے تو ان کی پسند کے مطابق تشکیل جدیدنہیں  ہو سکےگی اس لیے یہ کام خود کرلینا چاہتے ہیں۔  اس بد اعتمادی اور خود سری کا نتیجہ یہ نکلا کہ  اس دورے  کے  دوران  کشمیر کے اندر ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جبکہ تشدد کی کوئی نہ کوئی واردات رونما نہیں ہوئی۔ اسی لیے ذرائع ابلاغ میں اس کا خاطر خواہ چرچا بھی نہیں ہوا، اور یہ دورہ ناکام قرار دیا گیا ۔  اس پر رسا چغتائی کا یہ شعر صادق آتا ہے؎

عشق میں بھی سیاستیں نکلیں

قربتوں میں بھی فاصلہ نکلا