شاہ جی : بھلا تم ملے بھی تو کیا ملے، وہی دوریاں وہی فاصلے

National

 شاہ جی : بھلا تم ملے بھی تو کیا ملے، وہی دوریاں وہی فاصلے

ڈاکٹر سلیم خان

مودی جی  کی آزمائش  قومی انتخاب میں کامیابی کے بعد   ختم نہیں ہوئی بلکہ 6؍ ماہ کے اندر انہیں مہاراشٹر اور ہریانہ کے صوبائی انتخاب میں کامیابی حاصل کرنی تھی۔ یہ آسان کام نہیں تھا کیونکہ بار بار پلوامہ اور سرجیکل اسٹرائیک مشکل تھا۔  اس لیے کشمیر میں 370؍ کے خاتمے کا جوا کھیلا گیا اور اسے نہ صرف مہاراشٹر، ہریانہ، جھارکھنڈ ، دہلی بلکہ  بہار میں  بھی بھنانے کی کوشش کی گئی لیکن  ہر جگہ ناکامی ہی  ہاتھ آئی  ۔ ہریانہ میں اپنے پیروں پر کھڑی بی جے پی کی صوبائی   سرکار بیساکھی پر آگئی اور  بہار میں نتیش کمار پر انحصار بڑھ گیا کیونکہ چراغ پاسوان  کے  سبب  ’دل کی دوری‘ میں اچھا خاصہ اضافہ ہوچکا تھا۔  وزیر اعظم  نریندرمودی کو22؍ ماہ گزر جانے کے بعد جب  احساس ہوا کہ جموں کشمیر کے معاملے میں خاصی دیر ہوچکی ہے تو امسال جون میں  انہوں نے وادی کے 14؍ سیاسی رہنماوں کے ساتھ  کل جماعتی نشست کرکے اعلان   کیا کہ ’وہ دلی کی دوری اور دل کی دوری‘مٹانا چاہتے ہیں ۔ یہ اس بات کا اعتراف تھا کہ  کشمیر اور ’دلی و دل ‘ کے درمیان کی  کھائی خاصی  وسیع اور گہری ہوگئی ہے نیز اب اس  کا پاٹنا ناگزیر ہے   ۔

 

وزیر اعظم نے دل کی  دوری کو ختم کرنے کے لیے کشمیر کے سر کردہ رہنماوں   بشمول چاروں سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ ، عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی اور غلام نبی آزاد کو دہلی بلایا  تاکہ  فاصلوں  کوکم کیا جاسکے۔ یہ ایک خوش آئند اقدام تھا لیکن اس  کے  چار ماہ بعد ہی  انہوں نے گھوم جاو کرتے ہوئے  اپنے  وزیر داخلہ کو جموں کشمیرروانہ  کر کے  پھر سےفاصلہ  بڑھا دیا۔ آئین کی  دفع 370؍ اور35 ؍اے  کی منسوخی کے بعد امیت شاہ کا یہ   پہلا دورہ تھا  ۔ اس  دوران  جموں کشمیر سے بے توجہی کی وجہ  یہ تھی کہ وہاں نہ صوبائی انتخابات ہوئے  اور نہ اس کا اعلان  ہوا۔ وزیر داخلہ چونکہ  صرف انتخابی دورہ کرتے ہیں اس لیے حالیہ سفر میں شاہ جی  کی تقاریر سے  الیکشن کے بادل منڈلانے لگے ۔ سچ تو یہ ہے کہ  موجودہ  پردھان منتری کی طرح وزیر داخلہ بھی پرچار منتری  بن کر رہ گئے  ہیں۔ وہ دونوں الیکشن سوچتے ہیں ، الیکشن بولتے ہیں اسی میں سوتے اور جاگتے ہیں گویا  دن رات اسی ادھیڑ بن میں محو رہتے ہیں۔

 

  وزیر داخلہ امیت شاہ نے اپنے دورے میں   پولس اہلکارپرویز احمد کے گھر جاکر تعزیت کی اور  سی آر پی ایف  جوانوں کے ساتھ رات گزاری ۔ اس طرح  ذرائع ابلاغ میں یہ پیغام دیاگیا کہ یہ  سرکار بند کمروں میں بیٹھنے کے بجائے زمینی سطح پر حالات کا جائزہ لے کر  مسائل کو حل کرنے  میں یقین رکھتی ہے۔  اس بات کو اگر درست مان لیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پچھلے 22؍ ماہ  میں  وزیر اعظم ایک بار   لداخ کے اندرچین کی سرحد پر فوجیوں کا حوصلہ بڑھانے کی خاطر جاچکے ہیں ۔ ان کے علاوہ وزیر دفاع تو کئی بار سرحد کا دورہ کرچکے ہیں مگر ان دونوں کو کبھی بھی  وادی میں جا کر وہاں کے رہنماوں یا عوام سے ملنے  کا خیال  کیوں نہیں آیا؟   ایسا شاید اس لیے ہوا کہ اس  کی کو ئی  انتخابی افادیت  نہیں تھی لیکن  بظاہر اب مرکزی حکومت نہ صرف جموں کشمیر میں انتخاب کرانے پر غور کررہی ہے بلکہ آئندہ سال منعقد ہونے والے پانچ صوبائی انتخابات میں بھی  اس سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔  کرکٹ کے میدان میں پاکستان کی جیت پر خوشی منانے والے تین طلباء پر بغاوت کا مقدمہ اور یوگی کا ٹویٹ اس     کی جانب اشارہ  ہے۔

 

مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کا  پلوامہ دھماکےمیں کام آنے والے  40؍ سی آر پی ایف جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرکے شہیدوں کی یادگارپر جوانوں کے ساتھ رات گزارنا فطری عمل  تھا  کیونکہ انہیں کی بدولت بی جے پی نے گزشتہ قومی انتخاب  میں کامیابی درج کرائی تھی ۔ اس موقع پر آئندہ  انتخاب  کی راہ ہموار کرتے ہوئے انہوں نے ٹویٹ  میں لکھا ، ’آپ کی لگن اور عظیم قربانی دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کے ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ بہادر شہیدوں کو ڈھیروں سلام‘۔اس سے قبل نیم فوجی دستوں کے ساتھ وقت بتانے کے لیے سی آر پی ایف کیمپ میں رکے  رہنے کی  بابت ایک ٹویٹ میں  امیت شاہ نے لکھا تھا  ’میں نیم فوجی دستوں کے جوانوں کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا تھا، ان سے مل کر ان کے تجربے اور مشکلات کو جاننا اور جذبے کو دیکھنا چاہتا تھا۔ اس لئے پلوامہ کے لیتھ پورہ سی آر پی ایف کیمپ میں اپنے بہادر جوانوں کے ساتھ کھانا کھایا اور آج ’رات کا قیام‘ بھی کیمپ میں جوانوں کے ساتھ کروں گا‘۔ 33؍ ماہ  کے بعد پلوامہ کی یادوں  میں الیکشن کی دھمک  صاف سنائی دیتی ہے۔ 

 

وزیر داخلہ نے ایک طرف تو حفاظتی دستوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے مندرجہ بالا  قابلِ قدر اقدامات   کیےلیکن دوسری جانب  افسران کو دو ٹوک انداز میں کہہ دیا کہ وہ جموں وکشمیر میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے پر اپنی پوری توجہ دیں اور لڑیں یا پھر تبادلہ کروا لیں۔ ورلڈ کپ  میں ہندوستانی ٹیم اگر  گولڈمیڈل لانے میں ناکام ہوجائے اور کوئی اجئے شاہ سے کہہ دے کہ اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرسکتے تو کسی اور کے حق میں عہدہ خالی کردیں تو وزیر داخلہ  کو کیسا لگے گا؟ جموں کشمیر میں سیکورٹی کی صورتحال کے جائزے کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں جب  امیت شاہ کو بتایا گیا  کہ مقامی افسران انٹلی جنس کی طرف سے دی گئی معلومات  پر کام نہیں کرنا چاہتےتو انہوں  نے کہا کہ جن افسران کو ڈر لگتا ہے، انہیں کشمیر میں کام نہیں کرنا چاہئے، اس کے بجائے انہیں دوسری جگہ پوسٹنگ لے لینی چاہئے۔ فوجی افسران کے ساتھ بات کرنے کا یہ کون سا  طریقہ  ہے؟   وزیر داخلہ نے  مغربی بنگال  کی انتخابی مہم کے دوران مائک پر’اوئے  سفید کرتے والے‘  کہہ کر جس  رعونت کا مظاہرہ کیا تھا  وردی والے جوانوں کے  ساتھ اس کا  اظہار نامناسب ہے۔ وزیر داخلہ کے اس اہانت آمیز  لب  ولہجے سے حفاظتی دستوں کی حوصلہ افزائی نہیں بلکہ  حوصلہ شکنی ہوئی  ہوگی  ۔ 

 

وزیر داخلہ    کی زبان سے یہ الفاظ سن کر حفاظتی دستوں کو تعجب ہوا ہوگا کیونکہ انہوں  نےجس  سخت ترین حفاظتی گھیرے میں یہ  دورہ کیا   اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ شاہ جی  کی آمد سے قبل تقریباً 900لوگوں  کو حراست میں لے لیا گیا۔ دیگر حفاظتی اقدامات کے ساتھ  عوام کو  ان  کےدو پہیہ سواریوں تک  سے محروم کردیا گیا۔اسی کے ساتھ  انٹرنیٹ کی خدمات بھی  محدود کردی گئیں یعنی ان کو کبھی بند تو کبھی  دھیما کیا گیا ۔ اس کے برعکس حفاظتی دستوں کو تو دن رات وہاں خطرات سے کھیلنا  پڑتا ہے۔ ان پر دباو کا یہ عالم ہے کہ   پچھلے 3؍ ہفتوں میں 6؍ جوان  خودکشی  کرچکے ہیں ۔ پچھلے 30؍ سالوں   میں سیکڑوں جوانوں نے جموں کشمیر میں  خود کو ہلاک کیا ہے۔  کیا سی آر پی ایف کیمپ میں رات گزارنے کے باوجود شاہ جی اگر  اپنے حفاظتی دستوں کے اس دباو کو محسوس نہیں کرسکے  تو اسے ایک  اشتہاری مشق سمجھنا پڑے گا۔  

 

وزیر داخلہ کو جائزے کے دوران جب  اطلاع دی گئی کہ  2021 میں سرحد سے  صرف 11 دراندازی ہوئی ہےتو ان   کا  جواب تھا  اگر دراندازی صرف 11 ہے تو قتل میں بھی کمی آنی چاہئے۔اس طرح  اب تک وادی میں دہشت گردی اور قتل کے حادثات پوری طرح ختم ہوجانے چاہئیں ، جو کہ نہیں ہوئے تو کیا یہ جواب درست ہے؟  وزیر داخلہ شاید  نہیں جانتے کہ  کشمیر  کے تشدد کا پورا انحصار در اندازی پر نہیں ہے۔ 19؍اکتوبر کو خفیہ محکمہ کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق  متعلق افسران کا کہنا تھا کہ دہشت گرد تنظیموں نے اپنا روایتی طریقۂ کابدل دیا ہے۔ پراکسی تنظیموں کا استعمال نہ صرف ہندوستان بلکہ افغانستان میں بھی دہشت پھیلانے کی سب سے محفوظ پالیسی ہے۔ اس کے سبب بڑی دہشت گرد تنظیموں کو نہ اپنے دہشت گرد بھیجنے کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ   بڑے ہتھیار بھیجنے پڑتےہیں ۔ یہ پراکسی تنظیم کشمیری نوجوانوں کے ساتھ مل کر بے حد جدید ہتھیارمثلاًپستول کا استعمال کرتی ہے ۔ ضلع کمانڈر آن لائن سیشن کے ذریعہ کشمیری نوجوانوں کوقتل  اور اسلحہ کی تربیت دیتے ہیں۔ مقامی نوجوانوں کو اس لئے استعمال  کیا جاتا ہے کیونکہ وہ مقامی  صورتحال سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ وزیر داخلہ اگر خود اپنے محکمہ کی یہ رپورٹ دیکھ لیتے تومذکورہ  سوال نہیں کرتے۔(۰۰۰۰۰۰۰۰جاری)