شعبۂ افتاء کا کرپشن، چند اصلاحی تجاویز

National

شعبۂ افتاء کا کرپشن، چند اصلاحی تجاویز

 قیام الدین قاسمی سیتامڑھی

انگلش ٹیچر اینڈ ٹرینر یونیک ریسرچ اینڈ سٹڈی سینٹر۔  7070552322

 

جان لے تو اے جویائے حقیقت کہ شعبۂ افتاء میں پائے جانے والے کرپشن کی چار نوعیتیں ہیں:

اول مفتی کا لقب و مدتِ افتاء، دوم افتاء کی درس گاہوں کی کثرت اور ان کے طلبہ کا معیار، سوم طریقۂ  تدریس، چہارم طریقۂ فتویٰ نویسی

 

1)  مختلف زمانوں میں القاب کے مختلف ٹرینڈز چلتے رہے ہیں کبھی امام کا ٹرینڈ چلا تو کبھی علامہ کا، کبھی ملا کا تو کبھی مولانا کا، در زمانِ حال مولانا کی اہمیت ذرا گھٹ گئی تو ایک نیا ٹرینڈ چل نکلا جس کا نام ہے مفتی 

پہلے مفتی کا مجتہد ہونا لازم تھا پھر اجتہاد کی شرط ختم ہوگئی لیکن کم و بیش اٹھارہ شرائط کا ایک مفتی کے اندر پایا جانا پھر بھی ضروری تھا

مگر آج کل تو مفتی اس کو بھی کہا جاتا ہے جس نے کسی بھی نکڑ یا گلی میں کھولے گئے دارالافتاء میں ایک سال کے لیے داخلہ لے لیا ہو، اور اب تو ماشاء اللہ عوام کو بھی اتنی سمجھ آچکی ہے کہ مسئلے مسائل کے اصل ماہر تو مفتی صاحب ہوتے ہیں مولانا لوگ تو بس ایسے ہی ہوتے ہیں (ہماری اتنی جرات نہیں کہ سال لگانے والے فضلاء کو ہی حقیقی علماء سمجھنے والوں کو عوام کے زمرے میں رکھیں)

افتاء کے لفظ سے ہی تخصص و مہارت والی فیلنگ آتی ہے مگر اس تخصص کے لیے محض ایک سال کا کافی ہوجانا ہماری سمجھ کے پرے ہے 

 

2 )  چوں کہ یہاں کسی بھی ادارے کو کھولنے کے لیے کسی سے پرمیشن لینے کی ضرورت ہی نہیں ہے نہ ہی کسی متعینہ معیار کی شرط ہے اس لیے ہر تھوڑا بہت پڑھا لکھا مفتی دار الافتاء کھولے بیٹھا اپنی استاذی بگھار رہا ہے یا فیس بٹوررہا ہے، حد تو اس وقت ہوگئی جب ہم نے پچیس چھبیس سال کے ناتجربہ کار استاذ ناتجربہ کار فتویٰ نویسوں کو مفتی بنانے والی درس گاہیں کھولتے دیکھا، فیا للعجب و لضیعۃ الافتاء و الادب

پہلے افتاء میں ان ہی کا انتخاب ہوتا تھا جو فضیلت میں سب سے عمدہ نمبرات سے کامیاب ہوتے مگر اب دارالافتاء کی اتنی بھرمار ہوگئی کہ طلباء کی کثرت کی خاطر اعلی نمبرات کی شرط کو بھی خاطر میں نہیں لایا جاتا، ہر ایرا غیرا نتھو خیرا فاضلِ مدرسہ مفتی بن سکتا ہے، ایسے آنلائن یا دارالفیس و الطعام میں افتاء کرنے والے مفتیوں کی اکثریت کو عبارت بھی ٹھیک سے پڑھنا نہیں آتی مگر بھیا ہمیں تو مفتی کہلوانا ہے خود کو کسی بھی قیمت پر کیوں کہ عزت مفتیوں کی زیادہ ہوتی ہے عالم کے مقابلے میں

 

 

3 ) ہند کے افتاء کے درس گاہوں میں افتاء کی معراج فتاویٰ کی کتابوں خصوصاً فتاویٰ شامی عبارت نقل کرنے کو بنادیا گیا ہے گویا یہ افتاء نہ ہوا ڈپلومہ اِن فتاویٰ شامی ہوگیا

 

آپ مسئلہ مذکورہ کے متعلق جتنی زیادہ اور صریح عبارت پیش کردیں آپ اتنے ہی کامیاب اور بڑے مفتی ہیں، فراست و فقاہت، استنباط و استدلال و استخراج کا اسلوب و عملی مشق کا ہماری افتاء کی درس گاہوں سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا، مقاصدِ شریعت اور علل و قواعد جنہیں اولین درجہ دیا جانا تھا انہیں ثانوی درجہ دے کر بس ضمناً یا رسماً پڑھا دیا جاتا ہے

 

4)  فتویٰ نویسی کے تحت ہمیں دو باتیں عرض کرنی ہے

 پہلے مفتی کا کام کسی بھی مسئلے کا حکم صاف اور واضح لفظوں میں بتادینا ہوتا تھا مگر اب یہی مفتی مصلحِ اعظم، صوفی کامل اور متقیِ زاہد کا بھی رول پلے کررہا ہے اب اس نے فتویٰ اور تقویٰ کے اعلیٰ معیار کو خلط ملط کردیا ہے آپ سارے دارالافتاء کے فتاویٰ اٹھاکے دیکھ لیجئے اکثر فتاویٰ پڑھنے کے بعد آپ کو مکمل طور پر یہ معلوم نہیں ہوپائے گا کہ یہ چیز جائز ہے نا جائز کیوں کہ علامہ مفتی مصلح صاحب اتنے گڈمڈ انداز میں فتویٰ لکھتے ہیں کہ حکم کا پتہ چلتا ہی نہیں بس احتیاط کا پتہ چلتا ہے 

 

 اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام پھر اس تقوی کے اعلی معیار کو ہی شریعت سمجھ بیٹھتی ہے اور اس معیار کے نیچے جو ہے وہ انہیں گناہ کے زمرے میں رکھتی ہے اگرچہ شریعت نے اس کی اجازت کیوں نہ دے رکھی ہو اور پھر وہ شریعت کی گنجائش پر عمل کرنے والے کو بھی بدعمل فاسق اور گناہ گار سمجھ رہے ہوتے ہیں

 

دوسری بات یہ کہ مفتیوں نے سد ذرائع یعنی حرام شئی تک پہنچانے والے ذریعے سے بھی روکنے والے قاعدے کو اتنا برتا ہے کہ ہمیں ہر چیز میں فتنہ نظر آتا ہے، ہم نے موہوم اندیشوں کو بھی ذریعے کی صف میں لاکھڑا کردیا ہے جس کی بنا پر شریعت کی تصویر بالکل مسخ ہوکر رہ گئی ہے اور یسروا ولا تعسروا والی حدیث پر عمل ندارد ہوکر رہ گیا ہے

 

اب ان تمام کرپشن کا سدباب کیسے ہو؟ چند تجاویز جو فی الحال ہمارے ذہن میں ہیں:

1)  اولِ وہلہ میں افتاء کا نام تبدیل کردیا جائے اور ڈپلومہ اِن مسائل یا مطالعۂ کتبِ فتاویٰ جیسا کوئی نام رکھ دیا جائے

2)  افتاء کا دورانیہ کم از کم دو سے چار سال کے درمیان ہو 

3)  ہندوستان کے چند گنے چنے بڑے اداروں کا ایک بورڈ بنا کر تمام علماء و  مدارس کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ شعبہ افتاء ان کی اجازت کے بغیر نہیں کھول سکتے، اور وہ بورڈ اجازت دینے کے کچھ معیارات متعین کرلے جس میں ایک معیار تو یہ ہو کہ شعبۂ افتاء کا استاذ کم از کم دس سال دارالافتاء میں اپنی خدمات انجام دے چکا ہو، اور دارالافتاء مسلمانوں کی پاپولیشن کے تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے کھولے جائیں مثلاً ایک تعداد متعین کرلی جائے کہ اتنے مسلمانوں پر ایک دارالافتاء کا قیام عمل میں آئے گا 

4)  پورے ہندوستان کے شعبۂ افتاء کے تمام طلباء کا امتحان ایک ساتھ لیا جائے اور کم از کم مقرر کردہ نمبر سے زیادہ نمبرات حاصل کرنے والوں کو ہی دارالافتاء میں خدمات انجام دینے کا اہل قرار دیا جائے

5)  فتاویٰ شامی کے ساتھ ساتھ اصول سرخسی جیسی بنیادی کتابیں داخل نصاب ہوں اور انہیں قرآن و احادیث سے ڈائرکٹ استنباط و استخراج و استقراء کی عملی مشق کرائی جائے اور فنِ مقاصد شریعت کو بھی نصاب میں داخل کیا جائے

6 ) فتاویٰ لکھتے وقت صاف الفاظ میں یہ بتایا جائے کہ شریعت نے کتنی گنجائش دے رکھی ہے جواز کی حد کہاں تک اور پھر بتایا جائے کہ احتیاط کس میں ہے، اور سد ذرائع، احتیاط اور فتنے کے اندیشے کے نام پر شریعت پر عمل دشوار نہ بنایا جائے، ایسے زمانے میں جہاں لوگ فرائض پر بھی عمل نہیں کرتے، ضرورت ہے کہ شریعت کی سب سے نچلی گنجائش کو سامنے رکھ کر مسائل بیان کئے جائیں تاکہ وہ شریعت کو آسان سمجھ کر کسی بھی درجے میں اس پر عمل کرنے والے بن جائیں

 

7 ) خصوصاً ان مسائل میں جہاں عموم بلویٰ ہو ان کی حرمت و قباحت بتانے کے ساتھ ساتھ ان کے متبادل بھی پیش کئے جائیں اور جب تک متبادل آپ کے سامنے نہ ہو ان مسائل پر خامہ فرسائی سے گریز کیا جائے