رؤف صادق کی تنقید نگاری

Education

رؤف صادق کی تنقید نگاری

ڈاکٹر شیخ ارم فاطمہ

           

            روف صادق صاحب شاعر اورمشہور مصور ہیں۔ بنیادی طور پر آپ شاعر ہیں لیکن تنقید نگاری سے بھی انھیں دلچسپی ہے۔”نقش معنی“روف صادق کی ایسی تصنیف ہے جس میں تنقیدی، تجزیاتی اور تبصراتی نوعیت کے مضامین شامل ہیں۔ کتاب ہذاکی علمی و اوبی اہمیت کے اعتراف میں مہاراشٹراسٹیٹ اردو اکادمی نے آپ کو ایوارڈ سے نوازا۔کتاب ہذا  ۸۲۴  صفحات پر مشتمل ہے۔کتاب میں شامل مضامین مختلف شعری و نثری اضاف پر مشتمل ہیں۔ان مضامین کی نوعیت اور موضوعات کو مدنظر رکھتے ہوئے صادق صاحب نے ان مضامین کو  ۰۱  (دس)حصوں میں تقسیم کیا ہے۔

 

            حصہّ اول ”رنگ ادب“ میں پروفیسر عتیق اللہ کا پیش نقطہ اور مصنف کا”اپنی بات“ کے عنوان سے مختصر مضمون ہے۔حصہ دوم ”رنگ اور روشنی“میں فنِ افسانہ نگاری پر مشتمل  ۴۱  مضامین شامل ہیں۔ یہ مضامین دور جدید کے افسانہ نگاروں کی افسانہ نگاری کے تجزیے اور تفہیم پر مشتمل ہیں۔پہلا مضمون بعنوان ”جدید افسانے میں تجریدی عمل دخل“ہے۔موصوف نے مضمون کی تمہید اس قدر متاثر کن معیاری باندھی ہے کہ قاری ذہنی طور پر مضمون سے فوراََجڑ جاتا ہے۔دورِجدید کے افسانوں میں تجریدی اسلوب غالب ”عنصر“کی حیثیت رکھتا ہے۔ تجرید کی تعریف میں موصوف نے یوں اظہارِ خیال کیا ہے:

 

             دراصل تجرید وہ لا شعوری تصور اور کوشش ہے جو تہہ دار رازداری کی عمیق چادر اوڑھے ہوئے ہو اس خمسہ پر مختلف پیکر تراشتا ہوا خیال کو مختلف الجہات میں پھیلاتا ہے یہاں تک کے تمام مشکوکات کامل یقین اور اعتماد میں بدل جاتے ہیں جیسے کے خدا کا تصور عظیم طاقت بن کر حواس پر چھا جاتا ہے خدا کے وجود سے تجریدی تصور کی ابتدا ء ہوتی ہے اور جب اُس تصور میں مختلف تصورات کی آمیزش ہونے لگتی ہے تو پہلو دار شکلیں ترسیل امکانات کو زیادہ روشن کرتی ہیں لیکن تجرید کی تجسس آمیز پراصراریت اہمیت کھوتی چلی جاتی ہے۔تجریدی فنکار کی یہی مجبوری اس کو مختلف فنی لوازمات کے ذریعے افسانے کے خدوخال سنوارنے میں معاون و مددگار ہوتی ہے۔  ۱؎

 

            مندرجہ بالا اقتباس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کے تجریدی عمل نہایت ہی تہہ داری اور معنی خیر پہلووں کو ادب میں روشناس کرواتی ہے تجریدی عمل کو جن افسانو ں میں بہترین طریقے سے استعمال میں لایا گیا ہے۔ان افسانوں کے نام اور ان افسانوں کے کرداروں کا موصوف نے ذکر کیا ہے۔مضمون کے مطالعے سے علم ہوتا ہے کے رؤف صادق صاحب ادب کو موسیقی اور مصوری سے جوڑتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ انھوں نے قاری کو فنِ مصوری اور تجریدی افسانوں سے جوڑ کر ان افسانوں کے استعارے،تمثیل اشارے اور کنایے سے  متعارف کروایا ہے۔روف صادق صاحب جب ادب کو مصوری اور موسیقی سے جوڑتے ہوئے فن اور ادب کے رشتے واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو یکایک پردہ ذہن میں مفکر سار تر اور سار تر کا نظریہ سامنے آتا ہے۔اُس نے فنِ شاعری کو مصوری، موسیقی اور سنگ تراشی کی صف میں جگہ دی ہے۔وہ اس لیے کہ ان تینوں فنون کا مقصد ایک ہی ہے یعنی لطف اندوزی۔

 

            مضمون”جدید ادب اور علامت“میں صادق صاحب نے علامت نگاری کے استعمالات اور اس کی وجوہات پر روشنی ڈالی ہے۔ان کے مطابق ادب میں علامت کااستعمال دراصل جدید مصوری کی دین ہے۔ روف صادق،  ایم۔ایف حسین کی پینٹنگ ”قندیل اور مکڑی“ اور پکاسو کی مشہور پنٹنگ ”کرنگا“ میں پیش کی گئیں علامت اور زمانہ قدیم کے فن سنگتراشی کی اہمیت بتاتے ہوئے ادب سے ان کا موازنہ کیا ہے۔ موصوف نے عادل منصوری کی نظم’زرین تاج کا افسانہ مریم‘ میں اور دیگر نظموں اور افسانوں میں پیش کردہ علامت کی حقیقی ترجمانی اور ان علامات کو استعمال میں لانے کی وضاحت بیان کی ہے۔ روف صادق علامت کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

 

            ۔۔۔۔علامت مختلف فن پاروں میں ماحول،  صفت،  ہیئت، جسامت اور کردار کے اعتبار سے مختلف رول ادا کرتے ہے۔ جس کی وہ مستحق ہوتی ہے۔  ۲؎

 

            مضمون ”فلسفہ حیات کا افسانہ نگا ر = پروفیسر حمید سہروردی“ میں صادق صاحب نے مشہور افسانہ نگار حمید سہروردی کے افسانوں کا مجموعی طور پر تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ روف صادق نے افسانوں میں موجود داخلی ہیئت اور خارجی ہیئت کے ساتھ ساتھ آفاقی نقطہئ نظر کو واضح کیا ہے۔ حمید سہروردی کے افسانے انھیں، تاریخی،سماجی، مذہبی اور تہذیبی روایات کی بنیادوں سے جڑے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔مضمون کے مطالعے سے علم ہوتا ہے کہ ”عورت“حمید سروردی کا محبوب استعارہ ہے اور وہ بہت سارے موضوعات کو ایک ہی پیکر میں سمونے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

            حصہّ”رنگ و روشنی“ میں رفیق جعفر کی افسانہ نگاری،  احمد رشید: تجربہ پسند افسانہ نگار،  مظہر سلیم کے افسانوں کا مرکزی خیال،  مقصود اظہر: اسلوب کی نئی بافت کا کہانی کار،  ایم مبین کے افسانے اور مسرورتمنا کے افسانوں میں شعورِ زن وغیرہ مضامین اپنی نوعیت کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔

 

            رفیق جعفرکے افسانوں میں موجود ڈرامائیت، پراسراریت، حیرت کن کلائمکس اور بیانیہ طرزفکر سے روف صادق صاحب بہت زیادہ متاثر ہیں۔ وہیں احمد رشید کے افسانوں میں پائے جانے والے متوازن منطقی رویئے، تمثیلی تکنیک، تجربہ پسندی، مختلف النوع فکری جہات کی اصطلاحوں سے رؤف صادق صاحب متاثر معلوم ہوتے ہیں اس مضمون کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ رؤف صادق صاحب کا رجحان حقیقت پسندی کی طرف ہے۔مظہر سلیم کے افسانوں میں مرکزی خیال جیسے بنیادی تھیم کے ذریعے مظہر سلیم کے فکر و نظر کو قاری سے متعارف کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔”بیربار“،  ”مٹھیاں“،  ”دستک“،  ”جڑیں“،  ”الاؤ اور بوڑھا شخص“،  ”مراجعت“اور ”واگھمارے نے خود کشی کیوں کی“ مظہر سلیم کے وہ نمائندہ افسانے ہیں جن میں مرکزی خیال کو نہایت ہی پر اثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔اس مضمون کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رؤف صادق صاحب کو انسانی فطرت و نفسیات میں گہری دلچسپی ہے۔ایم مبین کے افسانوں میں موصوف کا تنقیدی نقطہئ نظر، کرداروں کے احساسات،  اسلوب کے مختلف رنگ پر جا ٹھہرتا ہے۔جبکہ روف صادق کو مسر ور تمنا کے افسانوں میں زندگی کے حقیقی مشاہدے اور تجربے اہمیت کے حامل نظرآئے۔ چونکہ یہ افسانے انسانی جذبات، خصوصاً نسوانی جذبات سے لبریز ہیں اس لیے مختلف و منفرد ہیں۔

 

            کتاب کا دوسرا حصہ ”رنگ اور نقش“ ہے۔اس حصہ کے ذیل میں  ۳۱  افسانوں کے تجزیے شامل ہیں۔مضامین کے عنوانات نہایت ہی دلکش اور واضح ہیں۔افسانوں کے مرکزی و بنیادی خیال کی اہمیت کے مطابق عنوان کو دلکش انداز میں تحریر کیا گیا ہے۔

 

            پہلا مضمون ”گرتے ہوئے درخت: ایک روحانی علامت“ہے۔ دراصل یہ افسانہ ”استعاراتی“افسانہ ہے۔معروف افسانہ نگارشرون کمار نے اسے تخلیق کیا ہے۔حمید سہر وردی کے افسانے”سفید کوّا“میں موجود مکالمے رؤ ف صادق صاحب کو  PhotographicTechniqueمعلوم ہوتی ہے۔ان مضامین کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رؤف صادق نہ صرف اچھوتے تمثیلوں،  استعاروں اور علامتوں کی معنوی تہہ داری پر اظہار خیال کرنے کی قدرت رکھتے ہیں بلکہ کرداروں کے ذہن کا تجزیہ اور سماج کی پو شیدہ تصویروں کو قاری کے سامنے نمایاں کرنے کا ہنر بھی رکھتے ہیں۔

 

            افسانہ ”تقیہ بردار“جدید افسانہ نگار اکرام باگ کا تحریر کردہ ہے۔رؤف صادق صاحب کے مطابق اس افسانے میں زوال پذیر معاشرے کا پس منظر نفسیات کے الجھے ہوئے دھاگوں کو احتیاط کے ساتھ کھولنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔بقول رؤف صادق صاحب علامتوں، استعاروں اور تمثیلوں سے مزین یہ افسانہ نئے معنی آفرینی پیدا کرنے میں کامیاب نظر آتا ہے۔

 

            مضمون”بگ بینگ:وجود زن کا آئینہ“کے مطالعے سے علم ہوتا ہے کہ م۔ناگ کے افسانوں میں رؤف صادق صاحب کو عام عورت زندگی کے مسائل سے جھوجھتی ہوئی نظر آتی ہے۔لیکن یہ عورت منٹو، بیدی اور عصمت کے افسانوں کی عورت سے کافی الگ معلوم ہوئی۔رؤف صادق صاحب کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ م۔ ناگ کے اسلوب سے وہ بے حد متاثر ہیں۔یہاں موصوف تجزیہ نگاری میں کامیاب نظر آتے ہیں۔

 

            مضمون”تیر نیم کش:ایک کولاج“نہایت ہی دلچسپ مضمون ہے۔کولاج،  دراصل جدید مصوری کی ایک صنف ہے۔اس میں رنگوں کی آمیزش کے علاوہ کوئی ایسی چیز لپیٹ دی جاتی ہے۔جس سے موضوع کے تسلسل سے اور خیالات کی آمیزش سے معنوی تہداری میں اضافہ ہوتا ہے۔  مذکورہ مضمون میں رؤف صادق کو افسانہ ”تیر نیم کش“میں کولاج کی صورت حال نظر آتی ہے۔رؤف صادق یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ افسانہ ایک قدیم تہذیب کی مصوری ہے۔

 

            مضمون ”صدیوں پہ محیط لمحہ: ایک سلگتا ہوا موضوع“میں رؤف صادق مذکورہ افسانے تجزیہ کرتے ہوئے بڑے پتے کی بات کہتے ہیں:

            کسی بھی قوم کی حیات اس کے تخیل پر منحصر ہوتی ہے یہی تخیل عمل کی تر غیب دیتاہے۔اور عمل زندہ قوموں کی بہترین نشانی ہے۔جو کردار کی صورت میں ایک معتبر شناخت عطا کرتا ہے۔یہی زندگی کا ماحصل ہے اور نجات کا ذریعہ بھی۔  ۳؎

            مندرجہ بالا اقتباس، مذکورہ افسانے میں پیش کی گئی معاشرے کی تلخ حقیقتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے قلمبند کیا گیا ہے۔ان جملوں سے رؤف صادق کی سماجی و ذہنی پختگی کا اظہار ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ”صدیوں پر محیط لمحہ“افسانے کے انداز بیان کو عہد حاضر کا فکر نامہ قرار دیا ہے۔

 

            افسانوں کے تجزیے کرتے وقت موصوف کا انداز بیان نہایت ہی سادہ اور شستہ ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مضامین میں اثر انگیزی پیدا ہوگئی ہے۔

            حصئہ ”رنگ اور آہنگ“میں ہمیں شاعری پر مبنی کل ۴۱ مضامین ہیں۔شعرا کے مجموعی کلام کی انفرادی خصوصیت کو اہمیت دیتے ہوئے عنوان کے نام متعین کئے گئے ہیں۔مضمون ”پروفیسر عتیق اللہ کی غزل میں مذہبی رجحان“ کے مطالعے سے علم ہوتا ہے کہ رؤف صادق صاحب کی تنقیدی نظر میں موصوف شاعر کے فکر ی، مذہبی میلانات اور اخلاقی و تہذیبی قدروں کو بہت اہمت حاصل ہے۔رؤف صاحب نے مذکورہ شاعر کی ایک خوبی یہ بھی بیان کی ہے کہ انھوں نے بحروں میں انوکھے اور کامیاب تجربے کیے ہیں۔ایک ہی غزل کے ایک ہی شعر کے دو اوزان ہیں۔بالکل اسی طرح ایک تیسرا وزن بھی ہے لیکن صرف شروعات کے تین اشعار تک تیسرا وزن ساتھ دیتا ہے۔

 

            مضمون ”احسن یوسف زئی کے نو اشعار چھ بحریں“میں مذکورہ شاعر کے دس اشعار کی بحریں اور ان کے اوزان بتائے گئے ہیں رؤف صادق صاحب نے اپنا تنقیدی نقطہئ نظر پیش کرنے کے لیے جن اشعار کا انتخاب کیا ہے وہ دلچسپ بھی ہے اور کسی تصویر سے متشابہت بھی رکھتے ہیں۔رؤف صادق صاحب کو ان اشعار میں نئے معنوی پیکر، لفظیات کا خلاقانہ استعمال اور شعر کا داخلی آہنگ، اسلوب کی تعمیر نو بہت متاثر کرتی ہے۔

 

اس حصے میں ایسے کئی مضامین ہیں جو تنقیدی شعور کے اعتبار سے بہت اہم ہیں۔جیسا کہ جاوید ناصر کی غزلوں میں پیکرتراشی عبدالدحدساز کی نظموں میں فکر و فن، جمیل مجاہد کی شاعری، عثمان جو ہری: تصوف مزاج شاعر،  ڈاکٹر اقبال خسر و قادری کا شعری رویہ،  شکیل ابن شرف: جو تجھ سے کی ترے لہجہ میں گفتگو میں نے وغیرہ۔کتاب کی ضخامت اور مضمون کی طوالت کے اعتبار سے راقمہ مناسب سمجھتی ہے کہ کتاب کے اس حصہ میں شامل تمام شعری مضامین کی خوبیاں مختصراً بیان کرے۔ان خوبیوں سے رؤف صادق صاحب کے تنقیدی شعور و نقطہئ نظر سے روشناس ہو سکتے ہیں۔وہ خوبیاں دراصل یہ ہیں۔۱)شعراکے منتخب کلام کے ذریعے شاعر کے داخلی و خارجی حالات و کیفیات کو بیان کیا گیا ہے۔۲)معاشرے سے حاصل کردہ درک کا بیان ملتا ہے۔۳)لفظوں،  علامتوں،  استعاروں اور اشاروں تمثیل اور کنا یوں کو استعمال میں لانے کی صحیح تکنیک پر روشنی ڈالی گئی ہے۔۴)فکر و فن کا موازنہ اور تخلیقی فن کے صحیح استعمال پر اظہار خیال کیا گیا ہے۔۵)فکر کی پختگی،مذہب و اخلاق کے اعتبار سے معاشرے کی آئینہ داری کی گئی ہے۔۶)تخلیق فن کا فنِ مصوری سے موازنہ کیا گیا ہے۔۷)شعرا کے گہرے مشاہدے کا مطالعہ ہمیں ملتا ہے۔۸)بزرگ شعرا کے فکر سے موازنہ کیا گیاہے۔۹)تخلیقی عمل اور تصوراتی عمل کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔

 

            حصہ ”رنگ رچنا“میں تین نظموں کے تجزیے شامل ہیں۔مضمون ”ایک نظم: ایک تاثر“میں ریاضی کے علامتوں کے شاعری میں استعمالات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ان علامتوں کے ذریعے نظموں کی معنوی تہہ داری کو موصوف نے تفصیل سے بیان کیاہے۔مضمون ”تلاش کے نئے جزیرے“میں جدید شاعر حامد اکمل کی نظموں کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔جبکہ مضمون”بے محور ایک لینڈاسکیپ“میں موصوف نے”بے محور“نظم کو فکر و احساس کاایک تحریری پیکر مانا ہے۔ صرف یہی نہیں ”بے محور ایک لینڈاسکیپ“عنوان کی وضاحت بھی کی ہے۔رؤف صادق رقمطراز ہیں:

 

            اگر مصوری کی آنکھ سے دیکھا جائے تو قطب سر شار کی نظم ”بے محور“ایک لینڈاسکیپ ہے۔جو مصوری کی مقبول صنف ہے۔جسمیں مصور رنگوں  کے ذریعے  منظر خیال کو کنیواس پر اتارتا ہے۔یہ مصوری کی استعاراتی زبان ہوتی ہے۔کبھی کبھی مصور اپنے خیال کوجامع اور واضح شکل دینے کے لیے منظر کی مناسبت سے کوئی شئے اسطرح پسٹ کرتا ہے کہ مفہوم میں ندرت اور معنی آفرینی پیدا ہو جاتی ہے۔جیسے نظم ”بے محور“کا وہ مرکزی کردار جو پوری نظم میں کہیں دکھائی نہیں دیتا۔مگر نظم کی فضا میں اپنے وجود کا احساس دلاتا رہتا ہے۔  ۴؎

 

             حصہ ”رنگ دار“میں فنون لطیفہ سے متعلق دو مضامین شامل ہیں۔بعنوان غزل اور مصوری اور کتھک رقصی اور ٹھمری۔مضمون”غزل اور مصوری“بہت ہی دلچسپ ہے۔اس مضمون میں فنِ شاعری اور فنِ مصوری کے دلچسپ و حسین امتزاج پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

 

            حصہ ”رنگ برنگ“میں ۷مضامین ہیں۔ان مضامین کی نوعیت تبصراتی ہے۔مضمون ”زندگی ہے اگر زہر“خواجہ منظورالدین ایڈوکیٹ کے خاکوں پر مختصر سا تنقیدی تبصرہ ہے۔مضمون ”ایک ذرا اور“میں مسلم شہزاد کے مختصر تعارف کے ساتھ ساتھ مجموعہ کلام ”ایک ذرا اور“میں شامل اشعار کی خوبیوں پر اظہار خیال کیا گیا ہے۔مضمون ”اپنے حصے کی دھوپ“میں مظہر سلیم افسانوں کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔”اپنے حصے کی دھوپ“مظہر سلیم کے افسانوں کا مجموعہ ہے۔ان افسانوں کے موضوعات کو زیر بحث لا کر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔”تاثرا ور تنقید“پروفیسر عبدالرب استاد کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔رؤف صادق، موصوف کی تنقیدی خوبیوں کو سراہتے ہیں۔مضمون ”سلگتا احساس“میں فاروق قادری کی پوشیدہ خوبیوں کا ذکر ملتا ہے۔ سلگتا احساس،  فاروق قادری کی تصنیف ہے۔ مضمون ”لفظوں کے دریچے سے“میں شاعر مصطفی دلکش کے مجموعہ پر تبصرہ کیا ہے اور ان کی فنی خوبیوں کو اجاگر کیا ہے۔ مضمون”دردبے درد“میں چشتی سلیم بیدرد کے مجموعہ کلام ”دردِبیدرد“پر اظہارخیال کیا گیا ہے۔

 

            حصہ ”رنگ نما“میں روف صادق اپنے قلم کا ر احباب کا تذکرہ کیا ہے۔ان قلم کاروں کا شمار مختلف اصناف میں منفرد شناخت بنانے والوں میں ہوتا ہے۔اس حصے میں تمام شعراوادبا کا تذکرہ و تبصرہ چند سطروں  میں کیا گیا ہے۔

 

            رؤف صادق صاحب کے ان تمام مضامین کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ذاتی غورو فکر رؤف صادق صاحب کی تنقید کا خاص و صف ہے۔انھوں نے اپنے نقطہئ نظر اور نظریے کو واضح کرنے کے لیے کوئی دلیل پیش نہیں کی بلکہ صرف اپنے تحت الشعور کے ذریعے شاعری اور افسانے کو مصوری سے جوڑ کر حسین تجزیوں کو پیش کیا ہے۔فنون لطیفہ میں علامت نگاری اور ادب میں ان علامتوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔ان علامتوں میں متحرک علامت،  غیر متحرک علامت اور تمثیلی علامت وغیر ہ ہیں۔ان مضامین کے مطالعے سے علم ہوتا ہے کہ یہ علامتیں دراصل زمانہئ قدیم ہی سے مختلف مذاہب سے اخذ کیے گیے ہیں۔موصوف صرف ان علامتوں پر ہی روشنی نہیں ڈالتے بلکہ ادب اور مصوری میں ان علامتوں کے مختلف تجربوں کو استعمال میں لانے کے مقصد کو بھی بیان کرتے ہیں۔رؤف صادق کی تنقیدکا بنیادی و صف صرف مطالعہ و مشاہدہ ہے۔موصوف، قاری کو ادب کے مختلف اصناف میں پنہاں معاشرتی تہذیبی، تاریخی پس منظر بھی واقف کرواتے ہیں۔ عبارت مختصر!یہ کہاجاسکتا ہے کہ اس کتاب کے ذریعے رؤف صادق شاعرااور مصور کے ساتھ ساتھ ناقد کی حیثیت سے بھی ہمارے سامنے آتے ہیں۔

 

حوالاجات:

 ۱)         رؤف صادق۔نقشِ معنی۔ عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی۔  ۶۱۰۲؁ء۔  ص  ۹۱

۲)        رؤف صادق۔نقشِ معنی۔ عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی۔  ۶۱۰۲؁ء۔  ص  ۴۳

۳)        رؤف صادق۔نقشِ معنی۔ عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی۔  ۶۱۰۲؁ء۔ ص۰۵۱

۴)        رؤف صادق۔نقشِ معنی۔ عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی۔  ۶۱۰۲؁ء۔ ص۹۳۲