حیدر آباد کے 1948 کے قتلِ عام کی پردہ پوشی اور آپریشن پولو

National

حیدر آباد کے 1948 کے قتلِ عام کی پردہ پوشی اور آپریشن پولو

فہیم اختر۔لندن

 

            کچھ واقعات ذہن سے اتر جاتے ہیں تو وہیں کچھ واقعات ذہن میں پیوست ہوجاتے ہیں۔ایسا ہی کچھ واقعہ نسل کشی کا بھی ہے۔تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو نسل کشی کے واقعات سے ہر دور میں کوئی انسان، حکمران یا سیاستدان نسل کشی کے جرم میں مجرم پایاجاتا ہے۔نسل کشی ایک جان بوجھ کر کی جانے والی کاروائی ہے جسے عام طور پر نسلی، قومی، نسلی یا مذہبی گروہ کے طور پر بیان کیا جاتا ہے جومکمل یا جزوی طور پر ہوتا ہے۔

 

            اقوام متحدہ کونسل کا نسل کشی کنونشن، جو 1948میں قائم کیا گیا تھا،جس میں یہ طئے پایا کہ نسل کشی کا مطلب یہ ہے کہ قومی، نسلی، نسلی یا مذہبی گروہ کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کے ارادے کے ساتھ انجام دیا گیا ہو۔جس میں گروہ کے ارکان کو شدید، جسمانی یا ذہنی نقصان پہنچانا، جان بوجھ کر زندگی کے ایسے حالات مسلط کرنا، پیدائش کو روکنا، یا زبردستی بچوں کو گروپ سے باہر دوسرے گروپ میں منتقل کرنا وغیرہ ہیں۔ (The Political Instability Task Force)سیاسی عدم استحکام ٹاسک فورس کے مطابق 1956سے 2016 کے درمیان مجموعی طور پر 43نسل کشی کے واقعات ہوئے ہیں۔ جس میں تقریباً 500لاکھ افراد ہلاک ہوئے اور لگ بھگ  500لاکھ لوگ بے گھر بھی ہوئے ہیں۔

 

            چند سال قبل بی بی سی ریڈیو پر حیدر آباد کے 1948 کے فساد کے حوالے سے ایک دستاویز نشر کی گئی جسے سن کر ہمیں بھی تاریخ سے اپنی لا علمی پر شرمندگی کا احساس ہوا۔ جب ہندوستان اور پاکستان کا بٹوارہ ہوا تو اس وقت فرقہ وارانہ فساد میں کوئی ۵ لاکھ لوگوں کو اپنی جان گنوانا پڑی تھی۔ یہ فساد زیادہ تر پاکستان کی سرحد کے قریب ہوا تھا۔ لیکن ٹھیک اس کے ایک سال بعد ایک اور فرقہ وارانہ فساد میں ہندستان کے بڑے شہر حیدر آباد میں ہوا تھا جس پر آج تک رازداری کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔جب ہندوستان کو انگریزوں سے آزادی ملی تھی اس کے فوراً بعد ستمبر اور اکتوبر 1948کو حیدرآباد میں ہزاروں مسلمانوں کو بڑی بے دردی سے قتل کردیا گیا تھا۔ اس فساد میں ہندوستانی فوج نے کچھ لوگوں کو قطار میں کھڑا کر کے گولیوں سے بھون دیا تھا۔

 

            اس سلسلے میں حکومت کی کمیشن کو ایک رپورٹ پیش کرنی تھی کہ اس قتلِ عام کی وجہ کیا تھی لیکن یہ رپورٹ آج تک منظر عام پر نہ آسکی اور آج بھی بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر حیدر آباد میں فساد ہواتھا۔ نقادوں کا یہ الزام ہے کہ ہندوستانی حکومت ہمیشہ اس واقعہ کی پردہ پوشی کرتی آرہی ہے۔ یہ واقعہ ہندوستان کے مشہور شہر حیدر آباد میں ہواتھا  جو کہ ہندوستان کا ایک امیر ترین صوبہ تھا۔

 حیدر آباد انگریزی راج میں ان ۰۰۵ صوبوں میں ایک ایسا صوبہ تھا جسے اپنی خود مختاری حاصل تھی۔ جب ہندوستان آزاد ہواتھا تو یہ تمام صوبے اپنی رضامندی سے ہندوستان میں شامل ہو گئے تھے۔ لیکن حیدر آباد کے نظام نے یہ اصرار کیا کہ وہ آزاد رہنا چاہتے ہیں تو اس بات سے زیادہ تر ہندو لیڈروں میں غم و غصہ پا یاگیا تھا۔ آخر کار دہلی اور حیدر آباد کے بیچ ایک تعطل کے بعد حکومت نے اپنا صبر کھو دیا اور ہندوستانی حکومت کو یہ خوف پیدا ہونے لگا کہ ہندو اکثریت والے ملک میں ایک آزاد مسلم صوبے کا قیام نہیں ہو جائے۔

 

            کہا جاتا ہے کہ حیدر آباد کے طاقت ور’رضا کار‘ ملیشیا جو کہ ایک طاقت ور مسلم سیاسی پارٹی تھی اس نے دیہاتوں میں ہندوٗں کو خوفزدہ کررکھا تھا۔اس واقعہ سے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو ایک بہانہ مل گیا اور انہوں نے ستمبر 1948 کو آزاد ہندوستان کی فوج کو حیدر آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا جس نے حیدر آباد پر حملہ کر دیا۔’آپریشن پولو‘ کے تحت اس حملے کو ہندوستانی حکومت نے  ’پولیس ایکشن‘  بتا کر لوگوں کو گمراہ کیا اور نظام حکومت کچھ ہی دن کے بعد ہندوستانی فوج سے شکست کھا گئی۔ لیکن اس کے بعد دہلی یہ خبر پہونچی کہ ہندوستانی فوج کے حملے کے بعد مسلمانوں کے گھروں کو جلایا گیا، لوٹ مار کی گئی،کھلے عام قتل اور غارت گری کی گئی اور عصمت دری کی گئی۔

 

            اس واقعہ کی تہہ تک جانے اور چھان بین کرنے کے لئے نہرو نے ایک چھوٹی سی ٹیم کی تشکیل کی جس میں مختلف مذاہب کے لوگ شامل تھے جن کو حیدرآباد بھیجا گیاتھا۔اس ٹیم کی رہنمائی ایک ہندو کانگریسی پنڈت سندر لال کے ذمہ سونپی گئی جن کی رپورٹ کبھی منظرِ عام پر نہیں آئی۔ لیکن حال ہی میں کیمبریج یونیور سیٹی کے مورخ سنیل پوروشورتھم  نے اپنی اسی واقعہ کی تحقیق کے غرض سے اس رپورٹ کی ایک کاپی حاصل کی ہے جس سے اس بات کا پتہ چلاکہ بڑے پیمانے پر مسلمانوں کا قتل عام ہوا تھا۔ اس رپورٹ میں پنڈت سندر لال کی ٹیم نے یہ انکشاف کیا کہ حیدر آباد کے اس واقعہ میں لگ بھگ ۰۰۰۷۲ ہزار سے لے کر ۰۰۰۰۴ تک لوگوں کی جانیں گئی تھیں۔ سندر لال کی ٹیم نے درجنوں گاؤں کا دورہ کیا تھا۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ زیادہ تر جگہوں پر فوجیوں نے مسلم مردوں کو گھروں سے باہر لا کر ان کا قتلِ عام کر دیاتھا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ درجنوں ایسے شہادت ملے ہیں جہاں یہ بات پائی گئی ہے کہ فوج نے مقامی پولیس کے ساتھ مل کر لوٹ مار کی اور دیگر جرم میں ملوث پائے گئے تھے۔ اس کے علاوہ یہ بھی پایا گیا کہ فوج نے ہندو ہجوم کو بھی اکسا یا اور مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کو لوٹنے میں ا ن کا ساتھ دیا تھا۔

 

            ٹیم نے یہ بھی رپورٹ میں بتا یا کہ جب فوج نے مسلمانوں کو غیر مسلح کیا  تو وہیں انہوں نے ہندوں سے ان کے ہتھیار ضبط نہیں کئے تھے۔ حالا نکہ اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کچھ واقعات ایسے بھی ہوئے ہیں جہاں ہندوستانی فوج نے مسلمانوں کے ساتھ اچھا برتاؤکیا تھا اوران کے ساتھ ان کی جان و مال کی حفاظت بھی کی تھی۔

 

            اس فساد کی ایک وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ برسوں سے ہندو رضاکاروں کی دھمکی اور تشدد کے شکار تھے۔سندر لال رپورٹ کے مصنف نے خفیہ طور پر یہ لکھا ہے کہ ہندوئں کے بدلہ لینے کا ایک واقعہ اتنا دل دہلا دینے والا ہے کہ جس کو دیکھ کر ٹیم کے حواس اُڑ گئے تھے۔ اس میں لکھا ہے کہ  ’بہت ساری جگہوں پر ہمیں ایسے کنویں دیکھا ئے گئے جس میں لاشیں بھری ہوئی تھی اور وہ سڑ چُکی تھیں اورایک جگہ جب ہم لوگ لاشوں کی گنتی کر رہے تھے تو اس میں ایک لاش ایک عورت کی تھی جس کے سینے سے ایک بچہ چپکا ہوا تھا‘۔

 

            سرکاری طور پر آج تک اس بات کی صفائی نہیں دی گئی کہ سندر لال رپورٹ کے ان مندر جات کو نہرو نے کیوں شائع کرنے نہیں دیا تھا لیکن قیاس کیا جاتا ہے کہ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ حکومت کو اس بات کا ڈر تھا کہ اس رپورٹ کے شائع ہونے سے مسلمانوں میں ہندؤں کے خلاف غصہ اور بدلے کی آگ بھڑک جائے گی۔یہ بھی حیرانی کی بات ہے اس واقعہ کو اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ملک کے کتابوں میں اس کا کہیں ذکر نہیں ملتا ہے اور آج بھی بہت کم لوگوں کو اس واقعہ کی جانکاری ہے۔

 

            حالا نکہ سندر لال رپورٹ کا علم بہت کم لوگوں کو ہے لیکن یہ دہلی کے نہرو میموریل میوزیم اور لائبریری میں نمائش کے لئے رکھا گیا ہے تاکہ عام لوگوں کو اس کی جانکاری ہو۔ اس واقعہ کو عام آدمی تک پہونچانے کے لئے ہندوستانی پریس سے بھی گزارش کی گئی ہے کہ اس واقعہ کو وہ شائع کریں تاکہ عام آدمی کو ا س واقعہ کی جانکاری ہو۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس رپورٹ کو پڑھ کر ہندؤں اور مسلمانوں میں

 اور تناؤ بڑھے گا۔

 

            نومبر 1947میں، حیدرآباد نے ہندوستان کے تسلط کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیا تھا اس معاہدے میں ریاست میں ہندوستانی فوجیوں کی تعیناتی کے علاوہ تمام سابقہ انتظامات کو جاری رکھا جائے گا پر اتفاق ہواتھا۔تاہم اس قتل عام کی پردہ پوشی کے لیے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حیدرآباد میں کمیونسٹ ریاست کے قیام اور عسکریت پسندوں کے عروج کے خوف سے بھارت نے ستمبر 1948میں ایک معاشی ناکہ بندی کے بعد ریاست پر حملہ کیا۔

 

            17ستمبر 1948کو ریاست حیدرآباد پر حملہ انسانی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے۔ مسلمانوں کے قتل عام کو یوم آزادی کا نام دینا عالمی تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔برطانیہ میں مقیم حیدرآبادیوں سے جب ہم نے اس موضوع پر بات کی تو انہوں نے کہا کہ حیداآباد میں تو کئی فساد ہوئے ہیں لیکن اس 1948 کے فساد کے سلسلے سے انہوں نے اپنی لا علمی کا اظہار کیا اور کہا کہ سندر لال رپورٹ کے بارے میں انہیں پہلی بار ایسی جانکاری ہو رہی ہے۔

 

            سول لیبارٹیز مانیریٹنگ کمیٹی نے اپنے رپورٹ میں حیدرآباد میں مسلمانوں کے قتل عام بذریعہ ملٹری آپریشن اورپولیس ایکشن کو

 دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ کہاہے۔ نہرو کی’آپریشن پولو’‘نے اپنا کھیل بے دردی سے کھیل کر لاکھوں بے قصور لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جسے تاریخ کبھی نہ بھلا پائے گی اور نہ معاف کرے گی۔تما م رپورٹ اور سندر لال کے رپورٹ سے یہ بات صاف عیاں ہے کہ حیدرآباد کا قتل عام کوئی آپریشن نہیں بلکہ ایک’نسل کشی‘ہے۔

 

فہیم اختر۔لندن

fahimakhteruk@yahoo.co.uk

www.fahimakhter.com