برطانیہ میں پٹرول کا بحران

National
Petrol Crisis in Britain

برطانیہ میں پٹرول کا بحران

فہیم اختر۔ لندن

            پٹرول کی قلت سے برطانیہ کے لوگ’ہائے پیٹرول ہائے پٹرول‘ کہتے پھریں گے،اس کی مجھے امید نہ تھی۔دراصل ان دنوں برطانیہ کے پٹرول پمپ سے پٹرول غائب ہے اور آئے دن حالت بد سے بد تر ہوتے جارہے ہیں۔لوگوں کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آخر یہ مسئلہ کب ختم ہوگا تو وہیں حکومت کے گول مٹول جواب سے لوگوں میں کافی ناراضگی پائی جارہی ہے۔

 

            یوں بھی برطانیہ میں پٹرول ہماری زندگی میں کتنا اہم ہے اس کا اندازہ ہم سب کو ہے۔عام طور پرلوگوں کی زندگی میں گاڑی کو رکھنا اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ انہیں روز مرہ کے کام کے لئے گاڑی کی اشد ضرورت پڑتی ہے۔ مثلاً بچوں کو اسکول چھوڑنا، شاپنگ کرنا، گھومنے پھرنے کے لئے جانا وغیرہ۔ اس کے علاوہ ایمبولنس سروس،پولیس، گھروں میں لوگوں کو دیکھ بھال کے لئے کئیرر، ڈاکٹر، نرس اوراس طرح بے شمار اہم کام و کاج کرنے والے برطانوی لوگوں کی زندگی پٹرول پر منحصر ہوتی ہے۔ تاہم پچھلے کچھ برسوں سے لوگوں میں سائیکل کی سواری، اور الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ سے کچھ لوگوں کو اب پٹرول کی شاید ضرورت نہیں ہے۔

 

            چندمہینے سے خبروں کے ذریعہ یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ بہت جلد برطانیہ میں ڈرائیوروں کی کمی کے باعث پٹرول کی قلت کے ساتھ کھانے پینے کی چیزوں کی دشواریاں بڑھ جائیں گی۔زیادہ تر لوگوں کو اس بات کا اندیشہ ہوا کہ شاید (Brexit) بریکسٹ (یوروپین یونین چھوڑنے والوں کا گروپ) کے بعد اب یورپ کے لوگ برطانیہ کام کرنے نہ آسکے گیں جس کی وجہ سے یہ ہورہا ہے۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ حکومت سے لے کر میڈیا تک پٹرول کے بحران پر کوئی وجہ بتانے سے قاصر ہے اور برطانیہ جیسے ملک میں بیچارے عام آدمی میلوں لمبی لائن میں گاڑی کھڑے ہو کرپٹرول لینے پر مجبور ہے۔یہی نہیں اب تو یہ دیکھا جارہا ہے کہ پٹرول اسٹیشن پر لوگوں میں بات ہاتھا پائی کی نوبت تک پہنچ گئی ہے۔سچ پوچھئے اس کے بعد میری ہمت بھی اتنی پست ہوگئی ہے کہ اب میں گھر میں مکمل قید ہو کر بیٹھ گیا ہوں۔ پچھلے دو ہفتوں سے دفتر کا سارا کام گھر سے کر رہا ہوں اور اسپتال کی میٹنگ بذریعہ ویڈیو شرکت کر رہا ہوں۔یعنی ایک اور ’لاک ڈاؤن‘ کی زندگی گزار رہا ہوں۔

 

            پٹرول کی قلت کی وجہ سے پچھلے کئی دنوں سے قیاس آرائی ہورہی تھی کہ حکومت فوج طلب کرے گی۔اور ایسا ہی ہوا بھی، جب حکومت نے اعلان کیا کہ پیر 4 / اکتوبر سے فوج پٹرول پہنچانے کے لیے فوجی ٹینکر ڈرائیوروں کو تعینات کرے گی۔دراصل یہ قدم اس لئے اٹھایا گیا جب پچھلے کچھ دنوں سے پورے ملک میں افراتفری پھیل گئی۔ پٹرول اسٹیشن خشک ہیں اور لوگ گھبراہٹ میں پٹرول خریدنے کے کے لیے پمپوں پر پر لڑائی جھگڑے اور پانی کی بوتلوں میں پٹرول بھرتے ہوئے دیکھے گئے۔ٹرک ڈرائیور کی شدید قلت کے ساتھ سپلائی چین کو بریکنگ پوائنٹ پر دباؤ ڈالنے کے بعد حکومت نے کہا کہ 200 ملٹری ٹینکر اہلکار، جن میں سے 100ڈرائیور ہیں، جلد ہی اپنی تربیت مکمل کریں گے اور پیر سے ڈیلیوری شروع کریں گے۔

           

            وزیر دفاع والیس نے کہا ہے کہ ’جب کہ صورتحال مستحکم ہورہی ہے، ہماری مسلح افواج کسی بھی اہم خالی پٹرول اسٹیشن کو پُر کرنے کے لیے موجود ہیں اور ملک کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کریں گی تاکہ صنعت کو پٹرول کی فراہمی میں مدد مل سکے‘۔وہیں برطانوی وزیراعظم بورس جونسن نے ٹیلی ویژن پر آکر کہہ ڈالا کہ ’لوگ صبر سے کام لیں اور پٹرول دستیاب ہیں‘۔ اب بھلا ان سیاستدان کو کون سمجھائے۔ مسئلہ صبر کا نہیں ہے بلکہ مسئلہ تو پٹرول نہ ملنے کا ہے۔میں نے جتنے بھی لوگوں سے بات کی ہے ان سب میں ایک خوف پایا جارہا ہے کہ اگر انہوں نے گاڑی خوب چلائی اور اسی طرح میلوں لمبی لائن لگا کر پٹرول لینا پڑا تو اس سے بہتر ہے انسان گھر میں بیٹھ جائے۔ظاہر سی بات ہے کہ جس پریشانی اور دشواری میں لوگ ہیں مجھے نہیں لگتا وزیراعظم بورس جونسن کو اس بات کا احساس ہے۔تبھی تو وہ لوگوں سے صبر کرنے کی تلقین کر رہے ہیں لیکن انہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ عام لوگ کس پریشانی میں پھنسے ہوئے ہیں اور اس کا کوئی فوری حل فی الحال نظر نہیں آرہا ہے۔

 

            یہ بات تو سچ ہے کہ بریکسٹ اور کورونا وبائی امراض کے تناظر میں مزدوروں کی کمی نے معیشت کے کچھ شعبوں میں انتشار پھیلایا ہے۔ پٹرول، کھانے پینے کی اشیاء اور ادوایات وغیرہ کی ترسیل میں خلل پڑا ہے۔لگ بھگ 2ہزار سے زائد پٹرول اسٹیشن خشک ہیں اور لندن اور جنوبی انگلینڈ میں درجنوں پمپ ابھی تک بند ہیں۔پٹرول اسٹیشن پر لمبی لمبی قطاریں دیکھی جارہی ہیں اور کئی بار تو ڈرائیور کے پٹرول اسٹیشن پہنچتے ہی پٹرول ختم بھی ہوجارہا ہے۔ جس سے لوگوں میں کافی غم و غصہ پایا جارہا ہے۔

 

            حکومت نے کہا ہے کہ پٹرول کی ترسیل کے لیے تقریباً 200فوجی ڈرائیور وں کو تیار کر رہی ہے اور مزید 150اہلکار ان کی مدد کے لیے تیار ہیں۔اس کے علاوہ حکومت نے تیل کمپنیوں کے مابین مسابقتی قانون کی معطل کر دیاہے۔ جس کے بارے میں حکومت کا کہنا تھا کہ کمپنیوں کے لیے پٹرول کی فراہمی کے بارے میں معلومات کا اشتراک کرنا اور زیادہ تر ضرورت والے علاقوں کو ترجیح دینا آسان ہوگا۔ کرسمس کے موقع پر 5000غیر ملکی پٹرول ٹینکر اور فوڈ لاری ڈرائیور وں کو عارضی ویزے کی پیشکش کی گئی ہے۔حالانکہ برٹش چیمبر آف کامرس نے اس کو ’ناکافی‘ قرار دیاہے۔بھاری مقدار کے لاری ڈرائیور لائسنس حاصل کرنے کے عمل کو تیز کیا جائے گا اور موجودہ ڈرائیور ک جو فی الحال لاری نہیں چلا رہے ہیں انہیں واپس آنے کی ترغیب دینے کے لیے خطوط بھیجے گئے ہیں۔

 

            برطانیہ میں پٹرول کی قلت یا نہ ملنے کی کئی وجوہات ہیں۔ تاہم رپورٹ سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ یہ مسئلہ صرف برطانیہ میں نہیں ہیں بلکہ یورپ کے بہت سارے ممالک بھی متاثر ہوئے ہیں۔ بریکسٹ کے بعد بہت سارے یوروپی ڈرائیور اپنے آبائی ممالک واپس چلے گئے ہیں یا کہیں اور منتقل ہوگئے ہیں۔ کیونکہ برطانیہ میں کام کرنے سے یوروپی ڈرائیوروں پر ویزا کے متعلق اخراجات کافی بڑھ گئے تھے۔ دریں اثناء کچھ ڈرائیور ریٹائرڈ ہوچکے ہیں اور کچھ کوویڈ کی وجہ سے کام کرنے سے معذور ہیں۔

 

            برطانیہ میں ہوئی پٹرول بحران اور ڈرائیور کی قلت نے برطانیہ کے عام لوگوں کی زندگی میں ایک عجیب سی بوکھلاہٹ پیدا کر دی ہے۔ پٹرول لینے کے لیے گاڑیوں کی قطار میلوں تک دکھائی دے رہی ہے اور حکومت لوگوں کو اس بحران کو ختم کرنے کی بجائے محض صبر دلانے کی تلقین کر رہی ہے۔ابھی ہم کورونا وبا سے پوری طرح نکل نہیں پائے ہیں کہ اب پٹرول بحران نے ہماری زندگی کو ایک اور امتحان سے گزرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

 

            سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آخر یہ بحران کب ختم ہوگا۔ فی الحال تو مجھے اس کے ختم ہونے کا نام و نشان نہیں دِکھ رہا ہے۔وزراء کے اوٹ پٹانگ بیانات سے اس بات کا علم ہورہا ہے کہ سیا ستدان اپنے کام صحیح طریقے سے کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ جب مہینوں سے قیاس آرائی کی جارہی تھی توحکومت کو اس بحران کے لیے تیار رہنا چاہیے تھا۔ یہ صرف نا اہلی ہے اور عام انسان در بدر پٹرول حاصل کرنے کے لیے بھٹک رہا ہے۔ جو کہ برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک کے لیے ایک شرمنا ک بات ہے۔

 

فہیم اختر۔ لندن

fahimakhteruk@yahoo.co.uk

www.fahimakhter.com