ممبئی ہائی کورٹ کے اورنگ آباد عدالت میں تقی سراج الدین کی ضمانت عرضداشت پر سماعت

Maharashtra

ممبراورنگ آباد ،داعش معاملہ

 ممبئی ہائی کورٹ کے اورنگ آباد عدالت میں تقی سراج الدین کی ضمانت عرضداشت پر سماعت

 عدالت نے اے ٹی ایس کو 16 ؍ نومبر تک جواب داخل کرنے کا حکم دیا

28 ؍ اکتوبر ( پریس ریلیز ) ممنوعہ تنظیم داعش سے تعلق رکھنے کے الزام میں اورنگ آباد اور ممبرا کے گرفتار شدہ نو جوانوں میں سے تقی سراج الدین کی درخواست ضمانت پر آج یہاں ممبئی ہائی کورٹ کے اورنگ آباد کی 2 رکنی بنچ کے رو برو سماعت عمل میں آئی جس میں عدالت نے مہا راشٹر اے ٹی ایس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 16 ؍ نومبر تک جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے ۔اس بات کی اطلاع آج یہاں اس مقدمہ کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے ۔
مزید تفصیلات دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اورنگ آباد ممبرا داعش معاملہ کے ایک ملزم تقی سراج الدین کی در خواست ضمانت ممبئی ہائی کورٹ کے اورنگ آباد کے پنچ کے رو برو داخل کی گئی تھی اور عدالت سے اس مقدمہ کو روز بروز کی بنیاد پر چلانے کی درخواست کی گئی تھی ،جس پر آج سماعت عمل میںآئی جمعیۃ علماء کے دفاعی وکلاء نے قانونی نکاۃ پر مشتمل بحث کی ،عدالت نے 16 ؍ نومبر تک اے ٹی ایس کو جواب داخل کرنے کی مہلت دی ہے ۔ عدالت میں اس کیس کی پیروی جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے لیگل سکریٹری و سینئر کریمنل لائر ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان و دیگر کررہے ہیں ۔

واضح رہے کہ اورنگ آباد ممبرا داعش معاملہ جس میں کئی بے گناہ نوجوانوں کو سنگین الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے ،جو اورنگ آباد کی ہرسول سینٹرل جیل میں جنوری ۲۰۱۹ سے قید و بند کی زندگی گذار رہے ہیں ۔اس کیس میں بڑی دھاندلیاں،غیر قانونی چیزیں ،اور قانونی ضابطوں کی خلاف ور زی کی گئی ہے۔ ان نو جوانوں پر یواے پی اے جیسے سخت ترین قوانین سمیت چار دفعات لگائے گئے ہیں جن میں 18،20،38،اور 39 شامل ہیں اور تعزیرات ہند کے دفعہ 201 اور 120 بی اور ممبئی پولیس ایکٹ کا دفعہ 135 لگایا گیا ہے ۔ اس مقدمہ میں باالراست کوئی گواہی موجود نہیں ہے اور تمام واقعاتی ثبوت پر ہی یہ کیس مشتمل ہے۔ اس کیس کا ٹرائل اورنگ آباد کی خصوصی عدالت میں جاری ہے۔