سر سید احمد خان اپنے اخلاقی اور اصلاحی مضامین کی روشنی میں

Education

سر سید احمد خان اپنے اخلاقی اور اصلاحی مضامین کی روشنی میں

 

ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی

ایسو سی ایٹ پروفیسر، شعبۂ اردو

عین شمس یونیورسٹی ،قاہرہ۔ مصر 

 

جیسا کہ ماہرین معاشیات کہتے ہیں كہ انسان اپنے ماحول اور معاشرے کی پیداوار ہے ، اور  بلاشبہ سر سید احمد خان  بالكل ايسے ہى ہيں- وه  اپنے  زمانے کے حالات سے واقف تھے ، اپنے معاشرے کے حالات  سے متاثر ہوئے - وہ انیسویں صدی میں اسلامی ہندوستان کی تاریخ کی عظیم شخصیات میں سے ایک ہیں ، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جو شہرت انہوں نے حاصل کی وہ  اس دور میں کسی دوسرے مسلمان کو ميسر نہ ہوئی ،  ان کو ہندوستان کے مسلمانوں کی تاریخ ، تہذیب اور سیاست میں فراموش یا نظر انداز نہيں کیا جاسکتا۔ قدیم اور جدید اسلامی فکر کی تاریخ میں ان کا مقام  ایک بڑا مقام ہے ۔

 

در حقیقت  ہندوستان میں کئی صدیوں تک مسلمانوں كى ایک اسلامی ثقافت رہی اور ان کو ایک ہزار سال تک سیاسی اثر و رسوخ حاصل رہا ، لیکن یہ مغل ریاست کے خاتمے کے ساتھ ختم ہوا ، اور 1857 میں ہندوستان میں آزادی کے انقلاب کی ناکامی کے بعد ، مسلمانوں  كے حالات بگڑ گئے ، ان کی طرز زندگی خراب ہوگئی،  وہ اسلام کے پیغام سے منحرف ہو گئے اور ان میں گمراہ کن اور جھوٹے نظریات ، اور نقصان دہ خیالات در آئے - مسلمانوں کے بگڑتے ہوئے حالات دیکھ کر سر سيد گھبرا گئے،اور  علاج کے طریقوں اور نجات کی راہوں کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔ وہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تاریخ کے اس مشکل دور میں قیادت کرنے والے اور تحریک چلانے والے  پہلے شخص تھے-

 

ہندوستان میں وہ سب سے پہلے یورپی معاشرے اور مغربی تہذیب  کے علوم اور ادب سے متاثر ہوئے اور مغربی علوم اور فنون کے پھیلاؤ کے لیے سب سے پہلے تعلیم کے میدان میں اپنے کام  کے علاوہ اسلامی تشخص کی پاسداری اور اسے محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔  انہوں نے اپنی کوششوں کو ایک ہی ميدان تک محدود نہیں رکھا بلکہ  انگریزی حکومت کے ساتھ بات چیت اور مسلمانوں اور انگریزوں کو قریب  لانے اور ان کے درمیان تعلقات قائم کرنے کی کوششیوں کے ساتھ ساتھ کئی سیاسی کارروائیاں بھی کیں  تاکہ انگریز مسلمانوں پر ظلم و ستم كا خاتمہ كريں ، اور مسلمان مغرب کے علوم و فنون  سیکھنا شروع کردیں - دوسری طرف ، سماجی میدان میں بھی ان کی کوششیں اور جدوجہد تھیں۔وہ ہندوستان میں معاشرے کے تمام پہلوؤں میں اصلاح اور تبدیلی کا مطالبہ کرنے والے اولین لوگوں میں  تھے ، وه  فرسودہ رسم و رواج کو چھوڑ نے ،  توہمات سے دور رہنے،  ترقی کے لیے تعلیم پر  توجہ دينے کے ساتھ ساتھ یورپی اور جدید تہذیب سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دے رہے تھے۔ وہ اپنے مضمون (وحشیانہ نیکی) کہتے ہیں: 

 

“شائستہ ملک کی مثال صورت بنانے والے سنگ تراش کے کارخانے کی سی ہے ۔۔ نا مہذب ملک کی مثال منڈے پہاڑوں کی سی ہے”

ایک اور مضمون میں بھی کہتے ہیں:

 

“دیکھو ہندوستانیوں نے اپنی غفلت سے اپنا علم بھی ضائع کر دیا اور اپنی قومی عزت کو بالکل برباد کردیا۔”

 

سرسید احمد خان نے مسلمانوں کی ناگفتہ بہ صورت حال سے واقف ہونے كے بعد  قوم کی اصلاح کے لیے شاعری اور ادب میں اصلاح کی ضرورت محسوس کی ، کیونکہ یہ واحد موثر ذریعہ تھا جس کے ذریعے ان کے خیالات لوگوں تک پہنچائے جاسکتے تھے، اس وقت کے  ادباء اور شعراء  صرف محبت اور محبت کرنے والوں کی داستانیں لکھا کرتے تھے، اور مسلمانوں کی زندگی پر اس کے پڑنے والے منفی اثرات کے بعد یہ کہانیاں سود مند نہیں رہیں ،  اور بامقصد اصلاح پسند ادب کا ہونا ضروری تھا-

 

وہ 1869 عیسوی میں انگلینڈ کے سفر سے واپس آئے یہ ان کی زندگی کا سب سے اہم سال تھا ،  اس  میں انہوں نے مغرب کی تہذیب ، اور ان کی زبردست ترقی ديكھى، لہذا انہوں نے ان کا موازنہ اپنے موجودہ ہندوستانی معاشرے سے کرنا شروع کیا- سرسید نے سماجی اور اخلاقی اصلاحات اور سائنسی ترقی کے لیے کئی منصوبے بنائے۔ انہوں  نے  رسالہ تہذیب الاخلاق  جاری کیا ، جو ملک بھر میں پھیل گیا، یہ ایسے موضوعات شائع کرتا  جن کا معاشرے کے ہر فرد سے تعلق ہوتا، اور روز مرہ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتا۔  اس  رسالے  کا  مقصد  ہندوستان کے مسلمانوں کو متمدن بنانے کی ترغیب دینا ، اور ايسے مغربی علوم پر توجہ دینا تھا جو ان کے سماجی اور تہذیبی معاملات میں اصلاحات لاسکیں ، یہ رسالہ مذہبی نظریات کی ترقی اور توسیع کے لئے بھی کوشاں تھا-  سر سيد ہندوستان کے مسلمانوں کو  مایوسی سے نکالنا چاہتے تھے، ان كو جدید علوم سیکھنا چاہتے تھے، اور مذہب کو عقلی شواہد اور ثبوتوں سے سمجھنا چاہتے تھے-

 

سرسید   نے مذہب ، ادب ، سیاست ، رسم و رواج ، تاریخ ، فلسفہ اور فکر اور علم کے دیگر پہلوؤں پر بہت سے مضامین لکھے۔ بلا شبہ سر سید احمد خان اردو ادب میں مضمون نگارى  کے فن کے بانی ہیں- سرسید احمد خان کے اخلاقی اور اصلاحی مضامين  سرسید کے سولہ مضامین کے پانچویں حصے میں  شائع ہوئے تھے  اور ميرے خيال ميں يہ پانچواں حصہ بہت اہمیت کا حامل ہے ، يہ حصہ عام طور پر ہندوستان کی تاریخ ميں  اور خاص طور پر دنیا کے مسلمانوں  كے لئے  اہم اخلاقی اور اصلاحی موضوعات  پر مشتمل ہے- انہوں   نے اپنے اخلاقی مضامین میں مسلمانوں میں عام اخلاقی نقائص کو ختم کرنے کی کوشش کی ، جس کی وجہ سے وہ اپنی عزت اور وقار کھو بیٹھے تھے ، اور انہوں نے  مسلمانوں سے ان اچھے اخلاق کے اظہار کا مطالبہ کیا جن کا مطالبہ خود اسلام نے کیا تھا- اور چونکہ انگریزوں کی حکومت کے دوران مغربی اخلاقیات اور مغربی تہذیب نے ہندوستان پر ایک زبردست طاقت کے ساتھ غلبہ پایا تھا ،  انگریزی تعلیمی نظام ہندوستانیوں کو غلام بنا رہا تھا ،  ان میں احساس کمتری پیدا کر رہا تھا ، اسلامی اخلاق اور مذہبی جذبات مر رہے تھے۔ اس لئے سر سید احمد خان نے اپنے مضامین میں اخلاقیات پر زور دیا ، کیونکہ وہ ایک مصلح تھے جو اپنی قوم کے افراد کے لیے نفسیاتی خوشی اور ذہنی سکون حاصل کرنا چاہتے تھے ، اور ان کے لیے ایک محفوظ  اور مطمئن زندگی بنانا چاہتے تھے-    

 

  انہوں نے اپنے اخلاقی اور اصلاحى مضامین کے ضمن  میں جو مضامین پیش کئے وہ ہندوستانی معاشرے سے تعلق  ركھتے ہیں اور اس سے براہ راست وابستہ ہیں ، چنانچہ  آزادی ، مساوات ، رواداری ، یکجہتى، اندھی تقلید ،  اخلاقیات، فرسودہ رسم و رواج اور ان پر عمل کرنے کے نقصانات ، دنیا سے مذہب کا رشتہ ، خودغرضی ،  بات چیت میں اختلاف کے آداب ،  دوسری رائے کا احترام۔ قومی اتحاد ، حب الوطنی ، طرز زندگی ، کھانے پینے کا طریقہ ، دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ شائستہ سلوک ،  نفاق، ہندوستان میں خواتین کے حالات كى اصلاح اور خواتین کی تعلیم جیسے موضوعات ان میں شامل ہيں- سر سيد نے معاشرے میں خواتین کو نظر انداز نہیں کیا ، مختلف موضوعات پر خواتین کی اصلاح پر کئی مضامین لکھے ، جن میں بعض یہ ہیں: خواتین کے ساتھ ہندوستانی معاشرہ كى  نا انصافى  ، بیوہ كى شادی کو قبول نہ کرنا ، عورتوں کی تعلیم سے بے توجہى ، کم عمری میں لڑکی كى شادی کرنے کا رواج ، یا بوڑھے آدمی سے اس کی شادى كروانا ، اور اسے میراث کا حق نہ دینا۔ يہ تمام موضوعات  بہت اہمیت کے حامل ہیں-

 

آ کے دیکھیں سرسید نے اپنے مضمون (قومی اتحاد) میں عقیدے اقر خیالات کی آزادی کے بارے میں بات کی، وہ بھی لوگوں کو دوسرے کی رائے اور عقیدے کا احترام کرنے پر زور دیا:

 

“ہم کو کسی شخص سے اس خیال پر کہ وہ شیعہ ہے یا سنی، وہابی ہے یا بدعتی، لامذہب ہے یا مقلد یا نیچری یا اس سے کسی بدتر لقب کے ساتھ ملقب ہے، جبکہ وہ خدا و خدا کے رسول کو برحق جانتا ہے، کسی قسم کی عداوت ومخالفت رکھنی نہیں چاہئیے، بلکہ اس کو بھی بھائی اور کلمے کا شریک سمجھنا اور اس اخوت کو جس کو خدا نے قائم کیا ہے، قائم رکھنا چاہئیے۔”

 

 ایک اور مضمون ميں، جو انسان اپنے رواج اور روایات میں بغیر سمجھے دوسروں کی نقل کرتا ہے، اسے بندر سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ سر سيد کہتے ہیں: 

 

"اخلاقى اور عقلى قوتوں كى ترقى اس صورت ميں حاصل هوتى هے جبكه وه استعمال ميں لائى جاويں- ان قوتوں كو اوروں كى تقليد كرنے سے كسى بات كى مشق حاصل نهيں هوتى، بلكه ايسے شخص كے ليے بجز ايسى قوت تقليد كے جو بندر ميں هوتى هے اور كسى قوت كى حاجت نهيں-"

 

ان مضامین کے ذریعے سر سيد نے  پسماندگی  اور منحرف  قوتوں سے لڑنے اور اپنے لوگوں کو برے رسم و رواج سے آزاد کرنے کے لیے کام کیا۔  اندھے تعصب، نفاق اور جھوٹ اور دیگر بری عادات کو چھوڑ کر اور اپنے طرز زندگی کو تبدیل کرکے  ترقی اور تہذیب کے راستے پر چلنے کا بھی مشورہ دیا۔

 

"انسان كى بدترين خصلتوں ميں سے تعصب بهى ايک بدترين خصلت ہے۔ یہ ايسى بد خصلت  ہے کہ انسان كى تمام نيكيوں اور اس كى تمام خوبيوں كو غارت اور برباد كرتى ہے۔ متعصب گو اپنى زبان سے نه كہے، مگر اس كا طريقہ یہ بات جتلاتا هے كہ عدل وانصاف كى خصلت جو عمده ترين خصائل انسانى ہے اس ميں نہيں ہے۔ متعصب اگر كسى غلطى ميں پڑتا ہے تو اپنے تعصب كے سبب اس غلطى سے نكل نہيں سكتا، كيونكه اس كا تعصب اس كے برخلاف بات كے سننے اور سمجهنے اور اس پر غور كرنے كى اجازت نہيں ديتا اور اگر وه كسى غلطى ميں نہيں ہے، بلكه سچى اور سيدهى راه پر ہے تو اس كے فائدے اور اس كى نيكى كو پھيلنے اور عام ہونے نہيں ديتا، كيونكه اس كے مخالفوں كو اپنى غلطى پر متنبه ہونے كا موقع نہيں ملتا – تعصب انسان كو ہزار طرح كى نيكيوں كے حاصل كرنے سے باز ركهتا ہے۔ اكثر دفعه ايسا ہوتا ہے کہ انسان كسى كام كو نہایت عمده اور مفيد سمجتا ہے، مگر صرف تعصب سے اس كو اختيار نہيں كرتا اور ديده ودانستہ برائى ميں گرفتار اور بهلائى سے بيزار رہتا ہے۔” 

 

بلاشبہ سرسيد  کے مضامین نے اپنا کردار بخوبی انجام دیا، اور سرسید کے مقاصد کو بڑی حد تک  پورا کیا ، چنانچہ ہندوستانی مسلمانوں کے طرزِ زندگی اور سوچ میں تبدیلی آئی ، اور ان تبدیلیوں کی وجہ سے ان کی زندگیوں میں شائستہ ترقی آئی، ان مضامین نے مسلمانوں میں عدم برداشت کی شدت کو کم کرنے اور بری عادات و روایات ،  کاہلی اور غلط نظریات پر قائم رہنے جیسی ان منفی چیزوں کو چھوڑنے  میں مدد کی جو ان کی کمزوری اور بگاڑ کا سبب بنیں، اسی طرح قومی اور سیاسی احساس  بیدار کرنے ، مسلمانوں میں قوم پرستی کے جذبات پیدا کرنے اور افراد میں تعاون کے حوصلے عام کرنے میں بھی حصہ لیا ۔

 

سرسید کے مضامین کی  كئى نمایاں لسانیاتی اور اسلوبياتى خصوصیات ہیں ، مثلا انہوں نے بیشتر اخلاقی اور اصلاحی مضامین میں خطابت  کا  انداز اختیار کیا اور اس کے ذریعے  مسلمانوں کو مشورے دئے اور ان کی رہنمائی کی، سرسيد  نے مختصر جملے اور پیراگراف بھی استعمال کیے تاکہ مضمون پڑھنا قاری پر بوجھ نہ بن جائے ، اس کے علاوہ قرآنی آیات ، عربی  امثال ، نبوی احادیث ، محاورے ، فارسی اشعار اور اردو مکالمے بھی استعمال کئے۔ 

ان کے ایک مضمون سے ایک نمونہ ہے:

"غرض كہ كسى شخص كے دل كو بے كار پڑا رہنا نہ چاہیے، كسى نه كسى بات كى فكر وكوشش ميں مصروف رہنا لازم ہے، تاكه ہم كو اپنى تمام ضروريات كے انجام كرنے كى فكر اور مستعدى رہے اور جب تكـ كہ ہماری  قوم سے كاہلی، يعنى دل كو بے كار پڑا ركھنا نہ چهوٹے گا اس وقت تكـ ہم كو اپنى قوم كى بہتری كى توقع كچهـ نہیں ہے– نہایت حكيمانه قول ہے کہ:

بے كار مباش كچهـ كيا كر

گر كر نه سكے تو كچهـ كہا كر "

 

سر سيد احمد خان اپنے مضامين میں کسی بھی موضوع کی تائید  ثبوت بھی فراہم  کیا کرتے تھے ، اور ان  کے مضامین میں  مہذب طنز و مزاح بھى موجود ہے ، انہوں  نے کسی مخصوص طبقے کے لیے نہیں لکھا بلکہ اپنی قوم کے ان تمام افراد کے لیے لکھا جن کی وہ اصلاح کرنا چاہتے تھے۔ ، انہوں  نے عام لوگوں کے قریب ہونے کے لیے پر تكلف انداز سے گریز کیا ، وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ ان کے دل میں جو کچھ ہے اسے اپنے مضامین کے ذریعے دوسروں کے دلوں میں اتار دیں۔ اس لئے انہوں نے سادہ انداز استعمال كيا تاكہ قاری ان کو با آسانی سمجھ سکیں۔

 

سر سید کا نقطہ نظر یہ تھا کہ اسلوب ہموار ہوں ، خیال میں گہرائی ہو ، اور بات لوگوں تک واضح شکل میں پہنچائی جائے،  اسی لئے وہ قاری کے ذہن کو سمجھنے اور اس کی سوچ کو توڑنے اور ترسیل کے عمل کو حاصل کرنے میں کامیاب رہے ، اور یہی  ہر اچھے مضمون کا بنیادی مقصد  ہوتا ہے- ان کی مذہبی پرورش اور ان کی اسلامی ثقافت کی وجہ سے اسلامی مذہبی رجحان  ان کے مضامین میں واضح تھا  ، اور ان کے اس عقیدے کی وجہ سے کہ اسلام اور اس کی تعلیمات کی طرف لوٹنا سنجیدہ اصلاح کا مثالی ذریعہ ہے ، چنانچہ ان کا خیال تھا کہ دینی اصلاح دنیوی اصلاح کی بنیاد ہے۔ 

 

اپنے مضمون "ہمیں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کا احترام کرنا چاہیے " میں وہ کہہ ہیں کہ اللہ تعالى نے اس بات کا حکم قرآن كريم میں دیا ہے کہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے-

 " ہم كو نہايت افسوس ہے کہ جب ہم مذهبى پيشواؤں كى كوئى كتاب ديكهتے ہیں تو اس ميں ايک مذهب والا دوسرے مذهب كے پيشواؤں كا برى طرح پر ذكر كرتا ہے۔ يہ امر مذہب اسلام كے بالكل برخلاف ہے۔ جس مذہب كے جو پيشوا ہیں جب ہم اپنے مذہبی مباحثوں ميں ان كا ذكر كريں، خواہ وه لوگ ہندو ہوں يا پارسى، عيسائى ہوں يا يهودى يا خود مختلف عقائد كے مسلماں ہی ہوں، اگر ہم ان كے بزرگوں وپيشواؤں كے ساتھ گستاخى سے پيش آئيں گے تو كيا وجہ ہے کہ وه اسى طرح ہمارے بزرگوں اور پيشواؤں كے ساتھ گستاخى اور بے ادبى سے پيش نہ أئيں، اس ليے خدا تعالى نے ہم كو حكم ديا ہے کہ “ولا تسبوا الذين يدعون من دون الله فيسبوا الله عدوا بغير علم" سورۂانعام آيت 108 "

 

 سر سيد  نے زندگی اور معاشرے کے تمام معاملات سے متعلق بامقصد ادب شائع کیا ، ان کی تحریروں میں عقل اور حقیقت پسندی نے جذبات اور تخیل کی جگہ لی۔ ان کی ان ہی خوبیوں اور خصوصیات کی وجہ سے ان کے کئی ہم عصر  ادیب ان سے متاثر ہوئے، اور  سر سيد  كے مضامين  کا اثر ان کے  مضامین اور خیالات  پر ظاہر اور عیاں ہے۔  ان ميں سے كچھ اديبوں نے  سر سيد کے اصلاحی خیالات سے اتفاق کیا، اور  سر سيد  کے نظریات کا مختلف طریقوں  سے جائزہ لیا، ایسے ادیبوں میں  حالی ، نذیر احمد ، محسن الملک ، ذکاء اللہ اور شبلی سر فہرست ہیں ، اور ان میں سے کچھ نے سر سيد کی تقلید کی اور ان کے نقش قدم پر چلے ، ان میں چراغ علی اور وحيد  الدین سلیم  قابل ذکر ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ سر سید کے بعد آنے والے ادیب کسی نہ کسی شکل میں ، ان سے ، ان کی تحریروں سے  اور ان کے نظریات و خیالات سے ضرور متاثر ہوئے۔

 

آخر ميں كہہ سكتى ہوں كہ  کسی بھی معاشرے میں اصلاح اور تبدیلی کا عمل کوئی آسان کام نہیں جو راتوں رات ہوجائے ،  بلکہ یہ ایک مشکل عمل ہے ، خصوصا ایسی صورت میں  یہ کام انتہائی مشکل ہو جاتا ہے جب کچھ سخت گیر قسم کے لوگ ان کی مخالفت بھی کررہے ہوں  جيسا كہ سر سيد احمد كے ساتھ ہوا ۔  سرسید کے بہت سے دشمن ان کے نئے نظریات سے لڑتے نظر آئے اور ان کی دشمنی اس حد تک پہنچ گئی کہ انہوں نے  ان پر كفر (بے دينى)  کا فتویٰ بھی لگادیا۔ لیکن سر سيد ان سے  متاثر نہیں ہوئے۔ انہوں نے اپنا اصلاحی کام جاری رکھا ، اور نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ ان کے ارد گرد جمع ہوئے ، اور ان کی مخالفت کرنے والوں  کی کوئی پرواہ نہیں کی، اوراپنے خیالات کو ظاہر کرنے میں ہمت اور دلیری سے کام لیا۔ وہ اپنے مضمون (مخالفت) میں کہتے ہیں: 

 

"دشمنى اور عدوات، حسد اور رنجش اور ناراضى كے سوا ايک اور جذبہ انسان ميں ہے جو خود اسى شخص ميں كمينہ عادتيں اور رزيل اخلاق پيدا كرتا ہے اور بعوض اس كے كہ وه اپنے مخالفت كو كچھ نقصان پہنچاوے خود اپنا آپ نقصان كرتا ہے۔ اس انسانى جذبے كو ہم مخالفت كکتے ہیں۔ ہم كو بڑا افسوس ہے کہ ہمارے مخالف اس پچھلے  طريقے پر ہم سے مخالفت كرتے ہیں۔ ہم كو اپنى مخالفت كا يا اپنے پر اتہام كرنے كا يا اپنى بد نامى  كا كچھ اندیشہ  نہیں ہے بلكه اس بات كا افسوس ہے کہ انجام كو ہمارے مخالف ہی رسوا وبد نام ہوتے ہیں اور دنيا انہی كو دروغ گو وكذاب قرار ديتى ہے۔ اگر ان كو ہمارے حال پر رحم نہیں ہے تو خود ان كو اپنے حال پر رحم كرنا چاہيے – ربنا تقبل منا  انک آنت السميع العليم- "

 

جس طرح  سید احمد خان نے اپنے  مضامین  میں اچھے خیالات اور اعلیٰ اخلاق پیش کیے ، ان ميں  اسلامی روایات اجاگر کئے ، اپنے معاشرے کی خطرناک صورت حال کو محسوس کیا  اور  مسلمانوں کی ایک اچھی اور نئی زندگی کے لیے تڑپتے رہے۔ اسی طرح  آج ہمیں بھی محبت کی کہانیوں سے زیادہ  با مقصد ادب کی ضرورت ہے   ، زندگی کے تمام شعبوں میں اصلاحات ہونی چاہئیں ، مساوات اور انصاف پر توجہ دینی چاہیے اور انسانی جذبات اور احساسات كو  گندگیوں سے پاك كرنا چاہيئے-

 

خیال رہے کہ اخلاقی اصول،  افراد اور معاشروں کی عمدہ زندگی کا ایسا نمونہ فراہم کرتے ہیں جو ترقی  اور خوشحالی کو اخلاق کی بنیادوں اور سچائی کے ستونوں پر قائم کرتا ہے ، اور تمام توحید پرست مذاہب کی طرف سے لائی گئی اقدار کی رہنمائی کرتا ہے۔ چنانچہ جس دن افراد اور جماعتوں کے دلوں میں یہ روحانی اقدار اور انسانی معنی پیوست ہو جائیں گے اسی دن موجودہ عالمی مسائل کا حل  آسان ہو جائے گا - اور ايسا  بین الاقوامی تنازعہ ختم ہو جائے گا جو کمزوروں کی طاقتوں کے استحصال  کے لئے کوشاں ہے۔